الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 11626
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَبْغُضَ أُسَامَةَ بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو،وہ اسامہ سے محبت رکھے۔ اس فرمان کے بعد کسی کے لیے اسامہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنا روا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11626]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25748»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11627
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَثَرَ بِأُسْكُفَّةِ أَوْ عَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ فِي جَبْهَتِهِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمِيطِي عَنْهُ أَوْ نَحِّي عَنْهُ الْأَذَى“ قَالَتْ فَتَقَذَّرْتُهُ قَالَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمُصُّهُ ثُمَّ يَمُجُّهُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَكَسَوْتُهُ وَحَلَّيْتُهُ حَتَّى أُنْفِقَهُ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ دروازے کی چوکھٹ میں گر پڑے اور ان کی پیشانی پر زخم آگیا۔ (اور ایک روایت میں یوں ہے کہ خون بہنے لگا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس کی پیشانی سے خون صاف کر دو۔ لیکن مجھے کچھ کراہت سی محسوسی ہوئی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود شروع ہو گئے اور زخم کو چوس کر تھوکتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اسامہ رضی اللہ عنہ لڑکی ہوتا تو میں اسے اچھے اچھے کپڑے اور زیور پہنا کر اس قدر خوب صورت بنا دیتا کہ لوگ اس سے شادی کرنے میں رغبت کا اظہار کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11627]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه، اخرجه ابن ماجه: 1976، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26386»
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا اسید بن حضیر کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11628
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرَجُلًا آخَرَ مِنَ الْأَنْصَارِ تَحَدَّثَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فِي حَاجَةٍ لَهُمَا حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ وَلَيْلَةٌ شَدِيدَةُ الظُّلْمَةِ ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْقَلِبَانِ وَبِيَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُصَيَّةٌ فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتَّى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا حَتَّى إِذَا افْتَرَقَ بِهِمَا الطَّرِيقُ أَضَاءَتْ لِلْآخَرِ عَصَاهُ فَمَشَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْءِ عَصَاهُ حَتَّى بَلَغَ إِلَى أَهْلِهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری شخص (عباد بن بشر رضی اللہ عنہ) رات کو دیر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے باتیں کرتے رہے،یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا، جبکہ رات بھی سخت اندھیری تھی۔ پھرجب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سے اٹھ کر واپس چلے تو دونوں کے پاس ایک ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلتے گئے، آگے جا کر جب ان کے راستے الگ الگ ہوئے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی اور اس طرح وہ دونوں اپنی اپنی لاٹھی کی روشنی میں اپنے گھر پہنچ گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11628]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 465، 3639، 3805، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12431»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11629
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ حِنْدِسٍ فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا فَجَعَلَا يَمْشِيَانِ فِي ضَوْئِهَا فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَاءَتْ عَصَا الْآخَرِ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَاءَتْ عَصَا ذَا وَعَصَا ذَا
۔ (دوسری سند) سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ایک سخت اندھیری رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے رہے، وہ آپ کے ہاں سے اٹھ کر گئے تو ان میں سے ایک کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلتے گئے، آگے جا کر جب ان کے راستے الگ الگ ہوئے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی۔ حماد راوی نے یوں کہا ہے کہ جب ان کے راستے الگ الگ ہوئے تو اس کی لاٹھی روشن تھی اور دوسرے کی بھی روشن ہوگئی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11629]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13906»
وضاحت: فوائد: … یقینایہ ان دو صحابہ کی کراستانہ فضیلت اور منقبت ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11630
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ وَفِي الدَّارِ دَابَّةٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَنَظَرَ فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ قَدْ غَشِيَتْهُ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”اقْرَأْ فُلَانُ فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ“
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورۂ کہف کی تلاوت کی، جس گھر میں وہ تلاوت کر رہا تھا، اس میں اس کی سواری بھی بندھی ہوئی تھی، وہ سواری بدکنا شروع ہو گئی، اس نے دیکھا کہ ایک بادل اس پر چھا رہا ہے، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: او فلاں! تو پڑھتا رہتا، یہ سکینت تھی جو قرآن کے لیے نازل ہو رہی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11630]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3614، ومسلم: 795، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18666»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: سکینت کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں، راجح معنییہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس میں اطمینان اور رحمت پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے یہ صحابی سیدنا اسید بن حضیر تھے، جیسا کہ درج ذیل مفصل روایت سے معلوم ہوتا ہے:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:اَنَّ اُسَیْدَ بْنِ حُضَیْرٍ رضی اللہ عنہ بَیْنَمَا ھُوَ لَیْلَۃًیَقْرَأُ فِی مِرْبَدِہِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُہُ فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرٰی، فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَیْضًا، فَقَالَ أُسَیْدٌ: فَخَشِیتُ أَنْ تَطَأَ یَحْیٰییَعْنِی ابْنَہُ فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّۃِ فَوْقَ رَأْسِی فِیہَا أَمْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا أَرَاہَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَیْنَمَا أَنَا الْبَارِحَۃَ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ أَقْرَأُ فِی مِرْبَدِی إِذْ جَالَتْ فَرَسِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ!)) قَالَ: فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَیْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ۔)) فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اِقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ!)) قَالَ: فَانْصَرَفْتُ وَکَانَ یَحْیٰی قَرِیبًا مِنْہَا فَخَشِیتُ أَنْ تَطَأَہُ فَرَأَیْتُ مِثْلَ الظُّلَّۃِ فِیہَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا أَرَاہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((تِلْکَ الْمَلَائِکَۃُ کَانَتْ تَسْتَمِعُ لَکَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ رَآہَا النَّاسُ لَا تَسْتَتِرُ مِنْہُمْ۔)) (صحیح مسلم: ۷۹۶، صحیح بخاری معلقا: ۵۰۱۸ بصیغۃ الجزم، واللفظ لاحمد) … ایک رات کو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اپنے باڑے میں قرآن مجید کی تلاوت کررہے تھے، اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، (وہ چپ ہو گئے)، پھر جب انہوں نے قراء ت شروع کی تو وہ پھر بدکنے لگا، بس جب بھی پڑھنے لگتے تو وہ بدکنے لگ جاتا، سیدنا اسید کہتے ہیں مجھے خدشہ لاحق ہوا کہ وہ میرے بیٹےیحییٰ کو کچل دے گا، پس میں بیٹے کو پکڑنے کے لیے کھڑا ہوا، میں نے دیکھا کہ میرے اوپر بادل کی مانند سائبان تھا، جس میں چراغ روشن تھے، جو فضا میں چڑھتا جا رہا تھا حتیٰ کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں گزشتہ رات
کے آخر میں اپنے باڑے میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا، اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا، پھر آگے ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: جی میں نے پڑھا، لیکن گھوڑا پھر بدکنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: میں پڑھتا تو پھر گھوڑا بدکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ جی میں نے پڑھا، لیکن میرا بیٹایحییٰ قریب پڑا تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گھوڑا اسے کچل دے گا، پھر میں نے سائبان کی مانند چیز دیکھی، جس میں چراغ جگمگا رہے ہیں اور وہ فضا میں بلند ہو رہی ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فرشتے تھے، تمہاری تلاوت سن رہے تھے، اگر تم قراء ت صبح تک جاری رکھتے تو لوگ انہیں دیکھتے اور وہ ان سے چھپ نہ سکتے۔
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بہت خوبصورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے، ان احادیث میں سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی امتیازی فضیلت کا بیان ہے۔
قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے یہ صحابی سیدنا اسید بن حضیر تھے، جیسا کہ درج ذیل مفصل روایت سے معلوم ہوتا ہے:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:اَنَّ اُسَیْدَ بْنِ حُضَیْرٍ رضی اللہ عنہ بَیْنَمَا ھُوَ لَیْلَۃًیَقْرَأُ فِی مِرْبَدِہِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُہُ فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرٰی، فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَیْضًا، فَقَالَ أُسَیْدٌ: فَخَشِیتُ أَنْ تَطَأَ یَحْیٰییَعْنِی ابْنَہُ فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّۃِ فَوْقَ رَأْسِی فِیہَا أَمْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا أَرَاہَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَیْنَمَا أَنَا الْبَارِحَۃَ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ أَقْرَأُ فِی مِرْبَدِی إِذْ جَالَتْ فَرَسِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ!)) قَالَ: فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَیْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ۔)) فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اِقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ!)) قَالَ: فَانْصَرَفْتُ وَکَانَ یَحْیٰی قَرِیبًا مِنْہَا فَخَشِیتُ أَنْ تَطَأَہُ فَرَأَیْتُ مِثْلَ الظُّلَّۃِ فِیہَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا أَرَاہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((تِلْکَ الْمَلَائِکَۃُ کَانَتْ تَسْتَمِعُ لَکَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ رَآہَا النَّاسُ لَا تَسْتَتِرُ مِنْہُمْ۔)) (صحیح مسلم: ۷۹۶، صحیح بخاری معلقا: ۵۰۱۸ بصیغۃ الجزم، واللفظ لاحمد) … ایک رات کو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اپنے باڑے میں قرآن مجید کی تلاوت کررہے تھے، اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، (وہ چپ ہو گئے)، پھر جب انہوں نے قراء ت شروع کی تو وہ پھر بدکنے لگا، بس جب بھی پڑھنے لگتے تو وہ بدکنے لگ جاتا، سیدنا اسید کہتے ہیں مجھے خدشہ لاحق ہوا کہ وہ میرے بیٹےیحییٰ کو کچل دے گا، پس میں بیٹے کو پکڑنے کے لیے کھڑا ہوا، میں نے دیکھا کہ میرے اوپر بادل کی مانند سائبان تھا، جس میں چراغ روشن تھے، جو فضا میں چڑھتا جا رہا تھا حتیٰ کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں گزشتہ رات
کے آخر میں اپنے باڑے میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا، اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا، پھر آگے ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: جی میں نے پڑھا، لیکن گھوڑا پھر بدکنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: میں پڑھتا تو پھر گھوڑا بدکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ جی میں نے پڑھا، لیکن میرا بیٹایحییٰ قریب پڑا تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گھوڑا اسے کچل دے گا، پھر میں نے سائبان کی مانند چیز دیکھی، جس میں چراغ جگمگا رہے ہیں اور وہ فضا میں بلند ہو رہی ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فرشتے تھے، تمہاری تلاوت سن رہے تھے، اگر تم قراء ت صبح تک جاری رکھتے تو لوگ انہیں دیکھتے اور وہ ان سے چھپ نہ سکتے۔
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بہت خوبصورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے، ان احادیث میں سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی امتیازی فضیلت کا بیان ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11631
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَفَاضِلِ النَّاسِ وَكَانَ يَقُولُ لَوْ أَنِّي أَكُونُ كَمَا أَكُونُ عَلَى أَحْوَالٍ ثَلَاثٍ مِنْ أَحْوَالِي لَكُنْتُ حِينَ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَحِينَ أَسْمَعُهُ يُقْرَأُ وَإِذَا سَمِعْتُ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا شَهِدْتُ جِنَازَةً وَمَا شَهِدْتُ جِنَازَةً قَطُّ فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِسِوَى مَا هُوَ مَفْعُولٌ بِهَا وَمَا هِيَ صَائِرَةٌ إِلَيْهِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہا کرتی تھیں کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہا افضل ترین لوگوں میں سے تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ تین مواقع پر میری جو کیفیت ہوتی ہے، اگر میں اسی حالت پر برقرار رہوں تو یقینا جنتی ہوں گا: (۱)جب میں قرآن کی تلاوت خود کر رہا ہوں یا کسی سے سن رہا ہوں، (۲)جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سنتا ہوں اور (۳)جب میں کسی جنازہ میں شریک ہوتا ہوں تو میری تمام تر توجہ اس طرف ہوتی ہے کہ اس شخص کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11631]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن عبد الله، اخرجه الطبراني في الكبير: 554، والحاكم: 3/288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19303»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11632
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمْنَا مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَتُلُقِّينَا بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَكَانَ غِلْمَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَلَقَّوْا أَهْلِيهِمْ فَلَقُوا أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَعَوْا لَهُ امْرَأَتَهُ فَتَقَنَّعَ وَجَعَلَ يَبْكِي قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكَ مِنَ السَّابِقَةِ وَالْقِدَمِ مَا لَكَ تَبْكِي عَلَى امْرَأَةٍ فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ وَقَالَ صَدَقْتِ لَعَمْرِي حَقِّي أَنْ لَا أَبْكِي عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ قَالَتْ قُلْتُ لَهُ مَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَقَدِ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ“ قَالَتْ وَهُوَ يَسِيرُ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ہم حج یا عمرہ سے واپس آئے تو اہل مدینہ نے ذوالحلیفہ میں آکر ہمارا استقبال کیا، انصار کے لڑکے بھی اپنے گھر والوں کو ملنے آئے، جب ان کی سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو ان کو ان کی اہلیہ کی وفات کی خبر دی، انہوں نے اپنے چہرے پر کپڑا ڈال لیا اور رونے لگ گئے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ کو بہت سی فضیلتیں حاصل ہیں۔ آپ بیوی کی وفات پر اس قدر کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹا کر کہا: آپ نے درست کہا ہے، واقعی حق تو یہ ہے کہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بعد کسی پر نہ روؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں بہت کچھ فرمایا ہے۔ سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ کا عرش سعد بن معاذ کی وفات پر جھوم گیا۔ سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: یہ بات بیان کرتے وقت سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان چل رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11632]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عمرو بن علقمة، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/142، و الحاكم: 3/ 207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19305»
الحكم على الحديث: صحیح
4. مَا جَاءَ فِي فَضْلِ أَصَيْرِمِ بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ وَاسْمُهُ عمْرُو بْنُ ثَابِتِ بْن وَقْشِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
اصیرم بن عبدالاشھل یعنی عمرو بن ثابت بن وقش رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11633
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ يَقُولُ حَدِّثُونِي عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ لَمْ يُصَلِّ قَطُّ فَإِذَا لَمْ يَعْرِفْهُ النَّاسُ سَأَلُوهُ مَنْ هُوَ فَيَقُولُ أُصَيْرِمُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتِ بْنِ وَقْشٍ قَالَ الْحُصَيْنُ فَقُلْتُ لِمَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَيْفَ كَانَ شَأْنُ الْأُصَيْرِمِ قَالَ كَانَ يَأْبَى الْإِسْلَامَ عَلَى قَوْمِهِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ بَدَا لَهُ الْإِسْلَامُ فَأَسْلَمَ فَأَخَذَ سَيْفَهُ فَغَدَا حَتَّى أَتَى الْقَوْمَ فَدَخَلَ فِي عُرْضِ النَّاسِ فَقَاتَلَ حَتَّى أَثْبَتَتْهُ الْجِرَاحَةُ قَالَ فَبَيْنَمَا رِجَالُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَلْتَمِسُونَ قَتْلَاهُمْ فِي الْمَعْرَكَةِ إِذَا هُمْ بِهِ فَقَالُوا وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَلْأُصَيْرِمُ وَمَا جَاءَ لَقَدْ تَرَكْنَاهُ وَإِنَّهُ لَمُنْكِرٌ هَذَا الْحَدِيثَ فَسَأَلُوهُ مَا جَاءَ بِهِ قَالُوا مَا جَاءَ بِكَ يَا عَمْرُو أَحَرْبًا عَلَى قَوْمِكَ أَوْ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ قَالَ بَلْ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَسْلَمْتُ ثُمَّ أَخَذْتُ سَيْفِي فَغَدَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَاتَلْتُ حَتَّى أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي قَالَ ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ فِي أَيْدِيهِمْ فَذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: تم مجھے کسی ایسے آدمی کے متعلق بتلاؤ جس نے نماز بالکل نہیں پڑھی اور وہ جنت میں گیا ہو۔ لوگ نہ بتلا سکے، پھر ان ہی سے دریافت کیا کہ وہ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ بنو عبدالاشھل کا ایک شخص اصیرم ہے، اس کا نام عمرو بن ثابت بن وقش ہے۔ راویٔ حدیث الحصین کہتے ہیں کہ میں نے محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اصیرم کا کیا واقعہ ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ وہ اپنی قوم کے مسلمان ہونے پر اعتراض اور ان کی مخالفت کیا کرتا تھا۔ غزوۂ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غزوۂ کے لیے تشریف لے گئے تو اسے قبول اسلام کا خیال آیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔ اس نے تلوار اٹھائی اور چل پڑا۔ وہ مسلمانوں کے پاس جا کر کفار کی فوج میں گھس گیا اور اس نے اس قدر شدت سے قتال کیا کہ زخموں سے چور اور نڈھال ہو کر گر پڑا۔ بنو عبدالاشھل کے لوگ مقتولین میں اپنے خاندان کے لوگوں کو ڈھونڈ رہے تھے، تو یہ ان کے سامنے آگئے۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو اصیرم ہے، یہ ہمارے ساتھ تو نہیں آیا تھا۔ ہم تو اسے اس حال میں چھوڑ کر آئے تھے کہ یہ اسلام کا منکر اورمخالف تھا۔ انہوں نے اس سے پوچھا: عمرو! تم یہاں کیسے آگئے؟ اپنی قوم کے خلاف لڑنے کے ارادے سے یا اسلام میں رغبت کی وجہ سے؟ اس نے جواب دیا، قومی عصبیت کی وجہ سے نہیں بلکہ رغبت اسلام کی وجہ سے میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر مسلمان ہوا۔ اپنی تلوار لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا، دشمنوں سے قتال کیا اور میرایہ انجام ہوا۔ سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان باتوں سے کچھ ہی دیر بعد وہ ان کے ہاتھوں ہی اللہ کو پیارا ہو گیا۔ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیاتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11633]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23634 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24034»
وضاحت: فوائد: … سیدنا اصیرم کی فضیلت و منقبت ثابت ہوئی کہ انھوں نے اسلام قبول کرتے ہی غزوۂ احد میں شرکت کی، ان کونماز ادا کرنے تک کا موقع نہ ملا، دراصل یہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازیاں ہیں، جس کو مل گئیں، اس کی دنیا و آخرت سنور گئی۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11634
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ ”أَعِيدُوا تَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ وَسَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ“ ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَلِأَهْلِهَا بِخَيْرٍ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً قَالَ ”وَمَا هِيَ“ قَالَتْ خَادِمُكَ أَنَسٌ قَالَ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا لِي بِهِ وَقَالَ ”اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ“ قَالَ فَمَا مِنَ الْأَنْصَارِ إِنْسَانٌ أَكْثَرُ مِنِّي مَالًا وَذَكَرَ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً غَيْرَ خَاتَمِهِ قَالَ وَذَكَرَ أَنَّ ابْنَتَهُ الْكُبْرَى أُمَيْنَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِهِ إِلَى مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ نَيِّفًا عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے آپ کی خدمت میں کھجوریں اور گھی پیش کیا،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن روزے سے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کھجوریں ان کے تھیلے میں اور گھی اس کے ڈبے میں واپس رکھ دو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر آپ نے سیدنا ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے حق میں برکت کی دعا کی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک خصوصی درخواست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خادم سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہے، اس کے حق میں خصوصی دعا کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر کی میرے حق میں دعا کر دی اور فرمایا: یا اللہ! اسے بہت سا مال اور اولاد عنایت فرما اور اس کے لیے ان میں برکت فرما۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ تمام انصار میں سے کسی کے پاس مجھ سے زیادہ دولت نہیں، جبکہ اس سے پہلے ان کے پاس صرف ایک انگوٹھی تھی اور ان کی بڑی بیٹی امینہ نے بتلایا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے حجاج بن یوسف کے آنے سے پہلے تک اپنی اولاد میں سے تقریباً ایک سو پچیس چھبیس افراد کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11634]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1982، 6334، ومسلم: 2480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12076»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث کئی فوائد پر مشتمل ہے، بعض یہ ہیں:
(۱) مال و اولاد میں کثرت کی دعا مشروع ہے، امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: الدعاء بکثرۃ المال والولد مع البرکۃ۔
(۲) اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے تو مال و اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور بہترین چیزیں ہیں، وہ لوگ کتنے گمراہ ہیں جو بچوں کی تعداد کم کرنے کے لیے کئی حربے استعمال کرتے ہیں۔
(۳) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول ہوئی اوروہ سب سے زیادہ مال و اولاد والے انصاری ثابت ہوئے۔ (صحیحہ: ۱۴۱)
! اتنے بچوں کے فوت ہونے کی برکت یہ ہے کہ یہ سب کے سب والدین کے لیے ذخیرہ آخرت بن جائیں گے۔ ان کی زندہ اولاد اور اولاد کی اولاد کی تعداد بھی ایک صد سے متجاوز تھی۔ (فتح الباری) (عبداللہ رفیق)
(۱) مال و اولاد میں کثرت کی دعا مشروع ہے، امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: الدعاء بکثرۃ المال والولد مع البرکۃ۔
(۲) اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے تو مال و اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور بہترین چیزیں ہیں، وہ لوگ کتنے گمراہ ہیں جو بچوں کی تعداد کم کرنے کے لیے کئی حربے استعمال کرتے ہیں۔
(۳) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول ہوئی اوروہ سب سے زیادہ مال و اولاد والے انصاری ثابت ہوئے۔ (صحیحہ: ۱۴۱)
! اتنے بچوں کے فوت ہونے کی برکت یہ ہے کہ یہ سب کے سب والدین کے لیے ذخیرہ آخرت بن جائیں گے۔ ان کی زندہ اولاد اور اولاد کی اولاد کی تعداد بھی ایک صد سے متجاوز تھی۔ (فتح الباری) (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11635
عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ“ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَنِي بَعْضُ وَلَدِي أَنَّهُ قَدْ دُفِنَ مِنْ وَلَدِي وَوَلَدِ وَلَدِي أَكْثَرُ مِنْ مِائَةٍ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ انس آپ کا خادم ہے، آپ اس کے حق میں اللہ سے دعا کر دیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! اس کے مال اور اولاد میں اضافہ کر اور تو اسے جو کچھ عطا کرے، اس میں برکت فرما۔ راویٔ حدیث حجاج نے اپنی حدیث میں ذکر کیا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ میری اولاد میں سے بعض نے مجھے بتلایا کہ میری اولاد اور اولاد کی اولاد میں سے ایک سو سے زائد لوگ دفن کیے جا چکے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11635]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6378، 6379،ومسلم: 2480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27972»
الحكم على الحديث: صحیح