🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ جُلَيبِيب رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11666
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جُلَيْبِيبًا كَانَ امْرَأً يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ يَمُرُّ بِهِنَّ وَيُلَاعِبُهُنَّ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ جُلَيْبِيبٌ فَإِنَّهُ إِنْ دَخَلَ عَلَيْكُمْ لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ قَالَ وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ إِذَا كَانَ لِأَحَدِهِمْ أَيِّمٌ لَمْ يُزَوِّجْهَا حَتَّى يَعْلَمَ هَلْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا حَاجَةٌ أَمْ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ”زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ“ فَقَالَ نِعِمَّ وَكَرَامَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَنُعْمَ عَيْنِي فَقَالَ ”إِنِّي لَسْتُ أُرِيدُهَا لِنَفْسِي“ قَالَ فَلِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لِجُلَيْبِيبٍ“ قَالَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُشَاوِرُ أُمَّهَا فَأَتَى أُمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ابْنَتَكِ فَقَالَتْ نِعِمَّ وَنُعْمَةُ عَيْنِي فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ يَخْطُبُهَا لِنَفْسِهِ إِنَّمَا يَخْطُبُهَا لِجُلَيْبِيبٍ فَقَالَتْ أَجُلَيْبِيبٌ ابْنَهْ أَجُلَيْبِيبٌ ابْنَهْ أَجُلَيْبِيبٌ ابْنَهْ لَا لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تُزَوَّجُهُ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ لِيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَهُ بِمَا قَالَتْ أُمُّهَا قَالَتِ الْجَارِيَةُ مَنْ خَطَبَنِي إِلَيْكُمْ فَأَخْبَرَتْهَا أُمُّهَا فَقَالَتْ أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ ادْفَعُونِي فَإِنَّهُ لَمْ يُضَيِّعْنِي فَانْطَلَقَ أَبُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ قَالَ شَأْنَكَ بِهَا فَزَوَّجَهَا جُلَيْبِيبًا قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ لَهُ قَالَ فَلَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ لِأَصْحَابِهِ ”هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ“ قَالُوا نَفْقِدُ فُلَانًا وَنَفْقِدُ فُلَانًا قَالَ ”انْظُرُوا هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ“ قَالُوا لَا قَالَ ”لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا“ قَالَ ”فَاطْلُبُوهُ فِي الْقَتْلَى“ قَالَ فَطَلَبُوهُ فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ ثُمَّ قَتَلُوهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَا هُوَ ذَا إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ ثُمَّ قَتَلُوهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَيْهِ فَقَالَ ”قَتَلَ سَبْعَةً وَقَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ“ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَاعِدَيْهِ وَحُفِرَ لَهُ مَا لَهُ سَرِيرٌ إِلَّا سَاعِدَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَضَعَهُ فِي قَبْرِهِ وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ غَسَّلَهُ قَالَ ثَابِتٌ فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقَ مِنْهَا وَحَدَّثَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ثَابِتًا قَالَ هَلْ تَعْلَمْ مَا دَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهَا الْخَيْرَ صَبًّا وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهَا كَدًّا كَدًّا“ قَالَ فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقَ مِنْهَا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا حَدَّثَ بِهِ فِي الدُّنْيَا أَحَدٌ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ مَا أَحْسَنَهُ مِنْ حَدِيثٍ
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ خوش مزاج قسم کے آدمی تھے، وہ عورتوں کے پاس چلے جاتے اور ان کے پاس سے گزرتے ہوئے کوئی مزاحیہ بات کر جاتے، ان کے اس مزاج کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا تھا کہ جلیبیب رضی اللہ عنہ تمہارے پاس نہ آئے، اگر وہ آیا تو تمہاری خیر نہیں۔ انصار کا یہ معمول تھا کہ ان کے ہاں کوئی بن شوہر عورت ہوتی تو وہ اس وقت تک اس کی شادی نہ کرتے جب تک انہیں یہ علم نہ ہو جاتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی حاجت ہے یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری سے فرمایا: تم اپنی بیٹی کا نکاح مجھے دے دو۔ اس نے کہا: جی ٹھیک ہے، اے اللہ کے رسول! اور یہ بات میرے لیے باعث افتخار و اعتزاز ہوگی اور اس سے مجھے از حدخوشی ہوگی، ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کر دی کہ میں اسے اپنے لیے طلب نہیں کر رہا۔ اس نے کہا، اللہ کے رسول! پھر کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جلیبیب کے لیے۔ یہ سن کر اس نے کہا:اے اللہ کے رسول!میں بچی کی ماں یعنی اپنی بیوی سے مشورہ کر لوں، وہ بچی کی ماں کے پاس گیا اور بتلایا کہ اللہ کے رسول تمہاری بیٹی کا رشتہ طلب کرتے ہیں۔ وہ بولی کہ بالکل ٹھیک ہے اور اس سے ہمیں از حد خوشی ہوگی۔ شوہر نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے لیے نہیں، بلکہ جلیبیب رضی اللہ عنہ کے لیے رشتہ طلب کرتے ہیں۔ اس نے کہا: کیا جلیبیب کے لیے، نہیں، جلیبیب کو ہم بیٹی نہیں دے سکتے، جلیبیب نہیں۔اللہ کی قسم! ہم جلیبیب رضی اللہ عنہ سے اس کا نکاح نہیں کریں گے، جب وہ مرد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جانے لگا تاکہ اپنی بیوی کے جواب سے آپ کو مطلع کرے تو وہ بچی بول اٹھی کہ آپ لوگوں کے پاس میرے نکاح کا پیغام کس نے بھیجا ہے؟ تو اس کی ماں نے اسے بتلا دیا۔ و ہ لڑکی بولی: کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کا انکار کر دو گے؟ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ضائع نہیں کریں گے، چنانچہ بچی کا باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گیا اور اس نے ساری بات آپ کے گوش گزارکی اور کہا: اب آپ اس کے متعلق با اختیار ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نکاح جلیبیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ میں تشریف لے گئے، جب اللہ نے آپ کو فتح سے ہم کنار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کسی آدمی کو غیر موجود پاتے ہو؟ صحابہ نے بتلایا کہ فلاں فلاں آدمی نظر نہیں آرہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر دیکھو کون کون نظر نہیں آرہا، صحابہ نے کہا: اور تو کوئی آدمی ایسا نظر نہیں آتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن مجھے جلیبیب دکھائی نہیں دے رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے مقتولین یعنی شہداء میں جا کر تلاش کرو، صحابہ نے جا کر ان کو تلاش کیا تو انہیں اس حال میں پایا کہ ان کے قریب سات کافر مرے پڑے تھے۔ معلوم ہوتاتھا کہ وہ ان ساتوں کو مارنے کے بعد شہید ہوئے ہیں، صحابہ نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! وہ تو سات کافروں کو قتل کرنے کے بعد خود شہید ہوا پڑا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی لاش کے پاس آئے، اس کے قریب کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سات آدمیوں کو قتل کیا، اس کے بعد کافروں نے اسے شہید کر ڈالا، یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں، یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو تین بار ارشاد فرمائی، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی لاش کو اپنے بازوؤں پر اٹھا لیا، اس کی قبر تیار کی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بازواس کے چارپائی بنے ہوئے تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قبر میں اتارا، ان کو غسل دیئے جانے کا ذکر نہیں ہے۔ ثابت کہتے ہیں کہ انصار یوں میں یہ واحد بیوہ تھی، جس سے بہت زیادہ لوگوں نے نکاح کرنے کی رغبت کا اظہار کیا۔اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ثابت سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں کیا دعا کی تھی؟ آپ نے یہ دعا کی تھی: یا اللہ! اس پر خیر و برکت کی برکھا برسا دے اور اس کی معیشت تنگ نہ ہو۔ اس دعا کی برکت تھی کہ یہ انصار میں واحد بیوہ تھی کہ جس سے بہت زیادہ لوگوں کو نکاح کرنے کی رغبت تھی۔ ابو عبدالرحمن عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں کہ دنیا میں اس حدیث کو صرف حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے اور یہ کیسی عمدہ حدیث ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11666]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20022»
وضاحت: فوائد: … بعض لوگوں کے مزاج میں خوش طبعی اور مزاحیہ پن ہوتا ہے، وہی مزاج سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کا تھا۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کی فضیلت تو ثابت ہوتی ہی ہے، لیکن انصاری خاتون میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کاجذبہ بھی انتہائی قابل قدر ہے، اس خاتون کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ حسین نہیں تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ حَارِثَةَ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عَمَّةِ اَنَسِ بْنِ مالك رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پھوپھی زاد سیدنا حارثہ بن عمیر رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11667
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ حَارِثَةَ خَرَجَ نَظَّارًا فَأَتَاهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ فَقَالَتْ أُمُّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنِّي فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ وَإِلَّا رَأَيْتَ مَا أَصْنَعُ قَالَ ”يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِجَنَّةٍ وَاحِدَةٍ وَلَكِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ لَفِي أَفْضَلِهَا“ أَوْ قَالَ ”فِي أَعْلَى الْفِرْدَوْسِ“ شَكَّ يَزِيدُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ر وایت ہے کہ سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ جاسوسی کے لیے گئے،اچانک انہیں ایک تیر آلگا اور وہ شہید ہوگئے،ان کی والدہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ میرا حارثہ کے ساتھ کتنا گہرا تعلق ہے، اب اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں، وگر نہ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام حارثہ! جنت ایک تو نہیں ہے، کئی جنتیں ہیں اور حارثہ تو افضل جنت میں ہے۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہ تو جنت الفردوس کے اعلیٰ مقام میں ہے۔ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام حارثہ! جنتیں بہت سی ہیں اور حارثہ اعلیٰ جنت الفردوس میں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11667]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6567، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12277»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ کم سن تھے، یہ غزوۂ بدر میں شریک تو ہوئے تھے، لیکن ان کی شرکت ایک مقاتل اور جنگجو کی حیثیت سے نہ تھی اور نہ ہییہ دشمن سے لڑنے کے لیے گئے تھے، یہ دشمن کے حالات معلوم کرنے کے لیے نکلے تھے کہ دشمن کا ایک تیر ان کو آلگا اور یہ شہید ہوگئے۔ ان کی والدہ کو خیال گزرا کہ مقام شہادت اور جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوں، ان کا بیٹا نہ تو قتال کے لیے نکلے تھا اور نہ لڑتے ہوئے مارے گئے تھے، نیز ان کی والدہ کو تردّد اس لیے بھی ہوا کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اطلاع نہ ملے اس کے جنتی ہونے یا نہ ہونے کے متعلق یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ اس لیے اس نے دریافت کیا کہ اگر وہ جنتی ہو تو صبر کروں اور اگر وہ جنت میں نہیں تو رو رو کر اس کے ساتھ اپنی محبت اور تعلق کااظہار کروں۔ اس سے ان کی مراد نوحہ کرنا نہیں کیونکہ نوحہ تو حرام ہے۔ اور اگر بالفرض ان کی مراد نوحہ کرنا ہی ہو تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ یہ واقعہ تو غزوۂ بدر کا ہے جبکہ نوحہ کی تحریم غزوۂ احد کے بعد ہوئی تھی۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11668
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نِمْتُ فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ“ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَذَاكَ الْبِرُّ كَذَاكَ الْبِرُّ“ وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سو گیا اور میں نے خواب میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھا اور میں نے وہاں قرآن پڑھتے ایک آدمی کی آواز سنی، میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتلایا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کے حق میں فرمایا: حسن سلوک کا یہی انجام ہوتا ہے، حسن سلوک کا یہی انجام ہوتا ہے۔ یہ صحابی لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11668]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه النسائي في الكبري: 8233، وعبد الرزاق: 20119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25851»
وضاحت: فوائد: … واقعی ماؤںکے قدموں تلے جنت ہے، سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی قدر کی اور ایسا مرتبہ عطا کیا کہ جنت میں ان کی قرآن کی تلاوت کرنے کی آواز آرہی تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11669
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ أَجَزْتُ فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”هَلْ رَأَيْتَ الَّذِي كَانَ مَعِي“ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ وَقَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ“
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام کے ساتھ (مسجد کے قریب) المقاعد جگہ میں بیٹھے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا اور میں آگے گزر گیا، جب میں واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی وہاں سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بیٹھے آدمی کو تم نے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے اور انہوں نے تمہارے سلام کا جواب دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11669]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه عبدالرزاق: 20545، والطبراني في الكبير: 3226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24077»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ نے جبریل علیہ السلام کو انسانی شکل میں دیکھا، لیکن ان کو بعد میں پتہ چلا کہ وہ جبریل رضی اللہ عنہ تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ وقصته رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کی فضیلت اور ان کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11670
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ ”انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا“ فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ قَالَتْ مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ قُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنَقْلِبَنَّ الثِّيَابَ قَالَ فَأَخْرَجَتِ الْكِتَابَ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَخَذْنَا الْكِتَابَ فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا حَاطِبُ مَا هَذَا“ قَالَ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا وَكَانَ مَنْ كَانَ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ أَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ كُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ“ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ ”إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر اور سیدنا مقداد کو بھیجا اور فرمایا: تم چلو، یہاں تک کہ روضۂ خاخ تک پہنچ جاؤ، وہاں ایک مسافر خاتون کے پاس ایک خط ہو گا، وہ خط اس سے لے لو۔ سو ہم چل پڑے، ہمارے گھوڑے دوڑتے گئے، یہاں تک کہ ہم اس روضہ کے پاس پہنچے، وہاں تو واقعی ایک خاتون موجود تھی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال دے، اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکال دے، وگرنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے، یہ سن کر اس نے اپنے بالوں کی لٹ سے خط نکال دیا، ہم نے وہ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، اس خط میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی: یہ خط حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے مکہ کے مشرکوں کی طرف ہے، …۔ وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امور کی خبر دے رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: مجھ پر جلدی نہ کرنا (میں تفصیل بتاتا ہوں)، بات یہ ہے کہ میں معاہدے کی بنا پر قریشیوں سے ملا ہوا تھا اور میں نسب کے لحاظ سے ان میں سے نہیں تھا، آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں، ان کی قریشیوں سے رشتہ داریاں ہیں، جن کی وجہ سے وہ مکہ میں ان کے رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہیں، جب میں نے دیکھا کہ قریشیوں سے میرا نسب تو ملتا نہیں ہے، تو میں نے سوچا کہ اگر میں ان پر کوئی ایسا احسان کر دوں کہ جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی بھی حفاظت کریں (اس مقصد کے لیے میں نے یہ کام کیا ہے)، نہ میں نے یہ کاروائی کفر کرتے ہوئے کی، نہ اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے اور نہ اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ اس آدمی نے تم سے سچ بولا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: چھوڑیئے مجھے، میں اس منافق کی گردن اتار پھینکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بدر میں حاضر ہوا تھا، اور تجھے پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور کہا: آج کے بعد جو چاہو کر گزرو، میں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11670]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3007، 4274، 4890، ومسلم: 2494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 600»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۱۷)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11671
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى مَكَّةَ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ غَزْوَهُمْ فَدَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَعَهَا الْكِتَابُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھ کر ان کو اطلاع دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر حملہ کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام کو اس عورت کے متعلق بتلا دیا، جس کے پاس وہ خط تھا … اس سے آگے حدیث گزشتہ حدیث کی مانند ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11671]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 4787، وابويعلي: 2265، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14833»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11672
قَالَ جَاءَ عَبْدٌ لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَدُ بَنِي أَسَدٍ يَشْتَكِي سَيِّدَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ“
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام، جو بنی اسد کے قبیلہ سے تھا، آیا اور اپنے مالک کی شکایت کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور جہنم میں جائے گا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم غلط کہتے ہو، وہ تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کی سعادت حاصل کر چکا ہے، (جبکہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کرنے والے جہنم میں نہیں جائیں گے)۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11672]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14830»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ چونکہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو جنتی قرار دیا تھا، باقی پھر بھی انسان سے خطا اور غلطی سرزد ہو جاتی ہے۔
صحابۂ کرام سے غلطی کا سرزد ہونا ممکن ہے، لیکن ان کی معیاری نیکیوں کے سمندر ان کی خطاؤں پر غالب آ جائیں گے۔ ان شاء اللہ تعالی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَان رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11673
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَتْ لِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَهَمَّتْ بِي قُلْتُ يَا أُمَّهْ دَعِينِي حَتَّى أَذْهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَيَسْتَغْفِرَ لَكِ قَالَ فَجِئْتُهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ يُصَلِّي فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ خَرَجَ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ ”مَا لَكَ“ فَحَدَّثْتُهُ بِالْأَمْرِ فَقَالَ ”غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ“
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، میری والدہ نے مجھ سے دریافت کیا کہ تمہاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کب ہوئی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ میں تو اتنے عرصہ سے آپ سے ملاقات نہیں کر سکا، انہوں نے مجھے سخت سست کہا۔ میں نے عرض کیا: امی جان! آپ اجازت دیں تاکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جاؤں اور میں اس وقت ان کو چھوڑ کر الگ نہ ہوں گا، جب تک وہ میرے اور آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں دعائے مغفرت نہ کریں، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں نماز مغرب ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کھڑے ہو کر مزید نفل نماز ادا کرنے لگے یہاں تک کہ آپ نے نماز عشاء ادا کی۔ اس کے بعد آپ باہر تشریف لے چلے۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں:آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت فرمائے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11673]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 3781، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23829»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11674
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلُ فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ فَقَالُوا إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا قُلْنَا مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ ”انْصَرِفَا نَفِي بِعَهْدِهِمْ وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ بدر میں ہماری عدم شرکت کی وجہ یہ ہوئی کہ میں اور میرا والد سیدنا حسیل رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ قریشی کفار نے ہمیں گرفتار کر لیا، انھوں نے کہا کہ تم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جا رہے ہو۔ ہم نے کہا کہ ہم تو مدینہ کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے ہم سے اللہ کی قسم اور پختہ عہد لیا کہ ہم مدینہ کی طرف جائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر ان کے خلاف لڑائی میں حصہ نہ لیں۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر سارا واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں چلے جاؤ، ہم ان سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ کی مدد کے خواستگار ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11674]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23746»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! یہ عہد کی پاسداری ہے کہ دشمن سے کیا ہوا اس قسم کا عہد و پیمان بھی پورا کیا جا رہا ہے، کاش ہم بھی اسلام کے حسن کو سمجھ جاتے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11675
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى مَسْحِ الْحِصَى فَقَالَ ”وَاحِدَةً أَوْ دَعْ“
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک ایک مسئلہ دریافت کیا،یہاں تک کہ میں نے یہ بھی پوچھا کہ (نماز کے دوران سجدہ والی جگہ سے) کنکریوں کو ہٹانا یا صاف کرنا کیسا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ہٹا سکتے ہو یا پھر یہ بھی رہنے دو (تو بہتر ہے)۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11675]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لكن من حديث ابي ذر الغفاري، اخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23664»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں