الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11636
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحْسَنَ النَّاسِ صَلَاةً فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ
سیدنا انس بن سیرین کا بیان کا ہے کہ سفر و حضرمیں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ خوبصورت نماز ادا کرنے والے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11636]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4082»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11637
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ قَالَ فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَاكَذَا وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَاكَذَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ہجرت کے بعد) مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑکر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انس رضی اللہ عنہ ایک سمجھداراور ہوشیار بچہ ہے، یہ آپ کی خدمت کیا کرے گا۔ چنانچہ میں (انس) نے سفر و حفر میں دس سال تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت سر انجام دی۔ اللہ کی قسم! میں نے کوئی کام کر لیا تو آپ نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا؟یا اگر میں نے کوئی کام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11637]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2768، 6911،ومسلم: 2309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12011»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11638
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَذَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِيَدِي مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَتْ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنِي وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ قَالَ فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ قَطُّ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ میں تشریف آوری ہوئی تو میری والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا میرا ہاتھ پکڑے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور کہا: اللہ کے رسول! میرایہ بیٹا لکھنا پڑھنا جانتا ہے۔ (اسے اپنی خدمت کے لیے قبول فرمائیں) چنانچہ میں نے آپ کی نو برس تک خدمت کی، میں نے کوئی کام کیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے یوں نہ فرمایا کہ تونے برا کام کیا ہے، یا تو نے غلط کام کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11638]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2768، 6911،ومسلم: 2309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12276»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11639
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ الْعَسَلَ وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اس پیالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہد، پانی اور دودھ، بلکہ ہر قسم کا مشروب پلایا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11639]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2008، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13616»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11640
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَوَجِّهًا إِلَى أَهْلِي فَمَرَرْتُ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ فَأَعْجَبَنِي لَعِبُهُمْ فَقُمْتُ عَلَى الْغِلْمَانِ فَانْتَهَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَى الْغِلْمَانِ فَسَلَّمَ عَلَى الْغِلْمَانِ ثُمَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَرَجَعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي بَعْدَ السَّاعَةِ الَّتِي كُنْتُ أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ فِيهَا فَقَالَتْ لِي أُمِّي مَا حَبَسَكَ الْيَوْمَ يَا بُنَيَّ فَقُلْتُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَقَالَتْ أَيُّ حَاجَةٍ يَا بُنَيَّ فَقُلْتُ يَا أُمَّاهُ إِنَّهَا سِرٌّ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ احْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ قَالَ ثَابِتٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَتَحْفَظُ تِلْكَ الْحَاجَةَ الْيَوْمَ أَوْ تَذْكُرُهَا قَالَ إِي وَاللَّهِ وَإِنِّي لَا أَذْكُرُهَا وَلَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَحَدَّثْتُكَ بِهَا يَا ثَابِتُ
ثابت بنانی سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کابیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے روانہ ہو کر اپنے اہل کی طرف چلا اورراستے میں کھیلتے ہوئے بچوں کے پاس سے گزرا، مجھے ان کا کھیل اچھا لگاتو میں وہاں رک کر انہیں دیکھنے لگا، میں ابھی وہیں کھڑاتھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر بچوں کو سلام کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک کام کے لیے روانہ فرمایا، میں کام کرکے واپس آیا تو اپنے سابقہ معمول سے ہٹ کر ذرا لیٹ گھر پہنچا، تو میری والدہ نے مجھ سے دریافت کیا: بیٹے! کہاں دیر ہوگئی تھی؟ میں نے عرض کیا: امی جان! یہ ایک راز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا: بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا۔ ثابت کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: ابو حمزہ! کیا آج بھی آپ کو وہ کام یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اللہ کی قسم یاد رہے، لیکن میں بتاؤں گا نہیں۔ ثابت! اگر لوگوں میں سے کسی کو میں نے وہ بتانا ہوتا تو تمہیں ضرور بتلا دیتا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11640]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2482، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13413»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11641
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت میری عمر دس سال تھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت میری عمر بیس برس تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11641]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2352، ومسلم: 2029، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12101»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11642
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عُمِّرَ مِائَةَ سَنَةٍ غَيْرَ سَنَةٍ
حمید سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی عمر ننانوے سال تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11642]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه البيھقي في الدلائل: 6/ 196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12275»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب معلوم ہوئے نیز معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خانوادۂ انس کے ساتھ خصوصی روابط اور تعلقات تھے، آپ وقتاً فوقتاً ان کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔
امام البانی نے ایک حدیث کی تخریج کرتے ہوئے یہ حدیث بھی بیان کی: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری ماں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کا چھوٹا سا خادم ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کا مال اور اولاد زیادہ کر دے اور اس کی عمر لمبی کر اور اس کے گناہ بخش دے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی اولاد میں سے اٹھانوے یا ایک سو دو افراد دفن کیے اور میرے درختوں کو سال میں دو دفعہ پھل لگتا تھا اور میں نے اتنی لمبی عمر پائی کہ زندگی سے دل اچاٹ ہو گیا (اور ایک روایت میں ہے کہ میں لمبی زندگی کی وجہ سے) لوگوں سے شرماتا تھا، (یہ تین دعائیں پوری ہوگئیں اور اب) مجھے چوتھی دعا (جو میری بخشش پر مشتمل تھی، کے قبول ہونے کی امید ہے)۔ (ابن سعد: ۷/ ۱۹، الأدب المفرد للبخاری: ۶۵۳)
معلوم ہوا کہ کسی انسان کے لیے طویل عمر کی دعا کی جا سکتی ہے، جیسا کہ عرب کے بعض علاقوں کے لوگوں کی عادت ہے۔ (صحیحہ: ۲۲۴۱)
یہ احادیث ِ مبارکہ اعلامِ نبوت میں سے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار دعائیں کیں، جن تین کا تعلق دنیا سے تھا، وہ تو پہلی صدی ہجری میں ہی پوری ہو گئی تھیں، مغفرت کا تعلق آخرت سے ہے، جس کی قبولیت کی امید ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ننانوے یا ایک سو تینیا ایک سو سات سال عمر پائی، دوسرا قول راجح ہے، اکانوے یا ترانے سن ہجری میں بصرہ میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی آپ ہی تھے۔ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ صاحب ِ اولاد آپ ہی تھے۔ ۷۵ھمیں جب حجاج بصرہ میں آیا تھا، اس وقت تک ان کے بیٹے اور بیٹیوں میں سے (۱۲۰) سے زائد افراد دفن کیے جا چکے تھے اور زندہ بچ جانے والوں کی تعداد سو سے زیادہ تھی۔ مال و دولت میں بھی اللہ تعالیٰ نے بہت برکت ڈالی تھی، انصاریوں میں سب سے زیادہ مالدار آپ تھے، ان کے ایک باغ میں سال میں دو دفعہ پھل لگتا تھا اور اس میں ایسے پھول تھے، جن سے کستوری کی خوشبو آتی تھی، ابو نعیم نے الحلیۃ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا: میری زمین میں سال میں دو دفعہ پھل لگتا تھا، ہمارے علاقے میں یہ خصوصیت کسی اور خطۂ زمین کی نہ تھی۔
امام البانی نے ایک حدیث کی تخریج کرتے ہوئے یہ حدیث بھی بیان کی: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری ماں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کا چھوٹا سا خادم ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کا مال اور اولاد زیادہ کر دے اور اس کی عمر لمبی کر اور اس کے گناہ بخش دے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی اولاد میں سے اٹھانوے یا ایک سو دو افراد دفن کیے اور میرے درختوں کو سال میں دو دفعہ پھل لگتا تھا اور میں نے اتنی لمبی عمر پائی کہ زندگی سے دل اچاٹ ہو گیا (اور ایک روایت میں ہے کہ میں لمبی زندگی کی وجہ سے) لوگوں سے شرماتا تھا، (یہ تین دعائیں پوری ہوگئیں اور اب) مجھے چوتھی دعا (جو میری بخشش پر مشتمل تھی، کے قبول ہونے کی امید ہے)۔ (ابن سعد: ۷/ ۱۹، الأدب المفرد للبخاری: ۶۵۳)
معلوم ہوا کہ کسی انسان کے لیے طویل عمر کی دعا کی جا سکتی ہے، جیسا کہ عرب کے بعض علاقوں کے لوگوں کی عادت ہے۔ (صحیحہ: ۲۲۴۱)
یہ احادیث ِ مبارکہ اعلامِ نبوت میں سے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار دعائیں کیں، جن تین کا تعلق دنیا سے تھا، وہ تو پہلی صدی ہجری میں ہی پوری ہو گئی تھیں، مغفرت کا تعلق آخرت سے ہے، جس کی قبولیت کی امید ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ننانوے یا ایک سو تینیا ایک سو سات سال عمر پائی، دوسرا قول راجح ہے، اکانوے یا ترانے سن ہجری میں بصرہ میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی آپ ہی تھے۔ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ صاحب ِ اولاد آپ ہی تھے۔ ۷۵ھمیں جب حجاج بصرہ میں آیا تھا، اس وقت تک ان کے بیٹے اور بیٹیوں میں سے (۱۲۰) سے زائد افراد دفن کیے جا چکے تھے اور زندہ بچ جانے والوں کی تعداد سو سے زیادہ تھی۔ مال و دولت میں بھی اللہ تعالیٰ نے بہت برکت ڈالی تھی، انصاریوں میں سب سے زیادہ مالدار آپ تھے، ان کے ایک باغ میں سال میں دو دفعہ پھل لگتا تھا اور اس میں ایسے پھول تھے، جن سے کستوری کی خوشبو آتی تھی، ابو نعیم نے الحلیۃ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا: میری زمین میں سال میں دو دفعہ پھل لگتا تھا، ہمارے علاقے میں یہ خصوصیت کسی اور خطۂ زمین کی نہ تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَسِ بْنِ النَّضْرِ عَمُ أَنَسِ بْنِ مالك رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11643
عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ عَمِّي أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ فَشَقَّ عَلَيْهِ وَقَالَ فِي أَوَّلِ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غِبْتُ عَنْهُ لَئِنْ أَرَانِي اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ قَالَ فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا قَالَ فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ فَاسْتَقْبَلَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ قَالَ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ قَالَ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ قَالَ فَقَالَتْ أُخْتُهُ عَمَّتِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا} [الأحزاب: 23] قَالَ فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ بدر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر نہ ہوئے تھے، اسی چچا کے نام پر میرا نام بھی انس رکھا گیا، اس کا انہیں بہت قلق تھا، وہ کہا کرتے تھے: بدر پہلا معرکہ تھا، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاضر ہوئے اور میں حاضر نہ ہو سکا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی اور معرکے کا موقع دیا تو وہ دیکھے گا کہ میں کرتا کیا ہوں، پھر وہ مزید کوئی دعوی کرنے سے ڈر گئے، پھر سیدنا انس بن نضر احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سامنے آرہے تھے،سیدنا انس بن نضر نے ان سے کہا: ابو عمرو! کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: آہ، میں احد کی جانب سے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔پھر سیدنا انس لڑتے رہے، یہاں تک کہ شہید ہوگئے، ان کے جسم میں تلوار، نیزے اور تیر کے اسی (۸۰) سے زائد زخم آئے تھے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ان کی بہن یعنی میری پھوپھی ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی کو پوروں سے پہچانا تھا کہ یہ ان کے بھائی ہیں، پس یہ آیت نازل ہوئی: {رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْہُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیلًا} … کچھ مرد ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنے اللہ سے جو عہد کیا تھا، وہ سچا کر دکھایا، پس ان میں سے بعض وہ ہیں، جنہوں نے اپنی نذر کو پورا کر دیا اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو انتظار کررہے ہیں اور انہوں نے اپنے وعدوں میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں کی۔ صحابہ کا یہی خیال تھا کہ یہ آیت سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں (جیسے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ) کے بارے میں نازل ہوئی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11643]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1903، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13046»
وضاحت: فوائد: … سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر میں شرکت کی سعادت حاصل نہ کر سکے تھے، انہیں اس کا شدید رنج تھا۔ اس لیے فرمایا کرتے تھے کہ آئندہ اللہ نے کفار کے ساتھ مقابلے کا موقعہ دیا تو پہلی کمی کی تلافی کی کوشش کروں گا، چنانچہ انہوںنے اللہ کے ساتھ کیا ہوا یہ وعدہ پورا کر دیا اور اس غزوے میں انہوںنے کفار کے ساتھ ایسا مقابلہ کیا کہ ان پر دشمن کی طرف سے تلواروں، نیزوں اور تیروں کے اتنے حملے ہوئے،کہ ان کے جسم پر اسی سے زیادہ زخم آئے تھے اور ان کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ پہچانے ہی نہ جاتے تھے، آخر ان کی ہمشیرہ سیدہ ربیعبنت نضر رضی اللہ عنہا نے ان کو انگلیوں کے پوروں سے پہچانا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكِ
سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11644
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ أَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَكُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ أَشْعَثَ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِي تَبَعٍ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہلِ جہنم اور اہلِ جنت کے بارے میں بتلا نہ دوں؟ جنتی لوگ یہ ہیں: ہر کمزور، جس کو کمزور سمجھا جاتا ہے، پراگندہ بالوں والا اور دو بوسیدہ پرانے کپڑوں والا، (لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنی وقعت والا ہے کہ) اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا دے تو وہ بھی اس کی قسم پوری کر دیتا ہے۔ اور جہنمی لوگ یہ ہیں: ہر بدمزاج (و بدخلق)،اکڑ کر چلنے والا، بہت زیادہ مال جمع کرنے والا اور بہت زیادہ بخل کرنے والا اور دوسرے لوگ جس کی پیروی کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11644]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 3987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12504»
وضاحت: فوائد: … غریب اور گوشۂ خمول میں رہنے والے لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جن کو معاشرے میں کوئی امتیازی مقام حاصل نہیں ہوتا، وہ مغلوب اور بے بس ہوتے ہیں اور کوئی بھی ان کو وقعت نہیں دیتا،لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز و مکرم ہوتے ہیں۔ نیز اس حدیث میں بد خلقی و بدمزاجی، غرور وگھمنڈ، بڑائی و تکبر، شہرت و ناموری، مال و دولت جمع کرنے اور کنجوسی و بخیلی کی مذمت کی گئی ہے اور ان صفات کے حاملین کو دوزخی کہا گیا ہے۔
چونکہ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ بھی فقیر آدمی تھے، اس لیے وہ بھی اس حدیث کا مصداق بن جاتے ہیں، جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمْ مِنْ اَشْعَثَ اَغْبَرَ ذِیْ طِمْرَیْنِ لَایُؤْبَہُ بِہٖ،لَوْاَقْسَمَعَلَی اللّٰہِ لَاَبَرَّہٗ،مِنْھُمُ الْبَرَائُ بْنُ مَالِکٍ۔)) … کتنے ہی لوگ ہیں، پراگندہ بالوں والے، خاک آلود اور دو بوسیدہ پرانے کپڑوں والے کہ ان کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی، (لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنی وقعت والا ہے کہ) اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا دیں تو وہ بھی ان کی قسم پوری کر دیتا ہے، ان میں ایک براء بن مالک ہیں۔ (ترمذی: ۳۸۵۴)
چونکہ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ بھی فقیر آدمی تھے، اس لیے وہ بھی اس حدیث کا مصداق بن جاتے ہیں، جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمْ مِنْ اَشْعَثَ اَغْبَرَ ذِیْ طِمْرَیْنِ لَایُؤْبَہُ بِہٖ،لَوْاَقْسَمَعَلَی اللّٰہِ لَاَبَرَّہٗ،مِنْھُمُ الْبَرَائُ بْنُ مَالِکٍ۔)) … کتنے ہی لوگ ہیں، پراگندہ بالوں والے، خاک آلود اور دو بوسیدہ پرانے کپڑوں والے کہ ان کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی، (لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنی وقعت والا ہے کہ) اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا دیں تو وہ بھی ان کی قسم پوری کر دیتا ہے، ان میں ایک براء بن مالک ہیں۔ (ترمذی: ۳۸۵۴)
الحكم على الحديث: صحیح
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11645
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً
سیدنا عبداللہ بن بریدہ سے مروی ہے کہ ان کے والد سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سولہ غزوات میں شرکت کی سعادت حاصل رہی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11645]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4473،ومسلم: 1814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23341»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کی بڑی منقبت ہے کہ سولہ جنگوں میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح