الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11656
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ وَقَالَ جَرِيرٌ لَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي ثُمَّ دَخَلْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَفِي رِوَايَةٍ فَسَلَّمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ فَقُلْتُ لِجَلِيسِي يَا عَبْدَ اللَّهِ ذَكَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ ذَكَرَكَ آنِفًا بِأَحْسَنِ ذِكْرٍ فَبَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ وَقَالَ ”يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ وَفِي رِوَايَةٍ فَقَالَ أَنَّهُ سَيَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ إِلَّا أَنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ“ قَالَ جَرِيرٌ فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَبْلَانِي
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا، میں نے اپنا تھیلا کھولا، اپنا بہترین لباس زیب تن کیا اور اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، لوگ مجھے بڑی توجہ سے دیکھنے لگے تو میں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی حوالے سے میرا ذکر کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابھی ابھی تمہارا بڑے احسن انداز میں ذکر کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبے کے دوران ہی فرمایا: ابھی تمہارے پاس اس دروازے سے ایک شخص آرہا ہے، جو یمن کے بہترین لوگوں میں سے ہے، اس کے چہرے پر بادشاہ کی سی علامت ہو گی۔ پھر سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے جن اعزازات سے نوا زا، میں نے ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11656]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه النسائي في الكبري: 8304، وابن خزيمة: 1797، وابن حبان: 7199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19394»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11657
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سے میں نے اسلام قبو ل کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس آنے سے مجھے کبھی نہیں روکا اور آپ نے جب بھی مجھے دیکھا تو مسکرا دیئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11657]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3035،ومسلم: 2475، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19393»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11658
عَنْ قَيْسٍ قَالَ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ“ وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَّةِ فَنَفَرْتُ إِلَيْهَا فِي سَبْعِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ قَالَ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ وَبَعَثَ جَرِيرٌ بَشِيرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم مجھے ذوالخلصہ (بت خانہ) سے راحت نہیں پہنچا سکتے؟ وہ یمن کے قبیلہ خثعم میں ایک بت خانہ تھا، جسے یمنی کعبہ کہا جاتا تھا، چنانچہ میں ایک سو ستر (اور ایک روایت کے مطابق ایک سو پچاس) گھوڑ سواروں کو ساتھ لے کر روانہ ہوا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ مبارک اس قدر زور سے مارا کہ میں نے آپ کی انگلیوں کے نشانات اپنے سینہ پر محسوس کئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا دی: یا اللہ اسے جم کر بیٹھنے کی توفیق دے اور اسے راہ ہدایت دکھانے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔ یہ اس بت خانے کی طرف گئے، جا کر اسے توڑ ڈالا اور جلا کر خاکستر کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک آدمی کو خوشخبری دینے کے لیے روانہ کیا، سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے، میں آپ کی طرف اس وقت تک روانہ نہیں ہوا، جب تک کہ میں نے اسے جلنے کے بعد خارش زدہ اونٹ کی طرح بالکل سیاہ شدہ نہیں دیکھ لیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احمس کے گھوڑ سواروں اور پیادہ لوگوں کے لیے برکت کی پانچ دفعہ دعا کی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11658]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2823، 4355، ومسلم: 2476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19402»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۶۷)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11659
عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ جَرِيرٌ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَعَلَى أَنْ أَنْصَحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ قَالَ وَكَانَ جَرِيرٌ إِذَا اشْتَرَى الشَّيْءَ وَكَانَ أَعْجَبَ إِلَيْهِ مِنْ ثَمَنِهِ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعْلَمَنَّ وَاللَّهِ لَمَا أَخَذْنَا أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّا أَعْطَيْنَاكَ كَأَنَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ الْوَفَاءَ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر ان باتوں کی بیعت کی تھی کہ میں آپ کا حکم سن کر اس کی اطاعت کروں گا اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کروں گا۔ ابو زرعہ کہتے ہیں کہ جریر رضی اللہ عنہ جب کوئی چیز خریدتے اور ان کے خیال میں وہ چیزطے شدہ قیمت سے زیادہ قیمت کی ہوتی تو فروخت کنندہ سے کہتے: اللہ کی قسم! ہم نے تمہیں جو دیا ہے اس کی نسبت ہم نے جو چیز تم سے لی ہے، وہ ہمیں زیادہ محبوب ہے۔ گویا وہ یہ بات کہہ کر بائع کی حوصلہ افزائی کرکے اپنی کی ہوئی بیعت کے تقاضا کو پورا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11659]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7204،ومسلم: 56، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19442»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11660
عَنْ سُفْيَانَ قَالَ ابْنٌ لِجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَتْ نَعْلُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ طُولُهَا ذِرَاعٌ
سفیان کہتے ہیں کہ سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے مجھے بیان کیا کہ جریر رضی اللہ عنہ کے جوتے کی لمبائی ایک ہاتھ تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11660]
تخریج الحدیث: «اثر لا بأس به، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19425»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے الاصابۃ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ سیدنا جریر کا قد چھ ہاتھ تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے قد اور وجود والے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
12. بَابُ مَا جَاءَ فِى جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وأولاده رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
سیدنا جعفر بن ابی طالب اور ان کی اولادکا تذکرہ
حدیث نمبر: 11661
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ”أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام سیدنا عبید اللہ بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کرتے تھے کہ تم جسمانی طور پر اور اخلاق کے لحاظ سے میرے مشابہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11661]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19218»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11662
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا احْتَذَى النِّعَالَ وَلَا انْتَعَلَ وَلَا رَكِبَ الْمَطَايَا وَلَا لَبِسَ الْكُورَ مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي فِي الْجُودِ وَالْكَرَمِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی آدمی نے جوتا نہیں پہنا، نہ سواریوں پر سوار ہوا اور نہ عمامہ استعمال کیا جو سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر فضیلت والا ہو، ان کی مراد جود و سخاوت تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11662]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3708، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9342»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11663
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا اسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَقَالَ ”فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ أَوِ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ جَعْفَرٌ فَإِنْ قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ“ فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَتَى خَبَرُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ ”إِنَّ إِخْوَانَكُمْ لَقُوا الْعَدُوَّ وَإِنَّ زَيْدًا أَخَذَ الرَّايَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ بَعْدَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ“ فَأَمْهَلَ ثُمَّ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَالَ ”لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ ادْعُوا لِي ابْنَيْ أَخِي“ قَالَ فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ فَقَالَ ”ادْعُوا إِلَيَّ الْحَلَّاقَ“ فَجِيءَ بِالْحَلَّاقِ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا ثُمَّ قَالَ ”أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِيهُ عَمِّنَا أَبِي طَالِبٍ وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَشَبِيهُ خَلْقِي وَخُلُقِي“ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَأَشَالَهَا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي أَهْلِهِ وَبَارِكْ لِعَبْدِ اللَّهِ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ“ قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَجَاءَتْ أُمُّنَا فَذَكَرَتْ لَهُ يُتْمَنَا وَجَعَلَتْ تُفْرِحُ لَهُ فَقَالَ ”الْعَيْلَةَ تَخَافِينَ عَلَيْهِمْ وَأَنَا وَلِيُّهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ“
عبداللہ بن جعفر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا۔ اور فرمایا اگر زید رضی اللہ عنہ شہید ہو جائیں تو جعفر رضی اللہ عنہ بن ابی طالب تمہارے امیر ہوں گے۔ اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تمہارے امیر ہوں گے۔ مسلمانوں کا دشمن سے مقابلہ ہوا۔ تو جھنڈا زید رضی اللہ عنہ نے اُٹھایا۔ وہ دشمن سے لڑتے رہے بالآخر شہید ہو گئے۔ ان کے بعد جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا تھام لیا۔ وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا۔ وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے شہادت سے سرفراز ہوگئے۔ ان کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھال لیا۔ اور اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائی۔ ان کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی۔ آپ لوگوں کی طرف باہر تشریف لائے۔ اور اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ تمہارے بھائیوں کا دشمن سے مقابلہ ہوا۔ سب سے پہلے زید نے جھنڈا اُٹھایا۔ وہ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد جعفر رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے جھنڈا اُٹھایا وہ بھی لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا لیا۔ وہ بھی لڑتے لڑتے شہادت کے رتبہ پر فائز ہو گئے۔ ان کے بعد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا اور ان کے ہاتھوں اللہ نے فتح نصیب فرمائی۔ آل جعفر تین روز تک اس انتظار میں رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے جائیں تیسرے دن کے بعد آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا تم آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا، میرے بھتیجوں کوبلاؤ ہمیں لایا گیا تو ہم چوزوں کی طرح بالکل چھوٹے چھوٹے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نائی کو بلاؤ اسے بلایا گیا تو اس نے ہمارے سر مونڈ دئیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایایہ محمد تو ہمارے چچا ابو طالب کے مشابہ ہے۔ اور عبداللہ شکل وصورت اور مزاج میں میرے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر کو اُٹھا کر فرمایایا اللہ جعفر رضی اللہ عنہ کے اہل وعیال میں اس کا نائب بنا اور عبداللہ کی تجارت میں برکت فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا تین مرتبہ کی۔ ہماری والدہ آپ کے پاس آئی اور اس نے اس پر غم کا اظہار کیا کہ یہ بچے اب بے آسرا ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کیا تم ان کے بارے میں فقروفاقہ کا اندیشہ کرتی ہو؟ دنیا اور آخرت میں میں ان کا سرپرست ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11663]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مختصرا ابوداود: 4192، والنسائي: 8/ 182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1750»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۸۴۳)۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11664
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سَارَّةَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَوْ رَأَيْتَنِي وَقُثَمَ وَعُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَيْ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَنَحْنُ صِبْيَانٌ نَلْعَبُ إِذْ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى دَابَّةٍ فَقَالَ ”ارْفَعُوا هَذَا إِلَيَّ“ قَالَ فَحَمَلَنِي أَمَامَهُ وَقَالَ لِقُثَمَ ”ارْفَعُوا هَذَا إِلَيَّ“ فَجَعَلَهُ وَرَاءَهُ وَكَانَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَحَبَّ إِلَى عَبَّاسٍ مِنْ قُثَمَ فَمَا اسْتَحَى مِنْ عَمِّهِ أَنْ حَمَلَ قُثَمًا وَتَرَكَهُ قَالَ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا وَقَالَ كُلَّمَا مَسَحَ ”اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ“ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ مَا فَعَلَ قُثَمُ قَالَ اسْتُشْهِدَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِالْخَيْرِ وَرَسُولُهُ بِالْخَيْرِ قَالَ أَجَلْ
خالد بن سارہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن جعفر نے اسے بتلایا کہ کاش تم مجھے، سیدنا قثم بن عباس اور سیدنا عبید اللہ بن عباس کو دیکھتے، جب ہم بچے کھیل رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہمارے قریب سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اٹھا کر مجھے پکڑا دو اور آپ نے مجھے اپنے آگے سواری پر سوار کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قثم کے متعلق فرمایا کہ اسے بھی میری طرف اٹھاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے پیچھے سوار کر لیا، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو قثم سے زیادہ عبید اللہ سے محبت تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا سے اس بات کی جھجک محسوس نہیں کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قثم کو اپنے ساتھ سوار کر لیا اور عبید اللہ کو سوار نہ کیا، پھر آپ نے تین بار میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ہر دفعہ یہ دعا کی: یا اللہ! جعفر کی اولاد میں تو ان کا خلیفہ بن جا۔ خالد بن سارہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن جعفر سے دریافت کیا کہ سیدنا قثم کی موت کیسے واقع ہوئی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ وہ شہید ہوئے تھے۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی خیر اور بھلائی کو بہتر جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، واقعی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11664]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الحاكم: 1/ 372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1760»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11665
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُهُ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَبَغْتُ أَرْبَعِينَ مَنِيئَةً وَعَجَنْتُ عَجِينِي وَغَسَّلْتُ بَنِيَّ وَدَهَنْتُهُمْ وَنَظَّفْتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ائْتِينِي بِبَنِي جَعْفَرٍ“ قَالَتْ فَأَتَيْتُهُ بِهِمْ فَشَمَّهُمْ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا يُبْكِيكَ أَبَلَغَكَ عَنْ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ شَيْءٌ قَالَ ”نَعَمْ أُصِيبُوا هَذَا الْيَوْمَ“ قَالَتْ فَقُمْتُ أَصِيحُ وَاجْتَمَعَ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ ”لَا تُغْفِلُوا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا فَإِنَّهُمْ قَدْ شُغِلُوا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمْ“
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء جب شہادت پا چکے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں نے چالیس کھالیں صاف کرنے کے لیے ڈالی ہوئی تھیں، آٹا گوندھا ہوا تھا اور میں نے اپنے بچوں کو نہلا کر تیل لگا کر ان کو خوب صاف ستھرے کیاہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر فرمایا: جعفر کے بیٹوں کو میرے پاس لاؤ۔ میں انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائی، آپ نے ان کو سونگھا اور ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پرفدا ہوں، آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق آپ کے پاس کوئی خبر آئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ لوگ آج شہید ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر میں اٹھی اور چیخی، عورتیں میرے پاس جمع ہوگئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھرتشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! آل جعفر کے لیے کھانا تیار کرنے سے غافل نہ ہونا، وہ اپنے سرپرست کی شہادت کے صدمے میں مبتلا ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11665]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ام عيسي الجزار، ولجھالة حال ام جعفر بنت محمد، وقوله لَا تُغْفِلُوْا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا له شاھد من حديث عبد الله بن جعفر، اخرجه ابن ماجه: 1611، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27626»
الحكم على الحديث: ضعیف