🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
88. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاوِيَةَ بن أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11895
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ لَهُ أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ فَقَالَ مَا كُنْتِ لِتَفْعَلِيهِ وَأَنَا فِي بَيْتِ أَمَانٍ وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ“ كَيْفَ أَنَا فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ وَفِي حَوَائِجِكِ قَالَتْ صَالِحٌ قَالَ فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے تو سیدہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ میں کسی کو تمہاری گھات میں تمہیں قتل کرنے کے لیے بٹھا دوں اور وہ تمہیں قتل کر دے؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ایسا کام نہیں کریں گی۔ (یا آپ ایسا نہیں کر سکتیں) کیونکہ میں حفظ و امان کی حدود کے اندر ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ایمان دھوکے سے قتل کرتے سے مانع ہے۔ اچھا اب آپ یہ بتائیں کہ میں آپ کے اور آپ کی ضروریات کے پورا کرنے میں میں کیسا جا رہا ہوں؟ سیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہو۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پس آپ ہمیں اور لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑیں،یہاں تک کہ ہم اپنے رب سے جا ملیں۔ (مراد یہ ہے کہ آپ میرے اور لوگوں کے معاملات میں دخل نہ دیا کریں) [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11895]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 723، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16957»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ السُّلَمِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11896
عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ عَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ فَأَفْلَجَنِي وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، میرے والد اور میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک معاملہ لے گیا تو آپ نے میرے حق میں فیصلہ کیا اور میرے لیے نکاح کا پیغام بھیج کر آپ نے میرا نکاح کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11896]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه مطولا ابويعلي: 1551، والطبراني في الكبير: 19/ 1072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18275 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18464»
وضاحت: فوائد: … سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ صحابی ٔ رسول ہیں، انھوں نے پہلے کوفہ میں سکونت اختیار کی، پھر مصر چلے گئے اور بالآخر دمشق کو اپنا مسکن قرار دیا،یہ دمشق کی فتح میں شریک تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں ان کا مرتبہ مسلّم تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ما بین ہونے والی جنگوں میں یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا مقداد بن اسود کندی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11897
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ مِنْ أَصْحَابِي أَرْبَعَةً أَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ أُحِبَّهُمْ“ قَالُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”إِنَّ عَلِيًّا مِنْهُمْ وَأَبُو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ“
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ میرے چار صحابہ سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بتلایا ہے کہ وہ ان سے محبت رکھتا ہے اور مجھے حکم بھی دیا ہے کہ میں بھی ان سے محبت رکھوں۔ صحابۂ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی، ابو ذر غفاری، سلمان فارسی اور مقداد بن اسود کندی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11897]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو ربيعة الايادي، قال ابو حاتم: منكر الحديث، وتساھل ابن معين فوثّقه، وقال ابن حجر: مقبول، وشريك النخعي سييء الحفظ، اخرجه الترمذي: 3718،وابن ماجه: 149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23356»
وضاحت: فوائد: … سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابی ٔرسول ہیں، ان کے باپ کا نام عمرو تھا، یہ اسود کی زیر تربیت رہے اور انھوں نے ان کو منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا، اس وجہ سے یہ ان ہی کی طرف منسوب ہونے لگے۔مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے جن سات افراد نے اسلام کا اظہار کیا تھا، ان میں ایک سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے، انھوں نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی، پھر مکہ مکرمہ لوٹ آئے اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں (۳۳) سن ہجری میں انھوں نے وفات پائی، جبکہ ان کی عمر ستر برس تھی اور ان کو بقیع قبرستان میں دفن کیا گیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11898
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ ابْنِ الْأَسْوَدِ مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ أَنَا صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} وَلَكِنْ نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ يَسَارِكَ وَمِنْ بَيْنِ يَدَيْكَ وَمِنْ خَلْفِكَ فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشْرِقُ وَسَرَّهُ ذَلِكَ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو ایک موقع پر ایسی بات کرتے سنا ہے کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ کاش وہ فرد میں ہوتا اوراس کے عوض ہر وہ چیز دے دیتا، جس کو اس کے برابر سمجھا جاتا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرکین کے خلاف بد دعا کر رہے تھے، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ:{اِذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُکَ فْقَاتِلَا اِنّا ھَھُنَا قَاعِدُوْنَ} … آپ اور آپ کا رب جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ (سورۂ مائدہ: ۲۴) بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہر طرف سے (آپ کے دفاع میں) لڑیں گے۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سن کر از حد خوش ہوئے اور میں نے آپ کے چہر ہ مبارک کو خوشی سے دمکتا دیکھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11898]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3952، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4070»
وضاحت: فوائد: … چونکہ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کی اس بات کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت خوش ہوئے تھے، اس لیے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ خواہش کرتے تھے کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس خوشی کا سبب بننے والے وہ ہوتے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3952
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. بَابُ مَا جَاءَ فِى يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سلام رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنایوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11899
عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي الْهَيْثَمِ قَالَ سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَجْلَسَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي وَسَمَّانِي يُوسُفَ
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی گود میں بٹھا کر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرا نام یوسف رکھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11899]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16520»
وضاحت: فوائد: … سیدنایوسف رضی اللہ عنہ، سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے، ان کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے، امام بخاری نے کہا: ان کو صحبت کا شرف حاصل ہے، ابن سعد نے صحابہ کے پانچویں طبقے میں ان کو ذکر کیا ہے، جبکہ امام ابوحاتم نے کہا ہے کہ ان کو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رؤیت نصیب ہوئی ہے صحبت یعنی ساتھ رہنے کا شرف حاصل نہیں ہوا، امام بخاری کا قول راجح ہے، یہ عمر بن عبد العزیز کی خلافت میں فوت ہوئے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں