🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11855
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ عَمَّارٌ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ”ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے آکر اندر آنے کی اجازت طلب کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے آنے کی اجازت دے دو، بہترین اور شاندار آدمی کو خوش آمدید۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11855]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه الترمذي: 3798، وابن ماجه: 146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 779 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 779»
وضاحت: فوائد: … طَیِّب سے مراد وہ آدمی ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے کریم، بزرگ اور حسین الاخلاق ہو، اور مُطَیَّب سے مراد یہ ہے کہ اسلام کی وجہ سے ان کے اس کرم اور حسن میں اضافہ ہوا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11856
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ دَعَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكُمْ وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي نَشَدْتُكُمُ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ لَأَعْطَيْتُهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ يَعْنِي عَمَّارًا أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ الدَّهْرَ هَكَذَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اصْبِرْ“ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتَ“
سالم بن ابی جعد سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سمیت کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کوبلوایا اور کہا: میں تم سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں اور میرا ارادہ ہے کہ تم مجھ سے سچ سچ بات بیان کر دو، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی چیز دینے میں قریش کو دوسرے لوگوں پر ترجیح دیا کرتے تھے؟ اور قریش میں سے بنو ہاشم کو ترجیح دیا کرتے تھے؟ یہ سن کر لوگ خاموش رہ گئے۔سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر جنت کی چابیاں میرے ہاتھ میں آجائیں تو میں چابیاں بنو امیہ کو دے دوں یہاں تک کہ یہ سب لوگ جنت میں چلے جائیں۔پھر انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: کیا میں تمہیں اس (یعنی عمار رضی اللہ عنہ) کے متعلق کچھ بیان کردوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ہم بطحاء میں چلتے آرہے تھے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور اس کے ماں باپ کے پاس سے گزرے، انہیں قبول اسلام کی پاداش میں عذاب دیا جا رہا تھا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے والد (سیدنایاسر رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا کب تک ہوتا رہیگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: صبرکرو۔ پھر فرمایا: یا اللہ! آل یاسر کی مغفرت فرما۔ (ویسے میں جانتا ہوں کہ) تو ان کی مغفرت کر چکا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11856]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، سالم بن ابي الجعد لم يدرك عثمان بن عفان، وقوله اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ له شواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 439»
وضاحت: فوائد: … مغفرت کے باوجود مغفرت کا سوال کرنا، اس سے مراد مغفرت کا دوام، سوال کرنے والے کی عاجزی اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا شکر ادا کرنے کی طاقت نہ ہونا ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11857
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُ أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ بَلَى قَالَ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّكَ وَقَدِ اسْتَعْمَلَكَ فَقَالَ قَدِ اسْتَعْمَلَنِي فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ أَوِ اسْتِعَانَةً بِي وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ
حسن بصری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تا حیات محبت کرتے رہے ہوں، کیا وہ صالح آدمی نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو اپناعامل بنا کر بھیجا ہوا تھا، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے مجھے عامل تو بنایا تھا، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے محبت کی وجہ سے یا میری مدد کرنے کے لیے مجھے عامل بنایا تھا، البتہ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ دو آدمیوں سے محبت کرتے تھے، ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11857]
تخریج الحدیث: «منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمرو بن عاص، اخرجه بنحوه النسائي في الكبري: 9274، والحاكم: 3/ 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17960»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرُو بْن الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عمرو بن اسود رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11858
عَنْ حَكِيمِ بْنِ عُمَيْرٍ وَضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ قَالَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَدْيِ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو دیکھنا چاہتا ہے، وہ عمرو بن اسود رضی اللہ عنہ کی سیرت کو دیکھ لے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11858]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، حكيم بن عمرو وضمرة بن حبيب لم يدركا عمر بن الخطاب، وابوبكر بن عبد الله ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 115»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُوْمِ الْأَعْمَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
نابینا صحابی سیدنا عمر وبن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11859
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ مَرَّتَيْنِ عَلَى الْمَدِينَةِ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ مَعَهُ رَايَةٌ سَوْدَاءُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو مرتبہ مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر فرمایاتھا، میں نے قادسیہ کے دن ان کو دیکھا کہ وہ ایک سیاہ علم تھامے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11859]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 595، 2931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12369»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں،یہ نابینا تھے، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مؤذن ہونے کا شرف بھی حاصل رہا، اہل مدینہ ان کا نام عبد اللہ اور اہل عراق ان کا نام عمرو پیش کرتے ہیں،یہ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ماموں زاد تھے، یہ مہاجرین اولین میں سے ہیں، جنگ قادسیہ میں شہادت سے سرفراز ہوئے تھے، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ قادسیہ میں یہ مسلمانوں کے علم بردار تھے، ان کی وہاں شہادت نہیں ہوئی تھی،بلکہ قادسیہ سے واپس آنے کے بعد مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا تھا۔ واللہ اعلم۔ سورۂ عبس کی ابتدائی آیات ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی، نابینا ہونے کے باوجود جہاد کا جذبہ موجود تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11860
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ شَيْءٌ فَأَعْطَاهُ نَاسًا وَتَرَكَ نَاسًا وَقَالَ جَرِيرٌ أَعْطَى رِجَالًا وَتَرَكَ رِجَالًا قَالَ فَبَلَغَهُ عَنِ الَّذِينَ تَرَكَ أَنَّهُمْ عَتَبُوا وَقَالُوا قَالَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”إِنِّي أُعْطِي نَاسًا وَأَدَعُ نَاسًا وَأُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ رِجَالًا“ قَالَ عَفَّانُ قَالَ ”ذِي وَذِي وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِي أُعْطِي أُنَاسًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ وَأَكِلُ قَوْمًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ“ قَالَ وَكُنْتُ جَالِسًا تِلْقَاءَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ
سیدنا عمروبن تغلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مال غنیمت آیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں میں اس کو تقسیم کر دیا اور بعض لوگوں کو چھوڑ دیا، جن لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال نہیں دیا تھا،انہوں نے خفگی کا اظہار کیا، جب ان کی یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر چڑھ کر اللہ کی حمد و ثناء کی اور پھر فرمایا: میں بعض لوگوں کو دیتا اور بعض کو چھوڑ دیتا ہوں، حالانکہ میں جن کو نہیں دیتا، وہ مجھے ان افراد کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہوتے ہیں، جن کو میں دیتا ہوں، جن لوگوں کے دلوں میں حرص اور طمع ہوتی ہے، میں ان کو دیتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کے دلوں میں استغنا اور بھلائی رکھی ہے، میں انہیں اللہ کی ان عطا کردہ نعمتوں کے سپرد کر تا ہوں، عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں۔ سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے اپنے حق میں یہ بات سن کر کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کے مقابلے میں مجھے سرخ اونٹ لینا زیادہ پسند نہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11860]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 923، 3145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20948»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر بن تغلب رضی اللہ عنہ معروف صحابی ہیں، انھوں نے بصرہ میںسکونت اختیار کی تھی، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ احادیث بیان کی ہیں، بعض اہل علم نے تو ان سے روایت کرنے والوں میں صرف حسن بصری کا ذکر کیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کاتذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11861
حَدَّثَنَا أَبُو الصَّخْرِ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّ يَحْيَى بْنَ النَّضْرِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ قَالَ أَتَى عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ أَمْشِي بِرِجْلِي هَذِهِ صَحِيحَةً فِي الْجَنَّةِ وَكَانَتْ رِجْلُهُ عَرْجَاءَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نَعَمْ“ فَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ هُوَ وَابْنُ أَخِيهِ وَمَوْلًى لَهُمْ فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْكَ تَمْشِي بِرِجْلِكَ هَذِهِ صَحِيحَةً فِي الْجَنَّةِ“ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا وَبِمَوْلَاهُمَا فَجُعِلُوا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے شہید ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں اپنی اس ٹانگ سے صحیح طور پر چل سکوں گا؟ دراصل وہ ایک ٹانگ سے لنگڑے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔۔ پھر وہ،ان کا بھتیجا سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ اور ان کا ایک غلام یہ تینوں غروۂ احد میں شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: میں گویا دیکھ رہا ہوں کہ تو اپنی اس ٹانگ سے صحیح طور پر جنت میں چل رہا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تینوں کو ایک ہی قبر میں دفن کرنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11861]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22920»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر انصاری صحابی ہیں، بیعت عقبہ میں شرکت کی سعادت سے سرفراز ہوئے،غزوۂ بدر میں ان کی شرکت کے بارے اہل علم کے اقوال مختلف ہیں، البتہ وہ غزوۂ احد میں شریک ہوئے اور شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے، یہ صحابی بنو سلمہ کے سرداروں اور اشراف میں سے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرُو بْن عَبَسَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكُنتُهُ أَبُو نَجِيْحٍ وَهُوَ رَابِعُ أَرْبَعَةٍ فِي الْإِسْلَامِ
چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11862
حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدِّمَشْقِيُّ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ صَاحِبَ الْعَقْلِ عَقْلِ الصَّدَقَةِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ بِأَيِّ شَيْءٍ تَدَّعِي أَنَّكَ رُبُعُ الْإِسْلَامِ قَالَ إِنِّي كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرَى النَّاسَ عَلَى ضَلَالَةٍ وَلَا أَرَى الْأَوْثَانَ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعْتُ عَنْ رَجُلٍ يُخْبِرُ أَخْبَارَ مَكَّةَ وَيُحَدِّثُ أَحَادِيثَ فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفٍ وَإِذَا قَوْمُهُ عَلَيْهِ جُرَاءٍ فَتَلَطَّفْتُ لَهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ مَا أَنْتَ قَالَ ”أَنَا نَبِيُّ اللَّهِ“ فَقُلْتُ وَمَا نَبِيُّ اللَّهِ قَالَ ”رَسُولُ اللَّهِ“ قَالَ قُلْتُ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ ”نَعَمْ“ قُلْتُ بِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ قَالَ ”بِأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ وَلَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ وَصِلَةِ الرَّحِمِ“ فَقُلْتُ لَهُ مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا قَالَ ”حُرٌّ وَعَبْدٌ أَوْ عَبْدٌ وَحُرٌّ“ وَإِذَا مَعَهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ وَبِلَالٌ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ قُلْتُ إِنِّي مُتَّبِعُكَ قَالَ ”إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا وَلَكِنِ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَالْحَقْ بِي“ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي وَقَدْ أَسْلَمْتُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ حَتَّى جَاءَ رَكَبَةٌ مِنْ يَثْرِبَ فَقُلْتُ مَا هَذَا الْمَكِّيُّ الَّذِي أَتَاكُمْ قَالُوا أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ وَتَرَكْنَا النَّاسَ سِرَاعًا قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي قَالَ ”نَعَمْ أَلَسْتَ أَنْتَ الَّذِي أَتَيْتَنِي بِمَكَّةَ“ قَالَ قُلْتُ بَلَى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ وَأَجْهَلُ قَالَ ”إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ فَلَا تُصَلِّ حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الرُّمْحُ بِالظِّلِّ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا فَاءَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ فَإِذَا صَلَّيْتَ الْعَصْرَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ حِينَ تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ“ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ قَالَ ”مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَبُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ وَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ فَمِهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ حِينَ يَنْتَثِرُ ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَنَامِلِهِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا قَدَمَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَقُومُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا خَرَجَ مِنْ ذَنْبِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ“ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُعْطَى هَذَا الرَّجُلُ كُلَّهُ فِي مَقَامِهِ قَالَ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي وَمَا بِي مِنْ حَاجَةٍ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَى رَسُولِهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا لَقَدْ سَمِعْتُهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ
شداد بن عبداللہ دمشقی، جن کو متعدد صحابۂ کرام سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، ان سے مروی ہے کہ سیدنا ابو امامہ نے کہا کہ دیت (خون بہا) ادا نہ کر سکنے والوں کی طرف سے خون بہا ادا کرنے والے عمرو بن عبسہ! آپ بنو سلیم میں سے ہیں، آپ کس طرح دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے؟ انہوں نے کہا:میں دور جاہلیت میں بھی لوگوں کو گمراہ سمجھتا تھا اور میں بتوں کو کچھ اہمیت نہ دیا کرتا تھا، پھر میں نے ایک آدمی کو سنا وہ مکہ کی باتیں کیا کرتا اور بیان کیا کرتا تھا، میں سواری پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ آیا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوشیدہ طور پر اسلام کی تبلیغ کرتے تھے اور آپ کی قوم آپ پر غالب تھی اور ظلم ڈھاتی تھی۔ میں نرم خوئی اختیار کرکے آپ کے پاس پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، میں نے عرض کیا: آپ کا دعویٰ کیاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا نبی ہوں۔ میں نے دریافت کیا: اللہ کا نبی ہونے سے کیا مراد ہے یا اس کا مفہوم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نبی ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ میں اللہ کا رسول اور اس کا فرستادہ ہوں۔ میں نے دریافت کیا: آیا آپ کو اللہ نے رسول بنا کر مبعوث کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔ میں نے پوچھا: اللہ نے آپ کو کیا پیغام اور دعوت دے کر مبعوث کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ایک ہونے پر ایمان لایا جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، بتوں کو توڑ دیا جائے، صلہ رحمی کی جائے۔ میں نے کہا: اس دعوت کے سلسلہ میں آپ کے ساتھ کس قسم کے لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آزادہے اور ایک غلام۔ ان دنوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے عرض کیا: میں آپ کا متبع بننا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان حالات میں اس بات کی استطاعت نہیں رکھ سکتے، البتہ تم اپنے اہل میں واپس چلے جاؤ، جب تم میرے غالب ہونے کا سنو تو میرے پاس آجانا۔ اس کے بعد میں اپنے اہل میں واپس آگیا، میں اسلام قبول کر چکا تھا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں تشریف لے آئے، میں حالات معلوم کرتا رہا یہاں تک کہ یثرب سے ایک چھوٹا سا قافلہ آیا۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ مکی جو تمہارے ہاں آیا تھا، اس کی کیا پوزیشن ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ ان کی قوم نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، مگر وہ اپنے اس ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے، ان کے اور ان کے اس برے ارادہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رکاوٹ آگئی اور لوگ بڑی تیزی سے اس کے ساتھ مل رہے ہیں۔ پھر میں سواری پر سوار ہو کر مدینہ منورہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مجھے پہچانا؟ آپ نے فرمایا: کیا تم وہی شخص نہیں ہو، جو میرے پاس مکہ میں آئے تھے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ سکھایا ہے اور میں اس سے واقف نہیں، آپ مجھے بھی اس کی تعلیم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم فجر کی نماز ادا کر لو تو طلوع آفتاب تک نماز نہ پڑھو، آفتاب طلوع ہونے کے بعد بھی اس کے بلند ہونے تک نماز نہ پڑھو، کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں، جب سورج ایک دو نیزوں کے برابر بلند ہو جائے تو نماز پڑھ سکتے ہو، بے شک نماز کے وقت اللہ کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں، تم سورج کے عین سر پر پہنچنے تک نماز پڑھ سکتے ہو، جب سورج عین سر پر ہو تو نماز نہ پڑھو کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، جب سایہ ڈھل جائے تو نماز پڑھو، نماز کے وقت اللہ کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں، پھر تم عصر تک نماز پڑھ سکتے۔ جب تم عصر کی نمازادا کر لو تو غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے رکے رہو، جب سورج غروب ہوتا ہے اس وقت بھی کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھے وضوء کے مسائل بھی بتلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی وضو کے پانی کے قریب ہو کر کلی کرے، ناک میں پانی چڑھائے، ناک کو جھاڑے،تو اس کے گناہ پانی کے ساتھ اس کے منہ سے اور نتھنوں سے نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ چہرہ اسی طرح دھوئے جیسے اس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیاہے تو اس کے گناہ پانی کے ساتھ اس کی داڑھی کے کناروں سے نکل جاتے ہیں۔ پھروہ اپنے بازوؤں کو کہنیوں تک دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ انگلیوں کے پوروں سے نکل جاتے ہیں، پھر وہ جب اپنے سرکا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ پانی کے ساتھ بالوں کے سروں سے نکل جاتے ہیں، پھر وہ اپنے قدموں کو یعنی پاؤں کو اسی طرح دھوتا ہے، جیسے اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے گناہ پاؤں کی انگلیوں کے کناروں سے نکل جاتے ہیں، اس کے بعد وہ کھڑا ہو کر اللہ کے شایان شان حمد و ثناء کرتا ہے اور دو رکعت نماز ادا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے، جیسا وہ اپنی ولادت کے روز تھا۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ابو امامہ نے دریافت کیا: اے عمرو بن عبسہ! ذرا خیال سے بولیں۔ کیا آپ نے یہ ساری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خو دسنی ہے؟ کیایہ سب کچھ ایک آدمی کو ایک ہی وقت میں مل جاتا ہے؟ سیدنا عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو امامہ!اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں، میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں، میری موت کا وقت قریب ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات ایک، دو یا تین مرتبہ ہی سنی ہوتی تو میں بیان نہ کرتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سات مرتبہ بلکہ اس سے بھی زائد مرتبہ سماع کر چکا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11862]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 832، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17144»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابی ہیں، مکہ میں مسلمان ہوئے تھے، مذکورہ بالا حدیث میں خوبصورت انداز میں ان کا قبولیت ِ اسلام والا واقعہ بیان کیا گیا ہے، یہ غزوۂ خندق یا خیبر کے بعد ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے اور یہاں رہائش پذیر ہوئے، بعد میں شام میں سکونت پذیر ہوگئے اور حمص میں وفات پائی۔ حافظ ابن حجر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رقم طراز ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کی وفات سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آخری ایام میں ہوئی، کیونکہ فتنوں میں اور خلافت معاویہ میں ان کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11863
وَعَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِصْنَ الطَّائِفِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ“ قَالَ فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا
ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں طائف کے قلعے کا محاصر کیا، اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں دشمن کو ایک تیر مارا، اسے جنت میں ایک درجہ ملے گا۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس دن سولہ تیرمارے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11863]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابوداود: 3965،والترمذي: 1638، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17147»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَسَبَبٍ اسلامه
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11864
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ فِيهِ قَالَ لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنَ الْأَحْزَابِ عَنِ الْخَنْدَقِ جَمَعْتُ رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا يَرَوْنَ مَكَانِي وَيَسْمَعُونَ مِنِّي فَقُلْتُ لَهُمْ تَعْلَمُونَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى أَمْرَ مُحَمَّدٍ يَعْلُو الْأُمُورَ عُلُوًّا كَبِيرًا مُنْكَرًا وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَأْيًا فَمَا تَرَوْنَ فِيهِ قَالُوا وَمَا رَأَيْتَ قَالَ رَأَيْتُ أَنْ نَلْحَقَ بِالنَّجَاشِيِّ فَنَكُونَ عِنْدَهُ فَإِنْ ظَهَرَ مُحَمَّدٌ عَلَى قَوْمِنَا كُنَّا عِنْدَ النَّجَاشِيِّ فَإِنَّا أَنْ نَكُونَ تَحْتَ يَدَيْهِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ أَنْ نَكُونَ تَحْتَ يَدَيْ مُحَمَّدٍ وَإِنْ ظَهَرَ قَوْمُنَا فَنَحْنُ مَنْ قَدْ عُرِفَ فَلَنْ يَأْتِيَنَا مِنْهُمْ إِلَّا خَيْرٌ فَقَالُوا إِنَّ هَذَا الرَّأْيَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُمْ فَاجْمَعُوا لَهُ مَا نُهْدِي لَهُ وَكَانَ أَحَبَّ مَا يُهْدَى إِلَيْهِ مِنْ أَرْضِنَا الْأَدَمَ فَجَمَعْنَا لَهُ أُدْمًا كَثِيرًا فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَعِنْدَهُ إِذْ جَاءَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَعَثَهُ إِلَيْهِ فِي شَأْنِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي هَذَا عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ لَوْ قَدْ دَخَلْتُ عَلَى النَّجَاشِيِّ فَسَأَلْتُهُ إِيَّاهُ فَأَعْطَانِيهِ فَضَرَبْتُ عُنُقَهُ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَأَتْ قُرَيْشٌ أَنِّي قَدْ أَجْزَأْتُ عَنْهَا حِينَ قَتَلْتُ رَسُولَ مُحَمَّدٍ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدْتُ لَهُ كَمَا كُنْتُ أَصْنَعُ فَقَالَ مَرْحَبًا بِصَدِيقِي أَهْدَيْتَ لِي مِنْ بِلَادِكَ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ أَيُّهَا الْمَلِكُ قَدْ أَهْدَيْتُ لَكَ أُدْمًا كَثِيرًا قَالَ ثُمَّ قَدَّمْتُهُ إِلَيْهِ فَأَعْجَبَهُ وَاشْتَهَاهُ ثُمَّ قُلْتُ لَهُ أَيُّهَا الْمَلِكُ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا خَرَجَ مِنْ عِنْدِكَ وَهُوَ رَسُولُ رَجُلٍ عَدُوٍّ لَنَا فَأَعْطِنِيهِ لِأَقْتُلَهُ فَإِنَّهُ قَدْ أَصَابَ مِنْ أَشْرَافِنَا وَخِيَارِنَا قَالَ فَغَضِبَ ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ فَضَرَبَ بِهَا أَنْفَهُ ضَرْبَةً ظَنَنْتُ أَنْ قَدْ كَسَرَهُ فَلَوِ انْشَقَّتْ لِي الْأَرْضُ لَدَخَلْتُ فِيهَا فَرَقًا مِنْهُ ثُمَّ قُلْتُ أَيُّهَا الْمَلِكُ وَاللَّهِ لَوْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ تَكْرَهُ هَذَا مَا سَأَلْتُكَهُ فَقَالَ لَهُ أَتَسْأَلُنِي أَنْ أُعْطِيَكَ رَسُولَ رَجُلٍ يَأْتِيهِ النَّامُوسُ الْأَكْبَرُ الَّذِي كَانَ يَأْتِي مُوسَى لِتَقْتُلَهُ قَالَ قُلْتُ أَيُّهَا الْمَلِكُ أَكَذَاكَ هُوَ فَقَالَ وَيْحَكَ يَا عَمْرُو أَطِعْنِي وَاتَّبِعْهُ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَعَلَى الْحَقِّ وَلَيَظْهَرَنَّ عَلَى مَنْ خَالَفَهُ كَمَا ظَهَرَ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ وَجُنُودِهِ قَالَ قُلْتُ فَبَايِعْنِي لَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ قَالَ نَعَمْ فَبَسَطَ يَدَهُ وَبَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى أَصْحَابِي وَقَدْ حَالَ رَأْيِي عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ وَكَتَمْتُ أَصْحَابِي إِسْلَامِي ثُمَّ خَرَجْتُ عَامِدًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُسْلِمَ فَلَقِيتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَذَلِكَ قُبَيْلَ الْفَتْحِ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ فَقُلْتُ أَيْنَ يَا أَبَا سُلَيْمَانَ وَاللَّهِ لَقَدْ اسْتَقَامَ الْمَنْسِمُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَنَبِيٌّ أَذْهَبُ وَاللَّهِ أُسْلِمُ فَحَتَّى مَتَى قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا جِئْتُ إِلَّا لِأُسْلِمَ قَالَ فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَسْلَمَ وَبَايَعَ ثُمَّ دَنَوْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَلَا أَذْكُرُ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا عَمْرُو بَايِعْ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ وَإِنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهَا“ قَالَ فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَقَدْ حَدَّثَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ كَانَ مَعَهُمَا أَسْلَمَ حِينَ أَسْلَمَا
حبیب بن اوس سے مروی ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے مجھے براہ راست بیان کیا کہ جب ہم غزوۂ احزاب میں خندق سے واپس ہوئے، تو میں نے چند قریشی لوگوں کو جمع کیا، وہ جو میرا مقام سمجھتے اور میری بات کو توجہ سے سنتے تھے، میں نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ میری نظر میں محمد کی دعوت سب پر غالب ہو کر رہے گی اور ہم لوگ اسے پسند بھی نہیں کرتے، میری ایک رائے ہے، اب تم بتاؤ کہ اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: جی آپ کی رائے کیا ہے؟ میں نے کہا: میرا خیال ہے کہ ہم نجاشی کے پاس چلے جائیں اور وہیں رہیں، اگر محمد ہماری قوم پر غالب آ گئے، تو ہم نجاشی کے ہاں ہوں گے اور محمد کے ماتحت رہنے کی نسبت نجاشی کے ماتحت رہنا ہمیں زیادہ پسند ہے اور اگر ہماری قوم غالب ہوئی تو ہم معروف ہیں،ہمیں ان کے ہاں خیر ہی خیر ملے گی۔ لوگوں نے کہا: واقعی آپ کی رائے مناسب ہے۔پھر میں نے ان سے کہا: تم اس کو تحائف دینے کے لیے مال جمع کرو، اسے ہمارے علاقے کا چمڑا بطور ہدیہ بہت پسند تھا، پس ہم نے اسے دینے کے لیے بہت سے چمڑے جمع کر لئے اور ہم روانہ ہو گئے اور اس کے ہاں پہنچ گئے، اللہ کی قسم!ہم اس کے پاس موجود تھے کہ عمرو بن امیہ ضمری بھی وہاں آگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جعفر اور ان کے ساتھیوں کے سلسلہ میں بات چیت کے لیے وہاں بھیجا تھا، وہ اس کے پاس آئے اور اس کے ہاں سے چلے گئے، اب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ عمرو بن امیہ ضمری ہے، اگر میں نجاشی کے ہاں جا کر اس سے اس کا مطالبہ کروں کہ اسے میرے حوالے کر دے تو وہ اسے میرے حوالے کر دے گا اور میں اسے قتل کر دوں گا تو قریش اعتراف کریں گے کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفیر کو قتل کر کے ان کی نیابت کا حق ادا کر دیا۔ چنانچہ میں اس کے دربار میں گیا اور جاتے ہی اسے تعظیمی سجدہ کیا، جیسا کہ میں اس سے پہلے بھی کیا کرتا تھا،اس نے کہا: دوست کی آمد مبارک، تم اپنے وطن سے میرے لیے کچھ تحفہ لائے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! بادشاہ سلامت! میں آپ کے لیے کثیر مقدار میں چمڑے لے کر حاضر ہوا ہوں۔ پھر میں نے وہ اس کی خدمت میں پیش کئے، اس نے ان کو خوب پسند کیا اور یہ بھی اظہار کیا کہ اس کو ان کی ضرورت تھی، اس کے بعد میں نے کہا: بادشاہ سلامت! میں نے یہاں ایک آدمی کو دیکھا ہے، جو آپ کے ہاں سے باہر گیا ہے، وہ تو ہمارے دشمن کا قاصد ہے، آپ اسے میرے حوالے کر دیں تاکہ میں اسے قتل کر سکوں، وہ تو ہمارے معزز اور بہترین لوگوں کا قاتل ہے، یہ سن کر نجاشی غضبناک ہو گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ لمبا کر کے اپنے ہی ناک پر اس قدر زور سے مارا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اس نے اپنے ناک کی ہڈی توڑ دی ہو گی، اس کے خوف کی وجہ سے میری یہ حالت ہوئی کہ اگر زمین پھٹ جاتی تو میں اس میں داخل ہو جاتا۔ پھر میں نے کہا: بادشاہ سلامت! اللہ کی قسم اگر مجھے علم ہوتا کہ یہ بات آپ کو اس قدر ناگوار گزرے گی تو میں آپ سے اس کا مطالبہ ہی نہ کرتا۔ نجاشی نے کہا: جو فرشتہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا، اب وہ جس آدمی کے پاس آتا ہے، کیا میں اس کے قاصد کو تمہارے حوالے کر دوں تاکہ تم اسے قتل کر سکو؟ میں نے کہا: بادشاہ سلامت! کیا وہ واقعی ایسا ہی ہے؟ وہ بولا: اے عمرو! تجھ پر افسوس ہے، تم میری بات مان لو اور اس کی اتباع کر لو، اللہ کی قسم وہ یقینا حق پر ہے اور وہ ضرور بالضرور اپنے مخالفین پر غالب آئے گا، جیسے موسیٰ علیہ السلام، فرعون اور اس کے لشکروں پر غالب آئے تھے۔ میں نے کہا: آپ مجھ سے اس کے حق میں قبولِ اسلام کی بیعت لے لیں۔ نجاشی نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور میں نے اس کے ہاتھ پر قبولِ اسلام کی بیعت کر لی۔ پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف گیا، جبکہ میری رائے سابقہ رائے سے یکسر بدل چکی تھی، لیکن میں نے اپنے ساتھیوں سے اپنے قبولِ اسلام کو چھپائے رکھا، پھر میں مسلمان ہونے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل دیا، خالد بن ولید سے میری ملاقات ہوئی، وہ مکہ مکرمہ سے آرہے تھے، یہ فتح مکہ سے پہلے کی بات ہے اور میں نے ان سے دریافت کیا: ابو سلیمان! کہاں سے آرہے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! راستہ خوب واضح ہو چکا ہے، وہ محمد یقینا نبی ہے، اللہ کی قسم میں تو جا کر مسلمان ہوتا ہوں۔ کب تک یوں ہی ادھر ادھربھٹکتا رہوں گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم میں بھی اسلام قبول کرنے کے لیے ہی آیاہوں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ خالد بن ولید آگے بڑھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اوربیعت کی، ان کے بعد میں بھی قریب ہوا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے اس شرط پر بیعت کرتا ہوں کہ میرے سابقہ سارے گناہ معاف ہو جائیں اور مجھے بعد میں سرزد ہونے والے گناہوں کانام لینایاد نہ رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! تم بیعت کرو، بے شک اسلام پہلے کے سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت سابقہ تمام گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کر لی اور پھر میں واپس آگیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: مجھ سے ایک ایسے آدمی نے بیان کیا جومیرے نزدیک قابلِ اعتماد ہے، اس نے کہا کہ سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بھی ان دونوں کے ہم راہ تھے، جب یہ دونوں اسلام میں داخل ہوئے تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی مسلمان ہوئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11864]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن في المتابعات والشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17930»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ خیبر کے سال (۷) سن ہجری کے اوائل میں مشرف با سلام ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں غزوۂ ذات سلاسل میں تین سو آدمیوں کے ایک دستے پر امیر مقرر فرمایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عمان کا حاکم مقرر فرمایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں آپ وہاں کے حکمران رہے،بعد میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ملک شام کا امیر بنا کر روانہ فرمایا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں فلسطین کاا امیر مقرر فرمایا، بعد ازاں عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک لشکر میں مصر کی طرف بھیجا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے انتقال تک وہاں کے امیر رہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں چار سال تک انہیں وہاں کے حاکم کی حیثیت سے برقرار رکھا، بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں مصر کا حاکم بنایا،یہ تاحیات وہاں کے حاکم رہے، ان کی وفات اور تدفین وہیں عمل میں لائی گئی۔ ان کی وفات (۴۳) سن ہجری میں عیدالفطر کی شب کو ستر سال کی عمر میں ہوئی، عرب کے معروف تیر انداز اور بہادر تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں