الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَسَبَبٍ اسلامه
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
حدیث نمبر: 11865
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ وَسِلَاحَكَ ثُمَّ ائْتِنِي“ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَهُ فَقَالَ ”إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ وَأَرْغَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”يَا عَمْرُو نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْئِ الصَّالِحِ“
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا کہ تم لباس اور اسلحہ زیب ِ تن کر کے میرے پاس آجاؤ، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف نظر اٹھائی اور سر کو نیچے کی طرف جھکایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ایک لشکر پر امیر بنا کر روانہ کرناچاہتا ہوں، اللہ تمہیں سلامت رکھے گا اور تمہیں غنیمت سے نوازے گا یا تمہیں مال کی صالح رغبت دے گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں مال و دولت کے لالچ میں نہیں، بلکہ اسلام کی رغبت کی بنا پر مسلمان ہوا ہوں،میں تو اس لیے مسلمان ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت حاصل رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرو! صالح آدمی کے لیے اچھا مال اچھی چیز ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11865]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 3210، والطبراني في الاوسط: 3213، والحاكم: 2/ 236، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17915»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 11866
حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَا أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ ”إِنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ“ قَالَ وَزَادَ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ طَلْحَةَ قَالَ ”نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ“
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صرف وہی بات بیان کرتا ہوں، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرو بن عاص قریش کے صالح افراد میں سے ہے۔ عبدالجبار بن ورد نے مزید بیان کیا کہ ابن ابی ملیکہ نے طلحہ سے بیان کیا کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: عبداللہ، ان کے والد اور ان کی والدہ، یہ بہترین گھرانہ ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11866]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اخرجه ابويعلي: 646، أخرج القسم الاول منه الترمذي: 3845، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1382 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1382»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 11867
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ عَمْرٌو وَهِشَامٌ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عاص کے دونوں بیٹے عمرو اور ہشام اہل ایمان ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11867]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8029»
وضاحت: فوائد: … دونوں اپنی رضامندی سے مشرف باسلام ہوئے، سیدنا ہشام نے اجنادین میں جام شہادت نوش کیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 11868
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَقَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلْفَ مِثْلٍ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک ہزار ضرب الامثال سنی اور سیکھی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11868]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17959»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 11869
أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ حَدَّثَهُ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ الْوَفَاةُ بَكَى فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ لِمَ تَبْكِي أَجَزَعًا عَلَى الْمَوْتِ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ وَلَكِنْ مِمَّا بَعْدُ فَقَالَ لَهُ قَدْ كُنْتَ عَلَى خَيْرٍ فَجَعَلَ يُذَكِّرُهُ صُحْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفُتُوحَهُ الشَّامَ فَقَالَ عَمْرٌو تَرَكْتَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنِّي كُنْتُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَطْبَاقٍ لَيْسَ فِيهَا طَبَقٌ إِلَّا قَدْ عَرَفْتُ نَفْسِي فِيهِ كُنْتُ أَوَّلَ شَيْءٍ كَافِرًا فَكُنْتُ أَشَدَّ النَّاسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ مِتُّ حِينَئِذٍ وَجَبَتْ لِي النَّارُ فَلَمَّا بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَشَدَّ النَّاسِ حَيَاءً مِنْهُ فَمَا مَلَأْتُ عَيْنَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَاجَعْتُهُ فِيمَا أُرِيدُ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَيَاءً مِنْهُ فَلَوْ مِتُّ يَوْمَئِذٍ قَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لِعَمْرٍو أَسْلَمَ وَكَانَ عَلَى خَيْرٍ فَمَاتَ فَرُجِيَ لَهُ الْجَنَّةُ ثُمَّ تَلَبَّسْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالسُّلْطَانِ وَأَشْيَاءَ فَلَا أَدْرِي عَلَيَّ أَمْ لِي فَإِذَا مِتُّ فَلَا تَبْكِيَنَّ عَلَيَّ وَلَا تُتْبِعْنِي مَادِحًا وَلَا نَارًا وَشُدُّوا عَلَيَّ إِزَارِي فَإِنِّي مُخَاصِمٌ وَسُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ سَنًّا فَإِنَّ جَنْبِيَ الْأَيْمَنَ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِالتُّرَابِ مِنْ جَنْبِي الْأَيْسَرِ وَلَا تَجْعَلَنَّ فِي قَبْرِي خَشَبَةً وَلَا حَجَرًا فَإِذَا وَارَيْتُمُونِي فَاقْعُدُوا عِنْدِي قَدْرَ نَحْرِ جَزُورٍ وَتَقْطِيعِهَا أَسْتَأْنِسْ بِكُمْ
عبد الرحمن بن شماسہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان پر گریہ طاری ہوگیا، ان کے فرزند عبداللہ نے ان سے کہا: آپ کیوں روتے ہیں؟ کیا موت کے ڈر کی وجہ سے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم موت سے نہیں، بلکہ موت کے بعد والے مراحل کا خوف ہے۔ عبداللہ نے کہا: آپ تو بہت اچھے اچھے اعمال کرتے رہے ہیں، پھر وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں گزارے ہوئے لمحات اور ان کی فتوحات شام یاد کرانے لگے۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ان سب سے افضل بات تو چھوڑ ہی گئے کہ میں کلمۂ شہادت کا اقرار و اعتراف کر چکا ہوں، میری زندگی کے تین مراحل ہیں اور مجھے ہر مرحلہ میں اپنی ذات کی معرفت حاصل ہے، میں پہلے مرحلے میں کافر تھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت دشمن تھا، اگر مجھے اسی حال میں موت آجاتی تو مجھ پر جہنم واجب ہوتی۔ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ جھجک آتی تھی، میں نے کبھی نظر بھر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوتا کبھی دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کرتا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے ہاں تشریف لے گئے، یہ میری طرف سے آپ کے حیاء کی وجہ تھی، اگر انہی دنوں مجھے موت آجاتی تو لوگ کہتے کہ عمرو کو مبارک ہو، وہ مسلمان ہوا اور اس نے بہترین زندگی بسر کی، اس کے لیے جنت کی امید ہے۔اس کے بعد میں حکمران اور بہت سے معاملات میں مشغول رہا، میں نہیں جانتا کہ وہ امور میرے حق میں ثابت ہوں گے یا میرے خلاف، میں فوت ہو جاؤں تو تم میرے اوپر ہرگز گر یہ نہ کرنا اور میرے جنازہ کے ساتھ کسی مدح کرنے والے کو یا آگ لے کر نہ جانا اور میرے اوپر چادر باندھ دینا، کیونکہ اللہ کے فرشتے مجھ سے سخت حساب لیں گے اور تم میرے اوپر اچھی طرح مٹی ڈال دینا، بے شک میرادایاں پہلو میرے بائیں پہلو سے زیادہ مٹی کا حق دار نہیں۔ اور تم میری قبر پر لکڑی یا پتھر نہ رکھنا، جب تم میری تدفین سے فارغ ہو جاؤ تو تم میری قبر کے پاس اتنی دیر بیٹھے رہنا جتنی دیر میں ایک اونٹ کو نحر کرکے اس کا گوشت تیار کیا جاتا ہے، تاکہ تمہاری موجودگی سے مجھے کچھ انس حاصل ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11869]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 121، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17933»
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 121
حدیث نمبر: 11870
حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِي عَقْرَبَ قَالَ جَزِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عِنْدَ الْمَوْتِ جَزَعًا شَدِيدًا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا هَذَا الْجَزَعُ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُدْنِيكَ وَيَسْتَعْمِلُكَ قَالَ أَيْ بُنَيَّ قَدْ كَانَ ذَلِكَ وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا ذَلِكَ كَانَ أَمْ تَأَلُّفًا يَتَأَلَّفُنِي وَلَكِنِّي أَشْهَدُ عَلَى رَجُلَيْنِ أَنَّهُ قَدْ فَارَقَ الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُمَا ابْنُ سُمَيَّةَ وَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ فَلَمَّا حَدَّثَهُ وَضَعَ يَدَهُ مَوْضِعَ الْغِلَالِ مِنْ ذَقْنِهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ أَمَرْتَنَا فَتَرَكْنَا وَنَهَيْتَنَا فَرَكِبْنَا وَلَا يَسَعُنَا إِلَّا مَغْفِرَتُكَ وَكَانَتْ تِلْكَ هِجِّيرَاهُ حَتَّى مَاتَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ابو نوفل بن ابی عقرب سے مروی ہے کہ وفات کے وقت سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ پر گھبراہٹ طاری ہوگئی، ان کے بیٹے عبداللہ نے ان کی یہ حالت دیکھی تو کہا: اے ابو عبداللہ! یہ گھبراہٹ اور پریشانی کیسی؟ آپ کو تو یہ مقام حاصل رہا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو اپنے قریب بٹھایا کرتے اور آپ کو مختلف علاقوں میں عامل بنا کر بھیجا کرتے تھے۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹے! یہ سب کچھ ہوتا رہا ہے، میں تمہیں اس بارے میں بتلاتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ آپ کا میرے ساتھ یہ تعلق مجھ سے محبت کی بنیاد پر تھا یا میری تالیف قلبی کے لیے تھا۔ البتہ میں گواہی دیتا ہوں کہ دو آدمی ایسے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے روانہ ہونے تک ان سے محبت کرتے رہے۔ ایک ابن سمیہ اور ابن ام عبد (یعنی سیدنا عمار بن یاسر اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما)۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ جب اپنے بیٹے سے یہ باتیں کر رہے تھے تو انہوں نے اپنا ہاتھ اپنی ٹھوڑی کے آخری حصہ پر رکھا ہوا تھا اور کہا: یا اللہ! (ہم خطا کار ہیں) تو نے ہمیں حکم دیئے، ہم نے ان کی پروانہ کی اور تونے ہمیں بہت سے کاموں سے روکا، مگر ہم ان کا ارتکاب کرتے رہے، ہم تو تیری مغفرت ہی کے امیدوار اور طلب گار ہیں۔ یہی کہتے ہوئے اور اسی حالت میں وہ انتقال کر گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11870]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17781 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17934»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 11871
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُ أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ بَلَى قَالَ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّكَ وَقَدِ اسْتَعْمَلَكَ فَقَالَ قَدِ اسْتَعْمَلَنِي فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ أَمِ اسْتِعَانَةً بِي وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حسن بصری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تاحیات محبت کرتے رہے ہوں، کیا وہ صالح آدمی نہیں ہو گا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو اپنا عامل بنا کر بھیجا ہوا تھا، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے مجھے عامل تو بنایا تھا، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے محبت کی وجہ سے یا میری مدد کرنے کے لیے مجھے عامل بنایا تھا، البتہ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ دو آدمیوں سے محبت کرتے تھے، ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11871]
تخریج الحدیث: «منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمرو بن عاص، اخرجه بنحوه النسائي في الكبري: 9274، والحاكم: 3/ 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17960»
الحكم على الحديث:
منقطع
حدیث نمبر: 11872
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَيْتُ عَلَى سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِحَمَائِلِ سَيْفِهِ فَأَخَذْتُ سَيْفًا فَاحْتَبَيْتُ بِحَمَائِلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ“ ثُمَّ قَالَ ”أَلَا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلَانِ الْمُؤْمِنَانِ“
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں خوف و ہراس پھیل گیا تو میں سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا، وہ اپنی تلوار کے پٹے کے ساتھ گوٹھ مار کر بیٹھے تھے، میں نے ان سے تلوار لی اور اس کے پٹے سے گوٹھ مار کر بیٹھ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تمہاری گھبراہٹ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف کیوں نہیں ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا، جیسے ان دونوں نے کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11872]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17963»
وضاحت: فوائد: … تلوار کے پٹے سے گوٹھ مارنا، یہ اس بات پر دلیل ہے کہ اگر دشمن ہوا تو ہم اس کو واپس پلٹانے کے لیے مستعد ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 11873
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَسْلَمَ النَّاسُ وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ“
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: (فتح مکہ کے موقع پر) لوگوں نے تو ظاہراً اسلام قبول کیا اور عمرو بن عاص نے (دلی طور پر) ایمان قبول کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11873]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين، اخرجه الترمذي: 3844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17413 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17548»
وضاحت: فوائد: … دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ارشاد کے ذریعے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے اس عداوت کو زائل کرنا چاہتے تھے، جو ان کو قبولیت ِ اسلام سے قبل اسلام اور اہل اسلام سے تھی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں سیدناعمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی عظیم منقبت کا بیان ہے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مومن ہونے کی شہادت دی، جس کا لازمی نتیجہ جنت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا نَفْسٌ مُوْمِنَۃٌ۔)) … صرف مومن جنت میں داخل ہو گا۔
اس لیے عصرِ حاضر کے جو مخالفین سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ پر اس بنا پر طعن کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اختلاف بلکہ قتال کیا، ان کا یہ دعوی صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس سے ایمان کی نفی نہیں ہوتی، جیسے ان کی بیان کردہ فضیلت سے ان کی عصمت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ کہنا بہتر ہے کہ سیدناعمرو رضی اللہ عنہ کا یہ اختلاف ان کے کسی اجتہاد کی وجہ سے تھا، نہ کہ خواہش پرستی کی وجہ سے۔ (صحیحہ: ۱۵۵)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں سیدناعمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی عظیم منقبت کا بیان ہے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مومن ہونے کی شہادت دی، جس کا لازمی نتیجہ جنت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا نَفْسٌ مُوْمِنَۃٌ۔)) … صرف مومن جنت میں داخل ہو گا۔
اس لیے عصرِ حاضر کے جو مخالفین سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ پر اس بنا پر طعن کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اختلاف بلکہ قتال کیا، ان کا یہ دعوی صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس سے ایمان کی نفی نہیں ہوتی، جیسے ان کی بیان کردہ فضیلت سے ان کی عصمت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ کہنا بہتر ہے کہ سیدناعمرو رضی اللہ عنہ کا یہ اختلاف ان کے کسی اجتہاد کی وجہ سے تھا، نہ کہ خواہش پرستی کی وجہ سے۔ (صحیحہ: ۱۵۵)
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين
81. بَابُ مَا جَاءَ فِي عِمْرَانَ بْنِ الْحَصِينِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11874
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مَرَضِهِ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي إِنِّي كُنْتُ أُحَدِّثُكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْفَعُكَ بِهَا بَعْدِي وَاعْلَمْ أَنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَلَيَّ وَإِنْ مِتُّ فَحَدِّثْ إِنْ شِئْتَ وَفِي رِوَايَةٍ وَإِنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ أَمْسَكَ عَنِّي فَلَمَّا تَرَكْتُهُ عَادَ إِلَيَّ وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ
مطرف بن عبداللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انہوں نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا، جب میں ان کی خدمت میں آیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: میں آپ کو احادیث سنایا کرتا تھا، امید ہے کہ میرے بعد اللہ تعالیٰ ان احادیث سے فائدہ پہنچائے گا، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شدت مرض کے دوران میرے صبر کرنے کی وجہ سے اللہ کے فرشتے آکر مجھے سلام کہا کرتے تھے، اگر میں زندہ رہوں تو تم میری اس بات کا لوگوں کے سامنے اظہار نہ کرنا اور اگر میرا انتقال ہو جائے تو چاہو تو لوگوں کو بتلا دینا۔ ایک روایت میں ہے: اللہ کے فرشتے مجھے سلام کہا کرتے تھے، مگر جب میں نے اپنے زخم کو داغ لگوایا تو سلام کا یہ سلسلہ مجھ سے رک گیا، پھر جب میں نے اس عمل کو ترک کیا تو یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ تم یہ بھی جان رکھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو ایک ہی احرام میں جمع کیا تھا اور اس کے بعد نہ کتاب اللہ میں اس سے منع کیا گیا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس سے منع فرمایا، بس ایک آدمی اس بارے میں اپنی رائے سے اس سے منع کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11874]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20080»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہجرت کے ساتویں سال خیبر کے موقع پر مشرف با سلام ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ متعدد غزوات میں حصہ لیا، فتح مکہ کے موقعہ پر بنو خزاعہ کے علم بردار تھے، دین کے بہت بڑے عالم اور فقیہ تھے، امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں بصرہ کی طرف روانہ کیا تھا تاکہ وہاں کے لوگوں کو دین کے احکام سکھا یا کریں، مستجاب الدعوات تھے، اہل بصرہ کہا کرتے تھے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو حفاظت کرنے والے فرشتوں دکھائی دیا کرتے تھے اور وہ ان سے ہم کلام بھی ہوا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی حفاظت میں رکھا اور صحابۂ کرام کے مابین جو اختلافات اور لڑائیاں ہوتی رہیں،یہ ان میں ملوث نہ ہوئے۔بصرہ میں (۵۲) سن ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔
اس حدیث کے آخر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جوحج افراد کو افضل سمجھتے تھے اور حج تمتع سے منع کیا کرتے تھے، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا اور اس سے منع بھی نہیں کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کیاحق حاصل ہے کہ وہ لوگوں کو اس سے منع کریں، حج کے مسائل میں یہ حکم اور اس کی وجہ گزر چکی ہے۔
اس حدیث کے آخر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جوحج افراد کو افضل سمجھتے تھے اور حج تمتع سے منع کیا کرتے تھے، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا اور اس سے منع بھی نہیں کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کیاحق حاصل ہے کہ وہ لوگوں کو اس سے منع کریں، حج کے مسائل میں یہ حکم اور اس کی وجہ گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1226