الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
87. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاذِ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11885
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِينِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”يَا مُعَاذُ إِنِّي لَأُحِبُّكَ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا وَاللَّهِ أُحِبُّكَ قَالَ ”فَإِنِّي أُوصِيكَ بِكَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ فِي كُلِّ صَلَاةٍ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ“
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! مجھے تم سے محبت ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چند کلمات کی وصیت کرتا ہوں، تم ہر نماز (کے آخر میں) یہ کلمات کہا کرو: اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ (یا اللہ! اپنا ذکر کرنے، اپنی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے اور اپنی عبادت بہتر طور پر کرنے میں میری مدد فرما)۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11885]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 1522،والنسائي: 3/53، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22477»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 11886
عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ ”يَا مُعَاذُ إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا أَوْ لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا أَوْ قَبْرِي“ فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ”إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي الْمُتَّقُونَ مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا“
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یمن کی طرف روانہ فرمایا تو ان کو وصیتیں کرتے ہوئے گئے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی سواری کے ساتھ ساتھ چلتے جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی گفتگو سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: معاذ! ممکن ہے کہ اس سال کے بعد تمہاری مجھ سے ملاقات نہ ہو سکے اور ہو سکتا ہے کہ تم میری اس مسجد یا قبر کے پاس سے گزرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کے خیال سے رنجیدہ ہو کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ روپڑے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف منہ کر کے فرمایا: سب لوگوں میں میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے، جو تقویٰ کی صفت سے متصف ہوں، وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11886]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن حبان: 647، والطبراني في المعجم الكبير: 20/ 241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22052 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22402»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 11887
عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْيَمَنَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ السَّحَرِ رَافِعًا صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ أَجَشَّ الصَّوْتِ فَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى حَثَوْتُ عَلَيْهِ التُّرَابَ بِالشَّامِ مَيِّتًا رَحِمَهُ اللَّهُ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا قَالَ فَقُلْتُ مَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلْ ذَلِكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً
عمرو بن میمون اودی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عامل سیدنا معاذ بن جبل یمنی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے سنا کہ انہوں نے سحری کے وقت تیز اور بلند آواز سے اللہ اکبر کہا، ان کے دل میں میری محبت جاگزیں ہو گئی، اور میں ان کی وفات تک ان سے جدا نہ ہوا اور میں نے عرض شام میں نے ان کی وفات کے بعد ان کی قبر پر مٹی ڈالی، پھر میں نے غور نہ کیا کہ ان کے بعد زیادہ علم والا شخص کون ہے؟ چنانچہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں چلا گیا، انہوں نے مجھ سے کہا: تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا، جب تمہارے حکمران نمازوں کو بے وقت یعنی تاخیر سے ادا کریں گے؟ میں نے عرض کیا: اگر مجھے ایسے حالات کا سامنا ہو تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا: تم نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کر لینا اور ان کے ساتھ ادا کی ہوئی نماز کو نفل شمار کر لینا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11887]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22370»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 11888
عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْأَحْدَبِ قَالَ خَطَبَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ إِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ اللَّهُمَّ أَدْخِلْ عَلَى آلِ مُعَاذٍ نَصِيبَهُمْ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ ثُمَّ نَزَلَ مِنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ فَدَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ {الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ} [البقرة: 147] فَقَالَ مُعَاذٌ {سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ} [الصافات: 102]
ابو منیب احدب سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے شام میں خطاب کیا اور طاعون کا ذکر کرتے ہوئے کہا: طاعون تمہارے رب کی تم پر رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے ابو منیب احدب سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے شام میں خطاب کیا اور طاعون کا ذکر کرتے ہوئے کہا: طاعون تمہارے رب کی تم پر رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے صالحین کی موت کا سبب ہے۔ یا اللہ! آل معاذ پر اس رحمت میں سے ان کا حصہ نازل فرما۔ اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ منبر سے نیچے اتر کر اپنے بیٹے عبدالرحمن کے پاس آئے، عبدالرحمن نے کہا: (الْحَقُّ مِنْ رَبَّکَ فَلا تَکُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِینَ) .... حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پس تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔ یہ سن کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: (سَتَجِدُنِی إِنْ شَاءَ اللہُ مِنْ الصَّابِرِینَ) ....تم عنقریب مجھے صبر کرنے والوں میں پاؤ گے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11888]
تخریج الحدیث: «حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22085 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22435»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیے طاعون کی بیماری شہادت اور رحمت کا باعث ہے۔
سیدنا معاذ طاعون میں مبتلا ہو گئے تھے، اس لیے آیات کی روشنی میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کا ذکر درج ذیل حدیث میں ہے:
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فَنَائَ اُمَّتِیْ فِیْ سَبِیْلِکَ بِالْطَعْنِ وَالطَّاعُوْنِ۔)) … اے اللہ! میری امت کو اپنے راستے میں ہتھیار کے ساتھ قتل اور طاعون کے ذریعے فنا کرنا۔ (مسند احمد: ۱۵۶۹۳)
اس حدیث میں امت سے سے مراد صحابۂ کرام کی جماعت ہے۔
سیدنا معاذ طاعون میں مبتلا ہو گئے تھے، اس لیے آیات کی روشنی میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کا ذکر درج ذیل حدیث میں ہے:
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فَنَائَ اُمَّتِیْ فِیْ سَبِیْلِکَ بِالْطَعْنِ وَالطَّاعُوْنِ۔)) … اے اللہ! میری امت کو اپنے راستے میں ہتھیار کے ساتھ قتل اور طاعون کے ذریعے فنا کرنا۔ (مسند احمد: ۱۵۶۹۳)
اس حدیث میں امت سے سے مراد صحابۂ کرام کی جماعت ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 11889
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”سَتُهَاجِرُونَ إِلَى الشَّامِ فَيُفْتَحُ لَكُمْ وَيَكُونُ فِيكُمْ دَاءٌ كَالدُّمَّلِ أَوْ كَالْحَزَّةِ يَأْخُذُ بِمَرَاقِّ الرَّجُلِ يَسْتَشْهِدُ اللَّهُ بِهِ أَنْفُسَهُمْ وَيُزَكِّي بِهَا أَعْمَالَهُمْ“ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطِهِ هُوَ وَأَهْلَ بَيْتِهِ الْحَظَّ الْأَوْفَرَ مِنْهُ فَأَصَابَهُمُ الطَّاعُونُ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ فَطُعِنَ فِي أُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ فَكَانَ يَقُولُ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ
اسماعیل بن عبید اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ عنقریب ارض شام کی طرف ہجرت کر جاؤ اور وہ تمہارے ہاتھوں فتح ہوگا اور تمہارے اندر گوشت کے ٹکڑے کی مانند ایک بیماری (یعنی طاعون) داخل ہو گی، جو انسان کے پیٹ کے نچلے حصے پر ااثر انداز ہوگی، اللہ تعالیٰ اس بیماری کے ذریعے لوگوں کو مقام شہادت سے نوازے گا اور ان کے اعمال کا تزکیہ کر ے گا۔ یا اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ معاذ بن جبل نے واقعی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے تو اسے اور اس کے اہل خانہ کو اس بیماری کا وافر حصہ عطا فرما،چنانچہ ان لوگوں کو طاعون کی بیماری نے آ لیا اور ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی انگشت شہادت زخمی ہو گئی تو وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ میری انگلی بچ جاتی اور مجھے سرخ اونٹ مل جاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11889]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، اسماعيل بن عبيد الله لم يدرك معاذا، اخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22438»
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره
88. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاوِيَةَ بن أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11890
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ”هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ“ ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ“
سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ ہمیں ماہ رمضان میں سحری کے لیے بلانے کے لیے فرماتے: بابرکت کھانے کی طرف آؤ۔ پھر میں نے ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ یا اللہ! معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھنے پڑھنے اور حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11890]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه ابن خزيمة: 1938، وأخرج حديث السحور منه النسائي: 4/ 145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17152 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17282»
وضاحت: فوائد: … سیدنا معاویہ بن ابی سفیان بن صخر بن حرب رضی اللہ عنہ مشہور صحابیٔ رسول ہیں، ان کی ماں سیدہ ہند بنت عتبہ ہیں۔ یہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں، فتح مکہ کے موقع پر سیدنا معاویہ، ان کے باپ، ان کی ماں اور ان کے بھائییزید مشرف باسلام ہوئے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ غزوۂ حنین میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاتبین میں سے ایک تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے سیدنایزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو شام کا والی بنایا، لیکن جب وہ (۱۶، ۱۷) سن ہجری میں فوت ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے بھائی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا والی بنایا اور یہ عہد ِ فاروقی میں اس علاقے کے والی رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو برقرار رکھا، بلکہ پورا شام ان کو دے دیا، اور انھوں نے (۲۷) سن ہجری میں جزیرۂ قبرص کو فتح کیا۔
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے جب مسلمانوں کو خون ریزی سے بچانے کے لیے (۴۱) سن ہجری میں خلافت سے دستبرداری کا اعلان کیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بطورِ امیر المؤمنین بیعت کی گئی، پھر یہ منصب ان کے پاس ہی رہا، یہاں تک کہ یہ (۶۰) سن ہجری میں فوت ہو گئے، ان کی ولایت کی مدت بھی بیس برس تھی اور خلافت کا عرصہ بھی بیس برس تھا۔
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ہم خیالوں کا جو رویہ رہا، ہم اس کو اِن کی اجتہادی خطا سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب سے راضی ہو جائے۔
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے جب مسلمانوں کو خون ریزی سے بچانے کے لیے (۴۱) سن ہجری میں خلافت سے دستبرداری کا اعلان کیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بطورِ امیر المؤمنین بیعت کی گئی، پھر یہ منصب ان کے پاس ہی رہا، یہاں تک کہ یہ (۶۰) سن ہجری میں فوت ہو گئے، ان کی ولایت کی مدت بھی بیس برس تھی اور خلافت کا عرصہ بھی بیس برس تھا۔
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ہم خیالوں کا جو رویہ رہا، ہم اس کو اِن کی اجتہادی خطا سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب سے راضی ہو جائے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 11891
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ“
سیدنا عبدالرحمن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یا اللہ! اسے راہ دکھانے والا ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو بھی ہدایت نصیب فرما۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11891]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه الترمذي: 3842، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17895 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18055»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 11892
حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ جَدِّي يُحَدِّثُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَخَذَ الْإِدَاوَةَ بَعْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَا وَاشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَيْنَا هُوَ يُوَضِّئُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ وُلِّيتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاعْدِلْ قَالَ فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّي مُبْتَلًى بِعَمَلٍ
ابو امیہ عمرو بن یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا سعید بن عمرو بن سعید بن عاص کو بیان کرتے سنا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پانی کا برتن لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ جایا کرتے تھے، جب وہ بیمار پڑے تو ان کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس برتن کو اٹھاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ جاتے، ایک موقع پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف ایک یا دو مرتبہ سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: معاویہ! اگر تمہیں سر براہ حکومت بنایا جائے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور عدل سے کام لینا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ارشاد سننے کے بعد مجھے یہ یقین رہا کہ مجھے حکومت (اقتدار) ضرور ملے گی،(کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرما دیا تھا)۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11892]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح غير ان جد عمرو بن يحيي لم يتبين لنا سماعه من معاوية، وقال الھيثمي: ھو مرسل، اخرجه ابويعلي: 7380، وابن ابي شيبة: 11/ 147، والطبراني في الكبير: 19/ 850، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17057»
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الصحيح غير ان جد عمرو بن يحيي لم يتبين لنا سماعه من معاوية
حدیث نمبر: 11893
عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ بَيْتًا فِيهِ ابْنُ عَامِرٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ وَجَلَسَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ اجْلِسْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ الْعِبَادُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ“ وَفِي لَفْظٍ ”فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ“
ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ایک گھر میں داخل ہوئے، اس میں ابن عامر اور ابن زبیر بھی موجود تھے، ابن عامر تو کھڑے ہو گئے، لیکن سیدنا ابن زبیر بیٹھے رہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عامر سے کہا: بیٹھ جاؤ، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کی یہ خواہش ہو کہ بندے اس کے لئے کھڑے ہوں تو وہ اپنا گھر دوزخ میں تیار کر لے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11893]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 5229، والترمذي: 2755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16830 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16955»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۳۱۷)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 11894
عَنْ مُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ مُعَاوِيَةَ ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَصَّرَ مِنْ شَعْرِهِ بِمِشْقَصٍ فَقُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا بَلَغَنَا هَذَا إِلَّا عَنْ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مَا كَانَ مُعَاوِيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَّهَمًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ انھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبے چوڑے پھل سے اپنے بال تراشے تھے۔ مجاہد اور عطا کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ بات ہمیں صرف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے موصول ہوئی ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں تہمت زدہ نہیں ہیں (یعنی وہ یہ خبر دینے میں سچے ہیں)۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11894]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1730، ومسلم: 1246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16887 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16988»
وضاحت: فوائد: … ان مسائل کی تفصیل کتاب الحج میں گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1730