🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
82. بَابُ مَا جَاءَ فِي فُرَاتَ بْنِ حَيَّانَ مِنْ بَنِي عَجَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا فرات بن حیان عجلی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11875
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَحَلِيفًا فَمَرَّ بِحَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ مُسْلِمٌ فَقَالَ ”إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ“
حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ وہ سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ قبل از اسلام ابو سفیان کے جاسوس اور (ایک انصاری آدمی کے) حلیف تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قتل کرنے کا حکم دیا، لیکن جب یہ انصار کے ایک حلقہ کے پاس سے گزرے اور انھوں نے کہا کہ میں مسلم ہوں۔ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں، جنہیں ہم ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، فرات بن حیان بھی ان میں سے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11875]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2652، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19173»
وضاحت: فوائد: … سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ نے مشرف باسلام ہونے کے بعد دین میں فقاہت حاصل کی اور بعد میں ان کے اسلام میں حسن پیدا ہوا، قبولیت ِ اسلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد کوفہ میں سکونت پذیر ہو گئے۔
وَحَلِیفًا کے الفاظ ابو داود میں اس طرح ہیں: وَحَلِیفًا لِرَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ، ممکن ہے کہ مسند احمد کی روایت میں میں کاتب سے یہ الفاظ رہ گئے ہوں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11876
وَعَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ فِي أُخْرَى عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ ”إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا لَا أُعْطِيهِمْ شَيْئًا أَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ مِنْ بَنِي عِجْلٍ“
ایک دوسری روایت کے مطابق حارثہ بن مضرب، ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ میں انہیں کچھ نہیں دیتا، میں انہیں ان کے ایمان کے سپرد کرتا ہوں، انہی لوگوں میں سے قبیلہ بنو عجل کا ایک فرد فرات بن حیان بھی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11876]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: لا اعطيھم شيئا، ففي زيادتھا نظر، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16593 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16710»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: لا اعطيھم شيئا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. بَابُ مَا جَاءَ فِي قَتَادَةَ بن مِلْحَانَ الْقَيْسِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11877
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ حِينَ حُضِرَ فَمَرَّ رَجُلٌ فِي أَقْصَى الدَّارِ قَالَ فَأَبْصَرْتُهُ فِي وَجْهِ قَتَادَةَ قَالَ وَكُنْتُ إِذَا رَأَيْتُهُ كَأَنَّ عَلَى وَجْهِهِ الدُّهْنَ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَهُرَيْمٌ أَبُو حَمْزَةَ قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ابو العلاء بن عمیر سے مروی ہے کہ جب سیدنا قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس وقت میں ان کے ہاں موجود تھا، اتنے میں گھر کے اندر دور سے ایک آدمی گزرا، میں نے اس گزرنے والے کا عکس (آئینے کی مانند) قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ کے چہرے پر دیکھا، ابو العلاء کہتے ہیں: میں جب انہیں دیکھا کرتا تھا تو یوں لگتا تھا گویا ان کے چہرے پر تیل لگا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے چہرے پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11877]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20583»
وضاحت: فوائد: … سیدنا قتادہ بن ملحان قیسی رضی اللہ عنہ کی فضیلت معلوم ہوئی کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے چہرے پر ہاتھ مبارک پھیرا تو وہ اس قدر صاف شفاف ہو گیا کہ گویا وہ آئینہ ہے،اس میں دوسرے آدمی کا عکس نظر آتا تھا۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. بَابُ مَا جَاءَ فِي قُرَّةَ بْنِ أَيَّاسِ الْمُزَنِى وَالِدِ مُعَاوِيَةَ بن قرة رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا معاویہ بن قرہ مزنی رضی اللہ عنہ کے والد سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11878
حَدَّثَنَا أَبِي ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي أَيَّاسٍ يَعْنِي مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي قُرَّةَ بْنَ أَيَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا لَهُ وَمَسَحَ رَأْسَهُ
سیدنا معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے تو آپ نے ان کے حق میں دعا کی اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11878]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15668»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11879
حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَبَايَعْنَاهُ وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقٌ قَالَ فَبَايَعْنَاهُ ثُمَّ أَدْخَلْتُ يَدِي فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ فَمَسَسْتُ الْخَاتَمَ قَالَ عُرْوَةُ فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا ابْنَهُ قَالَ وَأُرَاهُ يَعْنِي إِيَاسًا فِي شِتَاءٍ قَطُّ وَلَا حَرٍّ إِلَّا مُطْلِقَيْ أَزْرَارِهِمَا لَا يَزُرَّانِ
سیدنا معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:میں قبیلہ مزینہ کے ایک قافلے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قمیص کے بٹن کھلے تھے، اس لیے میں نے اپنا ہاتھ آپ کی قمیص کے اندر داخل کیا اور مہر نبوت کو چھوا۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے ایاس کو موسم گرما اور سرما میں جب بھی دیکھا، ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوتے تھے، ان کو بند نہیں کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11879]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 4082، وابن ماجه: 3578، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20639»
وضاحت: فوائد: … سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ انتہائی ذہین صحابی تھے، ان کا مسکن بصرہ تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ازارقہ سے ہونے والی جنگ میں قتل ہو گئے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَعْبِ بْنِ مَالِكِ الْأَنْصَارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11880
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَيْرِهَا قَطُّ إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهَا إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عِيرَ قُرَيْشٍ حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا وَأَشْهَرَ وَكَانَ مِنْ خَبَرِي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ لِأَنِّي لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُ قَبْلَهَا رَاحِلَتَيْنِ قَطُّ حَتَّى جَمَعْتُهَا فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُرِيدُ غَزَاةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزَاةُ فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ عَدُوًّا كَثِيرًا فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ عَدُوِّهِمْ فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَثِيرٌ لَا يَجْمَعُهُمْ كِتَابُ حَافِظٍ يُرِيدُ الدِّيوَانَ فَقَالَ كَعْبٌ فَقَلَّ رَجُلٌ يُرِيدُ يَتَغَيَّبُ إِلَّا ظَنَّ أَنَّ ذَلِكَ سَيُخْفَى لَهُ مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ وَحْيٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْغَزْوَةَ حِينَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلُّ وَأَنَا إِلَيْهَا أَصْعَرُ فَتَجَهَّزَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَهُ وَطَفِقْتُ أَغْدُو لِكَيْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُ فَأَرْجِعَ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا فَأَقُولُ فِي نَفْسِي أَنَا قَادِرٌ عَلَى ذَلِكَ إِذَا أَرَدْتُ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ يَتَمَادَى بِي حَتَّى شَمَّرَ بِالنَّاسِ الْجِدُّ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَادِيًا وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَهَازِي شَيْئًا فَقُلْتُ الْجَهَازُ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ فَغَدَوْتُ بَعْدَ مَا فَصَلُوا لِأَتَجَهَّزَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا مِنْ جَهَازِي ثُمَّ غَدَوْتُ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ يَتَمَادَى بِي حَتَّى أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ فَهَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِكَهُمْ وَلَيْتَ أَنِّي فَعَلْتُ ثُمَّ لَمْ يُقَدَّرْ ذَلِكَ لِي فَطَفِقْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِي النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَطُفْتُ فِيهِمْ يَحْزُنُنِي أَنْ لَا أَرَى إِلَّا رَجُلًا مَغْمُوصًا عَلَيْهِ فِي النِّفَاقِ أَوْ رَجُلًا مِمَّنْ عَذَرَهُ اللَّهُ وَلَمْ يَذْكُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ تَبُوكَ فَقَالَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بِتَبُوكَ ”مَا فَعَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ“ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ حَبَسَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بُرْدَاهُ وَالنَّظَرُ فِي عِطْفَيْهِ فَقَالَ لَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِئْسَ مَا قُلْتَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَجَّهَ قَافِلًا مِنْ تَبُوكَ حَضَرَنِي بَثِّي فَطَفِقْتُ أَتَفَكَّرُ الْكَذِبَ وَأَقُولُ بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا أَسْتَعِينُ عَلَى ذَلِكَ كُلَّ ذِي رَأْيٍ مِنْ أَهْلِي فَلَمَّا قِيلَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ وَعَرَفْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْهُ بِشَيْءٍ أَبَدًا فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ وَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُتَخَلِّفُونَ فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَكَانُوا بِضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلًا فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَانِيَتَهُمْ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمْ وَيَكِلُ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى جِئْتُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ لِي ”تَعَالَ“ فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لِي ”مَا خَلَّفَكَ أَلَمْ تَكُنْ قَدِ اسْتَمَرَّ ظَهْرُكَ“ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنِّي أَخْرُجُ مِنْ سَخَطَتِهِ بِعُذْرٍ لَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلًا وَلَكِنَّهُ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ تَرْضَى عَنِّي بِهِ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ تَعَالَى يُسْخِطُكَ عَلَيَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ بِصِدْقٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ إِنِّي لَأَرْجُو قُرَّةَ عَيْنِي عَفْوًا مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَاللَّهِ مَا كَانَ لِي عُذْرٌ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَفْرَغَ وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ تَعَالَى فِيكَ“ فَقُمْتُ وَبَادَرَتْ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَاتَّبَعُونِي فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَاكَ كُنْتَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هَذَا وَلَقَدْ عَجَزْتَ أَنْ لَا تَكُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا اعْتَذَرَ بِهِ الْمُتَخَلِّفُونَ لَقَدْ كَانَ كَافِيَكَ مِنْ ذَنْبِكَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَكَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زَالُوا يُؤَنِّبُونَنِي حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ فَأُكَذِّبَ نَفْسِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ لَهُمْ هَلْ لَقِيَ هَذَا مَعِي أَحَدٌ قَالُوا نَعَمْ لَقِيَهُ مَعَكَ رَجُلَانِ قَالَا مَا قُلْتَ فَقِيلَ لَهُمَا مِثْلُ مَا قِيلَ لَكَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُمْ مَنْ هُمَا قَالُوا مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الْعَامِرِيُّ وَهِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ قَالَ فَذَكَرُوا لِي رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا لِي فِيهِمَا أُسْوَةٌ قَالَ فَمَضَيْتُ حِينَ ذَكَرُوهُمَا لِي قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ مِنْ بَيْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ قَالَ وَتَغَيَّرُوا لَنَا حَتَّى تَنَكَّرَتْ لِي مِنْ نَفْسِي الْأَرْضُ فَمَا هِيَ بِالْأَرْضِ الَّتِي كُنْتُ أَعْرِفُ فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً فَأَمَّا صَاحِبَايَ فَاسْتَكَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا يَبْكِيَانِ وَأَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ فَكُنْتُ أَشْهَدُ الصَّلَاةَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَأَطُوفُ بِالْأَسْوَاقِ وَلَا يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَأَقُولُ فِي نَفْسِي حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلَامِ أَمْ لَا ثُمَّ أُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهُ وَأُسَارِقُهُ النَّظَرَ فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَى صَلَاتِي نَظَرَ إِلَيَّ فَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَهُ أَعْرَضَ حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيَّ ذَلِكَ مِنْ هَجْرِ الْمُسْلِمِينَ مَشَيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ حَائِطَ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا قَتَادَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ هَلْ تَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَسَكَتَ قَالَ فَعُدْتُ فَنَشَدْتُهُ فَسَكَتَ فَعُدْتُ فَنَشَدْتُهُ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَفَاضَتْ عَيْنَايَ وَتَوَلَّيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ فَبَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي بِسُوقِ الْمَدِينَةِ إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ أَنْبَاطِ أَهْلِ الشَّامِ مِمَّنْ قَدِمَ بِطَعَامٍ يَبِيعُهُ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ مَنْ يَدُلُّنِي عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ إِلَيَّ حَتَّى جَاءَ فَدَفَعَ إِلَيَّ كِتَابًا مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ وَكُنْتُ كَاتِبًا فَإِذَا فِيهِ أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ وَلَمْ يَجْعَلْكَ اللَّهُ بِدَارِ هَوَانٍ وَلَا مَضْيَعَةٍ فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِكَ قَالَ فَقُلْتُ حِينَ قَرَأْتُهَا وَهَذَا أَيْضًا مِنَ الْبَلَاءِ قَالَ فَتَيَمَّمْتُ بِهَا التَّنُّورَ فَسَجَرْتُهُ بِهَا حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً مِنَ الْخَمْسِينَ إِذَا بِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ قَالَ فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ بَلْ اعْتَزِلْهَا فَلَا تَقْرَبْهَا قَالَ وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَيَّ بِمِثْلِ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هَذَا الْأَمْرِ قَالَ فَجَاءَتِ امْرَأَةُ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هِلَالًا شَيْخٌ ضَائِعٌ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَهَلْ تَكْرَهُ أَنْ أَخْدُمَهُ قَالَ ”لَا وَلَكِنْ لَا يَقْرَبَنَّكِ“ قَالَتْ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ إِلَى شَيْءٍ وَاللَّهِ مَا يَزَالُ يَبْكِي مِنْ لَدُنْ أَنْ كَانَ مِنْ أَمْرِكَ مَا كَانَ إِلَى يَوْمِهِ هَذَا قَالَ فَقَالَ لِي بَعْضُ أَهْلِي لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَتِكَ فَقَدْ أَذِنَ لِامْرَأَةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنْ تَخْدُمَهُ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَسْتَأْذِنُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَدْرِي مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنْتُهُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَبِثْنَا بَعْدَ ذَلِكَ عَشْرَ لَيَالٍ كَمَالَ خَمْسِينَ لَيْلَةً حِينَ نَهَى عَنْ كَلَامِنَا قَالَ ثُمَّ صَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ صَبَاحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَيَّ نَفْسِي وَضَاقَتْ عَلَيَّ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَارِخًا أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ يَقُولُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ قَالَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ جَاءَ فَرَجٌ وَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا وَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبَيَّ يُبَشِّرُونَ وَرَكَضَ إِلَيَّ رَجُلٌ فَرَسًا وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ وَأَوْفَى الْجَبَلَ فَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنْ الْفَرَسِ فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَيَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ بِبِشَارَتِهِ وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ فَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا فَانْطَلَقْتُ أَتَأَمَّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْقَانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُهَنِّئُونِي بِالتَّوْبَةِ يَقُولُونَ لِيَهْنِكَ تَوْبَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ حَوْلَهُ النَّاسُ فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي وَاللَّهِ مَا قَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرَهُ قَالَ فَكَانَ كَعْبٌ لَا يَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ قَالَ كَعْبٌ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ ”أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ“ قَالَ قُلْتُ أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ قَالَ ”لَا بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ“ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ حَتَّى يُعْرَفَ ذَلِكَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى رَسُولِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ“ قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا اللَّهُ تَعَالَى نَجَّانِي بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا مَا بَقِيتُ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَبْلَاهُ اللَّهُ مِنَ الصِّدْقِ فِي الْحَدِيثِ مُذْ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلَانِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَاللَّهِ مَا تَعَمَّدْتُ كَذِبَةً مُذْ قُلْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي فِيمَا بَقِيَ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} [التوبة: 117-119] قَالَ كَعْبٌ فَوَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيَّ مِنْ نِعْمَةٍ قَطُّ بَعْدَ أَنْ هَدَانِي أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَنْ لَا أَكُونَ كَذَبْتُهُ فَأَهْلِكُ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوهُ حِينَ كَذَبُوهُ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ لِلَّذِينَ كَذَبُوهُ حِينَ كَذَبُوهُ شَرَّ مَا يُقَالُ لِأَحَدٍ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى {سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ} [التوبة: 95-96] قَالَ وَكُنَّا خُلِّفْنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِكَ الَّذِينَ قَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَلَفُوا فَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ فَأَرْجَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْرَنَا حَتَّى قَضَى اللَّهُ تَعَالَى فَبِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا} وَلَيْسَ تَخْلِيفُهُ إِيَّانَا وَإِرْجَاؤُهُ أَمْرَنَا الَّذِي ذَكَرَ مِمَّا خُلِّفْنَا بِتَخَلُّفِنَا عَنِ الْغَزْوِ وَإِنَّمَا هُوَ عَمَّنْ حَلَفَ لَهُ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُ (مسند أحمد: 15882)
عبد الرحمن بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عبداللہ بن کعب، جو اپنے باپ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کی وجہ سے ان کے قائد تھے، وہ کہتے ہیں: سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنا واقعہ بیان کیا جب وہ غزوئہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انھوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام لڑائیوں میں شریک ہوا تھا، ما سوائے تبوک اور بدرکے، میں ان میں پیچھے رہ گیا تھا، مگر بدر میں پیچھے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا عتاب نہیں ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس جنگ میں غرض یہ تھی کہ قافلہ قریش کا تعاقب کیا جائے، دشمنوں کو اللہ تعالیٰ نے اچانک حائل کردیا اور جنگ ہوگئی، میں عقبہ والی رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے اسلام پر قائم رہنے کا عہد لیا تھا اور مجھے تو عقبہ والی وہ رات غزوۂ بدر کے مقابلہ میں عزیز ہے، اگرچہ جنگ بدر کو لوگوں میں زیادہ شہرت حاصل ہے اور جنگ تبوک کا واقعہ یہ ہے کہ اس جنگ سے پہلے کبھی بھی میرے پاس دو سواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں، اس غزوہ کے وقت میں دو سواریوں کا مالک تھا، اس کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ دستور تھا کہ جب کہیں جنگ کا خیال کرتے تو صاف صاف پتہ نشان اور جگہ نہیں بتاتے تھے، بلکہ کچھ گول مول الفاظ میں بات ظاہر کرتے تھے تاکہ لوگ دوسرا مقام سمجھتے رہیں، غرض جب لڑائی کا وقت آیا تو گرمی بہت شدید تھی، راستہ طویل تھا اور بے آب و گیاہ تھا، دشمن کی تعداد زیادہ تھی، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو پورے طور پر آگاہ کردیا کہ ہم تبوک جا رہے ہیں تاکہ تیاری کرلیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کثیر تعداد میں مسلمان موجود تھے، مگر کوئی ایسی کتاب وغیرہ نہیں تھی کہ اس میں سب کے نام لکھے ہوئے ہوں، کوئی کم ہی مسلمان ایسا تھا جو اس لڑائی میں شریک ہونا نہ چاہتا ہو، مگر وہ خیال کرتا تھا کہ اس کی غیر حاضری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وحی نہ آئے، غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑائی کی تیاریاں شروع کردیں اور یہ وقت تھا جب کہ میوہ پک رہا تھا اور سایہ میں بیٹھنا اچھا معلوم ہوتا تھا، سب تیاریاں کر رہے تھے، مگر میں ہر صبح کو یہی سوچتا تھا کہ میں تیاری کرلوں گا، کیا جلدی ہے، میں تو ہر وقت تیاری کر سکتا ہوں، اسی طرح دن گزرتے رہے، ایک روز صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہو گئے، میں نے سوچا ان کو جانے دو، میں ایک دو دن میں تیاری کرکے راستہ میں ان میں شامل ہو جاؤں گا، دوسری صبح کو میں نے تیاری کرنا چاہی، مگر نہ ہو سکی اور میں یوں ہی رہ گیا تیسرے روز بھی یہی ہوا اور پھر برابر میرایہی حال ہوتا رہا، اب سب لوگ بہت دور نکل چکے تھے، میں نے کئی مرتبہ قصد کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملوں، مگر تقدیر میں نہ تھا، کاش! میں ایسا کرلیتا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلے جانے کے بعد میں جب مدینہ میں چلتا پھرتا تو مجھ کو یا تو منافق نظر آتے یا وہ جو کمزور ضعیف اور بیمار تھے، مجھے بہت افسوس ہوتا تھا، (جب میں نے بعد میں معلومات لی تھیں تو ان سے پتہ چلا تھا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے میں مجھے کہیں بھی یاد نہیں کیا تھا، البتہ تبوک پہنچ کر جب سب لوگوں میں تشریف فرما ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کعب بن مالک کہاں ہے؟ بنو سلمہ کے ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو اپنے حسن و جمال پر ناز کرنے کی وجہ سے رہ گئے ہیں، لیکن سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے اچھی بات نہیں کی، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! ہم تو انہیں اچھا آدمی ہی سمجھتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر خاموش ہوگئے، جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آ رہے ہیں تو میں سوچنے لگا کہ کوئی ایسا حیلہ بہانہ ہاتھ آ جائے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصہ سے مجھے بچا سکے، پھر میں اپنے گھر کے سمجھدار لوگوں سے مشورہ کرنے لگا کہ اس سلسلہ میں کچھ تم بھی سوچو، مگر جب یہ بات معلوم ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کے بالکل قریب آ گئے ہیں تو میرے دل سے اس حیلہ کا خیال دور ہوگیا اور میں نے یقین کرلیا کہ جھوٹ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصہ سے نہیں بچا سکے گا، صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں پہنچ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جب سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور دو رکعت نفل ادا فرماتے، اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا اور مسجد میں بیٹھ گئے، اب جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے آنا شروع کیا اور اپنے اپنے عذر بیان کرنے لگے اور قسمیں کھانے لگے یہ کل اسی (۸۰) افراد یا اس سے کچھ زیادہ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ان کے عذر قبول کر لئے اور ان سے دوبارہ بیعت لی اور ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی اور ان کے دلوں کے خیالات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا۔ جب میں آیا تو السلام علیکم کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غصے والی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا اور فرمایا: آؤ۔ پس میں سامنے جا کر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کعب تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ حالانکہ تم نے تو سواری کا بھی انتظام کرلیا تھا؟ میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان درست ہے، میں اگر کسی اور کے سامنے ہوتا تو ممکن تھا کہ بہانے وغیرہ کر کے اس سے نجات پا جاتا، کیونکہ میں خوب بول سکتا ہوں، مگر اللہ گواہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ اگر آج میں نے جھوٹ بول کر آپ کو راضی کرلیا تو کل اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کردے گا، اس لئے میں سچ ہی بولوں گا، چاہے آپ مجھ پر غصہ ہی کیوں نہ فرمائیں، آئندہ کو تو اللہ کی مغفرت اور بخشش کی امید رہے گی، اللہ کی قسم! میں قصور وار ہوں، حالانکہ مال و دولت میں کوئی بھی میرے برابر نہیں ہے، مگر میں یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی شریک نہ ہو سکا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا۔ کعب نے درست بات بیان کردی، اچھا چلے جاؤ اور اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرو۔ میں اٹھ کر چلا گیا، بنی سلمہ کے آدمی بھی میرے ساتھ ہو لئے اور کہنے لگے: ہم نے تو اب تک تمہارا کوئی گناہ نہیں دیکھا، تم نے بھی دوسرے لوگوں کی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی بہانہ پیش کردیا ہوتا، حضور کی دعائے مغفرت تیرے کے لئے کافی ہو جاتی، وہ مجھے برابر یہی سمجھاتے رہے، یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خیال آنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس چلا جاؤں اور پہلے والی بات کو غلط ثابت کرکے کوئی بہانہ پیش کردوں، پھر میں نے ان سے پوچھا کہ کیا کوئی اور شخص بھی ہے، جس نے میری طرح اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں دو آدمی اور بھی ہیں، جنہوں نے اقرار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بھی وہی کچھ فرمایا ہے جو تم سے ارشاد فرمایا ہے، میں نے ان کے نام پوچھے تو انھوں نے کہا: ایک مرارہ بن ربیع عامری اور دوسرے ہلال بن امیہ واقفی ہیں،یہ دونوں نیک آدمی تھے اور جنگ بدر میں شریک ہو چکے تھے، ان کا معاملہ میری طرح کا تھا، ان دو آدمیوں کا نام سن کر مجھے بھی اطمینان سا ہوگیا اور میں چلا گیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو منع فرمادیا تھا کہ کوئی شخص ان تین آدمیوں سے کلام نہ کرے، دوسرے پیچھے رہ جانے والے اور جھوٹے بہانے کرنے والوں کے لئے یہ حکم نہیں دیا تھا، اب ہوا کیا کہ لوگوں نے ہم سے الگ رہنا شروع کردیا اور ہم ایسے ہو گئے، جیسے ہمیں کوئی جانتا ہی نہیں ہے، بس گویا ہمارے لیے تو زمین تبدیل ہو گئی، پچاس راتیں اسی حال میں گزر گئیں، میرے دونوں ساتھی تو گھر میں بیٹھ گئے، میں ہمت والا تھا، نکلتا، باجماعت نماز میں شریک ہوتا، بازار وغیرہ جاتا، مگر کوئی میرے ساتھ بات نہیں کرتا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھی آتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جائے نماز پر جلوہ افروز ہوتے، میں سلام کہتا اور مجھے شبہ سا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہونٹ سلام کا جواب دینے کے ساتھ ہل رہے ہیں یا نہیں، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہی نماز پڑھنے لگتا، اور آنکھ چرا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی دیکھتا رہتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دوران کیا کرتے ہیں، چنانچہ میں جب نماز میں ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے دیکھتے رہتے اور جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے اعراض کر لیتے، جب لوگوں کے الگ ہونے کی مدت لمبی ہو گئی اور میں لوگوں کی خاموشی سے عاجز آ گیا، ایک دن اپنے چچا زاد بھائی سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس باغ میں آیا اور سلام کہا اور اس سے مجھے بہت محبت تھی، مگر اللہ کی قسم! اس نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، میں نے کہا: اے ابوقتادہ! تو مجھے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت کرنے والا جانتا ہے یا نہیں؟ اس نے اس سوال کا جواب بھی نہیں دیا، پھر میں نے قسم کھا کر یہی بات کہی مگر جواب ندارد، میں نے تیسری مرتبہ یہی کہا تو ابوقتادہ نے صرف اتنا جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، پھر مجھ سے ضبط نہ ہو سکا، میں نے رونا شروع کر دیا اور واپس چل دیا، میں ایک دن بازار میں جا رہا تھا کہ ایک نصرانی کسان، جو ملک شام کا رہنے والا تھا اور اناج فروخت کرنے آیا تھا، وہ لوگوں سے میرا پتہ معلوم کر رہا تھا،لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا کہ یہ کعب بن مالک ہے، وہ میرے پاس آیا اور غسان کے نصرانی بادشاہ کا ایک خط مجھے دیا، اس میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے رسول تم پر بہت زیادتی کر رہے ہیں، حالانکہ اللہ نے تم کو ذلیل اور بے عزت نہیں بنایا ہے، تم بہت کام کے آدمی ہو، تم میرے پاس آ جاؤ، ہم تم کو بہت آرام سے رکھیں گے۔ میں نے سوچا کہ یہ تو دوہری آزمائش ہے اور پھر اس خط کو آگ کے تنور میں ڈال دیا، ابھی تک چالیس دن گزرے تھے،دس باقی تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاصد سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے آکر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے الگ ہو جاؤ، میں نے کہا: کیا مطلب ہے؟ طلاق دے دوں یا کچھ اور؟ انھوں نے کہا: بس الگ رہو اور مباشرت وغیرہ مت کرو، میرے دونوں ساتھیوں کو بھی یہی حکم دیا گیا، پس میں نے بیوی سے کہا کہ تم اس وقت تک اپنے رشتہ داروں میں جا کر رہو، جب تک اللہ تعالیٰ میرا فیصلہ نہ فرما دے۔ اُدھر سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول!ہلال بن امیہ میرا خاوند بہت بوڑھا ہے، اگر میں اس کا کام کردیا کروں تو کوئی برائی تو نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، بس وہ صحبت نہ کرنے پائے، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس میں تو ایسی خواہش ہی نہیں ہے اور جب سے یہ بات ہوئی ہے، وہ مسلسل رو رہا ہے، جب اس کے بارے میں یہ بات سامنے آئی تو میرے عزیزوں نے مجھ سے کہا: تم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر اپنی بیوی کے بارے میں ایسی ہی اجازت حاصل کرلو، تاکہ وہ تمہاری خدمت کرتی رہے، جس طرح سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اجازت مل گئی ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتا، معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا فرمائیں گے، میں نوجوان آدمی ہوں، ہلال کی مانند ضعیف نہیں ہوں، اس کے بعد وہ دس راتیں بھی گزر گئیں اور میں پچاسویں رات کو صبح کی نماز اپنے گھر کی چھت پر پڑھ کر بیٹھا تھا اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور زمین میرے لئے باوجود اپنی وسعت کے تنگ ہو چکی ہے، اتنے میں کوہ سلع پر سے کسی پکارنے والے نے پکار کر کہا: اے کعب بن مالک! تم کو بشارت دی جاتی ہے۔ یہ آواز کے سنتے ہی میں خوشی سے سجدہ میں گر پڑا اور یقین کرلیا کہ اب یہ مشکل آسان ہوگئی، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر کے بعد لوگوں سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کا قصور معاف کردیا ہے۔ اب تو لوگ میرے پاس اور میرے ان ساتھیوں کے پاس خوشخبری اور مبارکباد کے لئے جانے لگے اور ایک آدمی اپنے گھوڑے کو بھگاتے میرے پاس آیا اور ایک دوسرے بنو سلمہ کے آدمی نے سلع پہاڑ پر چڑھ کر آواز دی، اس کی آواز جلدی میرے کانوں تک پہنچ گئی، اس وقت میں اس قدر خوش ہوا کہ اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو دے دیئے، جبکہ میرے پاس ان کے سوا کوئی دوسرے کپڑے نہیں تھے، میں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے دو کپڑے لے کر زیب ِ تن کیے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جانے لگا، راستہ میں لوگوں کا ایک ہجوم تھا، وہ مجھے مبارکباد دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ انعام تمہیں مبارک ہو۔ پھر جب میں مسجد میں گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے اور دوسرے لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے، طلحہ بن عبیداللہ مجھے دیکھ کر دوڑے، میرے ساتھ مصافحہ کیا اورمبارک باد دی، مہاجرین میں سے یہ کام صرف طلحہ رضی اللہ عنہ نے کیا، اللہ گواہ ہے کہ میں ان کا یہ طرز عمل کبھی نہیں بھولوں گا، پھر جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے کعب!یہ دن تمہیں مبارک ہو، جو سب دنوں سے اچھا ہے، تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک۔ میں نے عرض کیا: یہ معافی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے معاف کیا گیا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب خوش ہوتے تھے تو چہرہ مبارک چاند کی طرح چمکنے لگتا تھا اور ہم آپ کی خوشی کو پہچان جاتے تھے، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ کر کہا: اے اللہ کے رسول!میں اپنی اس نجات اور معافی کے شکریہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے خیرات نہ کردوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تھوڑا کرو اور کچھ اپنے لئے رکھ لو، کیونکہ یہ تمہارے لئے فائدہ مند ہو گا۔ میں نے عرض کیا: جی ٹھیک ہے، میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے سچ بولنے کی وجہ سے نجات پائی ہے، اب میں تمام زندگی سچ ہی بولوں گا، اللہ کی قسم! میں نہیں کہہ سکتا کہ سچ بولنے کی وجہ سے اللہ نے کسی پر ایسی مہربانی فرمائی ہو، جو مجھ پر کی ہے، اس وقت سے آج تلک میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور میں امید کرتا ہوں کہ زندگی بھر اللہ مجھے جھوٹ سے بچائے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ اٰیات نازل فرمائیں: {لَقَدْ تَابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِینَ اتَّبَعُوہُ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیغُ قُلُوبُ فَرِیقٍ مِنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ إِنَّہُ بِہِمْ رَئُ وْفٌ رَحِیمٌ۔ وَعَلَی الثَّلَاثَۃِ الَّذِینَ خُلِّفُوا حَتّٰی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ أَنْفُسُہُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللّٰہِ إِلَّا إِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوبُوْا إِنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِینَ} … بلاشبہ یقینا اللہ نے نبی پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی اور مہاجرین و انصار پر بھی، جو تنگ دستی کی گھڑی میں اس کے ساتھ رہے، اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑھے ہو جائیں، پھر وہ ان پر دوبارہ مہربان ہوگیا۔ یقیناوہ ان پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اور ان تینوں پر بھی جو موقوف رکھے گئے، یہاں تک کہ جب زمین ان پر تنگ ہوگئی، باوجود اس کے کہ فراخ تھی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہوگئیں اور انھوں نے یقین کر لیا کہ بے شک اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب کے سوا نہیں، پھر اس نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی، تاکہ وہ توبہ کریں۔ یقینا اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ (سورۂ توبہ: ۱۱۷۔ ۱۱۹) سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس سے بڑھ کر میں نے کوئی انعام اور احسان نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مجھے سچ بولنے کی توفیق دے کر ہلاک ہونے سے بچا لیا، ورنہ دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی تباہ اور ہلاک ہوجاتا، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جھوٹ بولا، جھوٹے حلف اٹھائے، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {سَیَحْلِفُونَ بِاللّٰہِ لَکُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَیْہِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْہُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْہُمْ إِنَّہُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ جَزَائً بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُونَ۔ یَحْلِفُونَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْہُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْہُمْ، فَإِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ۔} … عنقریب وہ تمھارے لیے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے، تاکہ تم ان سے توجہ ہٹا لو۔ سو ان سے بے توجہی کرو، بے شک وہ گندے ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اس کے بدلے جو وہ کماتے رہے ہیں۔تمھارے لیے قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ، پس اگر تم ان سے راضی ہو جاؤ تو بے شک اللہ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔ (سورۂ توبہ: ۹۵،۹۶) سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم تینوں ان منافقوں سے علیحدہ ہیں، جنہوں نے نہ جانے کتنے بہانے بنائے اور جھوٹے حلف اٹھائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات کو قبول کرلیا اور ان سے بیعت لے لی اور ان کے لیے دعائے مغفرت فرما دی، مگر ہمارا معاملہ چھوڑ ے رکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَّعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا حَتّٰی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّآ اِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوْبُوْا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ }… اور ان تینوں پر بھی جو موقوف رکھے گئے، یہاں تک کہ جب زمین ان پر تنگ ہوگئی، باوجود اس کے کہ فراخ تھی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہوگئیں اور انھوں نے یقین کر لیا کہ بے شک اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب کے سوا نہیں، پھر اس نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی، تاکہ وہ توبہ کریں۔ یقینا اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ (سورۂ توبہ: ۱۱۸) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہم کو پیچھے کرنا اور ہمارے معاملے کو مؤخر کرنا، جس کا ذکر کیا گیا ہے، یہ ہمارا غزوے سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ یہ تو ان کی وجہ سے تھا، جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے حلف اٹھائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے عذر پیش کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے عذر قبول کر لیے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11880]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3889، 4676، 4677، 6690، ومسلم: 2769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15882»
وضاحت: فوائد: … سیدنا کعب بن مالک انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ معروفِ صحابیٔ رسول ہیں، بیعت عقبہ اور غزوہ احد سمیت تمام واقعات میں انھوں نے شرکت کی، ما سوائے غزوۂ احد اور غزوۂ تبوک کے، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ بھی غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، اس وجہ سے ان سے سوشل بائیکاٹ کیا گیا تھا، درج بالا حدیث میں ان ہی افراد کا ذکر ہے۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ شعرائے رسول میں سے ایک تھے، انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں (۵۳) سن ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی تھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3889
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11881
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْجِنِي إِلَّا بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ أَنْ لَا أَكْذِبَ أَبَدًا وَإِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكَ“ قَالَ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اللہ نے مجھے سچ بولنے کی بدولت اس آزمائش سے نجات دی ہے، میں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ میری توبہ قبول ہو جائے تو میں کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا اور میں اپنی ساری دولت اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے صدقہ کر دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنا کچھ مال رکھ لو، یہ تمہار ے لیے بہتر ہو گا۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر میں خیبر سے ملنے والا اپنا حصہ رکھ لیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11881]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15862»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15862
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11882
عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ بِهَا رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا يَعْنِي يَجْتَنِيهَا
سیّدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ پر ہمارا ثواب ثابت ہو گیا(جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے)۔ پھر ہم میں بعض لوگ ایسے تھے، جو اپنے عمل کا اجر کھائے بغیر اللہ کے پاس چلے گئے، ان میں سے ایک سیّدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو احد کے دن شہید ہو گئے، ہمیں ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر مل سکی اور وہ بھی اس قدر مختصر تھی کہ جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پاؤں کو ڈھانپا جاتا تو سر ننگا ہو جاتا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر (گھاس) ڈال دیں، جبکہ ہم میں بعض ایسے بھی ہیں جن کا پھل تیار ہو چکا اور اب وہ اسے چن رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11882]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:1276، 3913، 3914، 4047، ومسلم: 940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21372»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مطلب فتوحات کے نتیجے میںملنے والی غنیمتیں اور دوسرے اسبابِ دنیا ہیں۔ ابو عبداللہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، اسلام کے اولین دور میں اس وقت مسلمان ہوئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دار ارقم کو دار التبلیغ بنائے ہوئے تھے، انہوں نے اپنی والدہ اور قوم سے اپنے قبول اسلام کو پوشیدہ رکھا، عثمان بن طلحہ عبدری نے آپ کو نماز پڑھتے دیکھ لیا، اس نے جا کر ان کی والدہ کو اور قوم کو اس کی اطلاع کر دی، انہوںنے ان کو قید میں ڈال دیا، لیکنیہ موقع پا کر حبشہ ہجرت کر گئے، حبشہ سے مکہ آئے اور پھر مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی، مدینہ منور ہ جا کر لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیتے اور احکام دین سکھاتے رہے، مدینہ منورہ میں انہوںنے ہی نماز جمعہ کا آغاز کیا،سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اور اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جیسے لوگوں نے انہیں کے ہاتھوں اسلام قبول کیا، غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں شریک ہوئے۔ غزوۂ احد میں مرتبہ شہادت سے سرفزاز ہوئے، یہ غزوۂ احد میں مسلمانوں کے علم بردار تھے، شہادت کے وقت ان کی عمر چالیس برس تھی، قبل از اسلام یہ مکہ مکرمہ کے انتہائی خوب رو بھر پور نو جوان تھے۔ ان کے والدین ان سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ ان کی والدہ کو انتہائی عمدہ اور بیش قیمت لباس زیب تن کرایا کرتی تھی۔ یہ ایسی عمدہ خوش بو استعمال کرتے تھے کہ مکہ میں شاید ہی کوئی نو جوان ایسی خوشبو استعمال کرتا ہو،قبول اسلام کے بعد ان کا یہ عالم تھا کہ پھٹی پرانی چادر زیب تن کئے رہتے، حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ان کی اہلیہ تھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري:1276
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاذِ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11883
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ”إِنَّهُ يُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيِ الْعُلَمَاءِ نَبَذَةً“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: وہ قیامت کے دن اہل علم سے ایک تیر کی پھینک پرآگے آگے جا رہے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11883]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه بنحوه الحاكم: 3/ 268، واحمد في الفضائل: 1285، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 108 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 108»
وضاحت: فوائد: … چونکہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حلال و حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے اور اہل علم کی اصل شناخت بھی حرام و حلال کی معرفت ہوتی ہے، سو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ میدان حشر میں اہل علم کے آگے آگے چل رہے ہوں گے۔ سیدنامعاذ بن جبل خزرجی انصاری رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، اٹھارہ برس کی عمر میں دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے، بیعت عقبہ ثانیہ میں ستر انصار کے ساتھ شرکت کی سعادت حاصل کی۔ غزوۂ بدر، احد، خندق اور دیگر غزوات میں شریک ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مابین مواخات قائم کیا تھا، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اسلام کا سفیر بنا کر یمن کی طرف روانہ کیا تھا، معاذ رضی اللہ عنہ ان خوش نصیب لوگ میں سے ہیں جنہوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں قرآن کریم جمع کیا ہوا تھا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں فتوے بھی دیا کرتے تھے۔ (۱۸) سن ہجری میں طاعون عمواس میں۳۳برس کی عمر میں وفات پائی۔ ابو نعیم نے ان کے بارے میں کہا: وہ فقہاء کے امام اور علماء کی شان تھے، وہ عقبہ، غزوۂ بدر اور دوسرے مشاہد میں حاضر ہوئے، بردباری، شرم و حیا اور جو دو سخاوت کے لحاظ سے انصاریوں میں سب سے بہتر تھے، بہت حسین و جمیل اور درگزر کرنے والے تھے، ان سے جو چیز مانگیجاتی تھی، وہ عطا کر دیتے تھے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11884
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَرْحَمُ أُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهَا فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهَا حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ابو بکر سب سے بڑھ کر مہربان ہیں،میری امت میں سے عمر دین کے بارے میں بڑے سخت ہیں،عثمان سب سے بڑھ کر حیا دار ہیں اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو حلال و حرام کا علم سب سے زیادہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11884]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الترمذي: 3791،وابن ماجه: 155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14035»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں