الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. الْفَضْلُ الْأَوَّلُ: إِرْسَالُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إلى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُ مِيرَانَهَا مِنْ رَسُولِ ﷺ
باب سوم: صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
حدیث نمبر: 12168
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْ أَهْلُهُ قَالَ فَقَالَ لَا بَلْ أَهْلُهُ قَالَتْ فَأَيْنَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَطْعَمَ نَبِيًّا طَعْمَةً ثُمَّ قَبَضَهُ جَعَلَهُ لِلَّذِي يَقُومُ مِنْ بَعْدِهِ“ فَرَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَتْ فَأَنْتَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو اتو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاں پیغام بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث آپ ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے افراد؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وارث میں نہیں ہوں، بلکہ آپ کے اہل خانہ ہی ہیں، سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ کہا ں ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی نبی کو کوئی چیز عطا کرتا ہے اور اسکے بعد اپنے نبی کی روح کو قبض کر لیتا ہے تو وہ چیز اس کے خلیفہ کے کنٹرول میں آجاتی ہے۔ پس میں نے سوچا ہے کہ میں اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دوں، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر آپ ہی اس کو جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سنی ہے، بہتر جانتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12168]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 2973، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
22. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي قَتْلِهِ أَهْلَ الرِّدَّةِ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ ﷺ
فصل دوم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
حدیث نمبر: 12169
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ“ قَالَ فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَكْرٍ وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ أَرَادَ أَبُو بَكْرٍ قِتَالَهُمْ قَالَ عُمَرُ كَيْفَ تُقَاتِلُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ وَهُمْ يُصَلُّونَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الزَّكَاةِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَقَاتَلْتُهُمْ قَالَ عُمَرُ فَلَمَّا رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ عَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں، جب تک وہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کا اقرار نہ کرلیں، پس جب وہ یہ کلمہ پڑھ کر اس کا اقرار کر لیں گے تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے اور اس کے بعد ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو گا۔ پس جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو کچھ لوگ اس قدر مرتد ہوگئے (کہ زکوۃ دینے سے انکار کر دیا)، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کرنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ان لوگوں سے قتال کیوں کریں گے، حالانکہ یہ نماز پڑھتے ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جو لوگ زکوٰۃ دینے سے انکاری ہیں، میں ضرور ضرور ان سے قتال کروں گا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ اور اس کے رسول نے ان پر بھیڑ یا بکری کا ایک بچہ بھی بطور زکوٰۃ فرض کی ہے اور اگر یہ لوگ اسے ادا نہیں کریں گے تو میں ان سے قتال کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں نے دیکھا کہ اللہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سینہ ان لوگوں سے قتال کرنے کے لیے کھول دیا ہے تو میں جان گیا کہ یہی بات حق ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12169]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 6924، 6925، 7284، ومسلم: 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10852»
وضاحت: فوائد: … مدعیان نبوت اور مرتدین کے علاوہ ایک تیسرا گراہ منکرین زکوۃ کا تھا، چونکہ یہ گروہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا اور صرف زکوۃ ادا کرنے سے منکر تھا، اس لیے اس کے خلاف تلوار اٹھانے کے متعلق خود صحابہ میں اختلاف رائے ہوا، لیکن خلیفۂ اول کا غیر متزلزل ارادہ و استقلال اختلاف رائے سے مطلق طور پر متأثر نہ ہوا، بالآخر ان کے دلائل غالب آگئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے بزرگوں نے ان کی رائے کے برحق ہونے کو تسلیم کر لیا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 6924
23. الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِي جَمْعِ الْقُرْآنِ فِي عَهْدِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
فصل سوم: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12170
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَإِذَا عُمَرُ عِنْدَهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِأَهْلِ الْيَمَامَةِ مِنْ قُرَّاءِ الْقُرْآنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ لَا يُوعَى وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ فَقُلْتُ لِعُمَرَ وَكَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ بِذَلِكَ صَدْرِي وَرَأَيْتُ فِيهِ الَّذِي رَأَى عُمَرُ قَالَ زَيْدٌ وَعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لَا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّكَ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاجْمَعْهُ قَالَ زَيْدٌ فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ فَقُلْتُ كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یمامہ کی لڑائی کے متعلق میری طرف پیغام بھیجا، جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوگئے تھے، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ عمر رضی اللہ عنہ میرے پا س آئے ہیں اور انہو ں نے بتلایا کہ یمامہ میں شدید لڑائی ہوئی اور بہت سے مسلمان قراءِ کرام شہید ہوگئے ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ اگر جنگوں میں اسی طرح قراء شہید ہوتے رہے تو قرآن کریم کا بڑا حصہ ضائع ہو جائے گا، جسے محفوظ نہیں کیا گیا ہوگا۔ میر اخیا ل ہے کہ آپ قرآن کریم کو یکجا جمع کرنے کا حکم صادر فرمائیں، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: جو کام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا، وہ میں کیونکر کروں؟ انہو ں نے کہا: اللہ کی قسم!یہ کام بہتر ہے، وہ میرے ساتھ اس بارے میں اصرار کرتے رہے تاآنکہ اللہ نے اس کا م کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور میر ی رائے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق ہوگئی۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی وہاں تشریف فرما تھے، مگر انہوں نے کوئی بات نہ کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: زید! تم ایک سمجھدار نوجوان ہو، ہم کسی مسئلے میں تم پر کوئی الزام نہیں لگاتے، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے وحی لکھا کرتے تھے، اب تم ہی اسے ایک جگہ جمع کرو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو وہ میرے لیے اس قدر گراں نہ ہوتا، جتنا میرے لیے قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا حکم گراں گزرا ہے۔ میں نے بھی ان سے کہا تھا کہ تم لوگ وہ کام کیوں کرتے ہو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا؟ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12170]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 4986، 7191، 7425، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 76 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 76»
وضاحت: فوائد: … اس سے آگے صحیح بخاری کی روایت میں یہ تفصیل ہے:
قَالَ: ہُوَ وَاللّٰہِ خَیْرٌ فَلَمْ یَزَلْ أَبُو بَکْرٍ یُرَاجِعُنِی حَتّٰی شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرِی لِلَّذِی شَرَحَ لَہُ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُہُ مِنَ الْعُسُبِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتّٰی وَجَدْتُ آخِرَ سُورَۃِ التَّوْبَۃِ مَعَ أَبِی خُزَیْمَۃَ الْأَنْصَارِیِّ لَمْ أَجِدْہَا مَعَ أَحَدٍ غَیْرِہِ {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ} حَتّٰی خَاتِمَۃِ بَرَاء ۃٍ فَکَانَتْ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ حَتّٰی تَوَفَّاہُ اللّٰہُ ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَیَاتَہُ ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم یہ خیر ہے اور بار بار اصرار کرکے مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ اس کے لئے کھول دیا جس کے لئے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے سینے کھولے تھے، چنانچہ میں نے قرآن کو کھجور کے پٹھوں اور پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کرکے جمع کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ سورۂ توبہ کی آخری آیت میں نے ابوخزیمہ انصاری کے پاس پائی جو مجھے کسی اور کے پاس نہیں ملی اور وہ آیت یہ تھی: {لَقَدْ جَا ئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَء ُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔} (سورۂ توبہ: ۱۲۸)، سورۂ توبہ کے آخر تک، پھر یہ صحیفے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زندگی میں، پھر سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس رہے۔
اگرچہ قرآن مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں کھجور کی شاخوں، ہڈیوں، چمڑوں، پتھر کی تختیوں اور مختلف چیزوں پر لکھا ہواتھا اور اس کی آیات و سُوَر مرتّب تھیں، البتہ دو گتوں کے درمیان ایک کتاب کی صورت میں نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ کارنامہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے نصیب میں لکھا تھا۔
قَالَ: ہُوَ وَاللّٰہِ خَیْرٌ فَلَمْ یَزَلْ أَبُو بَکْرٍ یُرَاجِعُنِی حَتّٰی شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرِی لِلَّذِی شَرَحَ لَہُ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُہُ مِنَ الْعُسُبِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتّٰی وَجَدْتُ آخِرَ سُورَۃِ التَّوْبَۃِ مَعَ أَبِی خُزَیْمَۃَ الْأَنْصَارِیِّ لَمْ أَجِدْہَا مَعَ أَحَدٍ غَیْرِہِ {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ} حَتّٰی خَاتِمَۃِ بَرَاء ۃٍ فَکَانَتْ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ حَتّٰی تَوَفَّاہُ اللّٰہُ ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَیَاتَہُ ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم یہ خیر ہے اور بار بار اصرار کرکے مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ اس کے لئے کھول دیا جس کے لئے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے سینے کھولے تھے، چنانچہ میں نے قرآن کو کھجور کے پٹھوں اور پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کرکے جمع کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ سورۂ توبہ کی آخری آیت میں نے ابوخزیمہ انصاری کے پاس پائی جو مجھے کسی اور کے پاس نہیں ملی اور وہ آیت یہ تھی: {لَقَدْ جَا ئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَء ُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔} (سورۂ توبہ: ۱۲۸)، سورۂ توبہ کے آخر تک، پھر یہ صحیفے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زندگی میں، پھر سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس رہے۔
اگرچہ قرآن مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں کھجور کی شاخوں، ہڈیوں، چمڑوں، پتھر کی تختیوں اور مختلف چیزوں پر لکھا ہواتھا اور اس کی آیات و سُوَر مرتّب تھیں، البتہ دو گتوں کے درمیان ایک کتاب کی صورت میں نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ کارنامہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے نصیب میں لکھا تھا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 4986
24. الْبَابُ الرَّابِعُ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَيْرِ مَا تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ وَفِيهِ فُصُولٌ
باب چہارم: مناقب صحابہ رضی اللہ عنہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 12171
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ وَلَوِ اتَّخَذْتُ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں اپنے ہر خلیل کی خلت اور گہری دوستی سے اظہار براء ت کرتا ہوں، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہو تا تو ابو بکر کو بناتا، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ تعالیٰ کا دوست ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12171]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2383، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3580»
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2383
حدیث نمبر: 12172
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ“ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ هَلْ أَنَا وَمَالِي إِلَّا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جتنا فائدہ مجھے ابو بکر کے مال سے پہنچاہے، اتنا کسی دوسرے کے مال سے نہیں پہنچا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ خوشی سے رو پڑے اور کہا: اللہ کے رسول! میں اور میرا مال، سب کچھ آپ کا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12172]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الترمذي: 3661، وابن ماجه: 94، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7446 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7439»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 12173
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَهُ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْغَارِ وَقَالَ مَرَّةً وَنَحْنُ فِي الْغَارِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلَى قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ قَالَ فَقَالَ ”يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار میں تھے اور دشمن غار کے منہ پر کھڑے تھے، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اگر ان میں سے کسی نے اپنے پاؤں کی طرف جھانکا تو اپنے قدموں کے نیچے ہمیں دیکھ لے گا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے، جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12173]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3653، 3922، 4663، ومسلم: 2381، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11»
وضاحت: فوائد: … ہجرت کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے غارِ ثور میںپناہ لی تھی، یہ اس موقع سے متعلقہ حدیث ہے کہ ان کا تیسرا اللہ تعالیٰ تھا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3653
حدیث نمبر: 12174
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ ”عَائِشَةُ“ قَالَ قُلْتُ فَمِنَ الرِّجَالِ قَالَ ”أَبُوهَا“ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ”عُمَرُ“ قَالَ فَعَدَّ رِجَالًا
سیدنا عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غزوۂ ذات ِسلاسل کے لیے روانہ کیا، میں اس سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ کس کے ساتھ محبت ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ سے۔ میں نے کہا: اور مردو ں میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے والد سے۔ میں نے پوچھا: ان کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید چند آدمیوں کے نام لیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12174]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 4358، 3662، ومسلم: 2384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17964»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 4358
25. الفضلُ الأَوَّلُ فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضْلِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
فصل اول: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 12175
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَانَ رُبَمَا سَقَطَ الْخِطَامُ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَيَضْرِبُ بِذِرَاعِ نَاقَتِهِ فَيُنِيخُهَا فَيَأْخُذُهُ قَالَ فَقَالُوا لَهُ أَفَلَا أَمَرْتَنَا نُنَاوِلُكَهُ فَقَالَ إِنَّ حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ بسا اوقات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اونٹنی کی مہار چھوٹ کر نیچے گر جاتی تو وہ اونٹنی کی اگلی ٹانگ پر کوئی چیز مارکر اسے بٹھاتے اور خود اتر کر اس کو اٹھاتے تھے، لوگوں نے کہا: آپ ہمیں حکم دے دیتے، ہم آپ کو پکڑا دیتے، انھوں نے کہا: میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12175]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 65 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 65»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
26. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي تَوَاضُعِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
فصل دوم: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تواضع کا بیان
حدیث نمبر: 12176
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا خَلِيفَةَ اللَّهِ فَقَالَ أَنَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا رَاضٍ بِهِ وَأَنَا رَاضٍ بِهِ وَأَنَا رَاضٍ بِهِ
ابن ابی مکیہ سے مروی ہے کہ اس نے کہا: کسی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے اللہ کے خلیفہ! تو انھوں نے آگے سے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلیفہ ہوں اور میں اسی پر راضی ہوں، میں اسی پر راضی ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12176]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان ابن ابي مليكة لم يدرك ابا بكر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 59 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 59»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
27. ذَكَاؤُهُ وَ فِطْنَتُهُ وَ عِلْمُهُ وَفَضْلُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 12177
عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ ”إِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ فِيهَا وَيَأْكُلَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ فِيهَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ“ قَالَ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ أَنْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ وَبَيْنَ الدُّنْيَا فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلْ نَفْدِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَمْوَالِنَا وَأَبْنَائِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنُّ عَلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ مَرَّتَيْنِ وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
سیدنا ابو معلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن خطاب کیا اور فرمایا: ایک بندے کو اس کے رب نے اختیار دیا ہے کہ و ہ چاہے تو دنیا میں زندہ رہے اور جو چاہے کھائے پئے، اور اگر وہ چاہے تو اپنے ربّ سے جاملے، اس بندے نے اپنے رب کی ملاقات کو پسند کرلیا ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ رونے لگ گئے، صحابہ نے کہا: اس بزرگ کو دیکھو،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی صالح بندے کا ذکر کیا ہے کہ اس کے رب نے اسے اپنی ملاقات یا دنیا میں رہنے میں سے ایک بات کو منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے اور اس نے اپنے رب کی ملاقات کو منتخب کیا۔ (اور ابو بکر نے رونا شروع کر دیا)۔ دراصل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے اموال اور اولاد سمیت آپ پر فدا ہوں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے کوئی اپنی صحبت اور مال کے لحاظ سے ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا محسن نہیں، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابن ابی قحافہ کو بناتا، البتہ محبت اور ایمانی بھائی چارہ قائم ہے،البتہ ہمارے درمیان محبت اور اخوّت ِ ایمانی کا تعلق قائم ہے، تمہارا یہ ساتھی اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12177]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الترمذي: 3659، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17852 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18006»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنی ذہانت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو سمجھ گئے اور اس ارشاد کے نتیجے میں کیا ہونے والا تھا، اس منظر کو دیکھ کر رونے لگ گئے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره