الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. الفَضْلُ الْاَوَّلُ فِي كَيْفِيَّةِ بَيْعَةِ النَّبِي ﷺ
فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 12138
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ خَالِدٌ أَحْسِبُهُ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ سِتًّا ”أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ وَلَا يَعْضِدْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ فَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْهُنَّ حَدًّا فَعُجِّلَ لَهُ عُقُوبَتُهُ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ وَإِنْ أُخِّرَ عَنْهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ“
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے چھ امور کی بیعت لی تھی، اسی طرح ہم سے بھی اتنے امور کی بیعت لی، یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤگے، چوری نہیں کروگے، زنا نہیں کر و گے، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کر و گے، ایک دوسرے سے قطع تعلقی نہیں کرو گے، اور نیکی کے کسی کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے، تم میں سے جس کسی نے کوئی ایسا کام کیا جس پر شرعی حد واجب ہوتی ہو، تو اگر اس کو دنیا میں اس جرم کی سزا مل گئی تو وہ سزا اس کے لیے کفارہ ہوگی اور اگر سزا آخرت تک مؤخر ہوگئی تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی کر سکتا ہے، جیسے اس کی مرضی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12138]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 4894، 6784، ومسلم: 1709، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23044»
وضاحت: فوائد: … یہ بیعت کا اصول ہے کہ لوگوں سے نیک اعمال سرانجام دینے اور برے اعمال سے اجتناب کرنے کی بیعت لی جائے۔ آجکل مخصوص شخصیات کو بیعت کے لیے خاص کر لیا گیا ہے اور جہاں ان کی بیعت کو ضروری سمجھا جاتا ہے، وہاں دوسروں کو ترغیب بھی دی جاتی ہے اور ان لوگوں پر طعن و تشنیع اور سب و شتم کیا جاتا ہے جو اس قسم کی بیعت سے محروم رہتے ہیں، حالانکہ یہ سب کچھ بے سر و پا اور بے حقیقت ہے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: اس حدیث ِ مبارکہ میں خوارج کا ردّ ہے، جو کبیرہ گناہوں کی وجہ سے اہل توحید کو کافر قرار دیتے ہیں اور معتزلہ کا بھی ردّ ہے، جو توبہ کے بغیر مرنے والے فاسق مسلمان کے لیے سزا کو ضروری قرار دیتے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ توحید پرست گنہگار کی تعذیب یا عدمِ تعذیب کا مسئلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے، وہ چاہے تو سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ضرور سزا دے گا۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا بھی یہی مفہوم ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ} (سورۂ نسائ: ۴۸، ۱۱۶) … یقینا اللہ تعالیٰ (اس گناہ کو) نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتاہے۔
اللہ تعالیٰ نے شرک اور دوسرے گناہوں کے درمیان فرق کیا ہے، یعنی شرک ناقابل معافی ہے اور دوسرے گناہ اس کی مشیت کے تابع ہیں، وہ ان کو معاف بھی کر سکتا ہے اور ان پر گرفت بھی کر سکتا ہے۔
ضروری ہے کہ اس آیت اور حدیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے جو گناہوں سے توبہ کیے بغیر مر گیا ہو، کیونکہ جو آدمی زندگی میں شرک اور دوسرے گناہوں سے توبہ کر لیتا ہے اور اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے تو اسے بخش دیا جائے گا۔
میں اس استدلال کے ذریعے عصرِ حاضر کے ایسے لوگوں کا ردّ کرنا چاہتا ہوں جو کبھی تو کبیرہ گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور کبھی یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہو گا اور اگر کوئی مسلمان کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر کے توبہ کیے بغیر مر جائے گا، تو اسے ہر صورت میں سزا ہو گی۔
ان لوگوں نے کتاب و سنت کی مخالفت کرتے ہوئے شرک اور اس سے ادنی گناہوں کو اس اعتبار سے برابر قرار دیا ہے کہ دونوں کی وجہ سے عذاب ضروری ہے، میں نے مختلف اوقات اور مجالس میں دلائل کے ساتھ ان لوگوں کا ردّ کیا ہے، بعض نے تو متأثر ہو کر اس عقیدے سے توبہ کر لی اور بہترین سلفی نوجوانوں میں شامل ہو گئے، اللہ تعالیٰ باقیوں کو بھی ہدایت دے۔ (صحیحہ: ۲۹۹۹)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: اس حدیث ِ مبارکہ میں خوارج کا ردّ ہے، جو کبیرہ گناہوں کی وجہ سے اہل توحید کو کافر قرار دیتے ہیں اور معتزلہ کا بھی ردّ ہے، جو توبہ کے بغیر مرنے والے فاسق مسلمان کے لیے سزا کو ضروری قرار دیتے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ توحید پرست گنہگار کی تعذیب یا عدمِ تعذیب کا مسئلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے، وہ چاہے تو سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ضرور سزا دے گا۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا بھی یہی مفہوم ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ} (سورۂ نسائ: ۴۸، ۱۱۶) … یقینا اللہ تعالیٰ (اس گناہ کو) نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتاہے۔
اللہ تعالیٰ نے شرک اور دوسرے گناہوں کے درمیان فرق کیا ہے، یعنی شرک ناقابل معافی ہے اور دوسرے گناہ اس کی مشیت کے تابع ہیں، وہ ان کو معاف بھی کر سکتا ہے اور ان پر گرفت بھی کر سکتا ہے۔
ضروری ہے کہ اس آیت اور حدیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے جو گناہوں سے توبہ کیے بغیر مر گیا ہو، کیونکہ جو آدمی زندگی میں شرک اور دوسرے گناہوں سے توبہ کر لیتا ہے اور اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے تو اسے بخش دیا جائے گا۔
میں اس استدلال کے ذریعے عصرِ حاضر کے ایسے لوگوں کا ردّ کرنا چاہتا ہوں جو کبھی تو کبیرہ گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور کبھی یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہو گا اور اگر کوئی مسلمان کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر کے توبہ کیے بغیر مر جائے گا، تو اسے ہر صورت میں سزا ہو گی۔
ان لوگوں نے کتاب و سنت کی مخالفت کرتے ہوئے شرک اور اس سے ادنی گناہوں کو اس اعتبار سے برابر قرار دیا ہے کہ دونوں کی وجہ سے عذاب ضروری ہے، میں نے مختلف اوقات اور مجالس میں دلائل کے ساتھ ان لوگوں کا ردّ کیا ہے، بعض نے تو متأثر ہو کر اس عقیدے سے توبہ کر لی اور بہترین سلفی نوجوانوں میں شامل ہو گئے، اللہ تعالیٰ باقیوں کو بھی ہدایت دے۔ (صحیحہ: ۲۹۹۹)
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 4894
حدیث نمبر: 12139
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ”أَلَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَسْرِقُوا“ قَالَ فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ عَلَيْهِنَّ مِنِّي إِذْ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ
سیدنا سلمہ بن قیس اشجمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: خبردار! یہ چار امور ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اللہ نے جس جان کے قتل کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے، اسے ناحق قتل نہ کرنا، زنا نہ کرنا اور چوری نہ کرنا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جب سے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہیں، اس وقت سے مجھے ان کی کوئی رغبت اور حرص ہی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12139]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19199»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 12140
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ میں نہیں گروں گا، مگر کھڑے کھڑے ہی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12140]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه النسائي: 2/ 205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15386»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اسلام پر عمل کرتے کرتے مروں گا۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 12141
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ عَنْ قُطْبَةَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَتِي الْحَوْصَلَةِ وَكَانَ يُكَنَّى بِأَبِي الْحَوْصَلَةِ
سیدنا قطبہ بن قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی بیٹی حوصلہ کی طرف سے بیعت کی تھی۔ ان کی کنیت ابو حوصلہ تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12141]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن قطبة ومحمدُ بن ثعلبة مستور الحال، اخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16839»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن قطبة ومحمدُ بن ثعلبة مستور الحال
حدیث نمبر: 12142
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ شَأْنِ ثَقِيفٍ إِذْ بَايَعَتْ فَقَالَ اشْتَرَطَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا صَدَقَةَ عَلَيْهَا وَلَا جِهَادَ وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”سَيَصَّدَّقُونَ وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا“ يَعْنِي ثَقِيفًا
ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بنو ثقیف کے بارے میں پوچھا، جب انھوں نے بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: بنو ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہ شرط لگائی تھی کہ نہ ان پر صدقہ ہو گا اور نہ جہاد، پھر ابوزبیر نے کہا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ جب وہ صحیح طور پر مسلمان ہوجائیں گے تو عنقریب صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12142]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 3025، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14729»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و دانائی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر کوئی قبیلہ یا فرد مشرف باسلام تو ہونا چاہتا ہے، لیکن اسلام کے ایک دو اجزا یا شقوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، تو حکمت یہ ہے کہ دونوں گھروں کی مصلحت کا خیال رکھتے ہوئے اس امید پر اس کی شرطیں قبول کر لی جائیں کچھ عرصہ تک ایمان و ایقان میں پختہ ہو کر اسلام کے ہر جزو اور شقّ کو تسلیم کر لے گا، درج ذیل حدیث اور اس کی شرح پر غور کریں:
سیدنا فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عَلَّمَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَکَانَ فِیْمَا عَلَّمَنِی أَنْ قَالَ لِی: ((حَافِظْ عَلٰی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ۔)) فَقُلْتُ: إِنَّ ھٰذِہِ سَاعَاتٌ لِی فِیْھَا أَشْغَالٌ، فَمُرْنِی بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُہٗ أَجْزَأَ عَنِّی، قَالَ: ((حَافِظْ عَلٰی الْعَصْرَیْنِ: صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَصَلَاۃٍ قَبْلَ غُرُوْبِھَا)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ امور کی تعلیم دی، ان میں سے ایک امر یہ بھی تھا: پانچوں نمازوں کی محافظت کیا کر۔ میں نے کہا: ان گھڑیوں میں تو میں مصروف رہتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسا جامع و مانع حکم دیں کہ میں اس پر عمل کرتا رہوں اور وہ مجھے کفایت کرتا رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو نمازوں یعنی طلوع آفتا ب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کی محافظت کرتا رہ۔ (ابوداود: ۴۵۳، صحیحہ: ۱۸۱۳)
کسی آدمی کے دماغ میں یہ نکتہ سرایت نہ کر جائے کہ دو نمازوں پر اکتفا کرنا بھی درست ہے، علمائے حق کے نزدیک اس حدیث کے دو معانی مراد لینا ممکن ہیں: (۱) اس آدمی کو اس کی مصروفیت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی گئی تھی، نہ کہ ترکِ نماز کی، امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کی یہی رائے ہے اور (۲)وہ کوئی نو مسلم آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ فی الحال اس کو رخصت دی جائے، جب ایمان میں رسوخ پیدا ہو جائے گا تو اس کے لیے پانچ نمازوں کی ادائیگی ممکن ہو جائے گی اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی مبلّغ کسی بے نمازی کو پانچ نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتا ہے، لیکن وہ اس بات پر مصرّ ہے کہ وہ صرف دو تین نمازیں پڑھے گا تو اس حدیث کی روشنی میں اسے کہا جا سکتا ہے کہ چلو تم دو تین ہی پڑھتے رہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
درج بالا حدیث کو دیکھا جائے تو دوسرا معنی راجح اور درست معلوم ہوتا ہے:
یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کسی بڑی مصلحت کی خاطر کسی کو عارضی طور پر اسلام کے بعض احکام سے مستثنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثقیف قبیلہ والے لوگوں کی شرطیں تسلیم نہ کرتے تو ممکن تھا کہ وہ کفر پر اڑے رہتے، جو کہ بہت بڑی مفسدت تھی، اس مفسدت سے تو وہ ناقص اسلام ہی بہتر ہے، جس میں جہاد اور صدقہ نہ ہوں، جبکہ رخصت دینے والے کو یہ امید بھی ہو کہ عنقریب یہ لوگ تمام اسلامی احکام کو تسلیم کر لیں گے۔ یہی معاملہ اس باب کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچوں نمازیں نہ پڑھنے سے بہرحال دو ادا کر لینا بہتر ہے، ان دو کے ذریعے آہستہ آہستہ پانچ کا قائل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ قربان جائیے حکیم و دانا پیغمبر کی حکمت و دانائی پر۔
سیدنا فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عَلَّمَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَکَانَ فِیْمَا عَلَّمَنِی أَنْ قَالَ لِی: ((حَافِظْ عَلٰی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ۔)) فَقُلْتُ: إِنَّ ھٰذِہِ سَاعَاتٌ لِی فِیْھَا أَشْغَالٌ، فَمُرْنِی بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُہٗ أَجْزَأَ عَنِّی، قَالَ: ((حَافِظْ عَلٰی الْعَصْرَیْنِ: صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَصَلَاۃٍ قَبْلَ غُرُوْبِھَا)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ امور کی تعلیم دی، ان میں سے ایک امر یہ بھی تھا: پانچوں نمازوں کی محافظت کیا کر۔ میں نے کہا: ان گھڑیوں میں تو میں مصروف رہتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسا جامع و مانع حکم دیں کہ میں اس پر عمل کرتا رہوں اور وہ مجھے کفایت کرتا رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو نمازوں یعنی طلوع آفتا ب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کی محافظت کرتا رہ۔ (ابوداود: ۴۵۳، صحیحہ: ۱۸۱۳)
کسی آدمی کے دماغ میں یہ نکتہ سرایت نہ کر جائے کہ دو نمازوں پر اکتفا کرنا بھی درست ہے، علمائے حق کے نزدیک اس حدیث کے دو معانی مراد لینا ممکن ہیں: (۱) اس آدمی کو اس کی مصروفیت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی گئی تھی، نہ کہ ترکِ نماز کی، امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کی یہی رائے ہے اور (۲)وہ کوئی نو مسلم آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ فی الحال اس کو رخصت دی جائے، جب ایمان میں رسوخ پیدا ہو جائے گا تو اس کے لیے پانچ نمازوں کی ادائیگی ممکن ہو جائے گی اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی مبلّغ کسی بے نمازی کو پانچ نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتا ہے، لیکن وہ اس بات پر مصرّ ہے کہ وہ صرف دو تین نمازیں پڑھے گا تو اس حدیث کی روشنی میں اسے کہا جا سکتا ہے کہ چلو تم دو تین ہی پڑھتے رہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
درج بالا حدیث کو دیکھا جائے تو دوسرا معنی راجح اور درست معلوم ہوتا ہے:
یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کسی بڑی مصلحت کی خاطر کسی کو عارضی طور پر اسلام کے بعض احکام سے مستثنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثقیف قبیلہ والے لوگوں کی شرطیں تسلیم نہ کرتے تو ممکن تھا کہ وہ کفر پر اڑے رہتے، جو کہ بہت بڑی مفسدت تھی، اس مفسدت سے تو وہ ناقص اسلام ہی بہتر ہے، جس میں جہاد اور صدقہ نہ ہوں، جبکہ رخصت دینے والے کو یہ امید بھی ہو کہ عنقریب یہ لوگ تمام اسلامی احکام کو تسلیم کر لیں گے۔ یہی معاملہ اس باب کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچوں نمازیں نہ پڑھنے سے بہرحال دو ادا کر لینا بہتر ہے، ان دو کے ذریعے آہستہ آہستہ پانچ کا قائل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ قربان جائیے حکیم و دانا پیغمبر کی حکمت و دانائی پر۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 12143
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بِعْنِيهِ“ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ ”أَعَبْدٌ هُوَ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کرنے پر بعیت کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک اسے لینے کے لیے آگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا۔ تم یہ غلام مجھے بیچ دو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سیاہ فام غلاموں کے عوض اس کو خریدلیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا یہ شخص غلام ہے؟ اس وقت تک کسی سے بیعت نہیں لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12143]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1602، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14831»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۱۴)
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1602
18. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي وُجُوبِ الْبَيْعَةِ وَلُزُومِهَا وَعَدْمِ التَّخَلَّى عَنْهَا
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
حدیث نمبر: 12144
عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ (بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ مَاتَ بِغَيْرِ إِمَامٍ مَاتَ مِيتَةَ جَاهِلِيَّةٍ“
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ٔٔٔٔٔٔٔٔ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی امام اور حکمران کے بغیر مرا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12144]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي: 7357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17000»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12145
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ مَاتَ وَلَيْسَتْ عَلَيْهِ طَاعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً فَإِنْ خَلَعَهَا مِنْ بَعْدِ عَقْدِهَا فِي عُنُقِهِ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”بَعْدَ عَقْدِهِ إِيَّاهَا فِي عُنُقِهِ“) ”لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَيْسَتْ لَهُ حُجَّةٌ“
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا کہ اس نے اپنے اوپر کسی امام کی اطاعت کو لازم نہیں کیا تھا، یعنی کسی کو اپنا امام تسلیم نہیں کیا تھا، و ہ جاہلیت کی موت مرا اور جس نے اپنی گردن سے کسی امام کی اطاعت کا ہار اتارپھینکا، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ کے ہاں پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12145]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15784»
وضاحت: فوائد: … اگر مسلمانوں کی جماعت موجود ہو تو اس میں شامل ہونا اور اس کے حاکم کو اپنا امیر تسلیم کر کے اس کی اطاعت کرنا فرض ہے۔ لیکن موجودہ دور میں اہل اسلام کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ قوانین و ضوابط میں پابند ہو کر پروان چڑھنے والی قوم انتظام و انصرام سے یکسر ناواقف ہو چکی ہے۔ فَأِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکیٰ۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اس حدیث میں مذکورہ وعید اس شخص کے حق میں ہے، جس نے خلیفۂ مسلمین کی بیعت نہ کی ہو اور ان سے علیحدہ ہو گیا ہو۔ اس سے مراد عصرِ حاضر کی مختلف قسم کی تنظیموں اور جماعتوں کے سربراہان نہیں کہ ان کی بیعت کی جائے، بلکہ یہ تو تفرقہ بازی ہے، جس سے قرآن حکیم نے منع کیا ہے۔ (صحیحہ: ۹۸۴)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اس حدیث میں مذکورہ وعید اس شخص کے حق میں ہے، جس نے خلیفۂ مسلمین کی بیعت نہ کی ہو اور ان سے علیحدہ ہو گیا ہو۔ اس سے مراد عصرِ حاضر کی مختلف قسم کی تنظیموں اور جماعتوں کے سربراہان نہیں کہ ان کی بیعت کی جائے، بلکہ یہ تو تفرقہ بازی ہے، جس سے قرآن حکیم نے منع کیا ہے۔ (صحیحہ: ۹۸۴)
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12146
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي إِنَّهُ سَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ“ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ ”فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمُ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کی قیادت ان کے انبیاء کرتے تھے، جب ایک نبی فو ت ہوجاتا تو دوسر ا آجاتا، اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، البتہ خلفاء بکثرت ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: تو پھر آپ ہمیں ان کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے خلیفہ سے کی گئی بیعت کوپورا کرنا، پھر جو اس کے بعد ہو، اس کی بیعت کو پورا کرنا اوراللہ نے ان کے لیے جو حقوق مقرر کیے ہیں، وہ ادا کرنا، رہا مسئلہ تمہارے حقوق کا تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں پوچھے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12146]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3455، ومسلم: 1842، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7947»
وضاحت: فوائد: … حکمران اور رعایا، ہر ایک کے دوسرے پر حقوق ہیں اور ان حقوق کی ادائیگی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ دوسرا فریق بھی حقوق پورا کر رہا ہو، اگر حکمران ظالم ہو تو اس کے مقابلے میں عوام کو ظلم کرنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ اس کے ظلم کے باوجود رعایا سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے حکمران کے ہر ممکن حق کو پورا کرے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3455
حدیث نمبر: 12147
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَتِهِ وَيُقَاتِلُ لِعَصَبَتِهِ وَيَنْصُرُ عَصَبَتَهُ فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لَا يَتَحَاشَى لِمُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی امام اور حاکم کی اطاعت سے نکل گیا اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حالت میں اس کو موت آ گئی تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا، جو اندھا دھند جھنڈے کے نیچے لڑا، جس میں وہ عصبیت کی بنا پر غصے ہوتا ہے اور تعصب کی بنا پر مدد کرتا ہے اور پھر اسی حالت میں قتل ہو جاتا ہے تو اس کا قتل بھی جاہلیت والا ہو گا او رجو آدمی میری امت پر بغاوت کرتے ہوئے نکلا اور نیکوں اور بروں کو مارتا گیا،نہ اس نے اہل ایمان کا لحاظ کیا اور نہ عہد والے کا عہد پورا کیا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12147]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7931»
وضاحت: فوائد: … جو آدمی امام کی اطاعت ترک کر دیتاہے، اسلامی جماعت سے دور ہو جاتا ہے اورمسلمانوں کے اتفاق و اتحاد کی مخالفت کرتا ہے اور اسی حالت میں مر جاتا ہے تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے، کیونکہ وہ اس وقت بھی شتر بے مہار تھا اور اب بھی ہے۔
اس دور میں خاندانی عصبیت اور قبائلی انانیت عروج پر ہے، اللہ تعالیٰ کے نام پر دوستی و یاری عنقا بن چکی ہے۔ سیاستوں کے چکر ہیں، قومیّتوں کے چکر ہیں، تعلقاتِ قدیمہ کے چکر ہیں، جھوٹی محبتوں کے دعوے ہیں۔ ان چکروں میں پڑ کر اور حق و باطل کو پسِ پشت ڈال کر تیر وکمان کا تبادلہ ہوتا ہے، برس ہا برس قطع تعلقی میں گزر جاتے ہیں، بعض خاندانوں میں عداوت و کدورت وہ مقام حاصل کر چکی ہے کہ شاید اسلام اور کفر کے نام پر بننے والے دشمن اس کے سامنے شرما جائیں۔
قارئین کرام! آؤ اور اسلام کے نام پر جیو، اسی زندگی کو اپنا اعزاز اور منصب ِ انسانی سمجھو۔ حدیث میں باقی بیان کردہ امور واضح ہیں۔
اس دور میں خاندانی عصبیت اور قبائلی انانیت عروج پر ہے، اللہ تعالیٰ کے نام پر دوستی و یاری عنقا بن چکی ہے۔ سیاستوں کے چکر ہیں، قومیّتوں کے چکر ہیں، تعلقاتِ قدیمہ کے چکر ہیں، جھوٹی محبتوں کے دعوے ہیں۔ ان چکروں میں پڑ کر اور حق و باطل کو پسِ پشت ڈال کر تیر وکمان کا تبادلہ ہوتا ہے، برس ہا برس قطع تعلقی میں گزر جاتے ہیں، بعض خاندانوں میں عداوت و کدورت وہ مقام حاصل کر چکی ہے کہ شاید اسلام اور کفر کے نام پر بننے والے دشمن اس کے سامنے شرما جائیں۔
قارئین کرام! آؤ اور اسلام کے نام پر جیو، اسی زندگی کو اپنا اعزاز اور منصب ِ انسانی سمجھو۔ حدیث میں باقی بیان کردہ امور واضح ہیں۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1848