الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِي وُجُوبٍ مُنَاصَحَةِ أُولِي الأمْرِ، وَأمْرِهِمْ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيهِمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 12128
وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ وَغَيْرِهِ قَالَ جَلَدَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ صَاحِبَ دَارٍ حِينَ فُتِحَتْ فَأَغْلَظَ لَهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ الْقَوْلَ حَتَّى غَضِبَ عِيَاضٌ ثُمَّ مَكَثَ لَيَالِيَ فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ هِشَامٌ لِعِيَاضٍ أَلَمْ تَسْمَعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا أَشَدَّهُمْ عَذَابًا فِي الدُّنْيَا لِلنَّاسِ“ فَقَالَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ يَا هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ قَدْ سَمِعْنَا مَا سَمِعْتَ وَرَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْصَحَ لِسُلْطَانٍ بِأَمْرٍ فَلَا يُبْدِهِ عَلَانِيَةً وَلَكِنْ لِيَأْخُذْ بِيَدِهِ فَيَخْلُوَ بِهِ فَإِنْ قَبِلَ مِنْهُ فَذَاكَ وَإِلَّا كَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ لَهُ“ وَإِنَّكَ يَا هِشَامُ لَأَنْتَ الْجَرِيءُ إِذْ تَجْتَرِئُ عَلَى سُلْطَانِ اللَّهِ فَهَلَّا خَشِيتَ أَنْ يَقْتُلَكَ السُّلْطَانُ فَتَكُونَ قَتِيلَ سُلْطَانِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
شریح بن عبید حضرمی وغیرہ سے مروی ہے کہ ایک علاقہ فتح ہوا اور سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ایک گھر کے مالک کی پٹائی کردی، سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام نے ان کو سخت قسم کی باتیں کہہ دیں، عیاض رضی اللہ عنہ ناراض ہوگئے، کچھ دنوں کے بعد سیدنا ہشام بن حکیم نے آکر معذرت کی، پھر سیدنا ہشام نے عیاض رضی اللہ عنہ سے کہا:کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو دنیا میں لوگوں کو سخت عذاب دیتے ہیں۔ سیدناعیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے کہا: ہشام! جو کچھ تم نے سنا، وہ ہم بھی سن چکے ہیں اور جو کچھ تم نے دیکھا، وہ ہم بھی دیکھ چکے ہیں۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی بادشاہ کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا ارادہ کرے، وہ لوگوں کے سامنے کچھ نہ کہے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر خلوت میں لے جائے، اگر وہ حکمران اس کی بات کو قبول کر لے تو بہتر، ورنہ اس آدمی نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔ اے ہشام! تم بڑے جرأت مند ہو،کیونکہ تم نے تو اللہ کے سلطان پر جرأت کی ہے، کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ کا بادشاہ تم کو قتل کر دے اور اس طرح تم اللہ کے بادشاہ کے مقتول بن جاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12128]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 1007، والحاكم: 3/ 290، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15408»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکمران کو سمجھانے کا بڑا خوبصورت طریقہ بیان کیا ہے، راوی نے اس طریقہ کو نہ اپنانے کا انجام بھی بیان کر دیا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
16. الْفَضْلُ الرَّابِعُ فِي لُزُومِ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ وَإِكْرَامِ السلطان
فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12129
عَنِ الْبَخْتَرِيِّ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ سَلْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”اثْنَانِ خَيْرٌ مِنْ وَاحِدٍ وَثَلَاثٌ خَيْرٌ مِنِ اثْنَيْنِ وَأَرْبَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَنْ يَجْمَعَ أُمَّتِي إِلَّا عَلَى هُدًى“
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک کی نسبت دو، دو کی نسبت تین اور تین کی نسبت چا ر بہتر ہیں، پس تم جماعت کے ساتھ رہو، اللہ تعالیٰ میری امت کو ہدایت کے سوا دوسرے کسی کا م پر ہرگز جمع نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12129]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، البختري بن عبيد متروك الحديث، وابوه عبيد بن سلمان الطابخي مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21617»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 12130
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ“
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی، اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے اتار پھینکی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12130]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابوداود: 4758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21893»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12131
وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ لَيَالِيَ سَارَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ فَقَالَ يَا رِبْعِيُّ مَا فَعَلَ قَوْمُكَ قَالَ قُلْتُ عَنْ أَيِّ بَالِهِمْ تَسْأَلُ قَالَ مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَسَمَّيْتُ رِجَالًا فِيمَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ“
ربعی بن حراش کہتے ہیں: جن ایام میں لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں بغاوت کر کے ان کی طرف روانہ ہوئے تو میں انہی راتوں میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مدائن گیا، انہو ں نے مجھ سے کہا: ربعی! تمہاری قوم نے کیا کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ ان کے کس فعل کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ انہو ں نے کہا: کون لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف گئے ہیں؟ سو میں نے جانے والوں میں سے کچھ افراد کے نام ذکر کر دئیے، انہو ں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کی اور امارت و حکومت کو ذلیل کرنے کی کوشش کی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں جا کر ملے گا کہ اللہ کے ہاں اس کی کوئی توقیر نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12131]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الحاكم: 1/ 119، وابن ابي شيبة: 15/ 21، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23672»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 12132
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الدُّنْيَا أَكْرَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الدُّنْيَا أَهَانَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے بادشاہ کا اکرام کرے، اللہ قیامت کے دن اس کا اکرام کرے گا اور جس نے دنیا میں اللہ کے بنائے ہوئے بادشاہ کی توہین و تذلیل کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلیل ورسوا کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12132]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، اخرجه الترمذي: 2224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20705»
وضاحت: فوائد: … بادشاہ کی عزت اور بے عزتی عام آدمی کی عزت اور بے عزتی کی بہ نسبت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، ہر صاحب ِ عزت اس چیز کو محسوس کرتا ہے، اس لیے حکمرانوں کے ساتھ وہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے، جو عوام الناس کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے، اسی قسم کی ایک درج ذیل مثال پر غور کریں:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَقِیْلُوْا ذَوِيْ الْھَیْئَاتِ عَثَرَاتِھِمْ اِلَّا الْحُدُوْدَ۔)) … صاحب ِ حیثیت لوگوں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو، مگریہ کہ وہ حدود ہوں۔ (ابو دواد: ۴۳۷۵، صحیحہ: ۶۳۸)
دنیا کا ہر وہ معاشرہ جس کو تہذیب و شائستگی سے ادنی سا تعلق بھی رہا ہو، اپنے اندر موجود باوقار، شریف النفس اور رذائل سے دور رہنے والے افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں اور فرو گذاشتوں کو نظر انداز کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیونکہ شریعت کا مقصد تربیت کرنا ہے، تربیت کے لیے ضروری نہیں کہ زجر و توبیخ سے ہی کام لیا جائے یا تعزیر ہی لگائی جائے، کیونکہ بعض صاحب ِ حیثیت لوگوں کو شرم دلانے کے لیے اور آئندہ ایسے جرائم سے محفوظ کرنے کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ لوگوں پر ان کا پول کھل جائے، جبکہ عام لوگوں کو سمجھانے کیلیے یہ کلیہ کافی نہیں ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں اسی اخلاقی خوبی کو سراہنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ہاں اگر جرم کی نوعیت حدود اللہ کی پامالی تک جا پہنچتی ہے تو پھر قانون مساوات سب کے لیے ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَقِیْلُوْا ذَوِيْ الْھَیْئَاتِ عَثَرَاتِھِمْ اِلَّا الْحُدُوْدَ۔)) … صاحب ِ حیثیت لوگوں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو، مگریہ کہ وہ حدود ہوں۔ (ابو دواد: ۴۳۷۵، صحیحہ: ۶۳۸)
دنیا کا ہر وہ معاشرہ جس کو تہذیب و شائستگی سے ادنی سا تعلق بھی رہا ہو، اپنے اندر موجود باوقار، شریف النفس اور رذائل سے دور رہنے والے افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں اور فرو گذاشتوں کو نظر انداز کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیونکہ شریعت کا مقصد تربیت کرنا ہے، تربیت کے لیے ضروری نہیں کہ زجر و توبیخ سے ہی کام لیا جائے یا تعزیر ہی لگائی جائے، کیونکہ بعض صاحب ِ حیثیت لوگوں کو شرم دلانے کے لیے اور آئندہ ایسے جرائم سے محفوظ کرنے کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ لوگوں پر ان کا پول کھل جائے، جبکہ عام لوگوں کو سمجھانے کیلیے یہ کلیہ کافی نہیں ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں اسی اخلاقی خوبی کو سراہنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ہاں اگر جرم کی نوعیت حدود اللہ کی پامالی تک جا پہنچتی ہے تو پھر قانون مساوات سب کے لیے ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن
17. الفَضْلُ الْاَوَّلُ فِي كَيْفِيَّةِ بَيْعَةِ النَّبِي ﷺ
فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 12133
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ثُمَّ يَقُولُ ”فِيمَا اسْتَطَعْتَ“ وَقَالَ مَرَّةً فَيُلَقِّنُ أَحَدَنَا فِيمَا اسْتَطَعْتَ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کی بیعت لیا کرتے تھے کہ حاکم کا حکم سن کر اس کی اطاعت کی جائے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہی فرما دیتے: جتنی تم میں طاقت اور استطاعت ہو۔ ایک راوی نے کہا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں لقمہ دیتے اور یادہانی کرا دیتے کہ جتنی تم میں طاقت ہو گی (اس کے مطابق تم حاکم کی اطاعت کرو گے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12133]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7202، ومسلم: 1867، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4565»
وضاحت: فوائد: … یعنی حاکم کے حکم کی اطاعت اسی وقت تک ہے جب تک آدمی اسے پورا سکتا اور بجا لاسکتا ہو، حاکم کا جو حکم خارج از استطاعت ہو، اس کی اطاعت نہ کی جائے۔
یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحم دلی ہوتی تھی کہ بیعت میں طاقت اور استطاعت کی شرط لگوا دیتے تھے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔
یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحم دلی ہوتی تھی کہ بیعت میں طاقت اور استطاعت کی شرط لگوا دیتے تھے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7202
حدیث نمبر: 12134
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَقَالَ ”فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی کہ ہم حکمران کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن تمہاری استطاعت کے مطابق۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12134]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابن ماجه: 2868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12203 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12227»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12135
(عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ أَخَرَ بِلَفْظِ) قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ يَعْنِي الْيُمْنَى عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَقَالَ ”فِيمَا اسْتَطَعْتَ“
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ میں حکمران کی بات سنوں گا اور اس کی اطاعت کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن جتنی طاقت، اس کے مطابق۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12135]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12793»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12793
حدیث نمبر: 12136
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَالْأَثَرَةِ عَلَيْنَا وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَنَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كَانَ وَلَا نَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی کہ ہم مشکل میں اور آسانی میں، چستی میں اور سستی میں اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کے باوجود حاکم کی بات مانیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے اور حکومت کے معاملے میں حکومت کے افراد سے جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے، وہ جہاں بھی ہو گا، اور ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کریں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12136]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7055، ومسلم: ص 1470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22725 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23104»
وضاحت: فوائد: … احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں کہ ہر صورت میں وقت کے امیر اور حاکم کی اطاعت کرنا فرض ہے، جب تک وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتا۔ اس وقت تک اس کی امارت و ملوکیت کو قابل تسلیم اور قابل اطاعت سمجھا جائے جب تک اس میں واضح کفر نظر نہیں آ جاتا۔ اس حدیث کے آخری حصے میں انتہائی اہم نصیحت کی گئی ہے مسلمانوں کو شریعت کے اٹل فیصلوں پر برقرار رہنا چاہئے، ان کے طرزِ حیات میں استقامت اور سنجیدگی ہونی چاہئے، زمان و مکان سے متاثر نہیں ہونا چاہئے، اسی بات کو حق مانا جائے جو شریعت کے ہاں حق ہے اور جہاں بھی اس کے اعلان کی ضرورت پڑے، کسی قسم کی جھجک کے بغیر اس کا اظہار کر دیا جائے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7055
حدیث نمبر: 12137
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ سَمِعَهُ مِنْ جَدِّهِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ قَالَ سُفْيَانُ وَعُبَادَةُ نَقِيبٌ وَهُوَ مِنَ السَّبْعَةِ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَلَا نُنَازِعُ الْأَمْرَ أَهْلَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ وَإِنْ رَأَيْتَ إِنَّ لَكَ) نَقُولُ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ قَالَ سُفْيَانُ زَادَ بَعْضُ النَّاسِ مَا لَمْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ، جو کہ سات نقباء میں سے ایک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی کہ ہم تنگی اور آسانی میں اور خوشی اور ناخوشی میں حکمران کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، حکومت کے بارے میں اہل حکومت سے جھگڑ انہیں کر یں گے اور ہم جہاں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کریں گے۔ سفیان راوی نے کہا: بعض حضرات نے اس حدیث میں یہ الفاظ زائد روایت کیے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (تم اس وقت تک حکمران کی اطاعت کرنا) جب تک واضح کفر نہ دیکھ لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12137]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23055»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23055