🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي وُجُوبِ الْبَيْعَةِ وَلُزُومِهَا وَعَدْمِ التَّخَلَّى عَنْهَا
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12148
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”فَيَمُوتُ إِلَّا مَاتَ مِيتَةَ جَاهِلِيَّةٍ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے امیر کی طرف سے کوئی ایسی بات دیکھے جواسے اچھی نہ لگے تو وہ صبر کرے، کیونکہ جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی اور اسی حال میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12148]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7054، 7143، ومسلم: 1849، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2487»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7054
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12149
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ وَكَانَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”خِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ مَنْ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ“ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ ”لَا مَا أَقَامُوا لَكُمُ الصَّلَاةَ أَلَا وَمَنْ وُلِّيَ عَلَيْهِ أَمِيرٌ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيُنْكِرْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ“
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین حکمران وہ ہیں کہ جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں اور تم ان کے حق میں رحمت کی دعائیں کرو اور وہ تمہارے حق میں رحمت کی دعائیں کریں اور تمہارے بد ترین حکمران وہ ہیں کہ جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں اور تم ان پر لعنتیں کرو اور وہ تم پر لعنتیں کریں۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسی صورت حال میں ہم ان سے الگ تھلگ نہ ہوجائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک وہ نما زکی پابندی کریں، تم ان سے الگ نہیں ہوسکتے، خبردار! تم میں سے کسی پر کوئی آدمی امیر اورحکمران ہو اور وہ اپنے امیر کو اللہ کی معصیت کا کام کرتے ہوئے دیکھے تو وہ اللہ تعالیٰ کی اس معصیت کا انکار کرے اور اس کی اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12149]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1855، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23981 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24481»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1855
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12150
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ طَاعَةِ اللَّهِ مَاتَ وَلَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَقَدْ نَزَعَ يَدَهُ مِنْ بَيْعَةٍ كَانَتْ مِيتَتُهُ مِيتَةَ ضَلَالَةٍ“
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی اطاعت کے علاوہ کسی اور چیز پر مرا تو وہ اس حال میں مرے گا کہ اس کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہو گی اور جو اس حال میں مرا کہ اس نے بیعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہو تو اس کی موت گمراہی کی موت ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12150]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1851، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5897 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5897»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1851
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12151
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعُوا لَهُ وِسَادَةً فَقَالَ إِنَّمَا جِئْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ مُفَارِقٌ لِلْجَمَاعَةِ فَإِنَّهُ يَمُوتُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً“
زید بن اسلم اپنے والدسے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی معیت میں عبداللہ بن مطیع کے ہاں گیا، انہو ں نے کہا: ابو عبدالرحمن کو خوش آمدید، ان کے لیے تکیہ لگاؤ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سنانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیا، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی اور جو آدمی اس حال میں مرا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت سے الگ تھلگ تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12151]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1851، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5551»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1851
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12152
عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا وَفِيهِ ”وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ“ قَالَ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَقُلْتُ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ فَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي قَالَ فَقُلْتُ هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَعْنِي يَأْمُرُنَا بِأَكْلِ أَمْوَالِنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [النساء: 29] قَالَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَلَى جَبْهَتِهِ ثُمَّ نَكَسَ هُنَيَّةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
عبد الرحمن بن عبد ِربّ ِکعبہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، میں نے ان کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں سفر میں تھے، پھر انہو ں نے طویل حدیث بیان کی، اس کا ایک اقتباس یہ تھا: جس نے کسی حکمران کی بیعت کی اور اس سے معاہدہ کیا اور اس کو دل کا پھل دے دیا، تو وہ حسب ِ استطاعت اس کی اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا آدمی آکر اس پہلے حاکم سے اختلا ف کرے تو بعد والے کی گردن اڑادو۔ عبد الرحمن کہتے ہیں: یہ سن کر میں نے اپنا سر لوگوں کے درمیان میں داخل کیا اور کہا: میں تم کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے یہ حدیث اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس حدیث کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو محفوظ کیا۔ عبدالرحمن نے کہا: یہ آپ کا چچازاد بھائی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل اور ناجائز طریقوں سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ} … اے ایمان والو! تم اپنے اموال آپس میں باطل طریقوں سے مت کھاؤ۔ یہ سن کر انہو ں نے اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کیے اور انہیں اپنی پیشانی کے اوپر رکھا اور پھر کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھے رہے، پھر کچھ دیر بعد سر اٹھایا اور کہا: اللہ کی اطاعت کا کام ہوتو ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی ہوتو ان کی بات نہ مانو۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12152]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6503»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر خلیفۃ المسلمین موجود ہوتو ہر صورت میں اس کی بیعت کر کے زندگی گزارنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1844
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. الْبَابُ الأَوَّلُ فِي ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُشِيرَةِ إِلَى خِلَافَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12153
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اقْتَدُوا بِالَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد ان دو حضرات کی اقتدا کرنا، ابوبکر اور عمر۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12153]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه وشواھده، اخرجه الترمذي: 3662، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23634»

الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12154
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا ابو جحیفہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں نہ بتلاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں، کیا میں تمہیں یہ بھی بتلا دوں کہ اس امت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12154]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 833»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نظریہ تھا، بڑی ہستیوں کو یہی زیب دیتا ہے کہ دوسروں کی فضیلت کو بھی تسلیم کر لیا کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12155
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَاصِبًا رَأْسَهُ فِي خِرْقَةٍ فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت کے ایام میں اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی اورپھر فرمایا: اپنی جان اور مال کے بارے میں ابو بکر بن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا کوئی محسن نہیں ہے،اگر میں نے لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بنانا ہوتا تو میں نے ابو بکر کو اپنا خلیل بناتا، البتہ اسلامی دوستی اور تعلق سب سے زیادہ فضیلت والا ہے، اس مسجد کی طرف کھلنے والے ہر دروازے اور راستے کو بند کر دو، ما سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے راستے کے، وہ کھلا رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12155]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 467، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2432»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خطاب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے پانچ دن پہلے تھا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری اجتماعی خطاب تھا۔ دیکھیں (۱۰۹۹۰)
سُبْحَانَ اللّٰہ! خلیفۂ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بختوں‘ نصیبوں اور سعادتوں کا کیا کہنا ‘ کہ پیغمبر اسلام‘ پیغمبروں کے سردار اپنی موت سے چند ایام قبل جن لاجواب احسانات کا اقرار کر کے ان سے محبت کرنے کا مژدہ سناتے ہیں‘ یہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حق میں لاثانی اور بے نظیر منقبت ہے‘ جس میں ان کا کوئی ساجھی نہیں۔
یادرہے کہ خلیل اس محِبّ کو کہتے ہیں جو اپنے دل میں اپنے محبوب سے اتنی زیادہ سچی اور گہری محبت رکھتا ہو کہ اب مزید اس کے دل میں کسی کے لئے کوئی گنجائش باقی نہ رہی ہو۔ ایسی محبت کو خلّت کہتے ہیں اور محبت کا یہ انداز صرف اللہ تعالیٰ کے بارے میں اختیار کیا جا سکتا ہے‘ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ سے جو شدید محبت (یعنی خلّت) تھی وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نہ تھی‘ کیونکہ صدیق کا مقام مرتبہ اپنی جگہ پر مسلّم ہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات
سب سے برتر اور اعلی ہے، اس سے کسی کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر صدیق کیلئے اسلامی مودّت و محبّت کا دعوی بحال رکھا‘ جس کا مرتبہ خلّت سے کم ہے۔ (حافظ ابن حجرؒ نے خلیل کے نو معانی ذکر کئے ہیں۔ دیکھیں: فتح الباری: حدیث ۳۶۵۷ کے تحت)
خطابی اور ابن بطال وغیرہ نے کہا: اس حدیث میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو عظیم خصوصیت سے نوازا گیا‘نیز اس میں یہ قوی اشارہ موجود ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ خلافت کے مستحق ہیں‘ … اور بعض نے تو اس بات کا دعوی کیا کہ دروازے کے ذریعے کنایۃً خلافت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ (دیکھیں: فتح الباری: حدیث ۳۶۵۴ کے تحت)
ہمیں حدیث مبارکہ سے عملی سبق یہ ملتا ہے کہ محبت و مودت‘ احترام و اکرام‘ عزت و مرتبت اور دوستی و یاری کا معیار اسلام ہونا چاہئے‘ محب اور محبوب کے تعلق کی بنیاد میں اللہ اور اس کے رسول کا نام پایا جانا چاہئے‘ یہی واحد تعلق ہے جو بروز قیامت بھی بحال رہے گا۔ رہا اس دوستی کا مسئلہ جس کی بنیاد کسی خاندانی تعلق‘ دنیوی منفعت‘ سیاسی ناطے‘ حسن و جمال‘ شخصیت پرستی یا فسق و فجور پر ہو‘ وہ قیامت کے دن دشمنی کا لبادہ اوڑھ لے گی‘ قرآن مجید گوہر افشاں ہے:
{اَ لْاَخِلَّائُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ} … قیامت کے دن گہرے دوست بھی دشمن بن جائیں گے‘ سوائے پرہیزگاروں کے (کہ جن کی دوستی دین اور رضائے الہی کی بنیاد پر ہوتی ہے) (سورۂ زخرف: ۶۷)
آئیے! ہم بھی جائزہ لیں اور اپنے تعلق کی عمارت کو نبی و صدیق کی محبت کی بنیادوں پر استوار کریں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو انسان درج ذیل تین خصائل سے متصف ہو گا ‘ وہ ان کی بدولت ایمان کی حلاوت اور لذت محسوس کرے گا:
۱۔ اسے اللہ اور اس کا رسول کائنات کی ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہوں۔
۲۔ وہ کسی آدمی سے صرف اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھتا ہو۔
۳۔ اللہ کی توفیق سے کفر سے بچ جانے کے بعد دوبارہ کفر میں لوٹنے کو اس طرح برا سمجھے جیسے وہ آگ میں ڈالے جانے کو برا سمجھتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۱۶، صحیح مسلم: ۴۳)
نیز سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: اَیْنَ الْمُتَحَابُّوْنَ بِجَلَالِیْ، اَلْیَوْمَ اُظِلُّھُمْ فِیْ ظِلِّیْ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلِّی)) یعنی: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اعلان کرے گا: میری عظمت و جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں‘ لیکن میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں گا۔ (صحیح مسلم: ۱۰۳۱)

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 467
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12156
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12156]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 466، ومسلم: 2382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11151»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 466
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12157
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ فَقَالَتْ أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ أَجِدْكَ قَالَ ”إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ“
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتو ن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کسی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں کوئی حکم فرمایا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس چلی جانا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12157]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7360، ومسلم: 2386، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16877»
وضاحت: فوائد: … اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مسئول سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7360
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں