الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. الْبَابُ الْخَامِسُ فِي ذِكْرِ بَعْضِ خُطُبِهِ أوَّلُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا فِي الْإِسْلَامِ
فصل سوم: سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے بعض خطبوں کا بیان اسلام میں ان کے پہلے خطاب کا بیان
حدیث نمبر: 12178
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَهْرٍ فَذَكَرَ قِصَّةً فَنُودِيَ فِي النَّاسِ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ وَهِيَ أَوَّلُ صَلَاةٍ فِي الْمُسْلِمِينَ نُودِيَ بِهَا إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ شَيْئًا صُنِعَ لَهُ كَانَ يَخْطُبُ عَلَيْهِ وَهِيَ أَوَّلُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ وَلَوَدِدْتُ أَنَّ هَذَا كَفَانِيهِ غَيْرِي وَلَئِنْ أَخَذْتُمُونِي بِسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أُطِيقُهَا إِنْ كَانَ لَمَعْصُومًا مِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ
قیس بن ابی حازم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک مہینہ بعد خلیفۂ رسول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں انہیں کوئی بات یا د آئی اور انھوں نے لوگوں میں یہ اعلان کرایا کہ اَلصَّلَاۃَ جَامِعَۃٌ،مسلمانوں میں یہ پہلی نماز تھی، جس کے لیے اس الصَّلَاۃَ جَامِعَۃٌ کے الفاظ کے ساتھ اعلان کیا گیا، لوگ اکٹھے ہوئے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف لے آئے، اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور کہا: لوگو! میں چاہتا ہو ں کہ اس بارِ خلافت کو کوئی اور آدمی سنبھال لے اور میں نے ا س سے سبکدوش ہو جاؤں، اگر تم اپنے نبی کی سنت کے مطابق میرا مؤاخذہ کرنے لگو تو میں اس کی تاب نہ لاسکوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو آسمان سے وحی نازل ہوتی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطانی اثر سے معصوم و محفوظ تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12178]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عيسي بن المسيب البجلي مختلف فيه، فقد ضعّفه ابن معين وابوداود والنسائي وابوزرعة وابن حبان والدارقطني، وقال الدارقطني مرة: صالح الحديث انظر: 80 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 80»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 12179
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَطَبَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَا وَضَعَهَا اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ بَيْنَهُمْ فَلَمْ يُنْكِرُوهُ يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ“
قیس بن ابی حازم سے یہ بھی روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: لوگو! تم یہ آیت پڑھتے تو ہو مگر تم اس آیت کو اس کے غیر محل پر چسپاں کر رہے ہو، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمھیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پا چکے۔ میں نے خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لو گ جب کسی برائی کو اپنے درمیا ن دیکھ کر اس پر انکار نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں پر عذاب نازل کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12179]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابوداود: 4338، وابن ماجه: 4005، والترمذي: 2168، 3057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 53 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 53»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کریں اور اپنی طاقت کے مطابق نیکیوں میں مشغول رہیں، جب وہ خود ٹھیک ٹھاک ہو جائیں گے تو برے لوگوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا، خواہ وہ رشتے دار اور قریبی ہوں، خواہ اجنبی اور دور کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عامل ہو جائے، برائیوں سے بچ جائے تو اس پر گنہگار لوگوں کے گناہ کا کوئی بوجھ نہیں ہو گا۔ مقاتل سے مروی ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ ملتا ہے، بروں کو سزا اور اچھوں کو جزا، اس آیت سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اچھی بات کا حکم نہ دیا جائے اور بری باتوں سے منع نہ کیا جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 12180
عَنْ أَوْسَطَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَنَةٍ فَأَلْفَيْتُ أَبَا بَكْرٍ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ سَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ مِثْلَ يَقِينٍ بَعْدَ مُعَافَاةٍ وَلَا أَشَدَّ مِنْ رِيبَةٍ بَعْدَ كُفْرٍ وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَهُمَا فِي النَّارِ“
اوسط بن عمرو سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک سال بعد میں مدینہ منورہ آیا، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزشتہ سال ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، یہ کہہ کر ان کی آواز آنسوؤں کی وجہ سے بند ہو گئی، تین بار ایسے ہی ہوا، بالآخر کہا:لوگو! اللہ سے عافیت کا سوال کرو، عافیت کے بعد ایمان و ایقان جیسی کوئی نعمت نہیں، جو بندے کو دی گئی ہو، اور نہ کفر کے بعد شک و شبہ سے بڑھ کر کوئی سخت گناہ ہے، تم صدق اور سچائی کو لازم پکڑو، یہ انسان کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے، اور صدق اور نیکی کا انجام جنت ہے اور تم جھوٹ سے بچ کر رہو، یہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور جھوٹ اور گناہ کا انجام جہنم ہے۔ُُ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12180]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابن ماجه: 3849، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 44 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 44»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 12181
(عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي هَذَا عَامَ الْأَوَّلِ وَبَكَى أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ سَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ أَوْ قَالَ الْعَافِيَةَ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَزَادَ ”وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ تَعَالَى“
۔ (دوسری سند) اوسط بن عمر و کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا: گزشتہ سال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری اسی جگہ پر کھڑے ہوئے، یہ کہہ کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ رو پڑے، پھر انھوں نے کہا: تم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرو، پھر سابق حدیث کی طرح ذکر کیا اور مزید کہا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، آپس میں بغض نہ رکھو، آپس میں قطع رحمی نہ کرو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی اختیار نہ کرو اور تم بھائی بھائی بن کر رہو، جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12181]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5
29. الْبَابُ السَّادِسُ فِي مَرْضِهِ وَاحْتِصَارِهِ وَوَفَاتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
باب ششم: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
حدیث نمبر: 12182
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا تَمَثَّلَتْ بِهَذَا الْبَيْتِ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْضِي وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ رَبِيعُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاكَ وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فوت ہو رہے تھے تو انہوں نے یہ شعر پڑھا۔ وَاَبْیَضَ یُسْتَسْقٰی الْغَمَامُ بِوَجْھِہٖ
رَبِیْعُ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِلْاَ رَامِلٖ
اور سفید فام، جس کے چہرے کے ذریعے بارش طلب کی جاتی ہے، وہ یتیموں کا مربی اور بیواؤں کا محافظ ہے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: اللہ کی قسم! یہ ہستی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12182]
رَبِیْعُ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِلْاَ رَامِلٖ
اور سفید فام، جس کے چہرے کے ذریعے بارش طلب کی جاتی ہے، وہ یتیموں کا مربی اور بیواؤں کا محافظ ہے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: اللہ کی قسم! یہ ہستی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12182]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، اخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 714، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26»
وضاحت: فوائد: … عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو سنا کہ وہ ابو طالب کے یہ شعر پڑھا کرتے تھے:
وَاَبْیَضَ یُسْتَسْقٰی اَلْغَمَامُ بِوَجْھِہٖ
ثِمَالُ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِلْاَ رَامِلٖ
پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں شاعر کے اس شعر کو ذہن میںلاتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھتا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کے لیے دعا کر رہے ہوتے تھے، پس ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نہ اتر پاتے کہ ہر پرنالہ زور سے بہنا شروع کر دیتا۔ (صحیح بخاری: ۱۰۰۸)
وَاَبْیَضَ یُسْتَسْقٰی اَلْغَمَامُ بِوَجْھِہٖ
ثِمَالُ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِلْاَ رَامِلٖ
پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں شاعر کے اس شعر کو ذہن میںلاتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھتا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کے لیے دعا کر رہے ہوتے تھے، پس ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نہ اتر پاتے کہ ہر پرنالہ زور سے بہنا شروع کر دیتا۔ (صحیح بخاری: ۱۰۰۸)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 12183
عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا يَوْمُ الِاثْنَيْنِ قَالَ فَأَيُّ يَوْمٍ قُبِضَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا قُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ قَالَ فَإِنِّي أَرْجُو مَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ قَالَتْ وَكَانَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ فِيهِ رَدْعٌ مِنْ مِشْقٍ فَقَالَ إِذَا أَنَا مِتُّ فَاغْسِلُوا ثَوْبِي هَذَا وَضُمُّوا إِلَيْهِ ثَوْبَيْنِ جَدِيدَيْنِ فَكَفِّنُونِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ فَقُلْنَا أَفَلَا نَجْعَلُهَا جُدُدًا كُلَّهَا قَالَ فَقَالَ لَا إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ قَالَتْ فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ شدید بیمار ہو گئے تو پوچھا کہ آج کو نسا دن ہے؟ ہم نے کہا: جی آج سوموار ہے، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس دن فوت ہوئے تھے؟ ہم نے کہا: سوموار کے دن، انہوں نے کہا: مجھے لگتا ہے کہ میں آج رات تک فوت ہو جاؤں گا،انہوں نے ایک کپڑا زیب تن کیا ہوا تھا، اس پر گیرو کا نشان لگا ہوا تھا، انھوں نے کہا: جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے اسی کپڑے کو دھولینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملالینا اورمجھے تین کپڑوں میں کفن دے دینا۔ ہم نے کہا: کیا ہم سارے کپڑے نئے نہ بنا دیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ (میت کی) پیپ کے لیے ہیں، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ منگل کی رات کو وفات پا گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12183]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24690»
وضاحت: فوائد: … غور کریں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جن تین کپڑوں میں کفن دیا گیا، ان میں سے ایک کپڑا وہی تھا، جو وہ پہلے سے پہنا کرتے تھے، اس کو دھو کر کفن میں شامل کر دیا گیا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1387
حدیث نمبر: 12184
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لَهَا فِي أَيِّ يَوْمٍ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فِي يَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ إِنِّي لَا أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ قَالَ فَفِيمَ كَفَّنْتُمُوهُ قَالَتْ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ يَمَانِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ انْظُرِي ثَوْبِي هَذَا فِيهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ أَوْ مِشْقٍ فَاغْسِلِيهِ وَاجْعَلِي مَعَهُ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أَبَتِ هُوَ خَلَقٌ قَالَ إِنَّ الْحَيَّ أَحَقُّ بِالْجَدِيدِ وَإِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَعْطَاهُمْ حُلَّةً حِبَرَةً فَأُدْرِجَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَخْرَجُوهُ مِنْهَا فَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ قَالَ فَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ فَقَالَ لَأُكَفِّنَنَّ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَسَّ جِلْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ وَاللَّهِ لَا أُكَفِّنُ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَنَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفَّنَ فِيهِ فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ وَدُفِنَ لَيْلًا وَمَاتَتْ عَائِشَةُ فَدَفَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لَيْلًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال کس روز کو ہواتھا؟ انہوں نے کہا: سوموار کو۔انہوں نے کہا: ماء شا اللہ، مجھے لگتا ہے کہ میں آج رات فوت ہوجاؤں گا، انھوں نے پوچھا: تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس قسم کے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ یمن کی سحول بستی کے بنے ہوئے تین سفید کپڑوں میں، ان میں قمیض تھی نہ پگڑی، انھوں نے کہا: میرے اس کپڑے کو زعفران کا داغ لگا ہوا ہے، اسے دھولینا اور اس کے ساتھ دو اور کپڑے ملا لینا، سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا:ابا جان! یہ تو پرانا ہے، انہو ں نے کہا: زندہ آدمی نئے کپڑے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے، کفن کا کپڑا تو پیپ (گلے سڑے جسم) کے لیے ہوتا ہے، سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک دھاری دار چادر دی تھی، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی لپیٹا گیا تھا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ا س سے باہر نکال کر تین سفید کپڑوں میں کفن دیاگیا، بعد میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وہ چادر خود رکھ لی تھی اور کہا: میں اپنا کفن اس کپڑے سے تیار کراؤں گا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد اطہر کو مس کر چکا ہو، پھر بعدمیں انہوں نے کہا: اللہ کی قسم!میں خود کو ایسے کپڑے میں دفن نہیں کراؤں گا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دفن نہیں ہونے دیا۔ پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ منگل کی رات کو انتقال کر گئے اور انہیں رات ہی کو دفن کر دیا گیا اور جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تھا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی رات کو دفن کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12184]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 94، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25519»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دو سال، تین ماہ، دس دن خلافت کی اورمنگل کی رات کو تریسٹھ برس کی عمر میں اواخر ِ جمادی الاوّلیٰ سنہ ۱۳ ہجری کو راہ گزین عالم جاوداں ہوئے، وصیت کے مطابق رات ہی کو تجہیز و تکفین کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجۂ محترمہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے غسل دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ، سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر اور سیدنا عمر نے قبر میں اتارا اور اس طرح سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رفیق زندگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں مدفون ہو کر دائمی رفاقت کے لیے جنت میں پہنچ گیا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 94
30. أَبْوَابُ مَا جَاءَ فِي خِلَافَةِ ثَانِي الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ¤ الْبَابُ الأَوَّلُ فِي خِلَافَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِعَهْدِ مِنْ أَبِي بكر رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
حدیث نمبر: 12185
عَنْ قَيْسٍ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبِيَدِهِ عَسِيبُ نَخْلٍ وَهُوَ يُجْلِسُ النَّاسَ يَقُولُ اسْمَعُوا لِقَوْلِ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُقَالُ لَهُ شَدِيدٌ بِصَحِيفَةٍ فَقَرَأَهَا عَلَى النَّاسِ فَقَالَ يَقُولُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فَوَاللَّهِ مَا أَلَوْتُكُمْ قَالَ قَيْسٌ فَرَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ
قیس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ تھی، وہ لوگو ں کو بٹھا رہے تھے اور کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ کی بات سنو، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ایک خادم، جس کا نام شدید تھا، وہ ایک تحریر لے کر آیا اور اس نے وہ تحریر لوگوں کے سامنے پڑھی۔ اس نے کہا:سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس تحریر میں جو کچھ ہے، اسے سنو اور تسلیم کرو۔ اللہ کی قسم! میں نے تمہارے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔قیس کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر دیکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12185]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 259»
وضاحت: فوائد: … جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آپ کے حکم سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ امامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں ہی جلیل القدر صحابہ سے مشورہ کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ منتخب کر دیا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
31. الْبَابُ الثَّانِي فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفِيهِ فَصُولٌ
باب دوم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں
حدیث نمبر: 12186
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَوْ كَانَ مِنْ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ“
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے: اگر میرے بعد کوئی نبی آنا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12186]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الترمذي: 3686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17405 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17540»
وضاحت: فوائد: … اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صلاحیت، لیاقت، قابلیت، اہلیت، حق گوئی اور حق کے قریب ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
32. الْفَضْلُ الأَوَّلُ فِي بَعْضِ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِهِ وَاقْتِدَائِهِ بِسَلَفِه
فصل: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
حدیث نمبر: 12187
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَى اللَّهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے جو آدمی تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ کو ان میں زیادہ محبوب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12187]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه الترمذي: 3681، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5696»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے اس دعائے نبوی کی قدر کی اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعے اسلام کو اقتدار عطا کیا۔ یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عظمت اور حق گوئی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ان کو غلبۂ اسلام کے لیے مانگا گیا تھا۔
الحكم على الحديث:
صحيح