🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. الْفَضْلُ الأَوَّلُ فِي ذِكْرِ شَيْءٍ مِنْ فَتَاوَاهُ وَقَضَايَاهُ
فصل اول: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12218
عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ حَدَّثَنِي فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَقَالَ فَعَدَّ سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ إِذْ دَخَلَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَدِ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَقَالَ عُمَرُ مَهْ يَا عَبَّاسُ قَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ تَقُولُ ابْنُ أَخِي وَلِي شَطْرُ الْمَالِ وَقَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ يَا عَلِيُّ تَقُولُ ابْنَتُهُ تَحْتِي وَلَهَا شَطْرُ الْمَالِ وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ رَأَيْنَا كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ فَوَلِيَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ بَعْدِهِ فَعَمِلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَلِيتُهُ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَحْلِفُ بِاللَّهِ لَأَجْهَدَنَّ أَنْ أَعْمَلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ وَعَمَلِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَلَفَ بِأَنَّهُ لَصَادِقٌ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ وَإِنَّمَا مِيرَاثُهُ فِي فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمَسَاكِينِ“ وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَلَفَ بِاللَّهِ إِنَّهُ صَادِقٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ النَّبِيَّ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَؤُمَّهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ“ وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ رَأَيْنَا كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ فَإِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا لِتَعْمَلَا فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَمَلِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا قَالَ فَخَلَوَا ثُمَّ جَاءَا فَقَالَ الْعَبَّاسُ ادْفَعْهُ إِلَى عَلِيٍّ فَإِنِّي قَدْ طِبْتُ نَفْسًا بِهِ لَهُ
عاصم بن کلیب سے مروی ہے کہ قریش کے بنو تمیم کے ایک بزرگ نے ان کو بیان کیا اس نے چھ سات قریشی بزرگوں کا نام لے کر کہا کہ اس کو ان حضرات نے بیان کیا، ان میں سے ایک نام سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بھی تھا، انہوں نے کہا: ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے، ان کے جھگڑنے کی وجہ سے ان کی آوازیں بہت بلند ہورہی تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عباس! ذرا رکو تو سہی، تم جو کچھ کہنا چاہتے ہو میں اسے جانتا ہوں، تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے بھتیجے تھے، اس لیے مجھے آدھا مال ملنا چاہیے، اور علی! تم بھی جو کچھ کہنا چاہتے ہو، میں اس کو بھی جانتا ہوں، تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ آپ کی بیٹی تمہاری زوجیت میں ہے اور وہ نصف مال کی حقدار ہے۔ سنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں جو کچھ تھا، وہ تو وہی ہے جو ہم سب دیکھ چکے ہیں،ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں کیسے تصرف کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ بنے، انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح تصرف کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد میں ان کا نگران مقرر ہوا ہوں، میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکا میں اسی طرح عمل کروں گا۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھا کر کہا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سچ بولنے والے تھے، ان سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی نبی کاوارث نہیں ہوتا، ان کی میراث تو تنگ دست و نادار مسلمانوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ او ر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ بھی بیان کیا، جبکہ اللہ کی قسم ہے کہ وہ سچ بولنے والے تھے، یہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا، جب تک وہ اپنی امت میں سے کسی کی اقتدا میں نماز ادا نہ کر لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، ہم سب دیکھ چکے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں کیسے تصرف کیا کرتے تھے، اب اگرتم دونوں چاہو تو میں یہ مال تمہیں دے دیتا ہوں تاکہ تم بھی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح تصرف کرتے رہو، پس وہ دونوں علیحدہ ہو گئے اور پھر آئے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: جی آپ یہ مال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں، میں اس بارے میں علی رضی اللہ عنہ کے حق میں دلی طور پر راضی ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12218]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: ان النبي صلي الله عليه وآله وسلم لايموت حتي يؤمنه بعض امته وھذا اسناد ضعيف لجھالة الشيخ من قريش، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 78 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 78»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: ان النبي صلي الله عليه وآله وسلم لايموت حتي يؤمنه بعض امته وھذا اسناد ضعيف لجھالة الشيخ من قريش
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. الْفَضْلُ الثَّانِي وَمِمَّا حَصَلَ فِي خِلَافَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَعَهُ الیرموكِ سَنَةَ ١٥
فصلِ دوم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12219
عَنْ سِمَاكٍ قَالَ سَمِعْتُ عِيَاضًا الْأَشْعَرِيَّ قَالَ شَهِدْتُ الْيَرْمُوكَ وَعَلَيْنَا خَمْسَةُ أُمَرَاءَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَابْنُ حَسَنَةَ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعِيَاضٌ وَلَيْسَ عِيَاضٌ هَذَا بِالَّذِي حَدَّثَ سِمَاكًا قَالَ وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا كَانَ قِتَالٌ فَعَلَيْكُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ قَالَ فَكَتَبْنَا إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ جَاشَ إِلَيْنَا الْمَوْتُ وَاسْتَمْدَدْنَاهُ فَكَتَبَ إِلَيْنَا إِنَّهُ قَدْ جَاءَنِي كِتَابُكُمْ تَسْتَمِدُّونِي وَإِنِّي أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَعَزُّ نَصْرًا وَأَحْضَرُ جُنْدًا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْتَنْصِرُوهُ فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نُصِرَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي أَقَلَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ فَإِذَا أَتَاكُمْ كِتَابِي هَذَا فَقَاتِلُوهُمْ وَلَا تُرَاجِعُونِي قَالَ فَقَاتَلْنَاهُمْ فَهَزَمْنَاهُمْ وَقَتَلْنَاهُمْ أَرْبَعَةَ فَرَاسِخَ قَالَ وَأَصَبْنَا أَمْوَالًا فَتَشَاوَرُوا فَأَشَارَ عَلَيْنَا عِيَاضٌ أَنْ نُعْطِيَ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ عَشْرَةً قَالَ وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَنْ يُرَاهِنِّي فَقَالَ شَابٌّ أَنَا إِنْ لَمْ تَغْضَبْ قَالَ فَسَبَقَهُ فَرَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرَبِيٍّ
عیاض اشعر ی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں یرموک کے معرکہ میں شامل تھا، پانچ افراد ہمارے اوپر امیر مقرر تھے، سیدنا ابو عبیدہ بن جراح، سیدنا یزید بن ابی سفیان، سیدنا ابن حسنہ، سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عیاض اس جگہ عیاض سے مراد وہ عیاض نہیں جس سے سماک حدیث بیان کرتے ہیں بلکہ یہ کوئی اور شخص ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ ہدایت دی تھی کہ جب لڑائی شروع ہو تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تمہارے امیر ہوں گے، ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ موت ہمیں نگلنے کے لیے تیارہے، پھر ہم نے ان سے مزید کمک کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے جواباً لکھا کہ مجھے تمہاراخط ملا ہے، تم لوگوں نے مجھ سے مزید کمک طلب کی ہے، میں بہت بڑی طاقت اور تعداد کی طرف تمہاری رہنمائی کرتاہوں، تم اللہ تعالیٰ سے نصرت مانگو، بدر کے دن تمہاری بہ نسبت تعداد بہت کم تھی، لیکن پھر بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی گئی تھی، میرا یہ خط جب تمہارے پاس پہنچے تو تم دشمن سے لڑائی شروع کر دینا اور مجھ سے مدد طلب نہ کرنا۔ عیاض کہتے ہیں: جب ہماری دشمن سے لڑائی ہوئی تو ہم نے ان کو شکست دے دی اور ہم نے بارہ میل تک انہیں قتل کیا اور ہمیں بہت سارامالِ غنیمت حاصل ہوا، جب لوگوں نے آپس میں مشاورت کی تو عیاض نے ہمیں مشورہ دیاکہ ہم ہر سر کی طرف سے دس دیں۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے کون ہے جو گھڑ دوڑ میں مجھ سے بازی لگائے گا؟ ایک نوجوان نے کہا: اگرآپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں، چنانچہ وہ آگے آیا، میں نے سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی دونوں لٹوں کودیکھا کہ وہ ہوا میں لہرا رہی تھیں، وہ نوجوان ان کے پیچھے اور ایک عربی گھوڑے پر سوار تھا یعنی وہ نوجوان ابو عبیدہ کے مقابلہ میں پیچھے رہ گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12219]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 34، وابن حبان: 4766، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 344»
وضاحت: فوائد: … دمشق، حمص اور لاذقیہ کی پیہم اور متواتر ہزیمتوں نے قیصر کو سخت برہم کر دیا اور وہ نہایت جوش و خروش کے ساتھ مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے اپنے شہنشاہی کا پورا زور صرف کرنے پر آمادہ ہو گیا اور انطاکیہ میں فوجوں کا ایک طوفان امنڈ آیا، سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس طوفان کو روکنے کے لیے افسروں کے مشورہ سے تمام ممالک مفتوحہ کو خالی کر کے دمشق میں اپنی قوت مجتمع کی۔
اُدھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو آپؓ نے سعید بن عامر کو ایک ہزار کی جمعیت کے ساتھ مدد کے لیے روانہ کیا اور قاصد کو یہ پیغام دے کر روانہ کیا: اے برادران اسلام! عمر نے بعد سلام کے تم کو یہ پیغام دیا ہے کہ پوری سرگرمی کے ساتھ جنگ کرو اور دشمنوں پر شیروں کی طرح اس طرح حملہ آور ہو کہ وہ تم کو چیونٹیوں سے زیادہ حقیر معلوم ہوں، ہم کو یقین کامل ہے کہ اللہ کی نصرت تمہارے ساتھ ہے اور آخر فتح تمہارے ہاتھ پر ہے۔
اردن کی حدود میں یرموک کا میدان ضروریات جنگ کے لحاظ سے نہایت باموقع تھا، اس لیے اس اہم معرکہ کے لیے اسی میدان کو منتخب کیا گیا، رومیوں کی تعداد دو لاکھ تھی، ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد صرف تیس بتیس ہزار تھی، لیکن سب کے سب یگانہ روزگار تھے، اس فوج کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ تقریباً ایک ہزار ایسے بزرگ تھے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جمال مبارک دیکھا تھا، سو وہ تھے، جو غزوۂ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہ چکے تھے، عام مجاہدین بھی ایسے قبائل سے تعلق رکھتے تھے، جو اپنی شجاعت اور سپہ گری میں نظیر نہیں رکھتے تھے۔
یرموک کا پہلا معرکہ بے نتیجہ رہا، ۵ رجب سنہ ۱۵ ہجری کو دوسرا معرکہ پیش آیا، رومیوں کے جوش کا عالم یہ تھا کہ تیس ہزار آدمیوں نے پاؤں میں بیڑیاں پہن لی تھیں کہ بھاگنے کا خیال تک نہ آئے، ہزاروں پادری اور بشپ ہاتھوں میں صلیب لیے آگے آگے تھے اور عیسی علیہ السلام کا نام لے کر جوش دلاتے تھے، اس جوش و اہتمام کے ساتھ رومیوں نے حملہ کیا، فریقین میں بڑی خونریز جنگ ہوئی، لیکن انجام یہ ہوا کہ مسلمانوں کی ثابت قدمی اور پامردی کے آگے ان کے پاؤں اکھڑ گئے، تقریباً ایک لاکھ عیسائی قتل ہوئے اور تین ہزار مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا، جب قیصر کو اس ہزیمت کی خبر ملی تو حسرت و افسوس کے ساتھ شام کو الوداع کہہ کر قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مژدۂ فتح سنا تو اسی وقت سجدہ میں گر کر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. فَصْلٌ: فَتْحُ كُنُوزِ كِسْرَى
فصل: کسریٰ کے خزانوں کی فتح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12220
عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَيَفْتَحَنَّ رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كُنُوزَ كِسْرَى الَّتِي“ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ ”الَّذِي بِالْأَبْيَضِ“ قَالَ جَابِرٌ فَكُنْتُ فِيهِمْ فَأَصَابَنِي أَلْفُ دِرْهَمٍ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی ایک جماعت کسریٰ کے خزانوں کو ضرورضرور فتح کرے گی۔ ابو نعیم راوی نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: وہ خزانے جو اس کے سفید محلات میں ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی ان خزانوں کو فتح کرنے والوں میں شامل تھا اور ایک ہزار درہم میرے حصہ میں آئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12220]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2919، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21307»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ پیشین گوئی بھی پوری ہو گئی اور مسلمان ایران کے خزانوں پر قابض ہو گئے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2919
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. الفَصْلُ الثَّالِثُ فَتْحُ بَيْتِ الْمُقَدَّسِ وَخُطْبَتِهِ الْمَشْهُورَةِ بِالْجَابِيَّةِ وَعَرْلِهِ خَالِدِ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْإِمَارَةِ سَنَةَ ١٦
فصل سوم: بیت المقدس کی فتح، جابیہ مقام پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مشہور خطاب¤اور۱۶ھ میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12221
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ ”اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَبْتَدِئُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بَحْبَحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ لَا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطاب کیا اور اس میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے تھے، جیسے میں تمہارے درمیان کھڑ اہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اپنے صحابہ سے اچھا سلوک کرنے کی تاکید کرتا ہوں، اور ان کے بعد آنے والے لوگوں اور پھر اُن لوگوں کے بعد آنے والوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کی تمہیں وصیت کرتا ہوں، ان زمانوں کے بعد جھوٹ عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ آدمی گواہی کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے گواہی دینا شروع کر دے گا، پس تم میں سے جو آدمی جنت کے وسط میں مقام بنانا چاہے، وہ جماعت کے ساتھ مل کر رہے، کیونکہ اکیلے آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور اگر دو آدمی اکٹھے ہوں تو وہ ان سے زیادہ دور رہتا ہے اور تم میں سے کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ علیحدہ نہ ہو، کیونکہ ان میں تیسرا شیطان ہو گا، نیز جب کسی آدمی کو اس کی نیکی اچھی لگے اور برائی بری لگے تو وہ مؤمن ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12221]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 114»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ میں پانچ اہم مسائل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے:
۱۔ صحابہ کرام، تابعینِ عظام اور تبع تابعین کے ساتھ حسن سلوک والا معاملہ کرنا، قرونِ اولی کی ان ہستیوں نے اسلام کو سہارا دیا، بعد میں آنے والا کبھی بھی ان کے احسانات کو فراموش نہیں کر سکتا، لیکن تعجب اس بات پر ہے عصرِ حاضر میں بعض تنظیمیں صحابہ کرام کی حسنات کو نظر انداز کر کے ان کے بشری تقاضوں کو ہوا دے کر ان پر طعن و تشنیع اور سب و شتم کرتے ہیں۔ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ان لوگوں کی غرض و غایت کیا ہے؟ اوریہ کیا چاہتے ہیں؟ ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ صحابہ کرام معصوم تھے،لیکن اتنا ضرور کہتے ہیں کہ ان کا قول و کردار اعلی تھا، وہ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست و بازو بنے اور اسلام کو دنیا کے اطراف و اکناف میں پھیلانے کا سبب بنے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم ان کے مثبت پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اپنے آپ کو ان کا ممنون سمجھیں۔
۲۔ قسم اٹھانے اور گواہی دینے کا مطلب جھوٹ کا عام ہونا ہے، وگرنہ سچے گواہوںکی نفی نہیں کی جا رہی۔ آج کل بھی کچہریوں اور عدالتوں میں ایجینٹوں کی طرح کچھ لوگ تین چار سو روپیہ مروڑ کر جھوٹی گواہی دینے کے لیے گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ برائیوں کی طرف اور برائیاں جہنم کی طرف لے کر جاتی ہیں اور بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے، حتی کہ اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب اور جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (بخاری، مسلم)
۳۔ جماعت کو لازم پکڑنا کیونکہ اکیلے آدمی کو شیطان آسانی سے گمراہ کر سکتا ہے۔
۴۔ کوئی مرد کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کرسکتا۔ آجکل بے پردگی اور غیر محرم مردو زن کا میل ملاپ عام ہے، کوئی اسے محبت کااور کوئی رشتہ داری کا تقاضا سمجھتا ہے۔ بہرحال شریعت کا مزاج ان امور کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیتا۔
۵۔ نیکی سے مزاج میں خوشی کی لہر دوڑنا اور برائی سے تنگی محسوس کرنا ایمان و ایقان کی بہت بڑی علامت ہے، جس آدمی کو نیکی کر کے خوشی ہو تی ہو نہ برائی کر کے غمی، تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا ایمان زنگ آلود ہو چکا ہے، وہ استغفار کرے اور اپنے ایمان کی تجدید کرے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12222
عَنْ نَاشِرَةَ بْنِ سُمَيٍّ الْيَزَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقُولُ فِي يَوْمِ الْجَابِيَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَنِي خَازِنًا لِهَذَا الْمَالِ وَقَاسِمَهُ لَهُ ثُمَّ قَالَ بَلِ اللَّهُ يَقْسِمُهُ وَأَنَا بَادِئٌ بِأَهْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ فَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ آلَافٍ إِلَّا جُوَيْرِيَةَ وَصَفِيَّةَ وَمَيْمُونَةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْدِلُ بَيْنَنَا فَعَدَلَ بَيْنَهُنَّ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ إِنِّي بَادِئٌ بِأَصْحَابِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَإِنَّا أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا ظُلْمًا وَعُدْوَانًا ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ فَفَرَضَ لِأَصْحَابِ بَدْرٍ مِنْهُمْ خَمْسَةَ آلَافٍ وَلِمَنْ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةَ آلَافٍ وَلِمَنْ شَهِدَ أُحُدًا ثَلَاثَةَ آلَافٍ قَالَ وَمَنْ أَسْرَعَ فِي الْهِجْرَةِ أَسْرَعَ بِهِ الْعَطَاءُ وَمَنْ أَبْطَأَ فِي الْهِجْرَةِ أَبْطَأَ بِهِ الْعَطَاءُ فَلَا يَلُومَنَّ رَجُلٌ إِلَّا مُنَاخَ رَاحِلَتِهِ وَإِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِنِّي أَمَرْتُهُ أَنْ يَحْبِسَ هَذَا الْمَالَ عَلَى ضَعَفَةِ الْمُهَاجِرِينَ فَأَعْطَى ذَا الْبَأْسِ وَذَا الشَّرَفِ وَذَا اللَّسَانَةِ فَنَزَعْتُهُ وَأَمَّرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَالَ أَبُو عَمْرٍو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَاللَّهِ مَا أَعْذَرْتَ يَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَقَدْ نَزَعْتَ عَامِلًا اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَغَمَدْتَ سَيْفًا سَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوَضَعْتَ لِوَاءً نَصَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ قَطَعْتَ الرَّحِمَ وَحَسَدْتَ ابْنَ الْعَمِّ فَقَالَ عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ إِنَّكَ قَرِيبُ الْقَرَابَةِ حَدِيثُ السِّنِّ مُغْضَبٌ مِنْ ابْنِ عَمِّكَ
ناشرہ بن سمی یزنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جابیہ کے مقام پر سنا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مال کا خازن او رتقسیم کنند ہ بنایا ہے۔ پھر کہا: دراصل اللہ تعالیٰ ہی تقسیم کرنے والا ہے، اب میں تقسیم کرتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ سے ابتداء کرتا ہوں، پھر ان کے بعد جو افضل ہو گا، اسے دوں گا، چنانچہ انہوں نے امہات المومنین میں سیدہ جو یریہ، سیدہ صفیہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہن کے سوا باقی تمام ازواج مطہرات کے لیے دس دس ہزار مقرر کیے، لیکن جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ہمارے درمیان عدل اور برابری فرمایا کرتے تھے، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سب کو برابر برابر حصہ دیا ہے اورپھر کہا: اب میں سب سے پہلے ان حضرات کو دیتا ہوں جو اولین مہاجرین میں سے ہیں، کیونکہ ان لوگوں پر ظلم اورزیادتی کرتے ہوئے ان کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا تھا، ان کے بعد جو لوگ فضل و شرف والے ہوں گے، ان کو دوں گا، پس انہوں نے اصحاب بدر کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے اور انصاری بدری صحابہ کے لیے چار چار ہزار اور شرکائے احد کے لیے تین تین ہزار مقرر کیے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا: جس نے ہجرت کرنے میں جلدی کی، اس کو زیادہ دیا جائے گا اور جس نے ہجرت کرنے میں دیر کی، میں بھی اس کو کم حصہ دوں گا، ہر آدمی اپنے اونٹ کے بٹھانے کی جگہ کو ملامت کرے (یعنی اگر کسی کو حصہ کم دیا جا رہا ہے تو وہ اس کی اپنی تاخیر کی وجہ سے ہے، وہ ہم پر طعن نہ کرے) اورمیں تمہارے سامنے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں معذرت پیش کرتا ہوں،ـ میں نے انہیں حکم دیا تھا کہ یہ مال کمزور مہاجرین میں تقسیم کریں، لیکن انہوں نے یہ مال تندرست، اصحاب مرتبہ اور چالاک لوگوں میں تقسیم کر دیا، اس لیے میں یہ ذمہ داری ان سے لے کر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو سونپتا ہوں،یہ سن کر ابو عمر بن حفص بن مغیرہ نے کہا: اللہ کی قسم! اے عمر بن خطاب! آپ کا عذر معقول نہیں، آپ نے اس عامل کو معزدل کیا ہے جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقرر فرمایا تھا، آپ نے اس تلوار کو نیام میں بند کیا ہے، جسے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لہرایا تھا اور آپ نے اس جھنڈے کو لپیٹ دیا ہے، جس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصب کیا تھا اور آپ نے یہ کام کر کے اپنے چچا زاد سے قطع رحمی کی ار اس سے حسد کا ثبوت دیا ہے۔ یہ باتیں سن کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اپنے اس چچازاد کے قریبی رشتہ دار ہو اور نو عمر ہو، سو تم اس کے حق میں طرف داری کر رہے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12222]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، اخرجه مختصرا النسائي في الكبري: 8283، والطبراني في الكبير: 22/ 761، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16000»
وضاحت: فوائد: … سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنی جانبازی اور شجاعت کے لحاظ سے تاج اسلام کے گوہر شاہوار اور اپنے زمانہ کے نہایت ذی عزت اور صاحب اثر بزرگ تھے۔
عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں: اِسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا عُبَیْدَۃَ بَنَ الْجَرَّاحِ عَلَی الشَّامِ وَعَزَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیْدِ، قَالَ: فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ: بُعِثَ عَلَیْکُمْ أَمِیْنُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((أَمِیْنُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ أَبُوْ عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاح۔)) فَقَالَ أَبُوْ عُبَیْدَۃَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((خَالِدٌ سَیْفٌ مِنْ سُیُوْفِ اللّٰہِ۔ عَزَّوَجَلَّ۔ نِعْمَ فَتَی الْعَشِیْرَۃِ۔)) … سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر بنا کر بھیجا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا۔ سیدنا خالد نے کہا: اس امت کے امین کو تمھارا امیر بنا کر بھیجا گیا ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔ سیدنا ابوعبیدہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: خالد، اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے اور وہ اپنے قبیلے کا بہترین نوجوان ہے۔ (مسند حمد: ۴/۹۰)
سبحان اللہ! صحابہ کرام آپس میں شیر و شکر تھے، وہ ایک دوسرے کے بارے میں صاف دل تھے۔ دیکھئے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بعض وجوہات کی بنا پر عظیم فاتح اور سپہ سالارسیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کیا توانھوں نے خلیفۂ وقت کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے اپنے عہدے پر فائز ہونے والے کا کس والہانہ انداز میں استقبال کیا اور پھر انھوں نے سیدنا خالد کی عظمتوں کو کس انداز میں بیان کیا۔ یہ حقیقی محبتوں کے نتائج ہیں۔
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ شہرۂ آفاق اور انتہائی معروف سپہ سالار ِ اسلام ہیں، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ بالعموم فتوحات کے سب سے زیادہ شہرت یافتہ سپہ سالار ہیں، ان کی یہ شہرت اور ناموری ان کے کارہائے نمایاں کا نتیجہ ہے جو انھوں نے اپنی فطری اور نہایت ممتاز خصوصیات کی بدولت انجام دیے۔ وہ بلاکے ذہین، ہوشیار اور زود فہم تھے۔ چھوٹے بڑے کل تیس معرکوں میں شریک ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں انھوں نے جنگوں میں ایسی بیدار مغزی، باتدبیری، منصوبہ سازی، بے باکی، دلیری اور بہادری سے کام لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اللہ کی تلوار کا لقب دے دیا۔
اَلْفَصْلُ الرَّابِعُ وَمِنْ ذٰلِکَ طَاعُوْنُ عَمْوَاسَ بِالشَّامِ سَنَۃَ ثَمَانَ عَشَرَۃَ
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب شام کے لیے روانہ ہوئے، جب ’ ’ سرغ مقام تک پہنچے تو ان کو اطلا ع ملی کہ شام میں (طاعون کی) وبا پھیل چکی ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ کسی علاقہ میں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب تم کسی علاقے میں موجود ہو اور وہاں یہ وبا پھیل جائے تو اس سے ڈر کر وہاں سے نہ نکلو۔ یہ حدیث سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور سرغ مقام سے واپس لوٹ گئے۔

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. الْفَضْلُ الرَّابِعُ وَمِنْ ذَلِكَ طَاعُونُ عَمْوَاسَ بِالشَّامِ سَنَةٌ ثَمَانَ عَشَرَةَ
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12223
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ“ فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ (وَفِي لَفْظٍ) فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ ثُمَّ انْصَرَفَ
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب شام کے لیے روانہ ہوئے، جب ’ ’ سرغ مقام تک پہنچے تو ان کو اطلا ع ملی کہ شام میں (طاعون کی) وبا پھیل چکی ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ کسی علاقہ میں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب تم کسی علاقے میں موجود ہو اور وہاں یہ وبا پھیل جائے تو اس سے ڈر کر وہاں سے نہ نکلو۔ یہ حدیث سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور سرغ مقام سے واپس لوٹ گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12223]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5730، ومسلم: 2219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1682 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1682»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 5730
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. الْفَضْلُ الْخَامِسُ وَمِنْ ذَلِكَ إِخْرَاجُهُ يَهُودَ مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ سَنَةَ ۱۹
فصل پنجم: ۱۹ھ میں سیدناعمر رضی اللہ عنہ کا سرز مین خیبر سے یہودیوں کو جلا وطن کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12224
عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ إِلَى أَمْوَالِنَا بِخَيْبَرَ نَتَعَاهَدُهَا فَلَمَّا قَدِمْنَاهَا تَفَرَّقْنَا فِي أَمْوَالِنَا قَالَ فَعُدِيَ عَلَيَّ تَحْتَ اللَّيْلِ وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى فِرَاشِي فَفُدِعَتْ يَدَايَ مِنْ مِرْفَقِي فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اسْتُصْرِخَ عَلَيَّ صَاحِبَايَ فَأَتَيَانِي فَسَأَلَانِي عَمَّنْ صَنَعَ هَذَا بِكَ قُلْتُ لَا أَدْرِي قَالَ فَأَصْلَحَا مِنْ يَدَيَّ ثُمَّ قَدِمُوا بِي عَلَى عُمَرَ فَقَالَ هَذَا عَمَلُ يَهُودَ ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّا نُخْرِجُهُمْ إِذَا شِئْنَا وَقَدْ عَدَوْا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَفَدَعُوا يَدَيْهِ كَمَا بَلَغَكُمْ مَعَ عَدْوَتِهِمْ عَلَى الْأَنْصَارِ قَبْلَهُ لَا نَشُكُّ أَنَّهُمْ أَصْحَابُهُمْ لَيْسَ لَنَا هُنَاكَ عَدُوٌّ غَيْرُهُمْ فَمَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ بِخَيْبَرَ فَلْيَلْحَقْ بِهِ فَإِنِّي مُخْرِجٌ يَهُودَ فَأَخْرَجَهُمْ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ خیبر میں اپنے اموال کی دیکھ بھال کے لیے گئے، وہاں پہنچ کر ہم میں ہر کوئی اپنے اپنے مال میں چلا گیا، میں اپنے بستر پر رات کو سویا ہوا تھا کہ مجھ پر حملہ کر دیا گیا اور کہنیوں سے میرے دونوں بازؤں کو اس طرح کھینچا گیا کہ جوڑوں میں کجی پیدا ہو گئی، جب صبح ہوئی تو میرے دونوں ساتھیوں کو میرے پاس میری مدد کے لیے بلایا گیا،جب وہ میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھ سے کہا:تمہارے ساتھ یہ کاروائی کس نے کی ہے؟ میں نے کہا: مجھے تو کوئی پتہ نہیں ہے کہ وہ کون تھے، انہوں نے میرے ہاتھوں کا علاج کیا اور مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ یہودیوں کی کارستانی ہے، پھر وہ خطاب کرنے کے لیے لوگوں میں کھڑے ہوئے اور کہا، لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے معاہدہ کیا تھا کہ جب ہم چاہیں گے، انہیں یہاں سے نکال سکیں گے۔ ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے زیادتی کی ہے اور ان کے ہاتھ کھینچ ڈالے ہیں، جیسا کہ تم کو پتہ چل چکا ہے اور اس سے پہلے یہ انصاریوں سے دشمنی کا اظہار کر چکے ہیں، اب ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ یہ زیادتیاں انھوں نے ہی کی ہیں، کیونکہ یہاں ہمارا کوئی اور دشمن ہی نہیں ہے، لہذا خیبر میں جس جس آدمی کا مال ہے، وہ جاکر اسے سنبھال لے، میں یہودیوں کو خیبر سے نکالنے ہی والا ہوں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو وہاں سے جلا وطن کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12224]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه مختصرا البخاري: 2730، وابوداود: 3007، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 90 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 90»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. الْبَابُ الرَّابِعُ فِي ذِكْرِ بَعْضِ خُطْبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خطْبَتُهُ فِي الْعَدْلِ بَيْنَ الْرَعِيَّةِ
باب چہارم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعض خطبات رعایا کے مابین عدل کے بارے میں ان کا خطبہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12225
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي فِرَاسٍ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّا إِنَّمَا كُنَّا نَعْرِفُكُمْ إِذْ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِذْ يَنْزِلُ الْوَحْيُ وَإِذْ يُنْبِئُنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ أَلَا وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْطَلَقَ وَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَإِنَّمَا نَعْرِفُكُمْ بِمَا نَقُولُ لَكُمْ مَنْ أَظْهَرَ مِنْكُمْ خَيْرًا ظَنَنَّا بِهِ خَيْرًا وَأَحْبَبْنَاهُ عَلَيْهِ وَمَنْ أَظْهَرَ مِنْكُمْ لَنَا شَرًّا ظَنَنَّا بِهِ شَرًّا وَأَبْغَضْنَاهُ عَلَيْهِ سَرَائِرُكُمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ أَلَا إِنَّهُ قَدْ أَتَى عَلَيَّ حِينٌ وَأَنَا أَحْسِبُ أَنَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يُرِيدُ اللَّهَ وَمَا عِنْدَهُ فَقَدْ خُيِّلَ إِلَيَّ بِآخِرَةٍ أَلَا إِنَّ رِجَالًا قَدْ قَرَأُوهُ يُرِيدُونَ بِهِ مَا عِنْدَ النَّاسِ فَأَرِيدُوا اللَّهَ بِقِرَاءَتِكُمْ وَأَرِيدُوهُ بِأَعْمَالِكُمْ أَلَا إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُرْسِلُ عُمَّالِي إِلَيْكُمْ لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ وَلَكِنْ أُرْسِلُهُمْ إِلَيْكُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَّتَكُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِهِ شَيْءٌ سِوَى ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِذَنْ لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوَ رَأَيْتَ إِنْ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى رَعِيَّةٍ فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَئِنَّكَ لَمُقْتَصُّهُ مِنْهُ قَالَ إِي وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ إِذَنْ لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ وَلَا تُجَمِّرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ وَلَا تَمْنَعُوهُمْ حُقُوقَهُمْ فَتُكَفِّرُوهُمْ وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ
ابو فراس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: لوگو! جب ہمارے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوا کر تی تھی اور اللہ تعالیٰ تمہاری کاروائیوں سے ہمیں باخبر کر دیا کرتے تھے، ہم تم سب کو اچھی طرح پہچان لیتے تھے، اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا چکے ہیں اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے، اب ہم تمہیں جو کچھ کہیں گے، اسی کی روشنی میں تمہیں پہچاننے کی کوشش کریں گے، تم میں سے جو آدمی اچھائی کا اظہار کرے گا، ہم بھی اس کے متعلق اچھا گمان رکھیں گے اور اسی کے مطابق اس کے ساتھ رویہ اختیار کریں گے اور تم میں سے جس نے ہمارے ساتھ برائی کا اظہار کیا، ہم بھی اس کے متعلق برا گمان رکھیں گے اور اسی کے مطابق اس سے بغض رکھیں گے، تمہارے راز اور اندر کی باتیں تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہیں۔ خبردار! مجھ پر ایک ایسا وقت بھی گزر چکا ہے کہ میں جسے قرآن پڑھتا دیکھتا تھا، اس کے بارے میں یہی سمجھتا تھا کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، اس کو حاصل کرنے کے لیے پڑھ رہا ہے، اس کے بارے میں میں آخر تک یہی سمجھتا رہا، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے اس کا معاوضہ اور مال چاہتے ہیں، میں تم کو یہی کہوں گا کہ تم اپنی قراء ت اور اعمال کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ارادہ کرو۔ خبردار! اللہ کی قسم! میں اپنے عمال اور مسئولین کو تمہاری طرف اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہیں سزائیں دیں اور نہ میں انہیں اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تمہارے اموال ہتھیا لیں، میرا ان کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ تمہیں تمہارا دین اور سنت سکھائیں، اگر میرا کوئی عامل اس کے الٹ کاروائی کرے تو اس کے بارے میں مجھے خبر دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے اس کی کاروائی کا بدلہ دلواؤں گا۔ یہ سن کر سیدنا عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ اٹھے اور انھوں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا خیال ہے اگر ایک مسلمان آدمی کچھ لوگوں پر حاکم ہو اور وہ اپنی رعایا کے بعض افراد کو ادب سکھانے کے لیے سزا وغیرہ دیتا ہو تو کیا آپ اس سے بدلہ لیں گے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! میں تب بھی ضرور ضرور اس سے بدلہ لوں گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدلے کے لیے خود کو پیش کر دیا تھا۔ خبردار! تم مسلمانوں کو سزائیں دے دے کر ان کو ذلیل ورسوانہ کرو اور تم انہیں زیادہ عرصے تک سرحدوں پر روک کر نہ رکھو، اس طرح تم انہیں فتنوں میں مبتلا کر دو گے اور تم انہیں ان کے حق سے محروم نہ کرو، وگرنہ تم انہیں ناشکرے بندے بنا دو گے اور تم لشکروں کو درختوں کے جھنڈوں میں نہ اتارا کرو (کیونکہ اس طرح سے وہ بکھر جائیں گے) اور ضائع ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12225]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابي فراس النھدي، لم يرو عنه غير ابي نضرة ولم يوثقه غير ابن حبان، وقال ابو زرعة: لا اعرفه، اخرجه ابوداود: 4537، والنسائي: 8/ 34، وأخرجه البخاري مختصرا بنحوه: 2641، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 286»

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابي فراس النھدي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12226
وَعَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ أَلَا لَا تُغْلُوا صَدُقَ النِّسَاءِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ وَذَكَرَ أَيُّوبُ وَهِشَامٌ وَابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ عَنْ عُمَرَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ إِلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا لَمْ يَقُلْ مُحَمَّدٌ نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ
ابو العجفاء سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ خبردار! تم عورتوں کے مہر میں غلوّ میں نہ پڑو، پھر باقی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12226]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه النسائي: 6/117، وابن ماجه: 1887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 287»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. خطبته رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رُؤْيَا رَآهَا وَفَسَّرَهَا بِقُرْبِ أَجَلِهِ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12227
عَنْ مَعْبَدِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رُؤْيَا لَا أَرَاهَا إِلَّا لِحُضُورِ أَجَلِي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي نَقْرَتَيْنِ قَالَ وَذَكَرَ لِي أَنَّهُ دِيكٌ أَحْمَرُ فَقَصَصْتُهَا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ امْرَأَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ يَقْتُلُكَ رَجُلٌ مِنَ الْعَجَمِ قَالَ وَإِنَّ النَّاسَ يَأْمُرُونَنِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ وَخِلَافَتَهُ الَّتِي بَعَثَ بِهَا نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ يَعْجَلْ بِي أَمْرٌ فَإِنَّ الشُّورَى فِي هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ الَّذِينَ مَاتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ فَمَنْ بَايَعْتُمْ مِنْهُمْ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّ أُنَاسًا سَيَطْعَنُونَ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَنَا قَاتَلْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ أُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللَّهِ الْكُفَّارُ الضُّلَّالُ وَايْمُ اللَّهِ مَا أَتْرُكُ فِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي فَاسْتَخْلَفَنِي شَيْئًا أَهَمَّ إِلَيَّ مِنَ الْكَلَالَةِ وَايْمُ اللَّهِ مَا أَغْلَظَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ صَحِبْتُهُ أَشَدَّ مَا أَغْلَظَ لِي فِي شَأْنِ الْكَلَالَةِ حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي نَزَلَتْ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ فَسَأَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءٍ يَعْلَمُهُ مَنْ يَقْرَأُ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ وَإِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى أُمَرَاءِ الْأَمْصَارِ إِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ وَيُبَيِّنُوا لَهُمْ سُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَرْفَعُوا إِلَيَّ مَا عُمِّيَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لَا أَرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الثُّومُ وَالْبَصَلُ وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَرَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ فَيَأْمُرُ بِهِ فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ فَيُخْرَجُ بِهِ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يُؤْتَى بِهِ الْبَقِيعَ فَمَنْ أَكَلَهُمَا لَا بُدَّ فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا قَالَ فَخَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمْعَةِ وَأُصِيبَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ
معبد بن ابی طلحہ یعمری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہوئے،ا للہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور پھر کہا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے، میرے خیال میں اس کی تعبیر یہ ہے کہ اب میری وفا ت کا وقت قریب آچکا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ ایک سرخ مرغ نے مجھے دو ٹھونگیں ماری ہیں، جب میں نے یہ خواب سیدہ اسماء بنت عمیس زوجہ ابی بکر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ کوئی عجمی آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کرے گا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کر دوں، یاد رکھو کہ اللہ نے اپنے نبی کو جس دین اور خلافت کے ساتھ مبعوث کیا ہے، وہ اس کو ضائع نہیں کرے گا، اگر میری موت جلد آ جائے تو یہ چھ حضرات کی ایک مجلس شوریٰ ہے، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سب سے راضی تھے، تم ان میں سے جس کی بھی بیعت کر لو تو اس کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا، میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ کچھ لوگ اس معاملے میں تعن و تشنیع کریں گے، میں اپنے ان ہاتھوں سے ان لوگوں سے اسلام پر قتال کر چکا ہوں، ایسے لوگ اللہ کے دشمن، کافر اور گمراہ ہیں۔ اللہ کی قسم! میرے رب نے مجھے جو حکم دیئے اور مجھے خلیفہ بنایا، میں ان میں سے کلالہ سے زیادہ اہم کوئی بات چھوڑ کر نہیں جا رہا۔ اللہ کی قسم! میں جب سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ جس قدر سختی کے ساتھ کلالہ کے بارے میں گفتگو کی، اس قدر سخت انداز کسی دوسری بات کے بارے میں اختیار نہیں کیا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی مبارک میرے سینے پر ماری اور فرمایا: اس بارے میں تمہارے لیے سورۂ نساء کے اواخر والی آیت کافی ہے، جو موسم گرما میں نازل ہوئی تھی۔ میں اگر زندہ رہا تو اس مسئلہ کی بابت ایسا فیصلہ کروں گا، جسے خواندہ اور ناخواندہ، سب لوگ اچھی طرح جان لیں گے، میں مختلف علاقوں میں بھیجے ہوئے اپنے عاملوں اور نمائندوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان کو اس لیے بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کو دین سکھائیں اور انہیں نبی کی سنت کی تعلیم دیں اور جو معاملہ ان پر اچھی طرح واضح نہ ہو، وہ مجھ تک پہنچائیں۔ لوگو! تم دو پودے یعنی لہسن اور پیاز کھاتے ہو، میں انہیں انتہائی ناپسند خیال کرتا ہوں، اللہ کی قسم! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کرتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی آدمی سے ان کی بو پاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں حکم دیتے اور اس آدمی کو پکڑ کر مسجد سے نکال کر بقیع قبرستان کی طرف پہنچا دیا جاتا تھا۔ جس آدمی نے لامحالہ طور پر ان پودوں کو کھانا ہو تو وہ ان کو پکا لیا کرے۔ معبد کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے روز لوگوں سے یہ خطاب کیا تھا اور بدھ کے روز آپ رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہو گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12227]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه البزار: 315، وابويعلي: 256، وابوعوانة: 1/ 408، وابن حبان: 2091، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 89 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 89»
وضاحت: فوائد: … سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک فیروز نامی پارسی غلام تھا، اس کی کنیت ابو لولو تھی، اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اپنے آقا کے بھاری محصول مقرر کرنے کی شکایت کی، چونکہ شکایت بے جا تھی، اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے توجہ نہ کی، اس پر وہ اتنا ناراض ہوا کہ صبح کی نماز میں خنجر لے کر اچانک حملہ کر دیا اور متواتر چھ وار کیے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخم کے صدمے سے گر پڑے اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔
یہ ایسا زخم کاری تھا کہ اس سے آپ جانبر نہ ہو سکے اور تین دن بیمار رہنے کے بعد یکم محرم بروز ہفتہ سنہ ۲۴ ہجری کو واصل بحق ہوئے اور اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں ہمیشہ کے لیے میٹھی نیند سو گئے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منصب ِ خلافت کے لیے ان چھ شخصیات کے نام پیش کیے تھے: سیدنا علی، سیدنا عثمان، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف۔ ان میں سے جس کسی پر باقی پانچوں کا اتفاق ہو جائے، اس منصب کے لیے منتخب کر لیا جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں