🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. الفضلُ الرَّابِعُ فِي صِفَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَذِكْرِ شَيْءٍ مِنْ خُطْبِهِ
فصل چہارم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12258
وَعَنْ أُمِّ غُرَابٍ عَنْ بُنَانَةَ قَالَتْ: مَا خَضَبَ عُثْمَانُ قَطُّ۔
بنانہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے بالوں کو کبھی رنگا نہیں تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12258]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ام غراب طلحه لا يعرف حالھا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 538»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12259
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ زَاهِرٍ أَبَا رُوَاعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ فَقَالَ: إِنَّا وَاللّٰهِ! قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَكَانَ يَعُودُ مَرْضَانَا، وَيَتْبَعُ جَنَائِزَنَا، وَيَغْزُو مَعَنَا، وَيُوَاسِينَا بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ، وَإِنَّ نَاسًا يُعْلِمُونِي بِهِ، عَسٰى أَنْ لَا يَكُونَ أَحَدُهُمْ رَآهُ قَطُّ۔
عباد بن زاہرسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ نے کہا:’ اللہ کی قسم! ہمیں سفر وحضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے مریضوں کی عیادت کرتے تھے، ہمارے جنازوں میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ مل کر لڑائی کرتے تھے اور کوئی چیز تھوڑی ہوتی یا زیادہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس میں شریک کیا کرتے تھے۔ اب کچھ لوگ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کچھ باتیں سکھاتے ہیں حالانکہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تک نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12259]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه البزار: 401، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 504»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12260
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ یَأْمُرُ فِيْ خُطْبَتِهِ بِقَتْلِ الْکِلَابِ وَذَبْحِ الْحَمَامِ۔
حسن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، آپ نے اپنے خطبہ میں کتوں کو قتل کرنے اور کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12260]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مبارك بن فضالة ضَعَّفَهٗ النسائي، اخرجه عبد الرزاق: 19733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 521»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. البَابُ الثَّالِثُ فِي طَعَن بَعْضِ النَّاسِ فِي عُثمَانَ وَالدَّبِّ عَنْهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
باب سوم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات اور ان کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12261
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ مِصْرَ يَحُجُّ الْبَيْتَ قَالَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فَقَالُوا قُرَيْشٌ قَالَ فَمَنِ الشَّيْخُ فِيهِمْ قَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ أَوْ أَنْشُدُكَ أَوْ نَشَدْتُكَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَتَعْلَمُ أَنَّهُ غَابَ عَنْ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَبَّرَ الْمِصْرِيُّ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهَا مَرِضَتْ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَكَ أَجْرُ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمُهُ“ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ فَضَرَبَ بِهَا يَدَهُ عَلَى يَدِهِ وَقَالَ ”هَذِهِ لِعُثْمَانَ“ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ اذْهَبْ بِهَذَا الْآنَ مَعَكَ
عبداللہ بن موہب سے مروی ہے کہ ایک آدمی مصر سے بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے آیا، اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا اور ان کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ قریشی ہیں، اس نے پوچھا کہ ان میں سب سے بزرگ شخص کا کیا نام ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس آدمی نے کہا: اے عبداللہ بن عمر! میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں، یا اس نے یوں کہا میں آپ کو بیت اللہ کی حرمت کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ جانتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ غزوۂ احد کے دن میدان جنگ سے فرار ہوگئے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ غزوہ ٔ بدرمیں شریک نہیں ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس نے مزید پوچھا: کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیعت ِ رضوان میں بھی شامل نہیں تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔یہ باتیں سن کر اس مصری نے خوشی کے طور پر اللہ اکبر کہا، اس کے اس انداز کو دیکھ کر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ادھر آؤ ذرا،تونے مجھ سے جو باتیں پوچھی ہیں، میں تجھ پر ان کی حقیقت واضح کرتا ہوں، جہاں تک احد کے دن ان کے فرار ہونے کی بات ہے تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ نے ان کو معاف کر دیا ہے، جہاں تک غزوۂ بدر میں شامل نہ ہونے کی بات ہے تو تجھے معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی ان کے نکاح میں تھیں، ان دنوں وہ مریض تھیں،تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: تمہیں شرکائے بدر کے برابر ثواب اور حصہ ملے گا۔ باقی رہی ان کے بیعت رضوان سے غیر حاضر ی تو تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ اس وقت وادی ٔ مکہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اگر کوئی دوسر ا آدمی معتبر ہوتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کو اہل مکہ کی طرف نمائندہ بنا کر روانہ فرماتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا نمائندہ بنا کر مکہ والوں کی طرف بھیجا تھا او ربیعت رضوان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے جانے کے بعد ہوئی تھی، یہ وضاحت کر کے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس آدمی کے ہاتھ پر مارا اور کہا: یہ ہے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کی حقیقت، اب اس کو اپنے ساتھ لے اور چلا جا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12261]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3130، 3698، 4066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5772»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ احد میں صحابۂ کرام کو میدان چھوڑنا پڑ گیا تھا،لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ خطا معاف کر دی تھی، جیسا کہ اگلی حدیث میں مذکورہ آیت سے معلوم ہورہا ہے۔
غزوۂ بدر میں شرکت نہ کرنے کے باوجود سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو مال غنیمت میں سے حصہ عطا کرنا، یہ دامادِ رسول کا خصوصی امتیاز تھا۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3130
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12262
عَنْ شَقِيقٍ قَالَ لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَبْلِغْهُ أَنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ قَالَ عَاصِمٌ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ أَتَخَلَّفْ يَوْمَ بَدْرٍ وَلَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ فَخَبَّرَ ذَلِكَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ فَكَيْفَ يُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ وَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ} وَأَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي تَخَلَّفْتُ يَوْمَ بَدْرٍ فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَتْ وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِي وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ فَقَدْ شَهِدَ وَأَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي لَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنِّي لَا أُطِيقُهَا وَلَا هُوَ فَأْتِهِ فَحَدِّثْهُ بِذَلِكَ
شقیق سے مروی ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ولید بن عقبہ سے ملاقات ہوئی، ولید نے ان سے کہا: کیا بات ہے کہ آپ امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بے مروتی کا سلوک کرتے ہیں، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میری یہ بات ان تک پہنچا دو کہ میں یوم عینین یعنی احد کے دن فرار نہیں ہوا تھا اور نہ میں غزوۂ بدر میں پیچھے رہا اور نہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک کیا ہے۔ اس کے بعد ولید، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے ان امور کا ذکر کیا، انہوں نے جواباً کہا: ان کا کہنا کہ میں(ابن عوف رضی اللہ عنہ) عینین یعنی احد کے دن فرار نہیں ہوا تھا، سوال یہ ہے کہ وہ مجھے ایسی کوتاہی پر کیوں عار دلاتے ہیں،جس کو اللہ تعالیٰ معاف کر چکا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {إِنَّ الَّذِینَ تَوَلَّوْا مِنْکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّہُمُ الشَّیْطَانُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوْا وَلَقَدْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہُمْ} … بے شک وہ لوگ جو تم میں سے اس دن پیٹھ پھیر گئے جب دو جماعتیں بھڑیں، شیطان نے انھیں ان بعض اعمال ہی کی وجہ سے پھسلایا جو انھوں نے کیے تھے اور بلاشبہ یقینا اللہ نے انھیں معاف کر دیا۔ (سورۂ آل عمران: ۱۵۵) ان کا یہ کہنا کہ وہ غزوہ ٔ بدر سے پیچھے نہیں رہے تھے تو میں تو سیدہ رقیہ بنت ِ رسول رضی اللہ عنہا کی تیمارداری میں مصروف تھا اور انہیں دنوں وہ انتقال کر گئی تھیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اسی قدر حصہ عطافرمایا تھا، جس قدر شرکائے بدر کو دیاتھا، اب جس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حصہ دیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو حاضر سمجھا گیا اور ان کایہ کہنا کہ انھوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا، تو گزارش یہ ہے کہ میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا، تم جا کر یہ باتیں ان سے بیان کردینا۔ 1 عمر رضی اللہ عنہ کے طریقہ کی طاقت نہیں، کا مطلب یہ ہے عمر فاروق رضی اللہ عنہ دنیا سے بہت زیادہ بے رغبت، آخرت کی بہت زیادہ فکر کرنے والے، رعایا پر بہت زیادہ مشفق، ان کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے، مظلوم کو انصاف دلانے والے، خوف زدہ کو امن مہیا کرنے والے، دیندار اور اہل فضل کے لیے نہایت نرم اور طلم و ستم کرنے والوں پر نہایت سخت تھے۔
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کہنا چاہتے ہیں کہ اتنی اعلیٰ صفات اختیار کرنے کی میرے اندر طاقت نہیں ہے۔ [دیکھیں مسند محقق، جلد:۱، ص: ۵۲۶] (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12262]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطبراني: 135، والبزار: 395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 490»
وضاحت: فوائد: … احد کے پاس ایک پہاڑ کا نام عَیْنَیْن ہے، یہ وہی پہاڑ ہے، جس پر تیر اندازوں کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی، غزوۂ احد کو غزوہ عینین بھی کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. فَضْلُ فِي بَرَاءَةِ عَلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ إِرَادَةِ عُثْمَانَ بِسُوءٍ
فصل: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12263
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ جَاءَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَشَكَوْا سُوءَاتِ عُثْمَانَ قَالَ فَقَالَ لِي أَبِي اذْهَبْ بِهَذَا الْكِتَابِ إِلَى عُثْمَانَ فَقُلْ لَهُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَكَوْا سُوءَاتِكَ وَهَذَا أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ فَمُرْهُمْ فَلْيَأْخُذُوا بِهِ قَالَ فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ فَلَوْ كَانَ ذَاكِرًا عُثْمَانَ بِشَيْءٍ لَذَكَرَهُ يَوْمَئِذٍ يَعْنِي بِسُوءٍ
محمد بن علی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عاملوں کی شکایت کی، میرے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تم یہ تحریر لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاں جاؤ اور ان سے کہو کہ لوگ آپ کے عاملوں کی شکایتیں کر رہے ہیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقات کے بارے میں حکم ہے، انہیں حکم دیجئے کہ وہ اس کے مطابق صدقات وصول کریں، پس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا اور ان سے اس بات کا ذکر کیا، اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ برا اظہار خیال کرنا ہوتا تو اسی دن کر دیتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12263]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1196 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1196»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو واپس کر دی تھی۔
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ممکن ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس تحریر میں مندرج احکام کا علم ہو، اس لیے وہ اس کا مطالعہ کرنے سے مستغنی ہوں، حمیدی نے الجمع میں کہا: بعض راویوں نے ابن عیینہ کا یہ قول نقل کیا ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تو اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ وہ سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کو منع کریں، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی تحریر ان کو واپس کر دی، کیونکہ ان کو ان احکام کا علم تھا،سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اقدام سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ حکام کی خیر خواہی کرنی چاہیے اور اس کے پیروکاروں میں پیدا ہونے والے فساد سے اس کو متنبہ کرنا چاہیے۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے نزدیک ان کے عاملین پر کوئی اعتراض ثابت ہی نہ ہوا ہو، یا اگر ثابت ہوا ہو تو تدبیر کا تقاضا یہ ہو کہ حاملیں پر فوراً انکار نہ کیا جائے، یا اس اعتراض کا تعلق مستحبات سے تھا، نہ کہ واجبات سے، اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان کو معذور سمجھا اور ان کے بارے میں برا اظہارِ خیال نہ کیا۔
علامہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ممکن ہے کہ یہ تحریر واپس کر دینے کی یہ وجہ ہو کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سمجھا ہو کہ ان کے عاملین ان احکام پر عمل کر رہے ہیں، اس لیے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، سو انھوں نے اس کو واپس کرنے کا حکم دے دیا اور انھوں نے جان لیا کہ لوگوں کی اس شکایت کا تعلق عمال کے ظلم سے نہیں ہے، بلکہ مال کی محبت اور انفاق کی کراہیت سے ہے، یا ممکن ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی رائے یہ ہو کہ واقعی ان عاملین کو معزول کر دینا چاہیے، اب ان کو یہ تحریر فائدہ نہیں دے گا، پس انھوں نے ان کو معزول کرنے کا ارادہ کر لیا، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ اس تحریر کے احکام پر عمل کرنے سے اعراض کر رہے ہیں، وہ ایسے گمان سے دور تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3111
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. البابُ الرَّابِعُ فِيْمَا وَقَعَ مِنَ الْحَوَادِثِ فِي أَيَّامِ خلافته رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
باب چہارم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12264
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي ثَوْرٍ قَالَ بَعَثَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ بِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ فَخَرَجُوا إِلَيْهِ فَرَدُّوهُ قَالَ فَكُنْتُ قَاعِدًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ مَا كُنْتُ أَرَى أَنْ يَرْجِعَ لَمْ يُهْرِقْ فِيهِ دَمًا قَالَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ وَلَكِنْ قَدْ عَلِمْتُ لَتَرْجِعَنَّ عَلَى عَقِبَيْهَا لَمْ يُهْرِقْ فِيهَا مَحْجَمَةَ دَمٍ وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا عَلِمْتُهُ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصْبِحُ مُؤْمِنًا ثُمَّ يُمْسِي مَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ مَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ يُقَاتِلُ فِئَتَهُ الْيَوْمَ وَيَقْتُلُهُ اللَّهُ غَدًا يَنْكُسُ قَلْبُهُ تَعْلُوهُ أَسْتُهُ قَالَ فَقُلْتُ أَسْفَلُهُ قَالَ أَسْتُهُ
ابو ثور سے مروی ہے کہ جرعہ کے روز سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا، لیکن لوگ ان کی طرف آئے اور انہیں واپس کر دیا، میں (ابو ثور) سیدنا ابو مسعود واور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ وہ بغیر خون بہائے یوں ہی واپس لوٹ آئے گا، ان کی بات سن کر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن میں تو اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ لشکر بغیر خون خرابہ کیے یوں ہی اپنی ایڑیوں پر واپس آجائے گا، میں تو یہ بات اس وقت سے جانتا ہوں، جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات تھے، بلکہ یہاں تک حالات پیدا ہوجائیں گے کہ ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کر ے گا، لیکن جب شام ہوگی تو وہ ایمان سے فارغ ہو چکا ہو گا اور ایک آدمی ایمان کی حالت میں شام کر ے گا، اور صبح تک اس کے پاس ایمان نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی، ایک آدمی اپنے ہی گروہ سے لڑائی کرے گا اور اگلے دن اللہ تعالیٰ اسے قتل کر دے گا اور اس کے دل کو الٹ دے گا اور اس کی دبر اس کے اوپر ہوگی۔ میں نے کہا: نچلی والی طرف اوپر ہو گی؟ انھوں نے کہا: دبر کہہ رہا ہوں، دبر۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12264]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، اخرجه الطيالسي: 432، والحاكم: 4/ 546، والطبراني في الكبير: 17/ 703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23738»
وضاحت: فوائد: … کوفہ کے پاس ایک مقام کا نام جرعہ ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں یہاں ایک فتنہ پیش آیا تھا۔
حافظ ابن کثیر البدایۃ والنھایۃ میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مقصود یہ ہے کہ سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ مدینہ واپس آ گئے اور فتنہ ختم ہو گیا، اس چیز سے اہل کوفہ کو تعجب ہوا ور انھوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ وہ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کو ان کا مسئول بنا دیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے عذر اور شبہے کو ختم کرنے کے لیے ایسے ہی کیا تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12265
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ جُنْدُبٌ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَرَعَةِ وَثَمَّ رَجُلٌ قَالَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ دِمَاءٌ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ كَلَّا وَاللَّهِ قَالَ هَلَّا قُلْتَ بَلَى وَاللَّهِ قَالَ كَلَّا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكَ جَلِيسَ سَوْءٍ مُنْذُ الْيَوْمَ تَسْمَعُنِي أَحْلِفُ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْهَانِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ مَالِي وَلِلْغَضَبِ قَالَ فَتَرَكْتُ الْغَضَبَ وَأَقْبَلْتُ أَسْأَلُهُ قَالَ وَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
جندب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جرعہ والے دن وہاں ایک آدمی تھا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! آج ضرور ضرور کشت و خون ہوگا، اس کی بات سن کر ایک اور آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! ہر گز نہیں، پہلا شخص کہنے لگا: تم نے یوں کیوں نہیں کہا کہ اللہ کی قسم ہاں ضرور کشت و خون ہوگا؟ دوسرے نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہوگا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ہے، جو آپ نے مجھ سے خود بیان کی تھی، میں نے کہا: آج آپ میرے برے ہم نشین ہیں۔ میں ایک بات کی قسم اٹھا رہا ہوں اور آپ مجھے سن بھی رہے ہیں، جبکہ اس بارے میں تونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بھی سنی ہوئی ہے اور مجھے آپ روک بھی نہیں رہے۔ پھر میں نے سوچا کہ اس میں غصہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، چنانچہ میں نے ناراضگی دور کر دی اور میں اس ساتھی کی طرف لپکا اور اس سے سوال کرنے لگ گیا۔ پھر پتا چلا کہ وہ آدمی حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12265]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2893، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23780»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2893
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. فَمِنْ ذَلِكَ يَوْمُ الْجَرعَةِ
جرعہ کے دن والا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12266
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنَمٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ آتِي الْمَسْجِدَ إِذَا أَنَا فَرَغْتُ مِنْ عَمَلِي فَأَضْطَجِعُ فِيهِ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَأَنَا مُضْطَجِعٌ فَغَمَزَنِي بِرِجْلِهِ فَاسْتَوَيْتُ جَالِسًا فَقَالَ لِي ”يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهَا“ فَقُلْتُ أَرْجِعُ إِلَى مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى بَيْتِي قَالَ ”كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ“ فَقُلْتُ إِذَنْ آخُذُ بِسَيْفِي فَأَضْرِبَ بِهِ مَنْ يُخْرِجُنِي فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي فَقَالَ ”غَفْرًا يَا أَبَا ذَرٍّ ثَلَاثًا بَلْ تَنْقَادُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ وَتَنْسَاقُ مَعَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ وَلَوْ عَبْدًا أَسْوَدَ“ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَلَمَّا نُفِيتُ إِلَى الرَّبَذَةِ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ أَسْوَدُ كَانَ فِيهَا عَلَى نَعَمِ الصَّدَقَةِ فَلَمَّا رَآنِي أَخَذَ لِيَرْجِعَ وَلِيُقَدِّمَنِي فَقُلْتُ كَمَا أَنْتَ بَلْ أَنْقَادُ لِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اور پھر میں مسجدمیں آ جاتا تھا اور اپنے کام سے فارغ ہو کر لیٹ جاتا، ایک دن میں لیٹا ہو ا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں مبارک سے مجھے تھوڑا سا دبایا، میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ابوذر!اس وقت تیرا کیا حال ہوگا، جب تجھے اس شہر سے نکال دیا جائے گا۔ میں نے کہا: میں اپنے نبی کی مسجداور اپنے گھر میں رہ لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تجھے یہاں سے نکال دیا جائے گا تو تیرا کیا حال ہوگا؟ میں نے کہا: میں اپنی تلوار سونت لوں گا اور جو مجھے نکالے گا، میں اس پر تلوار چلا دوں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے کندھے پر رکھ دیا اور فرمایا: ابوذر! معاف کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ جملہ دوہرایا اور پھر فرمایا: بلکہ وہ تمہیں جس طرف لے کر چلیں، تم ان کی اطاعت کرنا اور وہ تمہیں جس طرف ہانکیں، اسی طرف چل پڑنا، خواہ وہ سیاہ فام غلا م ہی کیوں نہ ہو؟ ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب مجھے ربذہ کی جانب دھکیل دیا گیا اور نماز کی اقامت ہوئی تو ایک سیاہ فام آدمی نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھا، وہ وہاں پربیت المال کے اونٹوں پر مامور تھا، جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ مجھے آگے کرنے کے لیے خو د پیچھے کو آنے لگا، لیکن میں نے اسے کہا: تم اپنی جگہ پر رہو (اور نماز پڑھاؤ)، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی اطاعت کروں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12266]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اسماعيل بن عياش ضعيف في روايته عن غير اھل بلده، وھذه منھا، وشھر بن حوشب ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21615»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. وَمِنْ ذلِكَ نَفْسُ أَبِي ذَرِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْرَبِّدَةِ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12267
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ قَالَ ثَنَا شَهْرٌ قَالَ حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ خِدْمَتِهِ أَوَى إِلَى الْمَسْجِدِ فَكَانَ هُوَ بَيْتَهُ يَضْطَجِعُ فِيهِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ لَيْلَةً فَوَجَدَ أَبَا ذَرٍّ نَائِمًا مُنْجَدِلًا فِي الْمَسْجِدِ فَنَكَتَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ حَتَّى اسْتَوَى جَالِسًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا“ قَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ أَنَامُ هَلْ لِي مِنْ بَيْتٍ غَيْرُهُ فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ”كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ“ قَالَ إِذَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّ الشَّامَ أَرْضُ الْهِجْرَةِ وَأَرْضُ الْمَحْشَرِ وَأَرْضُ الْأَنْبِيَاءِ فَأَكُونُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهَا قَالَ لَهُ ”كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنَ الشَّامِ“ قَالَ إِذَنْ أَرْجِعَ إِلَيْهِ فَيَكُونَ هُوَ بَيْتِي وَمَنْزِلِي قَالَ لَهُ ”كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ الثَّانِيَةَ“ قَالَ إِذَنْ آخُذَ سَيْفِي فَأُقَاتِلَ عَنِّي حَتَّى أَمُوتَ قَالَ فَكَشَّرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَثْبَتَهُ بِيَدِهِ قَالَ ”أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ“ قَالَ بَلَى بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَنْقَادُ لَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ حَتَّى تَلْقَانِي وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ“
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت سے فارغ ہو نے کے بعد وہ مسجد میں چلے جاتے، بس مسجد ہی ان کا گھر تھا، وہ وہاں لیٹ جاتے، ایک رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ان کو مسجد زمین پر لیٹے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں مبارک سے ان کو ذرا دبایا، وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں تمہیں یہاں سوتے دیکھ رہاہوں؟ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میر ا اس کے سوا کوئی اور گھر ہے؟ میں یہاں نہ سوؤں تو کہاں سوؤں؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس بیٹھ گئے اور ان سے فرمایا: اس وقت تیرا کیا حال ہوگا، جب لوگ تجھے یہاں سے نکال دیں گے؟ انہوں نے کہا: میں شام کی طرف چلا جاؤں گا، کیونکہ شام ارض ہجرت ہے، ارض محشراور انبیائے کرام کا علاقہ ہے، اس طرح میں وہاں کا باشندہ بن جاؤںـ گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ تجھے شام سے بھی نکال دیں گے تو تمہارا کیا حال ہوگا؟ انہوں نے کہا: تب میں مدینہ کی طرف واپس آجاؤں گا، یہی میرا گھر اور یہی میرا ٹھکانہ ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ تمہیں دوسری مرتبہ یہاں سے بھی نکال دیں گے تو تمہارا کیا حال ہوگا؟ انہوں نے کہا: تب میں اپنی تلوار اٹھالوں گا اور مرتے دم تک اپنا دفاع کروں گا، ان کی یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دئیے اور اپنا ہاتھ مبارک ان پر رکھا اور فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر کام نہ بتلا دوں؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ضرور فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہیں جہاں لے کر جائیں، ان کے ساتھ چلتے رہنا، یہاں تک کہ اسی حالت میں تم مجھ سے آ ملنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12267]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، اخرجه الطبراني في الكبير: 1623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28140»
وضاحت: فوائد: … حقیقت ِ حال یہ تھی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی چھ برسوںمیں فتوحات کی وسعت اور مال غنیمت کی فراوانی نے عیش و تنعّم کو عام کر دیا، شام کا ملک اس دنیاداری سے سب سے زیادہ متاثر تھا، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ برملا ان امراء اور دولت مندوں کے خلاف وعظ کرتے رہتے تھے، جس سے نظام حکومت میں خلل پڑتا تھا، اس لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی استدعا پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو مدینہ بلوا لیا، مگر اب مدینہ بھی وہ اگلا مدینہ نہ رہا تھا، بیرونی لوگوںکے بڑے بڑے محل تیار ہو چکے تھے، اس لیے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے یہاں سے بھی دل برداشتہ ہو کر ربذہ نام کے ایک گاؤں میں اقامت اختیار کی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں