🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. الْبَابُ الْخَامِسَ فِي تَحْقِيقِ رُؤْيَاهُ، وَطَعْنِ الْعَجَمِي إِيَّاهُ، وَذِكْرِ شَيْءٍ مِنْ وَصَايَاهُ، وَتَنَاءِ النَّاسِ عَلَيْهِ، وَبُكَائِهِمْ عِنْدَهُ، وَعَدْمِ اسْتِخْلَافِهِ
باب پنجم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12228
عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ قَالَ حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ الْعَامَ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَخَطَبَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا أَحْمَرَ نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ أَنَّهُ طُعِنَ فَأُذِنَ لِلنَّاسِ عَلَيْهِ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ثُمَّ أَهْلُ الشَّامِ ثُمَّ أُذِنَ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ فَدَخَلْتُ فِيمَنْ دَخَلَ قَالَ فَكَانَ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهِ قَوْمٌ أَثْنَوْا عَلَيْهِ وَبَكَوْا قَالَ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ قَالَ وَقَدْ عَصَبَ بَطْنَهُ بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ وَالدَّمُ يَسِيلُ قَالَ فَقُلْنَا أَوْصِنَا قَالَ وَمَا سَأَلَهُ الْوَصِيَّةَ أَحَدٌ غَيْرُنَا فَقَالَ عَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا مَا اتَّبَعْتُمُوهُ فَقُلْنَا أَوْصِنَا فَقَالَ أُوصِيكُمْ بِالْمُهَاجِرِينَ فَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ وَأُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ فَإِنَّهُمْ شِعْبُ الْإِسْلَامِ الَّذِي لَجِئَ إِلَيْهِ وَأُوصِيكُمْ بِالْأَعْرَابِ فَإِنَّهُمْ أَصْلُكُمْ وَمَادَّتُكُمْ وَأُوصِيكُمْ بِأَهْلِ ذِمَّتِكُمْ فَإِنَّهُمْ عَهْدُ نَبِيِّكُمْ وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ قُومُوا عَنِّي قَالَ فَمَا زَادَنَا عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ فِي الْأَعْرَابِ وَأُوصِيكُمْ بِالْأَعْرَابِ فَإِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَعَدُوُّ عَدُوِّكُمْ
جو یریہ بن قدامہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس سال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا، اس سال میں نے حج کیا اور پھر میں مدینہ منورہ آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک سرخ مرغ نے مجھے ایک دو ٹھونگیں ماری ہیں۔، پھر ہوا یوں کہ واقعی ان پر قاتلانہ حملہ ہو گیا، جب لوگوں کو ان کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت دی گئی تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ان کے پاس گئے، ان کے بعد باقی اہل مدینہ، ان کے بعد اہل شام اور ان کے بعد اہل عراق، میں بھی ان لوگوں میں موجود تھا، جب لو گ ان کے پاس جاتے تو ان کی تعریف کرتے اور رونے لگ جاتے، جب ہم گئے تو ان کے پیٹ کو ایک سیاہ پگڑی کے ساتھ باندھا گیا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ ہم نے کہا: آپ ہمیں وصیت فرمائیں، ہمارے گروہ کے سوا کسی نے وصیت کرنے کی درخواست نہیں کی تھی، ہماری درخواست سن کر انہوں نے کہا: تم اللہ کی کتاب کو لازم پکڑو، تم جب تک اس کی پیروی کرتے رہوگے، اس وقت تک گمراہ نہیں ہوگے۔ ہم نے کہا: آپ ہمیں مزید وصیت کریں، انھوں نے کہا: میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتاہوں، لوگوں کی تعداد بڑھ رہی اور مہاجرین کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے اور میں تمہیں انصار کے بارے میں بھی وصیت کرتا ہوں، یہ وہ گھاٹی ہیں، جس میں اسلام نے آکر پناہ لی،میں تمہیں بادیہ نشینوں کے متعلق بھی وصیت کرتاہوں، کیونکہ وہ مسلمانوں کی اصل او ربنیادی جوہر ہیں اور میں تمہیں ذمی لوگوں کے بارے میں بھی وصیت کرتا ہوں،تمہارے نبی نے ان کو امان دی ہے اور یہ لوگ تمہارے اہل وعیال کی روزی کا ذریعہ بھی ہیں، اب تم میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے زیادہ ہم سے باتیں نہیں کیں۔ شعبہ کہتے ہیں:اس کے بعد ایک بار میں نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے بدوؤں کے بارے میں کہا: میں تمہیں بادیہ نشینوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، کیونکہ یہ تمہارے بھائی ہیں اورتمہارے دشمنوں کے دشمن ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12228]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 362»
وضاحت: فوائد: … بدھ کے دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور ہفتہ کے روز آپ ؓ انتقال کر گئے، ان تین دنوں میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے وعظ و نصیحت اور پند و نصائح کا سلسلہ جاری رہا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3162
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12229
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ قَالَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ طُعِنَ فَقَالَ احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يُدْرِكَنِي النَّاسُ أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَقْضِ فِي الْكَلَالَةِ قَضَاءً وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ عَلَى النَّاسِ خَلِيفَةً وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لَهُ عَتِيقٌ فَقَالَ لَهُ النَّاسُ اسْتَخْلِفْ فَقَالَ أَيَّ ذَلِكَ أَفْعَلُ فَقَدْ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي إِنْ أَدَعْ إِلَى النَّاسِ أَمْرَهُمْ فَقَدْ تَرَكَهُ نَبِيُّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدْ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ صَاحَبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَطَلْتَ صُحْبَتَهُ وَوُلِّيتَ أَمْرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقَوِيتَ وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ فَقَالَ أَمَّا تَبْشِيرُكَ إِيَّايَ بِالْجَنَّةِ فَوَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي قَالَ عَفَّانُ فَلَا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَوْ أَنَّ لِي الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا لَافْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ هَوْلِ مَا أَمَامِي قَبْلَ أَنْ أَعْلَمَ الْخَبَرَ وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي أَمْرِ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَفَافًا لَا لِيَ وَلَا عَلَيَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَلِكَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو میں سب سے پہلے ان کے پاس گیا اور انہوں نے مجھ سے کہا: تم میری تین باتیں یادرکھنا، مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ مجھے نہ مل سکیں گے، ایک یہ کہ میں نے کلالہ کی بابت کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ دوسری یہ کہ میں نے کسی کو لوگوں پر خلیفہ نامزد نہیں کیا اور تیسری یہ کہ تمام غلام جو میری ملکیت میں ہیں، وہ سب آزاد ہیں۔پھر لوگوں نے ان سے کہا: آپ کسی کو خلیفہ نامزد کردیں۔ انہوں نے کہا: میں دو امور میں سے جو بھی کروں، وہی کام مجھ سے افضل ہستی کر چکی ہے، اگر میں خلافت کے معاملے کو لوگوں کے سپرد کر جاؤں تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا،اور اگر میں کسی کو خلیفہ نامزد کر جاؤں تو مجھ سے پہلے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ یہ کام کر چکے ہیں، جبکہ وہ مجھ سے بہتر ہیں۔میں نے ان سے کہا: آپ کو جنت کی بشارت ہو، آپ کو طویل عرصہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مصاحبت کا شرف حاصل رہا، آپ کو امیر المومنین کا منصب سونپا گیا تو آپ نے قوت کا مظاہرہ کیااور امانت کا خوب حق ادا کیا۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک تمہارا مجھے جنت کی بشارت دینے کا تعلق ہے، تو اللہ کی قسم ہے کہ مجھے آخرت کا اس قدرڈر ہے کہ اس بارے حتمی خبر جاننے سے قبل اگر میرے پاس دنیا بھر کی دولت بھی ہوتو میں اس ڈر سے بچنے کی خاطر ساری دولت بطور فدیہ دے دوں، اہل ایمان پر خلافت و امارت کے بارے میں جو کچھ تم نے کہا ہے، میں تو یہ پسند کرتاہوں کہ اگر حساب برابر سرابر ہو جائے، یعنی نہ مجھے کچھ ملے اور نہ مجھ پہ کوئی جرم لگایا جائے تو اس چیز کو میں اپنے حق میں کافی سمجھوں گا، البتہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت جو ذکر کیا ہے، وہ شرف باعث ِ اعزاز ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12229]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الطيالسي: 26، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 322»
وضاحت: فوائد: … کلالہ کی تفصیل جاننے کے لیے دیکھیں احادیث نمبر (۶۳۸۳، ۸۵۷۲)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12230
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ مَقَالَةً فَآلَيْتُ أَنْ أَقُولَهَا لَكُمْ زَعَمُوا أَنَّكَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ فَوَضَعَ رَأْسَهُ سَاعَةً ثُمَّ رَفَعَهُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْفَظُ دِينَهُ وَإِنِّي إِنْ لَا أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَخْلِفْ وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِ اسْتَخْلَفَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَعْدِلُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا وَأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے لوگوں کو کچھ باتیں کرتے ہوئے سنا ہے تو میں نے عزم کیا کہ ان باتوں کاآپ سے ذکر کروں، لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کر رہے، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیا اور پھر سر اٹھا کر کہا: بے شک اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت کرے گا،اگر میں کسی کو خلیفہ نامزد نہ کروں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کسی کو نامزد نہیں گیا تھا اوراگر میں کسی کو خلیفہ نامزد کردوں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہو گا، کیونکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نامزد کیا تھا۔ یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جب انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، اِن دو ہستیوں کا ذکر کیا تو میں جان گیا کہ وہ کسی کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برابر نہیں کریں گے اور کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کریں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12230]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1823، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 332 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 332»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1823
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12231
عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ مُسْتَنِدًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَعِنْدَهُ ابْنُ عُمَرَ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ اعْلَمُوا أَنِّي لَمْ أَقُلْ فِي الْكَلَالَةِ شَيْئًا وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِي أَحَدًا وَأَنَّهُ مَنْ أَدْرَكَ وَفَاتِي مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَشَرْتَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَأْتَمَنَكَ النَّاسُ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأْتَمَنَهُ النَّاسُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ رَأَيْتُ مِنْ أَصْحَابِي حِرْصًا سَيِّئًا وَإِنِّي جَاعِلٌ هَذَا الْأَمْرَ إِلَى هَؤُلَاءِ النَّفَرِ السِّتَّةِ الَّذِينَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ أَدْرَكَنِي أَحَدُ رَجُلَيْنِ ثُمَّ جَعَلْتُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَيْهِ لَوَثِقْتُ بِهِ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَأَبُو عُبَيْدَةَ ابْنُ الْجَرَّاحِ
ابو رافع سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سہارے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابن عمر اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہما بھی ان کے ہاں موجود تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا درکھو کہ میں نے کلالہ کی بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور میں نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ کے طور پر نامزد نہیں کیا اور میری وفات کے وقت جتنے عرب غلام میری ملکیت میں ہوں، وہ سب اللہ تعالیٰ کے مال سے آزاد ہوں گے۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اگر آپ خلافت کے بارے میں کسی مسلمان کا اشارہ کر دیں تو لوگ اس بارے میں آپ کو امین خیال کریں گے، جیسا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایسا کرگئے تھے اور لوگوں نے ان کو امین سمجھا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنے ساتھیوں میں خلافت کی شدید حرص دیکھی ہے، پس میں اس امر کو ایسے چھ اشخاص کے سپرد کر رہا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات کے وقت جن سے خوش تھے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرمجھے ان دو افراد میں کوئی ایک پا لیتا تو میں یہ معاملہ اس کے سپرد کر کے اس پر اعتماد کرتا، ایک سالم مولی ابی حذیفہ اور دوسرا ابو عبیدہ بن الجراح۔1 [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12231]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 129»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرح کسی ایک شخص کو خلیفہ مقرر نہیں کیا، البتہ چھ شخصیات کے نام پیش کیے تھے، دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۲۲۷)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. الْبَابُ السَّادِسُ فِي وَفَاتِهِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَثَنَاءِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
باب ششم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12232
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ قَدْ أَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ أُكْثِرُ أَنْ أَسْمَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ“ وَإِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَهُمَا
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو ان کو اٹھائے جانے سے قبل لوگوں نے ان کی چارپائی کو گھیر لیا اور ان کے حق میں دعائیں اور رحمت کی التجائیں کرنے لگے، میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا، اچانک ایک آدمی نے پیچھے سے میرے کندھوں کو پکڑا، جب میں اُدھر متوجہ ہوا تو کیا دیکھا کہ وہ سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں دعائے رحمت کی اور کہا: آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا آدمی نہیں چھوڑا کہ جس کے بارے میں میں یہ تمنا کرسکوں کہ جب اللہ تعالیٰ سے ملوں تو میرے اعمال اس کے اعمال جیسے ہوں، اللہ کی قسم!مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ضرور ملائے گا، اس لیے کہ میں کثرت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا کہ ’‘میں، ابوبکر اور عمر گئے۔ میں، ابو بکر اور عمر داخل ہوئے۔ میں، ابو بکر اور عمر باہر گئے۔ مجھے یقین تھا کہ اللہ آپ کو ان کے ساتھ ضرور ملائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12232]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3685، ومسلم: 2389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 898»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3685
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12233
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقَبْرِ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيِ الصُّفُوفِ فَقَالَ هُوَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَاهُ بِصَحِيفَتِهِ بَعْدَ صَحِيفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمُسَجَّى عَلَيْهِ ثَوْبُهُ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبراور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے درمیان لا کر رکھا گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ آکر صفوں کے آگے کھڑ ے ہوگئے اور انہوں نے تین بار کہا: آپ پر اللہ کی رحمت ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس ڈھانپے ہوئے آدمی کے علاوہ کوئی ایسا بشر نہیں ہے کہ میں اس جیسے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کروں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12233]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 866»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12234
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ قَدْ قَضَى نَحْبَهُ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا حَفْصٍ فَوَاللَّهِ مَا بَقِيَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِصَحِيفَتِهِ مِنْكَ
ابو حجیفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان پر ایک کپڑا ڈال کر انہیں ڈھانپا گیا، وہ وفات پا چکے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوں نے آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: اے ابو حفص! آپ پر اللہ کی رحمت ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ سے بڑھ کر کوئی آدمی مجھے اتنا محبوب نہیں کہ میں اس جیسا نامہ اعمال لیے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جا کر ملوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12234]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 867»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12235
وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُصِيبَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بدھ کے روز قاتلانہ حملہ ہوا، ابھی تک ماہِ ذوالحجہ کے چار دن باقی تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12235]
تخریج الحدیث: «صحيح، اخرجه ابن حبان: 2091، وابويعلي: 256، والبزار: 315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 341»
وضاحت: فوائد: … ابو لولو نے یہ حملہ کیا تھا، پچھلے ابواب میں وضاحت ہو چکی ہے، بدھ کے روز یہ حملہ ہوا تھا، یہ ایسا زخم کاری تھا کہ اس سے آپ جانبر نہ ہو سکے اور تین دن بیمار رہنے کے بعد یکم محرم بروز ہفتہ سنہ ۲۴ ہجری کو خالق حقیقی کی طرف روانہ ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلومیں ہمیشہ کے لیے میٹھی نیند سو گئے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. الْبَابُ الاَوَّلُ فِي خِلَافَتِهِ وَمُبَايَعَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12236
عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَيْفَ بَايَعْتُمْ عُثْمَانَ وَتَرَكْتُمْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا ذَنْبِي قَدْ بَدَأْتُ بِعَلِيٍّ فَقُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ وَسِيرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ فَقَالَ فِيمَا اسْتَطَعْتُ قَالَ ثُمَّ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَبِلَهَا
ابووائل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ کیسے ہوا کہ آپ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی، انہوں نے کہا: اس میں میراکیا قصور ہے؟میں پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیاا ور میں نے کہا: میں اللہ کی کتاب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی سیرت کی روشنی میں آپ کی بیعت کرتاہوں، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، لیکن میری طاقت کے مطابق، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: پھرمیں نے یہ چیز سیدنا عثمان پر پیش کی تو انہوں نے اسے قبول کرلیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12236]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سفيان بن وكيع ضعّفه غير واحد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 557»
وضاحت: فوائد: … فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تجہیز و تکفین کے بعد خلیفہ کے انتخاب کامسئلہ پیش ہوا اور دو دن تک اس پر بحث ہوتی رہی، لیکن کوئی فیصلہ نہ ہوا، آخر تیسرے دن سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وصیت کے مطابق خلافت چھ آدمیوں میں دائر ہے، لیکن اس کو تین شخصوں تک محدود کر دینا چاہیے اور جو اپنے خیال میں جس کو مستحق سمجھتا ہو، اس کا نام پیش کرے۔سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا، پھر سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنے حق سے باز آنے کا اعلان کر دیا اور کہا: اب معاملہ دو آدمیوں میں منحصر ہو گیا ہے، ان دونوں میں سے جو کتاب اللہ اور سنت ِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سنت ِ شیخین کی پابندی کا عہد کرے گا، اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی، اس کے بعد علیحدہ علیحدہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ دونوں اس کا فیصلہ میرے ہاتھ میں دے دیں، اس پر ان دونوں کی رضامندی لینے کے بعد سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ مسجد میں جمع ہوئے، سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے ایک مختصر لیکن مؤثر تقریر کی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی، اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیعت کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیعت کرنا ہی تھا کہ تمام حاضرین بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے، اس طرح محرم کی ۴ تاریخ سنہ ۲۴ ہجری دوشنبہ کے دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اتفاقِ عام کے ساتھ مسند نشین خلافت ہوئے اور دنیائے اسلام کی عنانِ حکومت اپنے ہاتھ میں لی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. فَصْلٌ عَنْهُ فِي إِشَارَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
فصل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12237
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ كَانَ يَقُولُ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَا يَمُوتُ عُثْمَانُ حَتَّى يُسْتَخْلَفَ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَلِكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ أَصْحَابِي وُزِنُوا فَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ فَوَزَنَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَنَقَصَ صَاحِبُنَا وَهُوَ صَالِحٌ“
اسو د بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کہا کرتے تھے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو جب تک خلافت نہیں ملے گی، انہیں اس وقت تک موت نہیں آئے گی۔ ہم نے کہا: تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے گزشتہ رات نیند میں دیکھا ہے کہ گویا میرے تین صحابہ رضی اللہ عنہ کا وزن کیاگیا، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا، وہ بھاری رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کاوزن کیا گیا، وہ بھی بھاری رہے، بعد ازاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو وہ ذرا کم وزن تھے، بہرحال وہ بھی صالح آدمی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12237]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16721»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں تین مذکورہ شخصیات کا بالترتیب ذکر کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں