🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. الْفَضْلُ الْأَوَّلُ فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضْلِهِ وَإِشَارَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى فِتْنَتِهِ وَإِنَّهُ عَلَى الْحَقِّ
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12248
عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ ابْنَ أَخِي أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَا وَلَكِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ وَالْيَقِينِ مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا قَالَ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ فَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا قُلْتُ وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
عبداللہ بن عدی بن خیار سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: بھتیجے! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے علم اور یقین اس قدر صفائی کے ساتھ میرے پاس پہنچا ہے جیسے کسی پر دہ نشین خاتون کے پاس اس کے پردہ میں بھی کوئی چیز پہنچ جاتی ہے۔ پھر انہوں نے خطبہ دیا، شہادتین کا اقرار کیا اور پھر کہا: أَمَّا بَعْدُ! بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا اورمیں ان لوگوں میں سے تھا، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی بات کو قبول کیا اور میں اس دین پر ایمان لایا تھا، جس کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تھا،پھر میں نے دو ہجرتیں بھی کی۔ (ایک ہجرتِ حبشہ اور دوسری ہجرت ِ مدینہ) اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا اور میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت بھی کی، اللہ کی قسم! میں نے نہ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خیانت کی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12248]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3696، 3872، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 480»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جو دعوی کر رہے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کو بدرجۂ اتم پورا کرنے والے تھے، رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَاَرْضَاہُ۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ، دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۲۸۵)

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3696
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. الْفَضْلُ الثَّانِي فِيمَا خَصَّهُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي السر
فصل دوم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12249
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ فَقَالَتْ لِي إِنَّ هَذِهِ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنْ تُصَدِّقِينِي بِكَذِبٍ قُلْتُهُ أَوْ تُكَذِّبِينِي بِصِدْقٍ قُلْتُهُ تَعْلَمِينَ أَنِّي كُنْتُ أَنَا وَأَنْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ قُلْتِ لَا أَدْرِي فَأَفَاقَ فَقَالَ ”افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ“ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ قُلْتِ لَا أَدْرِي ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ ”افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ“ فَقُلْتُ لَكِ أَبِي أَوْ أَبُوكِ قُلْتِ لَا أَدْرِي فَفَتَحْنَا الْبَابَ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَلَمَّا أَنْ رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”ادْنُهْ“ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي أَنَا وَأَنْتِ مَا هُوَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ”أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ“ قَالَ نَعَمْ قَالَ ”ادْنُهْ“ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ أُخْرَى مِثْلَهَا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ”أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ“ قَالَ نَعَمْ قَالَ ”ادْنُهْ“ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ إِكْبَابًا شَدِيدًا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ”أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ“ قَالَ نَعَمْ سَمِعَتْهُ أُذُنَيَّ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقَالَ لَهُ ”اخْرُجْ“ قَالَ قَالَتْ حَفْصَةُ اللَّهُمَّ نَعَمْ أَوْ قَالَتْ اللَّهُمَّ صِدْقٌ
ابو عبد اللہ جسری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہا ں گیا، ان کے ہاں سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتلایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، پھر وہ ان کی طرف متوجہ ہوئیں اور کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ اگر میں جھوٹ کہوں تو آپ نے میری تصدیق نہیں کرنی اور اگر میں سچ کہوں تو آپ نے میری تکذیب نہیں کرنی، کیا آپ جانتی ہیں کہ میں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی اور بے ہوشی طاری ہوگئی، میں نے تم سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پرواز تو نہیں کر گئی؟ تم نے کہا تھا: مجھے تو اس بارے کوئی علم نہیں ہے، اتنے میں کچھ دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ افاقہ ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے دروازہ کھول دو۔ پھر آپ پر غشی طاری ہوگئی، میں نے تم سے کہا: دیکھیں، کہیں آپ کی روح تو پرواز نہیں کر گئی؟ تم نے کہا تھا: مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوگیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے دروازہ کھول دو۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ میرے والد مراد ہیں یا تمہارے والد؟ تم نے کہا تھا: میں نہیں جانتی۔ پھر ہم نے دروازہ کھول دیا تو کیا دیکھا کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: قریب ہوجاؤ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آپ کے اوپر جھک گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ راز دارانہ بات کی، میں اور تم نہیں جانتی تھیں کہ وہ کیا بات تھی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اوپر اٹھالیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے جو کچھ کہا ہے، تم نے سمجھ لیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: پھر قریب ہو جاؤ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر اسی طرح جھک گئے، جیسے پہلی دفعہ کیاتھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ چپکے سے کوئی بات کی، جس کے متعلق ہم نہیں جانتی کہ وہ کیا بات تھی۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے جو بات کہی ہے، تونے اچھی طرح سمجھ لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ پھر فرمایا: میرے قریب ہو جاؤ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پہلے سے بھی زیادہ جھک گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر رازداری اور چپکے سے ان کے ساتھ کوئی بات کی، اس کے بعد انہوں نے اپنا سر اٹھالیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے جو کچھ کہاہے، کیاتم نے خوب سمجھ لیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے سمجھ لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: باہرچلے جاؤ۔ یہ سب کچھ سن کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں، یہ سب کچھ سچ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12249]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26799»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12250
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ادْعُوا لِي بَعْضَ أَصْحَابِي“ قُلْتُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ ”لَا“ قُلْتُ عُمَرُ قَالَ ”لَا“ قُلْتُ ابْنُ عَمِّكَ عَلِيٌّ قَالَ ”لَا“ قَالَتْ قُلْتُ عُثْمَانُ قَالَ ”نَعَمْ“ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ تَنَحَّى جَعَلَ يُسَارُّهُ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ وَحُصِرَ فِيهَا قُلْنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تُقَاتِلُ قَالَ لَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَإِنِّي صَابِرٌ نَفْسِي عَلَيْهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ایک صحابی کو بلاؤ۔ میں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: آپ کے چچا زاد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم ذرا ایک طرف ہوجاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ چپکے سے باتیں کرنا شروع کیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا رنگ فق ہونے لگا، پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر میں محصور کر دیا گیا تو ہم نے کہا: اے امیر المومنین! آپ ان باغیوں کے ساتھ لڑتے کیوں نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، میں لڑائی نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اس بات کا عہد لیا تھا اور میں ان حالات پر اپنے آپ کو صابر ثابت کرنے والا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12250]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 3711، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24757»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان احادیث کی روشنی میں اپنی مظلومانہ شہادت قبول کر لی اور امن والے شہر مدینہ منورہ میں انتقامی کاروائی کرنا گوارہ نہیں کیا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. الفَصْلُ الثَّالِثُ فِيمَا جَاءَ فِي حَيَائِهِ وَاسْتِحْيَاءِ الْمَلَائِكَةِ مِنْهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
فصل سوم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے شرم و حیا ء اور فرشتوں کا ان سے شرمانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12251
عَنْ سَالِمِ ابْنِ أَبِي جَمِيعٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ وَذَكَرَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَشِدَّةَ حَيَائِهِ فَقَالَ إِنْ كَانَ لَيَكُونُ فِي الْبَيْتِ وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَمَا يَضَعُ عَنْهُ الثَّوْبَ لِيُفِيضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ يَمْنَعُهُ الْحَيَاءُ أَنْ يُقِيمَ صُلْبَهُ
ابو جمیع سالم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:حسن نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے شدت حیا کا تذکرہ کیا اور کہا:وہ گھر میں ہوتے اور دروازہ بند ہوتا، تب بھی اپنے اوپر پانی ڈالنے کے لیے کپڑا نہیں اتارتے تھے اور حیاء کی وجہ سے وہ اپنی پشت کو سیدھا نہیں کر پاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12251]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير سالم بن ابي جميع، وثقه ابن معين، وقال ابوداود: شيخ، وقال احمد: ارجو ان لايكون به بأس، وقال ابوزرعة: لين الحديث، وقال الدارقطني: ليس بمتروك حمل الناس عنه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 543»

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات غير سالم بن ابي جميع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12252
عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَجِيلَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ جَارِيَةٌ تَضْرِبُ بِالدُّفِّ فَدَخَلَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَدَخَلَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَمْسَكَتْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ“
عبداللہ بن ابی اوفی ٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ایک بچی دف بجا رہی تھی، اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، پس وہ اندر آ گئے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آنے کی اجازت طلب کی، وہ بھی داخل ہو گئے، ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آنے کی اجازت طلب کی تو وہ لڑکی دف بجانے سے رک گئی، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عثمان باحیا آدمی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12252]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ابن ابي اوفي، وقد صح قوله صلي الله عليه وآله وسلم: ان عثمان رجل حيي من حديث عائشة وعثمان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19323»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ابن ابي اوفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12253
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ كَذَلِكَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ”اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ“ فَقَضَى إِلَيَّ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ“ وَقَالَ اللَّيْثُ وَقَالَ جَمَاعَةُ النَّاسِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ”أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ يَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ“
سیدنا سعید بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی چادر اوڑھے اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور اسی حالت میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت دے دی اور ان کی ضرورت پوری کردی، ان کے چلے جانے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہیں اجازت دے دی گئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی حالت میں رہے، ان کی ضرورت پوری کردی اور وہ چلے گئے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سید ھے ہوکر بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم بھی اپنے کپڑے اچھی طرح اپنے اوپر سمیٹ لو، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ضرورت پوری کی اور میں چلا گیا، یہ فرق دیکھ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آمد پر وہ اہتمام نہیں کیا، جو عثمان رضی اللہ عنہ کی آمد پر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عثمان رضی اللہ عنہ انتہائی شرم و حیا والے آدمی ہیں، اگر میں ان کو اسی حالت میں آنے کی اجازت دے دیتا تو مجھے اندیشہ تھا کہ وہ اپنی آمد کا مقصد بیان نہیں کر سکیں گے۔راوی حدیث لیث کہتے ہیں: اہل علم کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا میں ایسے آدمی سے حیا نہ کروں کہ جس سے اللہ کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12253]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25216 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25731»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2402
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12254
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا كَاشِفًا عَنْ فَخِذِهِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَأَرْخَى عَلَيْهِ ثِيَابَهُ فَلَمَّا قَامُوا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَذِنْتَ لَهُمَا وَأَنْتَ عَلَى حَالِكَ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ أَرْخَيْتَ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ فَقَالَ ”يَا عَائِشَةُ أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ وَاللَّهِ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَسْتَحْيِي مِنْهُ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ران سے کپڑا ہٹا ہوا تھا، اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہیں اجازت دے دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح بیٹھے رہے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آنے کی اجازت طلب کی، انہیں بھی آنے کی اجازت دے دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح بیٹھے رہے، ان کے بعد جب عثمان رضی اللہ عنہ نے آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑے کر لیے۔ جب سب لوگ چلے گے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی اور آپ نے ان حضرات کو آنے کی اجازت دے دی، جبکہ آپ اسی حالت میں ہی تشریف فرما رہے، لیکن جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑے کر لیے، اس فرق کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کیا میں اس آدمی سے حیا نہ کروں، کہ اللہ کی قسم! جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12254]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2401، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24834»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2401
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12255
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ وَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَذِنَ لَهُمْ وَجَاءَ عَلِيٌّ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ فَتَجَلَّلَ ثَوْبَهُ ثُمَّ أَذِنَ لَهُ فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً ثُمَّ خَرَجُوا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ لَمْ تَتَحَرَّكْ فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ ثَوْبَكَ فَقَالَ ”أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ“
سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز میرے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کپڑا پنی رانوں کے درمیان کرلیا،سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور اپنی اسی حالت میں بیٹھے رہے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی اندر آنے کی اجازت دے دی اور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اسی حالت میں بیٹھے رہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہیں بھی اجازت دی گئی اور اللہ کے رسول اپنی اسی حالت میں بیٹھے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ اور صحابہ آئے اور انھوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھی اجازت دے دی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی حالت پر تشریف فرما رہے، ان کے بعد جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کپڑوں کو سنبھال کر ترتیب دی اور اس کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت دی، یہ لوگ کچھ دیر باتیں کرتے رہے، اس کے بعد جب یہ لوگ اٹھ کر چلے گئے تو میں عائشہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کی خدمت میں سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا علی اور دوسرے صحابہ تشریف لائے، لیکن آپ نے کوئی حرکت نہ کی بلکہ اپنی اسی حالت میں بیٹھے رہے، لیکن جب جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے کپڑوں کو سمیٹ کر ترتیب دے دی، اس فرق کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ایسے شخص کا حیا نہ کروں کہ جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12255]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي: 7038، والطبراني في الكبير: 23/ 355، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27000»
وضاحت: فوائد: … ان فرمودات ِ نبویہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ان کی توقیر کا بیان ہے، چونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ انتہائی حیادار تھے، ان کی طبیعت میں صفت ِ حیا بدرجۂ اتم پائی جاتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کی اس طبیعت کا لحاظ رکھا اور مزید سنجیدگی اختیار کی، ان احادیث سے مطلق طور پر سیدنا عثمان کا صدیق و فاروق پر افضل ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ یہ ان کی جزوی فضیلت ہے، جس کی وجہ سے وہ دوسرے صحابہ سے ممتاز تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ممتاز صحابۂ کرام کی آمد پر جو فرق کیا ہے، ہر سلیم الفطرت اور حیادار آدمی اس کو سمجھتا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. الفضلُ الرَّابِعُ فِي صِفَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَذِكْرِ شَيْءٍ مِنْ خُطْبِهِ
فصل چہارم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12256
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُتَّكِئٌ عَلَى رِدَائِهِ فَأَتَاهُ سَقَّاءَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ بِوَجْنَتِهِ نَكَتَاتُ جُدَرِيٍّ وَإِذَا شَعْرُهُ قَدْ كَسَا ذِرَاعَيْهِ
حسن بن ابی حسن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنی چادر پر ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، اسی دوران دو آدمی جو لوگوں کو پانی پلانے کا کام کرتے، اپنے ایک جھگڑے کا فیصلہ کرانے کے لیے ان کی خدمت میں آئے، آپ نے ان کے درمیان فیصلہ کردیا، اس کے بعد میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو بغور دیکھا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ خوبصورت چہرے والے آدمی تھے اور آپ کے رخسار پر چیچک کے کچھ داغ تھے اور آپ کے بالوں نے آپ کے بازوؤں کو ڈھانپ رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12256]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو المقدام ھشام بن زياد القرشي، ضعّفه ابن معين، والبخاري، وقال النسائي: متروك الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 537»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12257
وَعَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَجْمَلِ النَّاسِ
ام موسیٰ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں میں بہت خوبصورت آدمی تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12257]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 522»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں