🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. فَضْلُ آخَرُ فِي عَدَدِ الْخُلَفَاءِ مِنْ قُرَيْشٍ
فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12038
عَنْ سَفِينَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَامًا ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ الْمُلْكُ“ قَالَ سَفِينَةُ أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ وَخِلَافَةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَشْرَ سِنِينَ وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اثْنَيْ عَشَرَ سَنَةً وَخِلَافَةَ عَلِيٍّ سِتَّ سِنِينَ
سیدنا سفینہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خلافت تیس برس تک رہے گی، بعد ازاں ملوکیت آجائے گی۔ سفینہ نے کہا، ذرا شمار کرو، دو سال سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت، دس سال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت، بارہ سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور چھ سال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12038]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 4647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22264»
وضاحت: فوائد: … خلفائے راشدین کے ادوار خلافت کی تفصیل یہ ہے:
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ: دو سال، تین ماہ، دس دن
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ: دس سال، چھ ماہ، آٹھ دن
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ: گیارہ سال، گیارہ ماہ، نو دن
سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ: چار سال، نو ماہ، سات دن
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ: چھ ماہ
سنن ابی داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((خِلَافَۃُ النُّـبُوَّۃِ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُؤْتِی اللّٰہُ الْمُلْکَ اَوْ مَلَّکَہُ مَنْ یَّشَائُ۔)) … تیس سال تک نبوت والی خلافت رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا، اپنی بادشاہت عطا کر دے گا۔ ملا علی قاری نے کہا: اس حدیث کا یہ معنی معلوم ہوتا ہے کہ تیس سال تک خلافت ِ کاملہ جاری رہے گی، اس میں مخالفت کا اور حق سے دور ہونے کا عنصر نہیں ہو گا، لیکن اس کے بعد کبھی یہ وصف مثبت نظر آئے گا اور کبھی منفی۔ (مرقاۃ: ۹/ ۲۷۱)
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ بادشاہت فی نفسہ کوئی مذموم چیز نہیں ہے، کہ اس حدیث کا معنی یہ کیا جائے کہ تیس سالہ دورِ خلافت کے بعد والی امارت و ملوکیت پر طعن و تشنیع شروع کر دیا جائے۔ اسلام میں وہ بادشاہت مذموم ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام سے عملاً یا علماً اور عملاً ناآشنا ہو۔ ایسے بادشاہ کو امیر المومنین کا لقب دیا جائے یا خلیفۃ المسلمین کا، اس سے اس کی امارت یا خلافت کو کوئی سہارا نہیں ملے گا۔ اسلام میں القاب کا اعتبار نہیں ہے، عمل
اور حقیقت کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی بادشاہ کا مقصد دین حق کی اشاعت اور اس کی سر بلندی، اسلامی تہذیب و تمدن کا نفاذ اور اس کا فروغ ہو، تو وہ قابل تعریف ہو گا، اگرچہ وہ باپ کے مر جانے کے بعد وراثۃً تخت نشین ہوا ہو۔ آج کل لوگوں نے نفس بادشاہت کو خلافت و نبوت کے منافی تصور کر رکھا ہے، جس کے لیے کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: وہ بادشاہت، جو تصورِ خلافت کے منافی اور مخالف ہے، وہ جبروتیت (اور سرکشی) ہے، جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس وقت کسریت سے تعبیر کیا تھا، جب اس کے کچھ ظاہری آثار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں انہوں نے دیکھے۔ لیکن وہ بادشاہت جس میں قہر و غلبہ، عصبیت اور شکوہ نہ ہو، وہ خلافت کے منافی ہے نہ نبوت کے۔ سلیمان علیہ السلام اور داود علیہ السلام دونوں نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے، لیکن اس کے باوجود وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور دنیوی امور میں راہِ مستقیم پر قائم رہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بادشاہت بھی ایسے ہی تھی، ان کا مقصد محض بادشاہت کا حصول یا دنیاوی عزّ و جاہ میں اضافہ نہ تھا۔ جب مسلمان اکثر حکومتوں پر غالب آ گئے تو طبعی عصبیت کی بنا پر ان کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوا، بہرحال وہ مسلمانوں کے خلیفہ تھے، انھوں نے مسلم قوم کی اسی طرح رہنمائی کی، جس طرح بادشاہ اپنی اقوام کی اس وقت کرتے ہیں، جب قومی عصبیت اور شاہی مزاج اس کا متقاضی ہوتا ہے۔
اسی طرح دیندار خلفاء کا حال ہے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد ہوئے۔ انہیں بھی جب ضرورت لاحق ہوئی شاہانہ طور طریقے استعمال کیے۔ ان خلفاء کے حالات کا مطالعہ کرتے وقت اس بات کی ضرورت ہے کہ صرف صحیح روایات پر اعتماد کیا جائے نہ کہ کمزور روایات پر۔ جس خلیفہ کے افعال ٹھیک ہوں وہ خلیفہ ٔ رسول ہے اور جو اس معیار پر پورا نہ اترے وہ دنیا کے عام بادشاہوں کی طرح بادشاہ ہے، اگرچہ اس کو خلیفہ ہی کیوں نہ کہا جاتا ہو۔ (تاریخ ابن خلدون: ۲/ ۱۴۲)
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اصل مطاع اور قانون ساز اللہ تعالیٰ ہے، خلیفہ کا منصب نہ قانون سازی ہے اور نہ اس کی ہر بات واجب الاطاعت ہے، وہ اللہ کے حکم کا پابند اور اس کو نافذ کرنے والا ہے اور اس کی اطاعت بھی اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ حکمرانی کا یہ تصور پہلے چار خلفاء کے دل و دماغ میں جس شدت کے ساتھ جاگزیں تھا، بعد میں یہ تصور بتدریج دھندلاتا چلا گیا، اسی کیفیت کو بادشاہت کے نام سے تعبیر کیا گیا، ورنہ فی الواقع بادشاہت اسلام میں مذموم نہیں ہے۔ سیدنا عمر بن عبد العزیز اصطلاحی طور پر بادشاہ ہی تھے، یعنی طریقہ ٔ ولی عہدی سے خلیفہ بنے تھے، لیکن اپنے طرزِ حکمرانی کی بنا پر اپنا نیک نام چھوڑ گئے۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں اور بھی متعدد بادشاہ ایسے گزرے ہیں، جن کے روشن کارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق مزین اور جن کی شخصیتیں تمام مسلمانوں کی نظروںمیں محمود و مستحسن ہیں۔ اسی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی اگر کوئی شخص بادشاہ کہنے پر مصر ہے تو بصد شوق کہے۔ ان جیسا عادل، خدا ترس اور عظیم کارنامے سرانجام دینے والا بادشاہ دنیا کی پوری تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر کوئی شخص اس نقطۂ نظر سے ان کو بادشاہ کہے کہ وہ اسلامی طرزِ حکومت سے دور ہٹ گئے تھے، ان کے دورِ حکومت کا نظام اسلامی نہیں تھا اور ان کو اخلاق و شریعت کی حدود پھاند جانے میںکوئی باک نہ تھا، جس طرح کہ مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت میں یہی کچھ باور کرانے کی کوشش کی ہے، تو یہ سراسر ظلم،ناانصافی، غیر متعدل طرزِ فکر اور یکسر امرِ واقعہ کے خلاف ہے۔ اس موضوع پر حافظ صلاح الدین یوسف کی کتاب خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت کا مطالعہ بہت مفید رہے گا۔ ان شاء اللہ۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12039
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ وَفَدْنَا مَعَ زِيَادٍ (وَفِي رِوَايَةٍ وَفَدْتُ مَعَ أَبِي) إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ نَعْزِيهِ) وَفِينَا أَبُو بَكْرَةَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَيْهِ لَمْ يُعْجَبْ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَيَسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ ”أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيًا“ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَاسْتَاءَ لَهَا وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَسَاءَهُ ذَاكَ ثُمَّ قَالَ ”خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ“ قَالَ فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا فَقَالَ زِيَادٌ لَا أَبًا لَكَ أَمَا وَجَدْتَ حَدِيثًا غَيْرَ ذَا حَدِّثْهُ بِغَيْرِ ذَا قَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُحَدِّثُهُ إِلَّا بِذَا حَتَّى أُفَارِقَهُ فَتَرَكَنَا ثُمَّ دَعَا بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَكَعَهُ بِهِ فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا فَقَالَ زِيَادٌ لَا أَبًا لَكَ أَمَا تَجِدُ حَدِيثًا غَيْرَ ذَا حَدِّثْهُ بِغَيْرِ ذَا فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُحَدِّثُهُ إِلَّا بِهِ حَتَّى أُفَارِقَهُ قَالَ ثُمَّ تَرَكَنَا أَيَّامًا ثُمَّ دَعَا بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَكَعَهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ أَتَقُولُ الْمُلْكَ (وَفِي رِوَايَةٍ تَقُولُ أَنَا مُلُوكٌ) فَقَدْ رَضِينَا بِالْمُلْكِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ
عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک وفد کی صورت میں زیاد کے ہمراہ گئے، ایک روایت میں ہے کہ میں اپنے والد کی معیت میں وفد کی صورت میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا، ایک اور حدیث میں ہے کہ عبدالرحمن نے کہا، ہم ان کے ہاں تعزیت کے لیے گئے، جب ہم ان کے ہاں پہنچے تو وہ کسی وفد کی آمد پر اس قدر خوش نہ ہوئے تھے، جس قدر وہ ہمارے وفد کے آنے پر خوس ہوئے، انہو ں نے کہا: ابو بکرہ! آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیں، سیدنا ابو بکر ہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھے خواب بہت پسند تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے پوچھا کرتے تھے کہ اگر کسی نے اچھا خواب دیکھا ہو تو وہ بیان کرے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہوتو وہ بیان کرے۔ ایک آدمی نے کہا: جی میں نے دیکھا کہ گویا ایک ترازو آسمان کی طرف سے نیچے کولٹکا دی گئی ہے، آپ کا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وزنی رہے، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تو لاگیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وزنی رہے، اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو تولاگیا، عمر وزنی رہے اس کے بعد ترازو کو اٹھا لیا گیا۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ غمگین ہوگئے، حماد نے بھی بیان کیا کہ یہ بات سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ افسردہ ہوگئے۔ اور پھر کہا: اس حدیث میں میں نبوت والی خلافت کی طرف اشارہ ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا، حکومت عطا فرمائے گا۔ یہ حدیث سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں اپنے دربار سے باہر بھجوادیا، زیاد نے کہا: کیا آپ کو اس کے سوا دوسری کوئی حدیث یاد نہ تھی؟ سیدنا ابوبکر ہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں جب تک ان کے پاس جاتا رہوں گا، ان کو یہی حدیث سناؤں گا، کچھ دنوں بعد ایک دفعہ پھر سیدنا معاویہ نے ہمیں بلوایا اور کہا: ابو بکرہ! آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث ہی بیان کر دیں، انہوں نے وہی حدیث دہرائی۔ سیدنا معاویہ کو یہ حدیث سنناناپسندگزرا اور انہوں نے ہمیں اپنے دربار سے باہر نکلوادیا۔ زیاد نے کہا: کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور حدیث یاد نہیں تھی؟ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں جب تک ان کے ہا ں جاتا رہوں گا، یہی حدیث سناتا رہوں گا، کچھ دنوں بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں پھر بلوایا اور کہا: ابو بکرہ! ہمیں کوئی حدیث ِ رسول ہی سنا دو، سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے پھر وہی حدیث ِ مبارکہ دوہرا دی، انہیں پھر ناگوار گزری، لیکن اس بار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ ہماری حکومت کو ملوکیت کہتے ہیں؟ ایک روایت میں ہے:آپ ہمیں خلیفہ کی بجائے بادشاہ کہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہم ملوکیت پر ہی راضی ہیں۔ابو عبدالرحمن نے کہا کہ میں نے یہ حدیث اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12039]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20777»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. البابُ الثَّالِثُ فِيمَا يَجِبُ عَلَى الْإِمَامِ وَالْأَمِيرِ، وَكُلٌ مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمُورِ النَّاسِ مِنَ الْعَدْلِ فِي رَعِيَّة وَعَدَمِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ، وَأَنَّهُ مَسْئُولٌ عَنْ ذلك
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12040
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عادل حکمران قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہوگا اور وہ سب سے بڑھ کر اللہ کے قریب جگہ پائے گا۔ اور قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند اور سب سے زیادہ سخت عذاب کا مستحق وہ حکمران ہوگا جو دنیا میں دوسروں پر ظلم ڈھاتا رہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12040]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عطية العوفي، اخرجه الترمذي: 1329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11545»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12041
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَيْسَ مِنْ وَالِي أُمَّةٍ قَلَّتْ أَوْ كَثُرَتْ لَا يَعْدِلُ فِيهَا إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ“
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے تھوڑے یا زیادہ افراد پر جس آدمی کو حکومت کرنے کا موقع ملے اور پھر وہ عدل سے کام نہ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چہرے کے بل جہنم میں ڈالے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12041]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه بنحوه البخاري: 7150، 7151، ومسلم: 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20556»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12042
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ إِلَّا الْعَدْلُ أَوْ يُوبِقُهُ الْجَوْرُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی دس افراد کی چھوٹی سی جماعت پر امیر اور حاکم مقرر ہوتا ہے، اسے قیامت کے روز باندھ کر پیش کیا جائے گا، اسے اس کا عدل وانصاف رہائی دلائے گااور اس کا ظلم وجور اس کو ہلاک کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12042]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه ابويعلي: 6570،و ابن ابي شيبة: 12/ 219، والبيھقي: 3/ 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9570»
وضاحت: فوائد: … جن حکمرانوں نے پوری مملکت اور اس کے کروڑوں باشندوں کو داؤ پر لگا رکھا ہے، ان کا کیا حشر ہو گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12043
عَنْ أَبِي قَحْذَمٍ قَالَ وُجِدَ فِي زَمَنِ زِيَادٍ أَوْ ابْنِ زِيَادٍ صُرَّةٌ فِيهَا حَبٌّ أَمْثَالُ النَّوَى عَلَيْهِ مَكْتُوبٌ هَذَا نَبَتَ فِي زَمَانٍ كَانَ يُعْمَلُ فِيهِ بِالْعَدْلِ
ابو قحذم کہتے ہیں: زیاد یا ابن زیاد کے عہد میں ایک تھیلی میں گٹھلیوں کے برابر غلے کے (موٹے موٹے) دانے ملے، ان پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ غلہ اس زمانہ میں ہوتا تھا، جب عدل کا دور دورہ تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12043]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لايثبت، وليس ھو بحديث، ابو قحذم، قال ابن معين: لا ادري ما اسمه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7936»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لايثبت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12044
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشَرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أَتَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُولًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَكَّهُ بِرُّهُ أَوْ أَوْبَقَهُ إِثْمُهُ أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو حکمران دس یا اس سے زیادہ افراد پر حکومت پائے، اسے قیامت کے د ن اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوا ہوگا، اس کی نیکی اس کو چھڑائے گی یا اس کا گناہ اس کو ہلاک کر دے گا، اس اقتدار کی ابتدا میں ملامت ہے، درمیان میں ندامت ہے اور اس کا انجام قیامت کے روز رسوائی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12044]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير: 7720، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22656»
وضاحت: فوائد: … موجودہ دور میں اس حدیث کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے، جب ایک حکمران امارت سنبھالتا ہے تو سارے کے سارے مخالفین اور موافقین میں سے بعض افراد اس پر سب و شتم کرتے ہیں۔
جب وہ عہدہ اس سے چھن جاتا ہے، یا وہ الیکشن میں ہار جاتا ہے تو اسے جس حسرت و ندامت اور شرمندگی و پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کوئی زبان اس کو تعبیر نہیں کر سکتی اور امارت کے مکمل تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے آخرت میں بھی رسوائی و ناکامی کا سامنا پڑے ہے۔ لیکن جو حاکم اللہ تعالیٰ کے حقوق کی پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی رعایا کے حقوق ادا کرے گا، وہ عظیم اور خوش بخت انسان ہو گا۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12045
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يُعْطِي الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا“ وَفِي رِوَايَةٍ ”يَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا، جو شمار کیے بغیر لوگوں کو مال عطا کیا کرے گا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وہ لوگوں میں اموال تقسیم کرے گا، مگر شمار نہ کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12045]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2914، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11025»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خلیفہ سے مراد امام مہدی ہیں:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام مہدی کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((فَیَجِیْئُ اِلِیْہِ الرَّجُلُ، فَیَقُوْلُ لَہُ: یَا مَھْدِیْ! اَعْطِنِیْ اَعْطِنِیْ، فَیَحْثِی لَہٌ فِیَ ثَوْبِہٖ مَا اسْتَطاعَ اَنْ یَحْمِلَہٗ۔)) … ایک آدمی اس کے پاس آ کر کہے گا: مہدی! مجھے دو، مجھے دو۔ پس وہ چلو بھر بھر کر اس کے کپڑے میں اتنا کچھ ڈال دے گا، جتنا وہ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو گا۔ (ترمذی، وفیہ زید العمی وھو ضعیف، وتابعہ العلابن بشیر وھو مجھول عند احمد: ۳/ ۳۷ مع تقدیم و تاخیر) مستدرک حاکم کی روایت سے مزید تائید ہوتی ہے، جس میں ہے: وہ (مہدی) لوگوں کو بہترین مال عطا کرے گا۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2914
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12046
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى وَعَدَلَ فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا وَإِنْ أَمَرَ بِغَيْرِ ذَلِكَ فَإِنَّ عَلَيْهِ فِيهِ وِزْرًا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امام اور حکمران ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے سے دشمن سے لڑاجاتا ہے اور اس کے ذریعہ دشمن کے وار سے بچاجاتا ہے، اگر وہ تقویٰ کا حکم دے اور عدل سے کام لے تو اسے ان کاموں کا اجر ملے گا اور اگر اس کے سوا کسی دوسری بات کا حکم دے تو اسے اس کا گناہ ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12046]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2957، ومسلم: 1841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10787»
وضاحت: فوائد: … تمام اجتماعی معاملات کا دار ومدار امام اور حکمران پر ہے،ا گر حکمران صالح ہو تو شرپسند عناصر بھی دب جاتے ہیں، لیکن اگر حکمران برا ہو تو خیر والے لوگ پس پردہ چلے جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2957
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12047
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا يَأْتِي عَلَيْنَا أَمِيرٌ إِلَّا وَهُوَ شَرٌّ مِنَ الْمَاضِي وَلَا عَامٌ إِلَّا وَهُوَ شَرٌّ مِنَ الْمَاضِي قَالَ لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقُلْتُ مِثْلَ مَا يَقُولُ وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ مِنْ أُمَرَائِكُمْ أَمِيرًا يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا يَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَسْأَلُهُ فَيَقُولُ خُذْ فَيَبْسُطُ الرَّجُلُ ثَوْبَهُ فَيَحْثِي فِيهِ“ وَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِلْحَفَةً غَلِيظَةً كَانَتْ عَلَيْهِ يَحْكِي صَنِيعَ الرَّجُلِ ثُمَّ جَمَعَ إِلَيْهِ أَكْنَافَهَا قَالَ ”فَيَأْخُذُهُ ثُمَّ يَنْطَلِقُ“
ابو الو داک کہتے ہیں: میں نے کہا: ہمارے اوپر جو بھی حکمران آتا ہے، وہ پہلے سے بدتر ہوتا ہے اور ہر آنے والا سال بھی گزشتہ سال سے برا ہوتا ہے۔یہ سن کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں بھی یہی کہتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اوپر ایک ایسا حکمران آئے گا جو خوب مال تقسیم کرنے والا ہو گا، اسے شمار تک نہیں کرے گا، جو آدمی اس کے پاس آکر سوال کرے گا، وہ کہے گا: لے جا، چنانچہ وہ آدمی اپنا کپڑا بچھا کر اسے بھر کر لے جائے گا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر ایک موٹی سی چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بچھا کر بیان کیا کہ وہ اسے یوں بھر لے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چادر کے کناروں کو پکڑ کر دکھایا۔ اور فرمایا: وہ مال سے بھری چادر کو یوں لے کر چلا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12047]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11962»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۰۴۵)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پیشین گوئی کا تعلق خاص دور سے ہے، ویسے عام تاریخی قانون یہی ہے کہ ہر آنے والے حکمران اور زمانے میں خیر کم ہو تی گئی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں