🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. فَصْل فِي تَحْدِيرِ وَلَاةِ الْأُمُورِ مِنْ بِطَانَةِ السُّوْءِ، وَمَا يَحِلُّ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِ اللَّهِ
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12058
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَا بُعِثَ مِنْ نَبِيٍّ وَلَا اسْتُخْلِفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا گیا اور کسی خلیفہ کو خلافت عطا نہیں کی گئی، مگر اس کے دو خاص مشیر ہوتے ہیں، ایک مشیر اسے اچھائی کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دلاتا ہے اور دوسرا مشیر اسے برائی کا حکم دیتا اور اس پر آمادہ کرتا رہتا ہے، بہرحال معصوم وہی ہو گا، جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12058]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7198، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11362»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7198
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12059
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَأَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَسَنٌ يَوْمَ الْأَضْحَى فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً فَقُلْتُ أَصْلَحَكَ اللَّهُ لَوْ قَرَّبْتَ إِلَيْنَا مِنْ هَذَا الْبَطِّ يَعْنِي الْوَزَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَكْثَرَ الْخَيْرَ فَقَالَ يَا ابْنَ زُرَيْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ مَالِ اللَّهِ إِلَّا قَصْعَتَانِ قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُهُ وَقَصْعَةٌ يَضَعُهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ“
عبداللہ بن زریر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عیدالا ضحی کے روز سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا،انہوں نے خزیرہ ہمیں پیش کیا، میں نے عرض کیا: اللہ آپ کے احوال کی اصلاح فرمائے، اگر آپ اس بطخ کے گوشت میں سے کچھ ہمارے سامنے پیش کر دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا، اللہ نے آپ کو آسودہ اور خوش حال بنایا ہے، انہوں نے کہا: اے ابن زریر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: خلیفہ کے لیے اللہ کے مال یعنی بیت المال میں صرف دو پیالے لینا حلال ہے، ایک پیالہ اپنے اور اس کے اہل و عیال کے کھانے کے لیے اور دوسرا لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12059]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 578»
وضاحت: فوائد: … خزیرہ: گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر ان کو پانی میں پکایا جاتا ہے، جب وہ پک جاتے ہیں تو ان پر آٹا ڈالا جاتا ہے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث پر یہ عنوان قائم کرتے ہیں: مَالِلْخَلِیْفَۃِ مِنْ بَیْتِ الْمَالِ … خلیفہ کا بیت المال میں کتنا حصہ ہے۔
دراصل خلیفہ عوام کا خادم ہوتا ہے، وہ لوگوں کی مذہبی اصلاح کرتا ہے، وہ لوگوں کو امن مہیا کرتا ہے، جس کا صلہ وہ اللہ تعالیٰ سے وصول کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلیفہ کو سادہ زندگی گزارنے کی رغبت دلائی۔
لیکن آج کل عہدے سنبھالنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ موجودہ دور کا معیار پورا کیا جائے اور مستقبل کے لیے بہت کچھ جمع کر لیا جائے، قطع نظر اس سے کہ وہ حلال ہے یا حرام، حکومتی عہدیدار اپنے ذاتی مقاصد پورے کرنے کے لیے قوم کی دولت داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
آخرت کا معاملہ تو در کنار، جو حکمران دنیا میں اپنی نیک نامی اور اچھائی پسند کرتا ہو، اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان اداؤں کا پابند بننا پڑے گا۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12060
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى وَبَرَةٍ مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ فَقَالَ ”مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهَذِهِ الْوَبَرَةِ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صدقہ کے اونٹ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب سے گزرے،آپ نے ایک اونٹ کے پہلو سے اون کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس اون کا جتنا حقدار ایک عام مسلمان ہے، میں میرا حق اس سے زیادہ حقدار نہیں ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12060]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده، اخرجه ابويعلي: 463، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 667 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 667»

الحكم على الحديث:
حسن بشواهده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. الْبَابُ الرَّابِعُ فِي النَّهْي عَنْ طَلْبِ الْإِمَارَةِ وَالتَّنْفِيرِ منها
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12061
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ“
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمن! حکمرانی یا ذمہ داری طلب نہ کرنا، اگر تجھے تیرے طلب کرنے کے بعد حکمرانی ملی تو تجھے اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور اگر تجھے طلب کرنے کے بغیر حکمرانی ملی تو اس بارے میں تیری مدد کی جائے گی اور جب تو کسی کام پر قسم اٹھائے، اسکے بعد تمہیں معلوم ہو کہ اس کے برعکس کام زیادہ بہتر ہے تو وہ کام کر لینا جو زیادہ بہتر ہو اور اپنے حلف کا کفارہ دے دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12061]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7147، ومسلم: ص 1456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20898»
وضاحت: فوائد: … اب اسلامی مملکتوں اور ان کے باسیوں کے مسائل کیسے حل ہوں گے، جبکہ اقتدار کے حصول کیے حریصانِ اقتدار یوں جھپٹ پڑتے ہیں، جیسے ہفتوں کے بھوکے دستر خوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
جب پوری مملکت کا نظام ان کے سپرد کر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت بھی شامل حال نہیں ہو گی تو عوام الناس کے مسائل کیسے حل ہوں گے، ایک تانت نہیں، پورا تانا بانا بگڑ گیا ہے۔
لیکن یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب مسلمانوں کے حالات ناسازگار نہ ہوں اور مستقبل میں زیادہ مسائل پیدا ہو جانے کا خطرہ ہو تو وہ آدمی مسئولیت کا مطالبہ کر سکتا ہے، جس کا مقصد پرخلوص انداز میں اہل اسلام کی خدمت اور امت مسلمہ کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینا ہو، جبکہ وہ اپنے اندر اتنی صلاحیت اور قابلیت کو محسوس بھی کرتا ہو، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے طویل قحط اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نبٹنے کے لیے وزارت کا سوال کیا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ فَلَمَّا کَلَّمَہ قَالَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔ قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَایِنِ الْاَرْضِ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ۔} … اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے لیے خاص کر لوں، پھر جب اس نے اس سے بات کی تو کہا بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانتدار ہے۔اس نے کہا مجھے اس زمین کے خزانوں پر مقرر کر دے، بے شک میں پوری طرح حفاظت کرنے والا، خوب جاننے والا ہوں۔ (سورہ ٔ یوسف: ۵۴، ۵۵)

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7147
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12062
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ حُجَيْرَةَ الشَّيْخَ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَاجَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِّرْنِي فَقَالَ ”إِنَّهَا أَمَانَةٌ وَخِزْيٌ وَنَدَامَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا“
ابن حُجیرہ کہتے ہیں:سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے سننے والے آدمی نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میں ایک رات صبح تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سرگوشیاں کرتا رہا، میں نے باتوں باتوں میں عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے کسی علاقہ کا امیربنادیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حکمرانی امانت ہے اور قیامت کے دن، شرمندگی، اور رسوائی کا باعث ہوگی، ما سوائے اس آدمی کے، جو اس ذمہ داری کو حق کے ساتھ لے اور اس ضمن میں اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12062]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1825، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21845»
وضاحت: فوائد: … بہت کم اور خاص لوگ ہیں، جنھوں نے حکمرانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت پائی ہے، وگرنہ اکثریت تو اپنی نا اہلی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے اس منصب کا حق ادا نہ کر سکی۔
قارئین کرام! آپ خود اندازہ لگائیں کہ ہم اپنے اپنے گھروں کے پانچ دس افراد کے اور اداروں کے پرنسپل اور مدیر سو دو سو بچوں کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہیں اور جو کروڑوں افراد کی ذمہ داری قبول کر لیتا ہے، وہ کیا کرے گا، الا ما شاء اللہ۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1825
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12063
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ لَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ“
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابوذر! تو کسی یتیم کے مال پر نگران نہ بننا اور دوآدمیوں کے اوپر امیر نہ بننا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12063]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1826، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21563 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21896»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1826
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12064
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ وَسَتَصِيرُ حَسْرَةً وَنَدَامَةً“ قَالَ حَجَّاجٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ”نِعْمَتِ الْمُرْضِعَةُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ“ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ وَسَتَصِيرُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَبِئْسَتِ الْمُرْضِعَةُ وَنِعْمَتِ الْفَاطِمَةُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ عنقریب امارت،حکمرانی کا لالچ کرو گے، لیکن یہ چیز قیامت والے دن بطورِ انجام حسرت اور ندامت ہو گی، یہ دودھ پلانے کے لحاظ سے تو بہت اچھی ہے، لیکن دودھ چھڑانے کی حیثیت میں بہت بری ہے۔ ایک روایت میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب امارت اور حکمرانی کا لالچ کر وگے، لیکن قیامت کے دن اس کا انجام مذامت اور حسرت ہوگا، یہ دودھ پلاتے ہوئے بہت اچھی اور دودھ چھڑانے کے بعد بہت بری لگتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12064]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10165»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابو الحسن سندھی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَۃُ (دودھ پلانے والی تو اچھی ہوتی ہے) سے مراد زندگی کی حالت ہے، جو امارت تک پہنچاتی ہے اور وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ (دودھ چھڑانے والی بڑی بری ہوتی ہے) سے مراد وہ حالت ہے، جس میں امارت کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے اور وہ موت ہے، ان دو جملوں کا مفہوم یہ ہوا کہ امارت والوں کی زندگی تو بڑی اچھی ہوتی ہے، لیکن موت بڑی بری ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۵۳۰)
دنیا میں سب سے زیادہ ذمہ داریاں وقت کے امیر او رحاکم پر عائد ہوتی ہیں، انھوں نے رعایا کے ہر فرد کی مذہبی ضرورت پوری کرنی ہے، اپنی سلطنت میں قرآن و حدیث کے احکام عملی طور پر نافذ کرنے ہیں، مساجد کی امامت کا عہدہ سنبھالنا ہے، موقع ملے تو فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھنا ہے، ہر گھر کی مالی اور دنیوی ضرورتیں پوری کرنی ہیں، رعایا کی دشمنانِ اسلام سے حفاظت کرنی ہے، اسلام کو پچھلی نسلوںسے منتقل کر کے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہے، رعایا کے کسی فرد کو کسی دوسرے فرد پر ظلم کرنے کا موقع نہیں دینا … … غرضیکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نیابت اختیار کرنی ہے۔
لیکن یہ ذمہ داریاں کون پوری کرے گا، خصوصا اس دور میں، جہاں عیاشیوں کے لیے عہدوں کے تختوں پر چڑھا
جاتا ہے۔ سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، کہ امارت و حاکمیت کی گھڑیاں ندامت و حسرت کا سماں پیدا کریں گی، لیکن اس وقت، جب پچھتاوا فائدہ نہیں دے گا۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7148
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12065
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَكُونُوا عَمِلُوا عَلَى شَيْءٍ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حکمرانوں کے لیے تباہی ہے، ان کے ماتحت افسروں اور کارندوں کے لیے ہلاکت ہے، دنیا میں جن لوگوں کو امین سمجھ کر امانات ان کے سپرد کی گئیں، ان کے لیے ہدایت ہے، یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ کاش ان کے سر کے بال ثریا ستارے کے ساتھ باندھ دئیے جاتے اور یہ آسمان اور زمین کے درمیان لٹکتے رہتے اور یہ ذمہ داری قبول نہ کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12065]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطيالسي: 2523، وابويعلي: 6217، والحاكم: 4/ 91، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10769»
وضاحت: فوائد: … اربابِ حکومت اور دوسرے عہدیداران اس حدیث کا بدرجۂ اتم مصداق ہیں، انتہائی شاذو نادر شخصیات کے علاوہ ہر کوئی جانبداری اور رشوت خوری میں مبتلا ہے۔ قوم کے خزانوں کے منہ مخصوص ہستیوں کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12066
وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”وَيْلٌ لِلْوُزَرَاءِ لَيَتَمَنَّى أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَأَنَّهُمْ لَمْ يَلُوا عَمَلًا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وزیروں کے لیے ہلاکت ہے، یہ لوگ قیامت کے دن یہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کے سر کے بالوں کو ثریا ستارے کے ساتھ لٹکا دیا جاتا اور یہ آسمان و زمین کے درمیان لٹکتے رہتے، لیکن یہ ذمہ داری قبول نہ کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12066]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10769»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10769
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12067
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّهُمْ كَرَاهِيَةً لِهَذَا الشَّأْنِ حَتَّى يَقَعَ فِيهِ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں میں سب سے اچھا اس آدمی کو پاؤگے جو امارت و حکمرانی کو سب سے زیادہ ناپسند کرتا ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس میں پڑ جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12067]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3496، ومسلم: 2526، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9402»
وضاحت: فوائد: … ایسے لوگ امارت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اس کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خلفائے راشدین اور عمر بن عبد العزیز جیسی ہستیوں کی سوانح عمریوں سے ان ذمہ داریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3496
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں