🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. البابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيُّ لَمْ يَتَخَلَّفْ قَبل وَفَاتِهِ
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12028
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ”إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِيكُمْ وَإِنَّكُمْ وُلَاتُهُ، وَلَنْ يَزَالَ فِيكُمْ حَتَّى تُحْدِثُوا أَعْمَالًا، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ شَرَّ خَلْقِهِ، فَيَلْتَحِيكُمْ كَمَا يُلْتَحَى الْقَضِيبُ.“
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: یہ خلافت تمہارے پاس رہے گی اور تم ہی اس کے مالک ہو، یہ اس وقت تک تمہارے پاس رہے گی جب تک تم غیر شرعی کام نہیں کرو گے، جب تم نے غیر شرعی کام کیے تو اللہ تعالیٰ برے لوگوں کو تمہارے خلاف کھڑا کر دے گا اور وہ تمہاری یوں چمڑی ادھیڑیں گے، جیسے چھڑی کو چھیل دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12028]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف علي وھم واختلاف فيه، أخرجه الطيالسي: 619، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17197»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف علي وھم واختلاف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12029
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْحُكْمُ فِي الْأَنْصَارِ، وَالدَّعْوَةُ فِي الْحَبَشَةِ، وَالْهِجْرَةُ فِي الْمُسْلِمِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ بَعْدُ.“
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خلافت قریش میں، عہدۂ قضا انصاریوں میں، دعوت و تبلیغ حبشیوں میں اور ہجرت مسلمانوں میں اور بعد والے مہاجروں میں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12029]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اسماعيل بن عياش، وان كان صدوقا حسن الحديث في روايته عن الشاميين، لايحتمل تفرده، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 298، والبخاري في الكبير: 4/ 338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17804»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں اغلبیت کا پہلو مد نظر رکھا گیا ہے کہ زیادہ تر مذکورہ عہدے مذکورہ قبائل میں ہی رہیں گے یا پھر اِن قبائل کی اعلی طبعی خوبیوں کو ملحوظِ خاطر رکھ کر ان کو یہ عہدے سونپے گئے۔ روایت سنداً کمزور ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12030
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ، مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ.“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک دو آدمی بھی باقی رہیں گے، یہ خلافت قریش میں ہی رہے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12030]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6121»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1471
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12031
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ“
سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حکومت کے معاملہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں، مسلمان، مسلم قریشیوں کے تابع ہیں اور کافر، کافر قریشیوں کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12031]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3495، ومسلم: 1818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7304»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3495
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12032
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الْأَمْرِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا مَا لِخِيَارِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حکومت کے معاملہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں،ـ جو لوگ قبل از اسلام اچھے تھے، وہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اچھے ہیں، بشر طیکہ وہ دین میں فقاہت حاصل کرلیں۔ اللہ کی قسم! اگر قریشی لوگوں کے مغرور ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتلا دیتا کہ ان میں سے اچھے لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا مقام ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12032]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17052»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12033
عَنْ ذِي مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كَانَ هَذَا الْأَمْرُ فِي حِمْيَرَ فَنَزَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُمْ فَجَعَلَهُ فِي قُرَيْشٍ وَسَيَعُودُ إِلَيْهِمْ“ وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابِ أَبِي مُقَطَّعٍ وَحَيْثُ حَدَّثَنَا بِهِ تَكَلَّمَ عَلَى الْإِسْتَوَاءِ
سیدنا ذو مخمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت و ملوکیت والا) معاملہ حمیر قبیلے میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے سلب کر کے قریش کے سپرد کر دیا، عنقریب یہ معاملہ ان ہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میرے باپ کی کتاب میں آخری الفاظ مقطّعات شکل میں تھے، البتہ انھوں نے ہم کو بیان کرتے وقت ان کو برابر ہی پڑھا تھا، (جیسے باقی حدیث پڑھی)۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12033]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه الطبراني في الكبير: 4227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16952»
وضاحت: فوائد: … حدیث میں مذکورہ حروفِ مقطعات (وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ) سے مراد وَسَیَعُوْدُ اِلَیْھِمْ ہے۔
حمیر یمن میں آباد ہونے والے عرب تھے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے پتہ چل رہا ہے، مشہور یہ ہے کہ یہ قحطان سے ہیں، ارطاۃ بن منذر تابعی نے کہا: قحطانی لوگ امام مہدی کے بعد نمودار ہوں گے اور امام مہدی کی سیرت اختیار کریں گے، درج ذیل حدیث میں مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ل((لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ یَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاہُ۔)) … قیامت اس وقت تک قیام نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ ایک قحطانی آدمی نکلے اور اپنی لاٹھی سے لوگوں کو ہانکے (یعنی حکومت کرے گا)۔ (صحیح بخاری: ۳۲۵۶، صحیح مسلم: ۵۱۸۲)
قریشی تقریبا ابتدائی چھ صدیوں تک حکومت کر تے رہے، بالآخر دین سے انحراف کرنے کی وجہ سے تاتاریوں نے ان کی سلطنت کو نیست و نابود کر دیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده جيّد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. فَضْلٌ فِي ذِكْرٍ حَدِيْثِ حُذَافَةَ الْجَامِعِ لَا طُوَارِ النُّبُوَّةِ وَالْخِلَافَةِ وَالْمُلْكِ
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12034
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ وَكَانَ بَشِيرٌ رَجُلًا يَكُفُّ حَدِيثَهُ فَجَاءَ أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ فَقَالَ يَا بَشِيرُ بْنَ سَعْدٍ أَتَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَمْرِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَهُ فَجَلَسَ أَبُو ثَعْلَبَةَ قَالَ حُذَيْفَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيًّا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ“
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔بشیر اپنی بات کو روک دیتے تھے۔ اتنے میں ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: بشیر بن سعد! کیا تجھے امراء کے بارے میں کوئی حدیثِ نبوی یاد ہے؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: (اس معاملے میں) مجھے آپ کا خطبہ یاد ہے۔ ابو ثعلبہ بیٹھ گئے اور حذیفہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق کچھ عرصہ تک نبوت قائم رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہیں گے اسے اٹھا لیں گے۔ نبوت کے بعد اس کے منہج پر اللہ کی مرضی کے مطابق کچھ عرصہ تک خلافت ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دیں گے، پھر اللہ کے فیصلے کے مطابق کچھ عرصہ تک بادشاہت ہو گی، جس میں ظلم و زیادتی ہو گا، بالآخر وہ بھی ختم ہو جائے گی، پھر جبری بادشاہت ہو گی، وہ کچھ عرصہ کے بعد زوال پذیر ہو جائے گی، اس کے بعد منہجِ نبوت پر پھر خلافت ہو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12034]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطيالسي: 438، والبزار في البحر الزخار: 2796، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18406 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18596»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. فَضْلُ آخَرُ فِي عَدَدِ الْخُلَفَاءِ مِنْ قُرَيْشٍ
فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12035
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ“ قَالَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ فَقَالُوا ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا قَالَ ”ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ“
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد بارہ خلفا آئیں گے، جن کا تعلق قریش خاندان سے ہوگا۔ یہ کہنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے، قریش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا: اس کے بعد کیاہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد قتل ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12035]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ثم يكون الھرج، اخرجه البخاري بجزء ه الاول فقط: 7222، 7223، ومسلم: 1821، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:20860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21150»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ثم يكون الھرج
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12036
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى يَكُونَ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ يَخْرُجُ كَذَّابُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثُمَّ تَخْرُجُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَ الْأَبْيَضِ كِسْرَى وَآلِ كِسْرَى وَإِذَا أَعْطَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِهِ وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ“
عامر بن سعد کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دین غالب رہے گا، یہاں تک کہ قریش کے بارہ خلفاء ہوں گے، ان کے بعد قیامت سے قبل کچھ جھوٹے لوگ پیدا ہوں گے، ان کے بعد مسلمانوں کی ایک جماعت آئے گی، وہ کسری اور آل کسری کے سفید خزانوں کو باہر نکال لائیں گے، جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو مال و برکت سے نوازے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ پر اور پھر اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے اور میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12036]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح وانظر الحديث السابق أخرجه مسلم: 1822، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21086»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی وضاحت میں مختلف قسم کی آراء پیش کی گئی ہیں۔ کیونکہ کئی صدیوں تک قریشیوں کی خلافت جاری رہی، کئی خلفاء اور امراء گزرے۔ اب اس حدیث میں مذکورہ بارہ خلفاء سے مراد کون لو گ ہیں؟ ہر ایک نے اس حدیث کے مختلف طرق سے ثابت ہونے والے متون اور تاریخ پر نگاہ رکھ کر اپنا اپنا نظریہ پیش کیا، کچھ تفصیل یہ ہے:
۱۔ اس حدیث کا مصداق یہ ہے کہ زمین کے مختلف خطوں میں یہ بارہ خلفاء ایک وقت میں ہوں گے اور پانچویں صدی ہجری میں عملی طور پر ایسے ہوا۔ اندلس میں پانچ افراد، جن میں ہر کوئی خلیفہ ہونے کا دعوی کرتا تھا، اُدھر مصر کا خلیفہ، بغداد میں عباسیوں کا خلیفہ اور اس کے ساتھ مختلف علاقوں میں علویوں اور خوارج کے خلفاء تھے۔
۲۔ اس سے مراد بنوامیہ کے بارہ خلفاء ہیں، بشرطیکہ ان میں صحابہ کو شمار نہ کیا جائے، اس اعتبار سے پہلا خلیفہ یزید بن معاویہ اور آخری مروان حمار تھا، یہ کل تیرہ بنتے ہیں۔ اگر مروان بن حکم کا شمار اس بنا پر نہ کیا جائے کہ ان کی صحبت میں اختلاف ہے یا وہ زبردستی قابض ہو گئے تھے تو یہ کل بارہ بنتے ہیں۔ بنوامیہ کے دور حکومت کے بعد فتنوں اور لڑائیوں کا دور شروع ہو گیا تھا۔
۳۔ یہ بارہ خلفاء امام مہدی کے بعد ہوں گے، جو آخری زمانے میں عیسی علیہ السلام سے پہلے تشریف لائیں گے۔
۴۔ اس سے مرادوہ درج ذ یل بارہ خلفاء ہیں جن پر لوگ متحد ہو گئے تھے: (۱) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (۲) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ (۳) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (۴) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (۵) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (۶) یزید بن معاویہ(۷) عبد الملک بن مروان(۸)ولید بن عبد الملک (۹) سلیمان بن عبد الملک (۱۰) یزید بن عبد الملک(۱۱) ہشام بن عبد الملک (۱۲)ولید بن یزید بن عبد الملک، سلیمان بن عبد الملک اور یزید بن عبد الملک کے درمیان عمر بن عبد العزیز کا دور تھا۔
۵۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عمر بن عبد العزیز تک کل چودہ خلفاء گزرے، ان میں دو کی نہ ولایت درست تھی اور نہ مدّت لمبی تھی اور وہ معاویہ بن یزید اور مروان بن حکم ہیں۔ ان میں سے اکثر خلفاء اپنے عہدِ خلافت میں ہر اعتبارسے تقریبا منظم رہے، اگرچہ قابل جرح امور بھی منظر عام پر آئے، لیکن وہ مثبت پہلووؤں کی بہ نسبت شاذو نادرتھے۔ (فتح الباری: ۷۲۲۲ کے تحت)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح وانظر الحديث السابق أخرجه مسلم: 1822
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12037
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ سَأَلْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمْ تَمْلِكُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ خَلِيفَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ قَدِمْتُ الْعِرَاقَ قَبْلَكَ ثُمَّ قَالَ نَعَمْ وَلَقَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”اثْنَا عَشَرَ كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ“
مسروق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ ہمیں قرآن کریم پڑھا رہے تھے، اس دوران ایک آدمی نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمن! کیا آپ نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبھی یہ دریافت کیا کہ اس امت میں کتنے خلفاء آئیں گے؟ انھوں نے کہا: میں جب سے عراق میں آیاہوں، آپ سے پہلے کسی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، جی ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا کہ میری امت میں خلفاء کی تعداد بارہ ہو گی، جو بنو اسرائیل کے نقباء کی تعداد تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12037]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد الھمداني، اخرجه البزار: 1586، وابويعلي: 5031، والحاكم: 4/ 501، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3781 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3781»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد الھمداني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں