الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. الْبَابُ الرَّابِعُ فِي النَّهْي عَنْ طَلْبِ الْإِمَارَةِ وَالتَّنْفِيرِ منها
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 12068
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ رَجُلَانِ مَعِي مِنْ قَوْمِي قَالَ فَأَتَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَا وَتَكَلَّمَا فَجَعَلَا يُعَرِّضَانِ بِالْعَمَلِ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ رُئِيَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدِي مَنْ يَطْلُبُهُ فَعَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“ قَالَ فَمَا اسْتَعَانَ بِهِمَا عَلَى شَيْءٍ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری قوم کے دو آدمی میرے ساتھ آئے، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کی اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئولیت کا مطالبہ کیا، ان کی یہ بات سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک تبدیل ہوگیا یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضی کے آثار آپ کے چہرہ پر دکھائی دینے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ـ: جو آدمی امارت کا طلبگار ہو، میر ے نزدیک تم سب سے بڑھ کر خائن ہے، تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کسی ذمہ داری پر مامور نہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12068]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام اخي اسماعيل بن ابي خالد، اخرجه النسائي في الكبري: 5931، وابوعوانة: 4/ 351، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19737»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام اخي اسماعيل بن ابي خالد
حدیث نمبر: 12069
عَنْ سِمَاكٍ عَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْفِتْنَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يَأْخُذُونَ الْمُلْكَ يَقْتُلُ عَلَيْهِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا“ قَالَ قُلْنَا لَهُ لَوْ حَدَّثَنَا غَيْرُكَ مَا صَدَّقْنَاهُ قَالَ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ
ثروان بن ملحان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے، ہمارے پاس سے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، ہم نے ان سے عرض کیا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتنہ کے بارے میں کچھ سنا ہو تو ہمیں بیان کریں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے، جو ایک دوسرے کو قتل کر کے حکومت حاصل کریں گے۔ ہم نے ان سے کہا: اگر کوئی دوسرا آدمی ہمیں یہ حدیث بیان کرتا تو ہم اس کی تصدیق نہ کرتے، انہوں نے کہا: ایسا عنقریب ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12069]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ثروان بن ملحان، اخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18510»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اقتدار کے حریصوں کی زندگیاں اسی انداز میں گزری ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ثروان بن ملحان
حدیث نمبر: 12070
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ بَعَثَنِي إِلَى الشَّامِ يَا يَزِيدُ إِنَّ لَكَ قَرَابَةً عَسَى أَنْ تُؤْثِرَهُمْ بِالْإِمَارَةِ وَذَلِكَ أَكْبَرُ مَا أَخَافُ عَلَيْكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَحَدًا مُحَابَاةً فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا حَتَّى يُدْخِلَهُ جَهَنَّمَ وَمَنْ أَعْطَى أَحَدًا حِمَى اللَّهِ فَقَدِ انْتَهَكَ فِي حِمَى اللَّهِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ أَوْ قَالَ تَبَرَّأَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
یزید بن ابی سفیان کہتے ہیں: سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب مجھے شام کی طرف روانہ کیا تو مجھ سے کہا: اے یزید! وہاں تیری قرابت داری ہے، ہوسکتا ہے تم ذمہ داریاں دینے میں اپنے قرابت داروں کو ترجیح دو، مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا سب چیزوں سے زیادہ اندیشہ ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے امور میں سے کسی امر کا ذمہ دار بنے، پھر وہ اپنی پسند کے پیش نظر کسی کو ان پر حاکم بنائے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ یایوں فرمایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ ختم ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12070]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الشيخ من قريش الذي روي عنه بقية، اخرجه الحاكم: 4/ 93، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الشيخ من قريش الذي روي عنه بقية
حدیث نمبر: 12071
وَعَنْ مَسْعُودِ بْنِ قَبِيصَةَ أَوْ قَبِيصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ يَقُولُ صَلَّى هَذَا الْحَيُّ مِنْ مُحَارِبٍ الصُّبْحَ فَلَمَّا صَلَّوْا قَالَ شَابٌّ مِنْهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ سَيُفْتَحُ لَكُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُهَا وَإِنَّ عُمَّالَهَا فِي النَّارِ إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَأَدَّى الْأَمَانَةَ“
مسعود بن قبیصہ یا قبیصہ بن مسعود کہتے ہیں کہ بنو محارب کے اس قبیلہ کے لوگوں نے نمازِ فجر ادا کی، جب وہ نماز پڑھ چکے تو ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: عنقریب تمہارے لیے زمین کے مشرق و مغرب کی فتح ہو گی، لیکن خبردار! نگران حکمران جہنم میں جائیں گے، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈر گئے اور امانت ادا کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12071]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شقيق بن حيان ومسعود بن قبيصة مجھولان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23497»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
9. الْفَضْلُ الْأَوَّلُ فِي الْأَئِمَّةِ الْمُضِلَّيْنَ كَفَانَا اللَّهُ شَرَّهُمْ
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
حدیث نمبر: 12072
قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي لِكَعْبٍ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ فَلَا تَكْتُمْنِي قَالَ وَاللَّهِ لَا أَكْتُمُكَ شَيْئًا أَعْلَمُهُ قَالَ مَا أَخْوَفُ شَيْءٍ تَخَوَّفُهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَئِمَّةً مُضِلِّينَ قَالَ عُمَرُ صَدَقْتَ قَدْ أَسَرَّ ذَلِكَ إِلَيَّ وَأَعْلَمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں، تم نے مجھ سے کوئی بات چھپانی نہیں ہے،سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جو کچھ جانتا ہوں، اللہ کی قسم! اس میں سے کچھ بھی آپ سے نہیں چھپاؤں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز سے خوف کھاتے ہو؟ انہوں نے کہا: گمراہ کرنے والے حکمرانوں سے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے درست کہا ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ بات راز دارانہ انداز سے بتلائی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12072]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، زھير بن سالم لم يسمع من عمر، وقال الدارقطني: حمصي منكر الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 293»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 12073
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى مَنْزِلِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِي مِنَ الدَّجَّالِ“ فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ شَيْءٍ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِكَ مِنَ الدَّجَّالِ قَالَ ”الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ“
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو بہ پہلو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی طرف جارہا تھا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: دجال کے علاوہ بھی ایک فتنہ ہے، جس کا مجھے اپنی امت پر اندیشہ ہے۔ جب میں اس بات سے ڈرا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے لگے ہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت پر دجال سے بھی زیادہ کس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12073]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21622»
وضاحت: فوائد: … دجال مسلمانوں اور کافروں دونوں کے حق میں بہت بڑی آزمائش ہو گا،مسلمانوں کے لیے موت سے پہلے اور کافروں کے لیے موت کے بعد، لیکن یہ آزمائش مسلمانوں کے لیے وقتی ہے، بالآخروہ سرمدی اور ابدی کامیابی حاصل کر لیں گے،گمراہ حکمرانوں کا مضرّ پہلو دجال کے شرّ و فساد سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ رعایا کا جو آدمی ظالم حکمرانوں کی موافقت کرنے لگے، اس کا دین و دنیا خسارے میں پڑ جاتے ہیں اور جو ان کی مخالفت کرے، وہ مصائب کی دھونکنی میں دھونک دیا جاتا ہے یا پھر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
ماضی اورحال میں ظالم اور گمراہ حکمرانوں کے قول و کردار نے اِن احادیث ِ مبارکہ کی توضیح و تصدیق کر دی ہے۔
ماضی اورحال میں ظالم اور گمراہ حکمرانوں کے قول و کردار نے اِن احادیث ِ مبارکہ کی توضیح و تصدیق کر دی ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12074
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الْأَئِمَّةُ الضَّالُّونَ“
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے تاکیداً فرمایا کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر گمراہ حکمرانوں کا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12074]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطيالسي: 975، والدارمي: 211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27485 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28033»
وضاحت: ۔
فوائد: … اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ … لوگ اپنے بادشاہوں والا دین اختیار کرتے ہیں۔ جیسا حکمران ہو گا، ویسی رعایا ہو گی۔ ظالم و جابر حکمرانوں سے عوام بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جو لوگ منافقت اور چاپلوسی کرتے ہوئے ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتے ہیں اور جو ان سے دور رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں، ان کو بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا تو ان کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا موت کے گھاٹ اترنا پڑتا ہے، یا پھر حکمرانوں کی پابندیوں کے مطابق زندگی گزارنی پڑتی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث سے مراد گمراہ کن مذہبی پیشوا اور مشائخ ہوں، جو اپنے مریدوں کا اعتقاد بڑھانے اور حسنِ عقیدت قائم رکھنے کے لیے ہزاروں طرح کے مکرو فریب کرتے ہیں اور اپنے مریدوں اور معتقدوں کو راضی رکھنے کے لیے ان کے خلافِ شرع کاموں پر سکوت اختیار کرتے ہیں، لعنت ہو ایسی مولویت اور مشائخیت پر، تر نوالوں کی خاطر شریعت کو مسخ کر رہے ہیں۔ آخر سلف صالحین بھی پیشوا تھے، جو اپنے لیے خود کمائی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضامندی کی خاطر لوگوں کو نصیحت کرتے، وہ دنیا داروں کے خوف و خطر، پاس و لحاظ اور خفگی و ناراضگی کی کوئی پروا نہ کرتے۔
فوائد: … اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ … لوگ اپنے بادشاہوں والا دین اختیار کرتے ہیں۔ جیسا حکمران ہو گا، ویسی رعایا ہو گی۔ ظالم و جابر حکمرانوں سے عوام بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جو لوگ منافقت اور چاپلوسی کرتے ہوئے ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتے ہیں اور جو ان سے دور رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں، ان کو بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا تو ان کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا موت کے گھاٹ اترنا پڑتا ہے، یا پھر حکمرانوں کی پابندیوں کے مطابق زندگی گزارنی پڑتی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث سے مراد گمراہ کن مذہبی پیشوا اور مشائخ ہوں، جو اپنے مریدوں کا اعتقاد بڑھانے اور حسنِ عقیدت قائم رکھنے کے لیے ہزاروں طرح کے مکرو فریب کرتے ہیں اور اپنے مریدوں اور معتقدوں کو راضی رکھنے کے لیے ان کے خلافِ شرع کاموں پر سکوت اختیار کرتے ہیں، لعنت ہو ایسی مولویت اور مشائخیت پر، تر نوالوں کی خاطر شریعت کو مسخ کر رہے ہیں۔ آخر سلف صالحین بھی پیشوا تھے، جو اپنے لیے خود کمائی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضامندی کی خاطر لوگوں کو نصیحت کرتے، وہ دنیا داروں کے خوف و خطر، پاس و لحاظ اور خفگی و ناراضگی کی کوئی پروا نہ کرتے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
10. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهُمْ
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
حدیث نمبر: 12075
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ”أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ“ قَالَ وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ قَالَ ”أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لَا يَقْتَدُونَ بِهَدْيِي وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَا يَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَسَيَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ تمہیں بے وقوفوں اور نااہل لوگوں کی حکمرانی سے بچائے۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: بے وقوفوں کی حکومت سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو امراء میرے بعد آئیں گے، وہ میرے طریقے کی اقتداء نہیں کریں گے اور میری سنتوں پر عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹے ہونے کے باوجود ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم وجور کے باوجود ان کی مدد کی، ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور نہ وہ مجھ پر میرے حوض پر آئیں گے اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی اعانت نہ کی، وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں اور یہی لوگ میرے پاس میرے حوض پر آئیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12075]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 4514، والحاكم: 4/ 422، والدارمي: 2776، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14494»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 12076
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَخَلَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ وَبَيْنَنَا وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ فَقَالَ ”إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے،ہم نو آدمی تھے، ہمارے درمیان چمڑے کا ایک تکیہ پڑا تھا، آپ نے فرمایا: عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے، جو ان کے پا س گیا اور ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی، … پھر سابق روایت کی طرح کے الفاظ ذکر کیے۔! مضارع کے نون اعرابی گرنے کی ظاہری کوئی وجہ نظر نہیں آتی (محقق مسند)۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12076]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه النسائي: 7/ 160، والترمذي: 2259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18306»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 12077
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12077]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه البزار: 2834، والطبراني في الاوسط: 8486، والطبراني في الكبير: 3020، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23649»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا متن یہ ہے:((إِنَّہَا سَتَکُونُ أُمَرَاء ُ یَکْذِبُونَ وَیَظْلِمُونَ فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ فَلَیْسَ مِنَّا وَلَسْتُ مِنْہُمْ وَلَا یَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَلَمْ یُعِنْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ فَہُوَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ وَسَیَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضَ۔)) … عنقریب جھوٹ بولنے والے اور ظلم کرنے والے امراء ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے گا، وہ نہ مجھ سے ہو گا اور نہ میں اس سے ہوں گا اور ایسا آدمی میرے پاس حوض پر نہیں آئے گا، لیکن جو شخص ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہیں کرے گا، پس وہ مجھ سے ہو گا اور میں اس سے ہوں گا اور وہ میرے پاس حوض پر آئے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين