الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
فصل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
حدیث نمبر: 12048
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ الْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ“ قَالَ سَمِعْتُ هَؤُلَاءِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَحْسَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ“
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں ہر کوئی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں باز پرس ہوگی، حکمران ذمہ دار ہے، اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا، مرد اپنے اہل وعیال کا ذمہ دار ہے، اس سے اس سے متعلقہ افراد کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی، عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے، اس سے اس کی ذمہ داریوں کے متعلق سوال وجواب ہوگا، خادم اپنے آقا کے مال پر نگران ہے، اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ الفاظ تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ انسان اپنے والد کے مال کا ذمہ دار اور نگران ہے، پس اس سے اس کے بارے میں بھی پوچھ گچھ ہوگی، غرضیکہ تم میں سے ہر آدمی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12048]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2409، 2558، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6026»
وضاحت: فوائد: … یہ ہر شخص کو آخرت کے معاملے میں فکر مند کر دینے والی حدیث ہے، عصر حاضر میں لوگوں نے دنیا کے ہر قسم کے یا بیشتر تقاضے پورے کر دیئے، لیکن غفلت برتی گئی تو ان ذمہ داریوں سے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے ہم پر عائد ہوتی تھیں، اولاد کی اسلامی تربیت، بیوی پر شریعت کا نفاذ، والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے حقوق، شاید ہی کوئی آدمی ایسا ہو جو ان حقوق کو ادا کر رہا ہو۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2409
حدیث نمبر: 12049
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدًا رَعِيَّةً قَلَّتْ أَوْ كَثُرَتْ إِلَّا سَأَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَقَامَ فِيهِمْ أَمْرَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمْ أَضَاعَهُ حَتَّى يَسْأَلَهُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ خَاصَّةً“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس بندے کو تھوڑی یا زیادہ رعایا پر حکمرانی عطا فرماتا ہے، اس سے ان کے متعلق قیامت کے روز پوچھے گا کہ اس نے ان میں اللہ کا حکم نافذ کیایا نہیں کیا، یہاں تک کہ خاص طور پر ا س سے اس کے اہل کے بارے میں بھی پوچھے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12049]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه عبد الرزاق: 20650، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4637»
وضاحت: فوائد: … ہمارے ملک میں ہر درپیش مسئلہ کو حکمرانوں کا جرم سمجھ لیا جاتا ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کی آزمائش اور اپنے کرتوتوں کا وبال، ہر کوئی بزعم خود انسانِ کامل بنا ہوا ہے اور تمام مسائل کا کیچڑ دوسروں پر اچھالا جا رہا ہے۔ ایسے میں نہ حالات سنورتے ہیں اور نہ روح کو تسکین ملتی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 12050
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى رَاعِيَ غَنَمٍ فِي مَكَانٍ قَبِيحٍ وَقَدْ رَأَى ابْنُ عُمَرَ مَكَانًا أَمْثَلَ مِنْهُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَيْحَكَ يَا رَاعِي حَوِّلْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”كُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بکریوں کے ایک چروا ہے کو دیکھا کہ وہ انتہائی گندی جگہ بکریاں چرا رہا تھا، جبکہ وہ ا س سے بہتر جگہ دیکھ آئے تھے، اس لیے انھوں نے کہا: چرواہے! تجھ پر افسوس ہے، ان بکریوں کو یہاں سے منتقل کر کے وہاں لے جا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر ذمہ دار سے اس کی رعایا کے متعلق باز پرس ہوگی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12050]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5200، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5869 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5869»
وضاحت: فوائد: … بکریوں کے چرواہے پر اس کے مالک کا حق ہے کہ وہ بکریوں کو مفید مقامات پر چرائے، وگرنہ وہ خائن اور مجرم قرار پائے گا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 5200
حدیث نمبر: 12051
عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اشْتَكَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعْنِي يَعُودُهُ فَقَالَ أَمَا إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَمْ أَكُنْ حَدَّثْتُكَ بِهِ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدًا رَعِيَّةً فَيَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ لَهَا غَاشٌّ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”فَهُوَ فِي النَّارِ“
حسن سے روایت ہے کہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار پڑ گئے اورعبید اللہ بن زیاد ان کی تیماداری کے لیے آئے، سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، جو میں نے پہلے نہیں سنائی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بند ے کو رعایا پر حکمرانی عطا فرمائے، لیکن اگر وہ حکمران ا س حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا کو دھوکا دیتا تھا تو اللہ تعالیٰ ا س پر جنت کو حرام کردیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: وہ جہنمی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12051]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7150، ومسلم: 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20557»
وضاحت: فوائد: … مساوات کے ساتھ رعایا کے حقوق پورے کرنا انتہائی کٹھن مرحلہ ہے، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَلِیْ اَمْرَ عَشَرَۃٍ فَمَا فَوْقَ ذٰلِکَ اِلاَّ اَتَاہٗ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَغْلُوْلًا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَدُہُ اِلٰی عُنُقِہٖ: فَکَّہٗ بِرُّہٗ اَوْ اَوْبَقَہٗ اِثْمُہٗ: اَوَّلُھَا مَـلَامَۃٌ، وَ اَوْسَطُھَا نَدَامَۃٌ، وَآخِرُھَا خِزْیٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) … جو آدمی دس یا زیادہ افراد کا والی بنا، اللہ تعالیٰ اسے روزِ قیامت اس حال میں لائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ جکڑا ہوا ہو گا، پھر اس کی نیکی اس کو آزاد کر دے گی یا اس کا گناہ اس کو ہلاک کر دے گا، اس (امارت) کے شروع میں ملامت، درمیان میں ندامت اور آخر میں (روزِ قیامت) رسوائی ملتی ہے۔ (مسند احمد: ۵/ ۲۶۷)
بہرحال ذمہ داریاں سنبھالنے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں مسئول ہیں اور کامیاب وہی ہے جو لوگوں کے آرام کو اپنے سکون پر ترجیح دیتا ہے۔
حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ حکمرانی عیاشی اور مال و دولت جمع کرنے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اتنی بڑی ذمہ داری ہے، کہ اس کو ادا کر دینے والوں کی تعداد بہت کم ہو گی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے عظیم حکمران کے سوانح عمری سے حکمرانی کی ذمہ داریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
بہرحال ذمہ داریاں سنبھالنے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں مسئول ہیں اور کامیاب وہی ہے جو لوگوں کے آرام کو اپنے سکون پر ترجیح دیتا ہے۔
حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ حکمرانی عیاشی اور مال و دولت جمع کرنے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اتنی بڑی ذمہ داری ہے، کہ اس کو ادا کر دینے والوں کی تعداد بہت کم ہو گی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے عظیم حکمران کے سوانح عمری سے حکمرانی کی ذمہ داریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7150
حدیث نمبر: 12052
وَبِالطَّرِيقِ الثَّانِي عَنِ الْحَسَنِ قَالَ مَرِضَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَضًا ثَقُلَ فِيهِ فَأَتَاهُ ابْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ فَقَالَ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنِ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً فَلَمْ يُحِطْهُمْ بِنَصِيحَةٍ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ“ قَالَ ابْنُ زِيَادٍ أَلَا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي بِهَذَا قَبْلَ الْآنَ قَالَ وَالْآنَ لَوْلَا الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ
۔ (دوسری سند) حسن سے مروی ہے کہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار پڑ گئے، مرض شدت اختیار کر گئی، ابن زیاد ان کی تیمارداری کے لیے آئے، سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو حکمرانی ملی اور وہ اپنی رعایا کے ساتھ بھلائی نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا،حالانکہ اس کی خوشبو سوسال کی مسافت سے محسوس ہوجاتی ہے۔ ابن زیادنے کہا: تم نے یہ حدیث اس سے پہلے بیان کیوں نہیں کی؟سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ جس مقام پر اب ہیں، اگر اس پر نہ ہوتے تو میں اب بھی آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12052]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20581»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
6. فَصْل فِي وَعِيدِ مَنِ احْتَجَبَ الْأُمُورَ عَنْ رَعِيَّتِهِ
فصل: اس حکمران کی وعید کا بیان جو رعایاکے امور کے سامنے رکاوٹیں ڈالتا ہے
حدیث نمبر: 12053
عَنْ أَبِي الشَّمَّاخِ الْأَزْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ وَلِيَ أَمْرًا مِنْ أَمْرِ النَّاسِ ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ الْمِسْكِينِ وَالْمَظْلُومِ أَوْ ذِي الْحَاجَةِ أَغْلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دُونَهُ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ حَاجَتِهِ وَفَقْرِهِ أَفْقَرَ مَا يَكُونُ إِلَيْهَا“
ابو الشماخ ازدی اپنے ایک چچا زاد بھائی، جو کہ صحابہ میں سے تھے، سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی لوگوں پر حاکم بنا اور اس نے مسکین، مظلوم یا ضرورت مند سے اپنا دروازہ بند کیا، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت اور فقر کے موقع پر اس پر اپنی رحمت کے دروازے بند کر دے گا، جبکہ وہ اس کی رحمت کا شدید محتاج ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12053]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي: 7378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16037»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں جو حقیقت بیان کی گئی ہے، عصر حاضر کے بااختیار عہدیداروں نے اس کی خوب وضاحت کر دی ہے۔ غریبوں اور بے کسوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کرنے والا کبھی بھی سکون کا سانس نہیں لے گا، بشرطیکہ اسے علم ہو کہ سکون اور بے سکونی کسے کہتے ہیں۔
دو جہانوں کے سردار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جیسے نادار اور نابینے صحابی کی آمد پر ناخوشگواری کا اظہار کریں، لیکن دورِ حاضر کا دو ٹکے کا آدمی لولے لنگڑوں سے ہم کلام ہونا گوارہ نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ خود فیصلہ کرے گا۔
دو جہانوں کے سردار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جیسے نادار اور نابینے صحابی کی آمد پر ناخوشگواری کا اظہار کریں، لیکن دورِ حاضر کا دو ٹکے کا آدمی لولے لنگڑوں سے ہم کلام ہونا گوارہ نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ خود فیصلہ کرے گا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12054
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَاحْتَجَبَ عَنْ أُولِي الضَّعْفَةِ وَالْحَاجَةِ احْتَجَبَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو لوگوں پر حکمرانی حاصل ہو اور وہ کمزروں اور ضرورت مندوں سے الگ تھلگ ہو جائے (اور ان کی ضروریات پوری نہ کرے) تو روزِ قیامت اللہ تعالیٰ اس سے منہ موڑ لے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12054]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني: 20/ 316، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22426»
وضاحت: فوائد: … جبکہ حکمرانی کے منصب پر فائز ہونے والوں کا یہ تو وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ سب سے پہلے کمزوروں اور ضرورت مندوں سے دور ہو جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12055
عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَسَنٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ يَا مُعَاوِيَةُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَا مِنْ إِمَامٍ أَوْ وَالٍ يُغْلِقُ بَابَهُ دُونَ ذَوِي الْحَاجَةِ وَالْخَلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ إِلَّا أَغْلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَمَسْكَنَتِهِ“ قَالَ فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا عَلَى حَوَائِجِ النَّاسِ
ابو الحسن سے روایت ہے کہ عمروبن مرہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے معاویہ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو حاکم ضرورت مندوں اور مسکینوں کے سامنے اپنا دروازہ بند کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت، حاجت اورمسکینی کے وقت آسمان کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص مقرر کر دیا، جو لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12055]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الترمذي: 1332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18196»
وضاحت: فوائد: … یقینا کفر کے لیڈروں کے سامنے مسلم ممالک اور ان کے حکمرانوں کی مرعوبیت کی یہی وجہ ہو گی کہ حاجت مندوں اور مسکینوں کو مسلم عہدیداران کے ہاں جانے کا کوئی حق ہی حاصل نہیں ہوتا، جبکہ انبیاء و رسل کے سردار کی کیفیت درج ذیل تھی:
سیدنا ابودردائ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ((أَبْغُوْنِی الضُعَفَائَ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُوْنَ وَتُنْصَرُوْنَ بِضُعَفَائِکُمْ۔)) … ضعفاء کو میرے لیے تلاش کر کے لاؤ،بیشک تم لوگ انہی کمزوروں کی وجہ سے رزق دیے اور مدد کئے جاتے ہو۔ (ابوداود: ۱/۴۰۵،نسائی: ۲/۶۵، ترمذی: ۳/۳۲)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کمزوروں کی وجہ سے لوگوں کی مدد کی جاتی ہے، یہ تائید و نصرت صالحین کی ذات کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کی دعا اور اخلاص کی وجہ سے ہوتی ہے،جیسا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ گمان ہو نے لگا کہ وہ اپنے سے کم مال والے صحابہ پر فضیلت رکھتے ہیں، تونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا یَنْصُرُ اللّٰہُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بِضَعِیْفِھَا: بَدَعْوَتِھِم وَ صَلَاتِھِمْ وإِخلاصھم۔)) … اللہ تعالیٰ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کی وجہ سے اس امت کی مدد کرتا ہے۔ (سنن نسائی: ۲/ ۶۵، الفوائد لتمام: ق ۱۰۵/ ۲، الحلیۃ لأبی نعیم: ۵/ ۲۶)
اس روایت کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، بلکہ مطلوبہ تفسیر کے علاوہ یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے، اور اسی طرح اس کو امام احمد (۱/ ۱۶۳) نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیحہ: ۷۷۹) اس حدیث کامعنی یہ ہے کہ ضعیف لوگوں کی عبادات و ادعیہ میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں لذت محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ان کے دل دنیا کی محبت اور چاہت سے خالی ہوتے ہیں، ان کا صرف ایک مقصد ہوتا ہے کہ ان کی دعائیں قبول اور ان کے اعمال پاک ہو جائیں۔ امیر اور غریب اور قوی اور ضعیف میں بیان کیا گیا مذکورہ بالا فرق امیر اور قوی لوگوں کے لیے قابل تسلیم نہیں ہے، کیونکہ وہ ان تجربات سے نہیں گزرے اور ان کو سرے سے یہ احساس نہ ہو سکا کہ اِن لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تعلق ہوتا ہے۔
سیدنا ابودردائ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ((أَبْغُوْنِی الضُعَفَائَ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُوْنَ وَتُنْصَرُوْنَ بِضُعَفَائِکُمْ۔)) … ضعفاء کو میرے لیے تلاش کر کے لاؤ،بیشک تم لوگ انہی کمزوروں کی وجہ سے رزق دیے اور مدد کئے جاتے ہو۔ (ابوداود: ۱/۴۰۵،نسائی: ۲/۶۵، ترمذی: ۳/۳۲)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کمزوروں کی وجہ سے لوگوں کی مدد کی جاتی ہے، یہ تائید و نصرت صالحین کی ذات کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کی دعا اور اخلاص کی وجہ سے ہوتی ہے،جیسا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ گمان ہو نے لگا کہ وہ اپنے سے کم مال والے صحابہ پر فضیلت رکھتے ہیں، تونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا یَنْصُرُ اللّٰہُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بِضَعِیْفِھَا: بَدَعْوَتِھِم وَ صَلَاتِھِمْ وإِخلاصھم۔)) … اللہ تعالیٰ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کی وجہ سے اس امت کی مدد کرتا ہے۔ (سنن نسائی: ۲/ ۶۵، الفوائد لتمام: ق ۱۰۵/ ۲، الحلیۃ لأبی نعیم: ۵/ ۲۶)
اس روایت کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، بلکہ مطلوبہ تفسیر کے علاوہ یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے، اور اسی طرح اس کو امام احمد (۱/ ۱۶۳) نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیحہ: ۷۷۹) اس حدیث کامعنی یہ ہے کہ ضعیف لوگوں کی عبادات و ادعیہ میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں لذت محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ان کے دل دنیا کی محبت اور چاہت سے خالی ہوتے ہیں، ان کا صرف ایک مقصد ہوتا ہے کہ ان کی دعائیں قبول اور ان کے اعمال پاک ہو جائیں۔ امیر اور غریب اور قوی اور ضعیف میں بیان کیا گیا مذکورہ بالا فرق امیر اور قوی لوگوں کے لیے قابل تسلیم نہیں ہے، کیونکہ وہ ان تجربات سے نہیں گزرے اور ان کو سرے سے یہ احساس نہ ہو سکا کہ اِن لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تعلق ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
7. فَصْل فِي تَحْدِيرِ وَلَاةِ الْأُمُورِ مِنْ بِطَانَةِ السُّوْءِ، وَمَا يَحِلُّ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِ اللَّهِ
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
حدیث نمبر: 12056
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا مِنْ نَبِيٍّ وَلَا وَالٍ إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَفِي رِوَايَةٍ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا وَمَنْ وُقِيَ شَرَّهُمَا فَقَدْ وُقِيَ وَهُوَ مَعَ الَّتِي تَغْلِبُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی اور حاکم کے دو ہم راز ہوتے ہیں، ایک ہم راز اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے اور دوسرا اس کی ہلاکت و تباہی کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا۔ جو حاکم اس کے شرّ سے بچ گیا، وہ تو محفوظ ہو گیا اور وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے جو ان میں سے غالب آجاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12056]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه النسائي: 7/ 158، والترمذي: 2369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7239»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی درج ذیل حدیث اِس حدیث کے معنی میں ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ وَلِیَ مِنْکُمْ عَمَلًا فَارَادَ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًا جَعَلَ لَہٗ وَزِیْرًا صَالِحًا اِنْ نَسِیَ ذَکَرَہٗ وَاِنْ ذَکَرَ اَعَانَہٗ۔)) … جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ذمہ دار بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اسے نیک وزیر عطا کرتا ہے، اگر وہ بھول جائے تو وہ اسے یاد کراتا ہے اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی اعانت کرتا ہے۔ ابن التین نے کہا: ممکن ہے کہ دو ہم رازوں سے مراد دو وزیر ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اِن سے مراد فرشتہ اور شیطان ہوں۔ جبکہ کرمانی کا خیال ہے کہ ان سے نفسِ امارہ اور نفسِ مطمئنہ بھی مراد لیے جا سکتے ہیں۔ (فتح الباری: ۱۳/۲۳۶)
حافظ ابن حجر نے اس بحث سے پہلے اشہب کا قول نقل کرتے ہوئے کہا: حاکم کو چاہیے کہ لوگوں کے احوال سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے بااعتماد، مامون، سمجھدار اور عقلمند لوگوں کی تقرری کرے، کیونکہ جب وہ غیر معتمد لوگوں کو معتبر سمجھنا شروع کرتا ہے، اس وقت تباہیاں حاکم کا مقدر بن جاتی ہیں۔ (فتح الباری: ۱۳/۲۳۶)
درج ذیل حدیث سے بھی اس موضوع کی خوب توضیح ہو رہی ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِالْاَمِیْرِ خَیْرًا جَعَلَ لَہٗ وَزِیْرَ صِدْقٍ: اِنْ نَسِیَ ذَکَّرَہٗ وَاِنْ ذَکَرَ اَعَانَہٗ، وَاِذَا اَرَادَ اللّٰہٗ بِہٖ غَیْرَ ذَالِکَ جَعَلَ لَہٗ وَزِیْرَ سُوْئٍ: اِنْ نَسِیَ لَمْ یُذَکِّرْہُ وَاِنْ ذَکَرَ لَمْ یُعِنْہٗ۔)) … جب اللہ تعالیٰ کسی امیر کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے سچا
وزیر عطا کر دیتے ہیں، جب وہ بھولتا ہے تو وہ اسے یاد کراتا ہے اور اگر اسے یاد ہوتا ہے تو وہ اس کی معاونت کرتا ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی امیر کے ساتھ دوسرا ارادہ کرتے ہیں تو اسے برا وزیر دے دیتے ہیں، جب وہ بھول جاتا ہے تو وہ اسے یاد نہیں کراتا اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا۔ (ابوداود: ۲۹۳۲)
لیکن کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی قانون میں داخل ہیں؟ تو دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حفاظت و سلامت میں رکھا، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے:
سیدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا بَعَثَ اللّٰہُ مِنْ نَّبِیٍّ وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِیْفَۃٍ اِلاَّ کَانَتْ لَہٗ بِطَانَتَانِ: بِطَانَۃً تَاْمُرُہٗ بِالْمَعْرُوْفِ وَتْحُضُّہٗ عَلَیْہِ وَبِطَانَۃً تَاْمُرُہٗ بِالشَّرِ وَتَحُضُّہٗ عَلَیْہِ فَالْمَعْصُوْمُ مَنْ عَصَمَ اللّٰہٗ تَعَالٰی۔)) … اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا اور نہ کسی خلیفے کو خلافت عطا کی، مگر اس کے ساتھ دو ہم راز ہوتے ہیں، ایک ہم راز اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور اس کی رغبت دلاتا ہے اور ایک ہم راز شرّ کا حکم دیتا ہے اور اس پر آمادہ کرتا ہے، اور معصوم وہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ بچا لے۔ (صحیح بخاری: ۷۱۹۸)
اس لیے شرّ والے ہم راز کی صحبت اور آمادگی سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات قبول کر لیں۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں دو ہم رازوں سے مراد فرشتہ اور شیطان ہوں، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلاَّ وَقَدْ وَکَّلَ اللّٰہٗ بِہٖ قَرِیْنَہٗ مِنَ الْجِنِّ)) قَالُوْا: وَاِیَّاکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَاِیَّایَ، اِلاَّ اَنَّ اللّٰہَ اَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ، فَـلَا یَأْمُرُنِیَ اِلاَّ بِخَیْرٍ۔)) … اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان مصاحب مقرر کر دیا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ (کا معاملہ بھی یہی ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی، میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی اور وہ مسلمان ہو گیا، اب وہ مجھے صرف خیر کا حکم دیتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۸۱۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ وَلِیَ مِنْکُمْ عَمَلًا فَارَادَ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًا جَعَلَ لَہٗ وَزِیْرًا صَالِحًا اِنْ نَسِیَ ذَکَرَہٗ وَاِنْ ذَکَرَ اَعَانَہٗ۔)) … جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ذمہ دار بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اسے نیک وزیر عطا کرتا ہے، اگر وہ بھول جائے تو وہ اسے یاد کراتا ہے اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی اعانت کرتا ہے۔ ابن التین نے کہا: ممکن ہے کہ دو ہم رازوں سے مراد دو وزیر ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اِن سے مراد فرشتہ اور شیطان ہوں۔ جبکہ کرمانی کا خیال ہے کہ ان سے نفسِ امارہ اور نفسِ مطمئنہ بھی مراد لیے جا سکتے ہیں۔ (فتح الباری: ۱۳/۲۳۶)
حافظ ابن حجر نے اس بحث سے پہلے اشہب کا قول نقل کرتے ہوئے کہا: حاکم کو چاہیے کہ لوگوں کے احوال سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے بااعتماد، مامون، سمجھدار اور عقلمند لوگوں کی تقرری کرے، کیونکہ جب وہ غیر معتمد لوگوں کو معتبر سمجھنا شروع کرتا ہے، اس وقت تباہیاں حاکم کا مقدر بن جاتی ہیں۔ (فتح الباری: ۱۳/۲۳۶)
درج ذیل حدیث سے بھی اس موضوع کی خوب توضیح ہو رہی ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِالْاَمِیْرِ خَیْرًا جَعَلَ لَہٗ وَزِیْرَ صِدْقٍ: اِنْ نَسِیَ ذَکَّرَہٗ وَاِنْ ذَکَرَ اَعَانَہٗ، وَاِذَا اَرَادَ اللّٰہٗ بِہٖ غَیْرَ ذَالِکَ جَعَلَ لَہٗ وَزِیْرَ سُوْئٍ: اِنْ نَسِیَ لَمْ یُذَکِّرْہُ وَاِنْ ذَکَرَ لَمْ یُعِنْہٗ۔)) … جب اللہ تعالیٰ کسی امیر کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے سچا
وزیر عطا کر دیتے ہیں، جب وہ بھولتا ہے تو وہ اسے یاد کراتا ہے اور اگر اسے یاد ہوتا ہے تو وہ اس کی معاونت کرتا ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی امیر کے ساتھ دوسرا ارادہ کرتے ہیں تو اسے برا وزیر دے دیتے ہیں، جب وہ بھول جاتا ہے تو وہ اسے یاد نہیں کراتا اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا۔ (ابوداود: ۲۹۳۲)
لیکن کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی قانون میں داخل ہیں؟ تو دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حفاظت و سلامت میں رکھا، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے:
سیدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا بَعَثَ اللّٰہُ مِنْ نَّبِیٍّ وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِیْفَۃٍ اِلاَّ کَانَتْ لَہٗ بِطَانَتَانِ: بِطَانَۃً تَاْمُرُہٗ بِالْمَعْرُوْفِ وَتْحُضُّہٗ عَلَیْہِ وَبِطَانَۃً تَاْمُرُہٗ بِالشَّرِ وَتَحُضُّہٗ عَلَیْہِ فَالْمَعْصُوْمُ مَنْ عَصَمَ اللّٰہٗ تَعَالٰی۔)) … اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا اور نہ کسی خلیفے کو خلافت عطا کی، مگر اس کے ساتھ دو ہم راز ہوتے ہیں، ایک ہم راز اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور اس کی رغبت دلاتا ہے اور ایک ہم راز شرّ کا حکم دیتا ہے اور اس پر آمادہ کرتا ہے، اور معصوم وہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ بچا لے۔ (صحیح بخاری: ۷۱۹۸)
اس لیے شرّ والے ہم راز کی صحبت اور آمادگی سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات قبول کر لیں۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں دو ہم رازوں سے مراد فرشتہ اور شیطان ہوں، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلاَّ وَقَدْ وَکَّلَ اللّٰہٗ بِہٖ قَرِیْنَہٗ مِنَ الْجِنِّ)) قَالُوْا: وَاِیَّاکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَاِیَّایَ، اِلاَّ اَنَّ اللّٰہَ اَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ، فَـلَا یَأْمُرُنِیَ اِلاَّ بِخَیْرٍ۔)) … اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان مصاحب مقرر کر دیا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ (کا معاملہ بھی یہی ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی، میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی اور وہ مسلمان ہو گیا، اب وہ مجھے صرف خیر کا حکم دیتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۸۱۴)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 12057
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَأَرَادَ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ فَإِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس آدمی کو مسلمانوں کے معاملات سپرد کردے اور پھر اس کے بارے میں خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو مخلص وزیر عطا کر دیتا ہے، وہ اگر بھولنے لگتا ہے تو وہ وزیر اسے یاددہانی کرادیتا ہے اور اگر اسے بات یادرہتی ہے تو وہ وزیر اس کی اعانت کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12057]
تخریج الحدیث: «صحيح، اخرجه ابوداود: 2932، والنسائي: 7/ 159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24918»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جو حکمران مسلمانوں کے ساتھ مخلص ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اپنے لیے اچھے حواریوں کا انتخاب کریں گے۔
الحكم على الحديث:
صحيح