🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي قُدُومٍ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْبَصْرَةِ واسْتَنْفَارِ أَهْلِهَا لِمَوْقِعَةِ الْجَمَل
فصل دوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12338
عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٍّ أَرَأَيْتَ مَسِيرَكَ هَذَا عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْ رَأْيًا رَأَيْتَهُ قَالَ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا قُلْتُ دِينَنَا دِينَنَا قَالَ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَلَكِنْ رَأْيًا رَأَيْتُهُ
قیس بن عبادسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سید نا علی رضی اللہ عنہ سے گزارش کی کہ آپ جس راہ پر چل رہے ہیں، اس بارے میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کوئی حکم ہوا تھا یا یہ آپ کی اپنی رائے ہے؟ انہوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا؟ میں نے کہا:ہمارا دین ہے، یہ ہمارے دین کی بات ہے، یہ ایسی ویسی چیز نہیں ہے، انہوں نے کہا: اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ نہیں فرمایا، بس یہ میری اپنی رائے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12338]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 4666، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1271 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1271»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي بَعْثِ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَن رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا لِاسْتِنْفَارِ أَهْلِ الْكُوفَةِ
فصل سوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12339
عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَاهُمْ فَخَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَوْ إِيَّاهَا
ابو وائل سے مروی ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ لوگوں کو لڑائی کے لیے نکلنے پر آمادہ کریں، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: میں جانتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دنیا و آخرت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس موقع پر آزمایا ہے کہ تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیتے ہو یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12339]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3772، 7101، 7100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18521»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3772
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12340
عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتَ قِتَالَكُمْ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ قَالَ حَجَّاجٌ أَرَأَيْتَ هَذَا الْأَمْرَ يَعْنِي قِتَالَهُمْ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ أَوْ عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ فِي أُمَّتِي قَالَ شُعْبَةُ وَيَحْسِبُهُ قَالَ حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ إِنَّ فِي أُمَّتِي اثْنَيْ عَشَرَ مُنَافِقًا“ فَقَالَ ”لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنْ نَارٍ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ فِي صُدُورِهِمْ“
قیس بن عباد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے گزارش کی کہ آپ اپنی اس لڑائی کے متعلق ذرا یہ واضح کریں کہ آیا یہ آپ کی اپنی رائے اور ذاتی موقف ہے،کیونکہ ایسی رائے تو غلط بھی ہوسکتی ہے اور درست بھی، یا یہ تم لوگوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کوئی حکم دیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں الگ سے ایسا کوئی حکم نہیں دیا جو عام لوگوں کے لیے نہ ہو،نیز انہوں نے کہا: البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ میری امت میں بارہ منافق ہوں گے، و ہ جنت میں داخل نہ ہوسکیں گے اور نہ وہ جنت کی خوشبو پائیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے میں داخل ہو جائے، ان میں سے آٹھ کو ایک پھوڑا کافی ہوگا، یہ آگ کے شعلہ کی مانند ہوگا، جو ان کے کندھوں پر ابھرے گا اور ان کے سینوں پر جا کر ظاہر ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12340]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18885 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19091»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2779
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12341
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَمْ شَيْئًا عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَلَكِنَّ حُذَيْفَةَ أَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا مِنْهُمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ“
۔ (دوسری سند) قیس کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: تم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں جو کچھ کہہ رہے ہو، ذرا اس کے متعلق یہ تو بتلاؤ کہ یہ تمہاری اپنی رائے ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں اس بارے میں کچھ ہدایات دی ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں الگ سے کوئی ایسا حکم نہیں دیا، جو عام لوگوں کو نہ دیا ہو، البتہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھیوں میں بارہ منافق ہوں گے، ان میں آٹھ جنت میں ہرگز نہیں جاسکیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے میں سے گزر جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12341]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23708»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23708
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12342
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ جَدِّ أَبِيهِ الْمُخَارِقِ قَالَ لَقِيتُ عَمَّارًا يَوْمَ الْجَمَلِ وَهُوَ يَبُولُ فِي قَرْنٍ فَقُلْتُ أُقَاتِلُ مَعَكَ فَأَكُونُ مَعَكَ قَالَ قَاتِلْ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِهِ
مخارق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں جنگ ِ جمل والے دن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو ملا، جبکہ وہ سینگ میں پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ مل کر لڑنا چاہتا ہوں، اس طرح تمہارے ساتھ رہوں گا، لیکن انھوں نے کہا: تو اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر لڑائی کر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پسند کیا کرتے تھے کہ آدمی اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر قتال کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12342]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطرابه، أخرجه ابويعلي: 1641، والبزار: 1429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18506»
وضاحت: فوائد: … اس طرح کرنے سے مجاہد دلیری سے لڑتا ہے۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امت مسلمہ دو گروہوں میں بٹ گئی، ایک گروہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حامی تھا، جو کہ خلیفۂ برحق تھا اور دوسرا گروہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ان کے اختلاف کی بنیاد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص لینا تھا، جبکہ ان قاتلین نے اپنے آپ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حامیوں میں ظاہر کر رکھا تھا۔
ذہن نشین رہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا نظریہ یہ تھا کہ علی الفور قاتلین ِ عثمان سے قصاص لیا جائے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس معاملے میں کچھ تاخیر کے قائل تھے اور حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف اقرب الی الصواب تھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ادائیگیٔ حج کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس آنے کی بجائے عراق کا رخ کر لیا، تاکہ قاتلینِ عثمان سے قصاص لیا جا سکے۔
قصاص کی بنیاد پر وجود پانے والی ان آویزشوں کا انجام امت مسلمہ کی باہمی لڑائیوں کی صورت میں ظاہر ہوا، اس سلسلہ کی ایک کڑی جنگ جمل ہے۔
اردو خوان طبقہ تفصیل کے لیے تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی اور خلفائے راشدین از شاہ معین الدین ندوی کا مراجعہ کریں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لاضطرابه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. الْفَضْلُ الأول في شُجَاعَةِ عَمَّارٍ وَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12343
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ رَأَيْتُ عَمَّارًا يَوْمَ صِفِّينَ شَيْخًا كَبِيرًا آدَمَ طُوَالًا آخِذًا الْحَرْبَةَ بِيَدِهِ وَيَدُهُ تَرْعَدُ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ قَاتَلْتُ بِهَذِهِ الرَّايَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَهَذِهِ الرَّابِعَةُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ ضَرَبُونَا حَتَّى يَبْلُغُوا بِنَا شَعَفَاتِ هَجَرَ لَعَرَفْتُ أَنَّ مُصْلِحِينَا عَلَى الْحَقِّ وَأَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ
عبداللہ بن سلمہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے: میں نے جنگ صفین کے روز سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے، ان کا رنگ گندمی اور قد طویل تھا، وہ اپنے ہاتھ میں نیزہ تھامے ہوئے تھے اور ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا، انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس جھنڈے کے ساتھ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں تین جنگیں لڑچکا ہوں، آج چوتھی جنگ ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اگر یہ لوگ ہمیں مار مار کر ہجر کے پہاڑوں کی طرف مار بھگائیں، تب بھی میں جانتا ہوں کہ ہماری اصلاح کرنے والے حق پر اور دوسرے گمراہی کی راہ پر ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12343]
تخریج الحدیث: «ھذا الاثر اسناده ضعيف، عبد الله بن سلمة المراد الكوفي قد اختلط وسماع عمرو بن مرة منه بعد اختلاطه، اخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 289، وابويعلي: 1610، وابن حبان: 7080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19090»

الحكم على الحديث:
ھذا الاثر اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12344
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ مَا زَالَ جَدِّي يَعْنِي خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَافًّا سِلَاحَهُ يَوْمَ الْجَمَلِ حَتَّى قُتِلَ عَمَّارٌ بِصِفِّينَ فَسَلَّ سَيْفَهُ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“
محمد بن عمارہ کہتے ہیں: میرا دادا سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دن اپنا اسلحہ روکے رکھا، یہاں تک کہ جب صفین میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے، تو انہوں نے اپنی تلوار نکالی اور شہید ہونے تک لڑتے رہے، انہوں نے وجہ یہ بیان کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک باغی گروہ عمار کوقتل کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12344]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، ابو معشر نجيح بن عبد الرحمن السندي ضعيف، ومحمد بن عمارة من رجال التعجيل، وھو لم يشھد القصة، فحديثنه ھذا منقطع، اخرجه الحاكم: 3/ 397، والطبراني: 2711،وابن ابي شيبة: 15/ 302، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22217»

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12345
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ“ قَالَ فَجَعَلَ عَمَّارٌ يَقُولُ أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنَ الْفِتَنِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: افسوس کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، یہ ان کو جنت کی طرف بلائے گا، لیکن وہ اس کو جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ یہ سن کر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے:میں فتنوں سے رحمان کی پناہ چاہتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12345]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 447، 2812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11883»
وضاحت: فوائد: … جنگ صفین، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین ہوئی تھی، اگرچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ برحق تھے، لیکن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تابعین کے علاوہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت بھی موجود تھی، تو ان کے حق میں اس ارشادِ نبوی کا کیا مفہوم ہو گا کہ وہ جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے؟ حافظ ابن حجر نے کہا: جواب یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کا گمان یہ تھا کہ وہ جنت کی طرف بلا رہے ہیں، جبکہ وہ مجتہد تھے اور اپنے ظن پر عمل کر رہے تھے، اس لیے ان پر ملامت نہیں کی جا سکتی، مراد یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گروہ اپنے مخالفین کو جنت کے سبب یعنی خلیفہ کی اطاعت کی طرف بلا رہا تھا، جبکہ خلیفہ کی اتباع واجب تھی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ اپنے مخالفین کو اس کے برعکس یعنی خلیفہ کی بغاوت کی طرف بلا رہے تھے، لیکن ان کو ان کی تاویل کی روشنی میں معذور سمجھا جائے گا۔ (فتح الباری: ۱/ ۵۴۲)
آسان لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بغاوت ایک جرم ہے اور ہر جرم جہنم کا سبب ہے، لیکن اگر بغاوت کرنے والا کسی اجتہاد اور تاویل کی روشنی میں اپنی بغاوت کو درست سمجھ رہا ہو تو وہ معذور ہو گا اور اس کے بارے میں صرف یہ کہا جائے گا کہ اس سے خطا ہو گئی ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 447
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12346
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ قَالَ عَمَّارٌ يَوْمَ صِفِّينَ ائْتُونِي بِشَرْبَةِ لَبَنٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”آخِرُ شَرْبَةٍ تَشْرَبُهَا مِنَ الدُّنْيَا شَرْبَةُ لَبَنٍ“ فَأُتِيَ بِشَرْبَةِ لَبَنٍ فَشَرِبَهَا ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقُتِلَ
ابو بختری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صفین کے روز سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس پینے کے لیے دودھ لاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دنیا کا جو مشروب آخر میں پیو گے، وہ دودھ ہو گا۔ پس ان کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا، انہوں نے وہ پی لیا، اس کے بعد وہ میدان کی طرف بڑھ گئے اور شہید ہوئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12346]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 15/302، والحاكم: 3/ 389، والبيھقي في الدلائل: 2/ 552، وابويعلي: 1626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19086»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12347
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ قُتِلَ عَمَّارٌ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“ فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَزِعًا يُرَجِّعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا شَأْنُكَ قَالَ قُتِلَ عَمَّارٌ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ فَمَاذَا قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ دُحِضْتَ فِي بَوْلِكَ أَوَ نَحْنُ قَتَلْنَاهُ إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا أَوْ قَالَ بَيْنَ سُيُوفِنَا
محمد بن عمروبن حزم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو سیدنا عمر و بن حزم رضی اللہ عنہ، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتلایاکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں، جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھاکہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمروبن عاص رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی حالت دیکھ کر پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: عمار قتل ہوگئے تو پھر کیا ہوا؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفرماتے سنا ہے کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم اپنے پیشاب میں پھسلو، کیا ہم نے اس کو قتل کیاہے؟ اسے تو علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے مروایا ہے، وہ لوگ انہیں لے آئے اور لا کر ہمارے نیزوں یا تلواروں کے درمیان لا کھڑا کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12347]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه عبد الرزاق: 20427، والحاكم: 2/ 155 وابويعلي: 7175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17931»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں