🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. الْفَصْلُ الثَّانِي وَفِيهِ أَحَادِيثُ مُتَفَرِّقَةٌ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
فصل دوم: سید نا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12308
عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحْبَةِ وَهُوَ يَنْشُدُ النَّاسَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ وَهُوَ يَقُولُ مَا قَالَ فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ“
ابو عمر زاذان کہتے ہیں:میں نے رحبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہہ رہے تھے کہ جو آدمی غدیر خم کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے جو آپ نے فرمایا (جواب سے آپ کے اس فرمان کی سمجھ آرہی ہے) پس تیرہ آدمی کھڑے ہو گئے اور انھوں نے یہ گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12308]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 641»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12309
عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ وَعَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالَا نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحْبَةِ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ قَالَ فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِيدٍ سِتَّةٌ وَمِنْ قِبَلِ زَيْدٍ سِتَّةٌ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ”أَلَيْسَ اللَّهُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ“ قَالُوا بَلَى قَالَ ”اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ“
سعید بن وہب اور زیدبن یثیع کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رحبہ میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہا کہ جس کسی نے غدیر خم کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ اٹھ کر کھڑا ہوجائے، پس سعید کی طرف سے چھ اور زید کی جانب سے بھی چھ آدمی کھڑے ہو گئے اور ان سب نے گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غدیر خم کے روز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا مومنین پر اللہ کا حق زیادہ نہیں؟ صحابہ نے کہا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، یا اللہ! جو اس سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو اس سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12309]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه البزار: 2541، والطبراني: 4970، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 950»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12310
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرٍو مَرَّ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي عَنْ سَعِيدٍ وَزَيْدٍ وَزَادَ فِيهِ ”وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ“
سعید اور زید یہ بھی روایت کرتے ہیں، اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جو علی کی مدد کرے، تو بھی اس کی مدد کر اور جو اس کو چھوڑ دے، تو بھی اس کو چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12310]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 951»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 951
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12311
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فَقَامَ خَمْسَةٌ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ“
سعید بن وہب سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اللہ کا واسطہ دیا، توپانچ چھ صحابہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے یہ گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12311]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23495»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. الْفَضْلُ الرَّابِعُ فِي قَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم لِلْإِمَامِ عَلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هُرُونَ مِنْ مُوسَى الخ
فصل چہارم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امام علی رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12312
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ وَأَنَا أَهَابُكَ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهُ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ عِنْدِي عِلْمًا فَسَلْنِي عَنْهُ وَلَا تَهَبْنِي قَالَ فَقُلْتُ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ حِينَ خَلَّفَهُ بِالْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ سَعْدٌ خَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا بِالْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُخَلِّفُنِي فِي الْخَالِفَةِ فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ ”أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى“ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَدْبَرَ عَلِيٌّ مُسْرِعًا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارِ قَدَمَيْهِ يَسْطَعُ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ فَرَجَعَ عَلِيٌّ مُسْرِعًا
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سعد بن مالک یعنی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ سے ایک حدیث کی بابت دریافت کرنا چاہتا ہوں، لیکن آپ سے ہیبت زدہ بھی ہوں،انہوں نے کہا: بھتیجے! ایسا نہ کرو، اگر تم جانتے ہو کہ میرے پا س کسی چیز کا علم ہے تو پوچھ لو اور مجھ سے مت ڈرو، میں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے مدینہ ـ میں چھوڑ گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے مدینہ میں چھوڑا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پیچھے رہ جانے والے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہو جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسو ل! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خوشی خوشی تیزی سے واپس ہوگئے، گویا کہ اب بھی میں ان کے قدموں سے اڑتا غبار دیکھ رہا ہوں۔ حماد راوی کے الفاظ یہ ہیں:یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تیزی سے واپس ہولیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12312]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه مسلم: 2404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1490»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12313
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْكِي يَقُولُ تُخَلِّفُنِي مَعَ الْخَوَالِفِ فَقَالَ ”أَوَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا النُّبُوَّةَ“
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے،یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثنیۂ وداع تک پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا: آپ مجھے پیچھے رہ جانے والوں یعنی عورتوں اور بچوں میں چھوڑ ے جارہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہو، جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا، ما سوائے نبوت کے فرق کے؟ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12313]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1463»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1463
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12314
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخَلِّفَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيَّ إِذَا خَلَّفْتَنِي قَالَ فَقَالَ ”مَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ أَوْ لَا يَكُونُ بَعْدِي نَبِيٌّ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (غزوۂ تبوک کے موقع پر) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑ جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھے یوں پیچھے چھوڑ جائیں گے تو لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارا تعلق میرے ساتھ وہی ہو، جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کا تھا، الایہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12314]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الترمذي: 3730، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14693»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12315
عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ عَلِيٍّ فَقَالَ لَهَا رَفِيقِي أَبُو سَهْلٍ كَمْ لَكِ قَالَتْ سِتَّةٌ وَثَمَانُونَ سَنَةً قَالَ مَا سَمِعْتِ مِنْ أَبِيكِ شَيْئًا قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ ”أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ“
موسیٰ جہنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فاطمہ بنت علی کی خدمت میں گیا،میرے رفیق ابو سہل نے ان سے کہا: آپ کی عمر کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: چھیاسی برس، ابو سہل نے کہا: آپ نے اپنے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کے بارے میں کیا کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہارا مجھ سے وہی مقام ہے، جو ہارون علیہ السلام کا موسی علیہ السلام سے تھا، الایہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12315]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه النسائي في الكبري: 8143، والطبراني: 24/384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27621»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مطلق طور پر افضل ہونا لازم نہیں آتا، بلکہ ان احادیث میں خلیفۂ چہارم کی ایک فضیلت بیان کی گئی ہے اور ان احادیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفۂ بلا فصل ہوں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق اس موقع سے ہے، جب غزوۂ تبوک کے موقع پر ان کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا، آپ خود غور کریں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہارون علیہ السلام سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جبکہ اہل تاریخ کے نزدیک ہارون علیہ السلام، موسی علیہ السلام کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے اور موسی علیہ السلام نے ان کو اس وقت اپنا نائب بنایا تھا، جب وہ اپنے ربّ سے سرّ و مناجات کرنے کے لیے گئے تھے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جیسے ہارون علیہ السلام کا استخلاف عارضی طور پر تھا، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس نیابت کا تعلق ان پچاس دنوں سے تھا، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. الْفَضْلُ الْخَامِسُ فِي اخْتِيَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا لَا خُذِ الراية يَوْمَ خَيْبََر وَفِيهِ مَنقَبَةٌ لِعَلِى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمُعْجِرَةٌ لِلنَّبِيٌ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت او رنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12316
عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ ”لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ“ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ ”أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ“ فَقَالَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ قَالَ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ ”انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ“
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبروالے دن فرمایا: میں کل یہ جھنڈا ایک ایسے آدمی کو تھماؤں گا، جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گاوہ آدمی اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ لوگ ساری رات اسی شش و پنج میں رہے کہ ان میں سے کسے یہ جھنڈا دیا جائے گا؟ صبح ہوئی تو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہر ایک کو توقع تھی کہ جھنڈا اسے ملے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ اے اللہ کے رسول! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں، لوگوں کو انہیں لانے کے لیے بھیجا گیا، جب ان کو لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایا اور ان کے حق میں دعا فرمائی، وہ فوراً یوں ٹھیک ہوگئے کہ گویا انہیں کوئی تکلیف نہ تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جھنڈا تھما دیا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ـ میں ان کے ساتھ اس وقت تک قتال کرتا رہوں، یہاں تک کہ وہ ہماری طرح مسلمان ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اطمینان کے ساتھ روانہ ہو جاؤ، یہاں تک کہ ان کے سامنے جا پہنچو، تم سب سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا اور انہیں بتلانا کہ اسلام میں ان پر اللہ کے فلاں فلاں حق واجب ہیں، اللہ کی قسم! اگر تیرے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو ہدایت دے دے تو یہ تیرے لیے بیش قیمت سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12316]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3009، 4210، ومسلم: 2406، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23209»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3009
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12317
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي أَبِي بُرَيْدَةُ قَالَ حَاصَرْنَا خَيْبَرَ فَأَخَذَ اللِّوَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَانْصَرَفَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ ثُمَّ أَخَذَهُ مِنَ الْغَدِ فَخَرَجَ فَرَجَعَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ وَأَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ شِدَّةٌ وَجَهْدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي دَافِعٌ اللِّوَاءَ غَدًا إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَرْجِعُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ“ فَبِتْنَا طَيِّبَةً أَنْفُسَنَا أَنَّ الْفَتْحَ غَدًا فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْغَدَاةَ ثُمَّ قَامَ قَائِمًا فَدَعَا بِاللِّوَاءِ وَالنَّاسُ عَلَى مَصَافِّهِمْ فَدَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ وَفُتِحَ لَهُ قَالَ بُرَيْدَةُ وَأَنَا فِيمَنْ تَطَاوَلَ لَهَا
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے خیبر کا محاصرہ کیا، جھنڈا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا، وہ واپس آ گئے اور فتح نہیں ہوئی، دوسرے دن پھر جھنڈا ان ہی کے پاس رہا، اس دن بھی وہ لوٹ آئے اور فتح نہ ہو سکی، اس روز لوگوں کو کافی تکلیف اور مشقت کا سامنا کرنا پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کل یہ جھنڈا ایسے آدمی کے حوالے کروں گا کہ اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، و ہ فتح کے بغیر واپس نہیں آئے گا۔ ہم نے خوشی خوشی میں رات گزاری کہ کل فتح ہو جائے گی، جب صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھنڈا منگوایا، لوگ صفوں میں بیٹھے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا، ان کی آنکھیں دکھتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب مبارک لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کیا، ان کے ہاتھوں فتح نصیب ہوئی۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جھنڈا حاصل کرنے کی خواہش میں جن لوگوں نے گردنیں اٹھائی ہوئی تھیں، میں بھی انہی میں شامل تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12317]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه النسائي في الكبري: 8402، والبيھقي: 9/ 132، والحاكم: 3/ 37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23381»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں