🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. الْبَابُ الثَّالِثُ ذِكْرُ شَيْءٍ مِنْ خُطْبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
باب سوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض خطبات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12328
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ مُعَلَّقَةً بِسَيْفِهِ أَخَذْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ مُعَلَّقَةً بِسَيْفٍ لَهُ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ أَوْ قَالَ بَكَرَاتُهُ حَدِيدٌ أَيْ حَلَقُهُ
طارق بن شہاب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہ منبر پر کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم! ہمارے پاس اللہ کی کتاب کے سوا کوئی کتاب یا تحریر نہیں، جو ہم تم لوگوں کے سامنے پڑھیں اور ایک یہ صحیفہ ہے، جو تلوار کے ساتھ معلق ہے، اس کے بارے میں انھوں نے کہا: یہ صحیفہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیا ہے، اس میں زکوٰۃ کے جانوروں کی عمروں کا بیان ہے، و ہ صحیفہ جس تلوار کے ساتھ معلق تھا ا س کے حلقے لوہے کے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12328]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه البزار: 513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 782»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12329
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنَ الْوَحْيِ أَوْ قَالَ كِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةِ الْمَقْرُونَةِ بِسَيْفِي وَعَلَيْهِ سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ وَفِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَاتِ
۔ (دوسری سند) طارق بن شہاب کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں کہا: ہمارے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی تحریر یا وحی میں سے الگ کوئی چیز نہیں ہے،بس وہی کچھ ہے، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے اور اس صحیفے میں ہے، جو میری تلوار کے ساتھ ملا ہوا ہے، اس وقت ایک تلوار ان کے پاس تھی، جس کے حلقے لوہے کے تھے اور اس صحیفہ میں زکوٰۃ کے جانوروں کی عمروں کا بیان تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12329]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 798»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12330
عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَحِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ لَمْ أَرَهُ ضَحِكَ ضَحِكًا أَكْثَرَ مِنْهُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ ذَكَرْتُ قَوْلَ أَبِي طَالِبٍ ظَهَرَ عَلَيْنَا أَبُو طَالِبٍ وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُصَلِّي بِبَطْنِ نَخْلَةَ فَقَالَ مَاذَا تَصْنَعَانِ يَا ابْنَ أَخِي فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ مَا بِالَّذِي تَصْنَعَانِ بَأْسٌ أَوْ بِالَّذِي تَقُولَانِ بَأْسٌ وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَعْلُونِي إِسْتِي أَبَدًا وَضَحِكَ تَعَجُّبًا لِقَوْلِ أَبِيهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ لَا أَعْتَرِفُ أَنَّ عَبْدًا لَكَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَبَدَكَ قَبْلِي غَيْرَ نَبِيِّكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَقَدْ صَلَّيْتُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّاسُ سَبْعًا
حبہ عرنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ منبر پر خوب ہنسے، میں نے ان کو کبھی بھی اتنا ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا، آپ اس قدر زور سے ہنسے کہ آپ کی داڑھیں نمایاں ہوگئیں اور پھر کہا: مجھے ابو طالب کی بات یاد آئی ہے، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ وادیٔ نخلہ میں نماز ادا کر رہا تھا کہ ابو طالب آگئے، انہوں نے کہا:بھتیجے! تم دونوں کیا کر رہے ہو؟ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی، اس نے کہا: تم جو کام کر رہے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اللہ کی قسم! میری دبر مجھ سے اونچی کبھی نہ ہوگی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے والد کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے ہنسے تھے، اس کے بعد انہوں نے کہا: یا اللہ میں نہیں جانتا کہ اس امت میں تیرے نبی کے سوا مجھ سے قبل تیرے کسی بندے نے تیری عبادت کی ہو، یہ بات انہوں نے تین مرتبہ دہرائی، لوگوں کے نماز پڑھنے سے بہت پہلے میں نے نمازیں پڑھی ہیں، یہ بات آپ نے سات مرتبہ دہرائی۔1
! یا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے نماز پڑھنے سے پہلے میں نے سات دن نماز پڑھی ہے اس کے بعد دیگر لوگ مسلمان ہوئے ہیں۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12330]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، يحيي بن سلمة بن كھيل متروك الحديث، وفي حديثه عن ابيه مناكير، وحبة العرني ضعيف أيضا، اخرجه الطياسي: 188، والبزار: 651، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 776»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12331
أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ الْمُزَنِيُّ حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَى مَا فِي يَدَيْهِ قَالَ وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ} [البقرة: 237] وَيَنْهَدُ الْأَشْرَارُ وَيُسْتَذَلُّ الْأَخْيَارُ وَيُبَايِعُ الْمُضْطَرُّونَ قَالَ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّينَ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ
بنو تمیم کے ایک بزرگ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: لوگوں پر ایسا سخت زمانہ بھی آئے گا کہ خوش حال لوگ اپنی چیزوں پر انتہائی بخل کریں گے، حالانکہ انہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے: { وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ} …، نیز انھوں نے کہا: اور برے لوگوں کی تکریم کی جائے گی، اچھے لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا اور لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے خرید وفروخت کی جائے گی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجبورکی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیع کرنے سے، دھوکے کی بیع کرنے سے اور پھلوں کے تیار ہونے سے قبل ان کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12331]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي عامر المزني، ولجھالة الشيخ من بني تميم، اخرجه ابوداود: 3382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 937»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي عامر المزني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12332
عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ بَلَغَتْ مِيَاهَ بَنِي عَامِرٍ لَيْلًا نَبَحَتِ الْكِلَابُ قَالَتْ أَيُّ مَاءٍ هَذَا قَالُوا مَاءُ الْحَوْأَبِ قَالَتْ مَا أَظُنُّنِي إِلَّا أَنِّي رَاجِعَةٌ فَقَالَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهَا بَلْ تَقْدَمِينَ فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ فَيُصْلِحُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَاتَ بَيْنِهِمْ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ ”كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ“
قیس سے مروی ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (مدینہ منورہ سے بصرہ جاتے ہوئے) بنی عامر کے پانیوں تک پہنچیں تو کتے بھونکنے لگے، انہوں نے کہا: یہ کون سی جگہ ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ حوأب کے پانی کا مقام ہے، انھوں نے کہا: میرا خیال تو یہی ہے کہ میں واپس لوٹ جاؤں، لیکن ان کے بعض ہم سفروں نے کہا: اب آپ واپس نہ جائیں، بلکہ آگے بڑھیں، ممکن ہے کہ مسلمان آپ کو دیکھیں اور اللہ تعالیٰ ان کے مابین صلح کر ادے گا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز ہم سے فرمایا تھا کہ تم میں سے ایک کی اس وقت کیا حالت ہوگی، جب اس پرحوأب کے کتے بھونکیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12332]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 15 259، وابويعلي: 4868، وابن حبان: 6732، والحاكم: 3/ 120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24758»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے درج ذیل شاہد سے مفہوم کی وضاحت ہو جاتی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیویوں سے فرمایا: ((لَیْتَ شَعْرِیْ! أَیَّتُکُنَّ صَاحِبَۃُ الْجَمَلِ الْأَدْبَبِ، تَخْرُجُ فَیَنْبَحُھَا کِلَابُ الْحَوْأَبِ، یُقْتَلُ عَنْ یَمِیْنِھَا وََعْن یَسَارِھَا قَتْلٰی کَثِیْرٌ، ثُمَّ تَنْجُوْ بَعْدَ مَا کَادَتْ؟!)) … کاش مجھے پتہ چل جاتا! تم میں کون ہے، جو ایسے اونٹ پر سوار ہو گی، جس کے چہرے کے بال بہت زیادہ ہوں گے، وہ نکلے گی اور اس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے، اس کے دائیں اور بائیں جانب لوگوں کی کثیر تعداد کو قتل کر دیا جائے گا، وہ خود بال بال بچ جائے گی۔ (قال الالبانی: رواہ البزار فی کشف الاستار: ۴/ ۹۴/ ۳۲۷۳، ۳۲۷۴ ورجالہ ثقات کما قال الھیثمی فی مجمع الزوائد: ۷/۲۳۴، والحافظ فی فتح الباری: ۱۳/۴۵)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے متن میں کوئی اشکال نہیں ہے، بخلاف استاد سعید افغانی ہے۔
اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حوأب کا علم ہوا تو ان کو واپس چلا جانا چاہیے تھا، جب کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوٹی نہیں تھیں، اس چیز کو بھی ام المومنین کی طرف منسوب کرنا ان کے شایانِ شان نہیں ہے۔
ہمارا جواب یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ جامع الصفات اور باکمال آدمی سے وہی کچھ صادر ہو، جو اس کی ذات کو زیب دیتا ہو، کیونکہ معصوم وہی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ بچا کر رکھے۔ اہل السنّہ کو چاہیے کہ وہ محترم شخصیات کی شان میں غلوّ نہ کیا کریں، جیسا کہ شیعوں نے اپنے اماموں کے حق میں کیا اور انھیں معصوم قرار دیا۔
ہمار ا خیال ہے کہ اس قافلے کے ساتھ نکلنا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خطا تھی، اسی لیے جب ان کو حوأب کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد یاد آیا تو انھوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ کہتے ہوئے مطمئن کر دیا: ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے لوگوں میں صلح کروا دیں۔ … …۔ امام زیلعی (نصب الرایۃ: ۴/ ۶۹۔ ۷۰) میں کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (اس خطا) پر ندامت کا اظہار کیا تھا، جیسا کہ ابن عبد البر نے (کتاب الاستیعاب) میں روایت کی ہے کہ … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ابو عبد الرحمن! تو نے مجھے نکلنے سے روک کیوں نہیں لیا تھا؟ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ ابن زبیر آپ پر غالب آ گئے تھے۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم مجھے روک لیتے تو میں نہ جاتی۔
اس اثر کی ایک دوسری سند بھی ہے، جیسا کہ امام ذہبی نے (سیر اعلام النبلائ: صـ ۷۸۔ ۷۹) میں کہا:
اور یہ بھی کہا کہ قیس نے کہا: پہلے پہل تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ خیال تھا کہ ان کو ان کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دفن کیا جائے گا، لیکن (جنگ ِ جمل کے بعد) انھوں نے کہا: میرے اس فعل (جرم) کی وجہ سے مجھے دوسری امہات المومنین کے ساتھ دفن کر دینا۔ پھر ان کو بقیع میں دفن کیا گیا۔ میں (قیس) کہتا ہوں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد جنگ ِ جمل والا واقعہ تھا، بعد میں ان کو اس پر بہت ندامت ہوئی تھی اور انھوں نے اس سے توبہ کی تھی۔ حالانکہ ان کا ارادہ خیر و بھلائی کا تھا، جیسا کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ، سیدنا زبیر بن عوام اور کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت نے اجتہاد کیا تھا، اللہ تعالیٰ سب سے راضی ہو جائے۔ (آمین)
امام بخاری اپنی صحیح میں بیان کرتے ہیں: ابو وائل نے کہا: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مدد مانگنے کے لیے سیدنا عمار اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ کی طرف بھیجا، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میںکہا: میں جانتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ دنیا میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی تھیں اور آخرت میں بھی ہوں گی، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا کہ تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے ہو یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا یہ خطبہ جنگ ِ جمل سے پہلے کا ہے، وہ لوگوں کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکلنے سے روکنا چاہتے تھے۔ (صحیحہ: ۴۷۴)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12333
عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ عَائِشَةَ أَمْرٌ“ قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ أَنَا قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ فَأَنَا أَشْقَاهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَا وَلَكِنْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فَارْدُدْهَا إِلَى مَأْمَنِهَا“
سیدنا ابو رافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عنقریب تمہارے اورعائشہ رضی اللہ عنہا کے مابین جھگڑا ہو گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انھوں نے پھر کہا: اللہ کے رسول! کیا میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تب تو میں سب سے بڑھ کر بد نصیب ہوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ بات نہیں ہے، بس جب ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو عائشہ کو اس کی امن گاہ تک پہنچا دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12333]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الفُضَيل بن سليمان النميري عنده مناكير، وھذه منھا، وقد اضطرب في اسناده، وابو اسماء من رجال التعجيل، اخرجه البزار: 3272، والطبراني في الكبير: 995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27740»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. الفَضْلُ الأَوَّلُ فِي خُرُوجِ عَائِشَةَ وَمَا أَخْبَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي ذلِكَ
فصل اول: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکلنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا س کے معلق پیشن گوئی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12334
عَنْ ابْنَةٍ لِأُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِيهَا وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا قَدِمَ الْبَصْرَةَ بَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَتْبَعَنِي فَقَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكَ فَقَالَ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ فُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ فَاكْسِرْ سَيْفَكَ وَاتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ وَاقْعُدْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ“ فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ يَا عَلِيُّ أَنْ لَا تَكُونَ تِلْكَ الْيَدَ الْخَاطِئَةَ فَافْعَلْ
سیدنا اہبان بن صیفی رضی اللہ عنہ، جو کہ صحابی ہیں، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب بصرہ میں تشریف لائے تو انہوں نے مجھے بلوا بھیجا اور کہا: میرے ساتھ چلنے میں تمہیں کیا مانع ہے؟ میں نے کہا: مجھے میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ: عنقریب لوگوں میں فتنہ و اختلاف برپا ہو گا، اس موقع پر تم اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی ایک تلوار بنا لینا اور الگ تھلک ہو کر اپنے گھر میں بیٹھے رہنا، یہاں تک کہ کوئی ظالم ہاتھ یا موت تم تک پہنچ جائے۔ لہذا میں نے تو وہی کام کیا، جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا، اے علی! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ وہ ظالم خطا کار ہاتھ نہ بنو تو تم ایسا ضرور کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12334]
تخریج الحدیث: «حسن بطرقه وشواھده، اخرجه ابن ماجه: 3960، والترمذي: 2203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27200 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27742»

الحكم على الحديث:
حسن بطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12335
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ عُدَيْسَةَ ابْنَةِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ أَبِيهَا فِي مَنْزِلِهِ فَمَرِضَ فَأَفَاقَ مِنْ مَرَضِهِ ذَلِكَ فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِالْبَصْرَةِ فَأَتَاهُ فِي مَنْزِلِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى بَابِ حُجْرَتِهِ فَسَلَّمَ وَرَدَّ عَلَيْهِ الشَّيْخُ السَّلَامَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا مُسْلِمٍ قَالَ بِخَيْرٍ فَقَالَ عَلِيٌّ أَلَا تَخْرُجُ مَعِي إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ فَتُعِينَنِي قَالَ بَلَى إِنْ رَضِيتَ بِمَا أُعْطِيكَ قَالَ عَلِيٌّ وَمَا هُوَ فَقَالَ الشَّيْخُ يَا جَارِيَةُ هَاتِي سَيْفِي فَأَخْرَجَتْ إِلَيْهِ غِمْدًا فَوَضَعَتْهُ فِي حِجْرِهِ فَاسْتَلَّ مِنْهُ طَائِفَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ خَلِيلِي عَلَيْهِ السَّلَامُ وَابْنَ عَمِّكَ عَهِدَ إِلَيَّ إِذَا كَانَتْ فِتْنَةٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ أَنِ اتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ فَهَذَا سَيْفِي فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ بِهِ مَعَكَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكَ وَلَا فِي سَيْفِكَ فَرَجَعَ مِنْ بَابِ الْحُجْرَةِ وَلَمْ يَدْخُلْ
۔ (دوسری سند) عدیسہ بنت اہبان بن صیفی بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے والد سیدنا اہبان بن صیفی رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کے پاس تھیں، وہ بیمار پڑ گئے اور پھر ان کو افاقہ ہو گیا، اس وقت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بصرہ میں تھے، وہ ان کے گھر تشریف لائے اور ان کے کمرہ کے دروازہ کے پاس کھڑے ہو کر سلام پیش کیا، میرے والد نے انہیں سلام کا جواب دیا، انہوں نے کہا: ابو مسلم! کیسے مزاج ہیں؟ میرے والد نے کہا: ٹھیک ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم میرے ساتھ ان لوگوں کے مقابلے میں نکل کر میری مدد نہیں کرو گے؟ میرے والد نے کہا:کیوں نہیں، بشرطیکہ میں جو کچھ بیان کروں، آپ اسے پسند کریں تو میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کیا؟ پس میرے والدنے کہا: لڑکی! ذرا میری تلوار لے آؤ۔ میں نے میان نکال کر ان کی گود میں لے جا کر رکھ دی، انہوں نے میان سے تھوڑی سی تلوار نکالی اور پھر اپنا سر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف اٹھایا اور کہا: میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھاکہ: جب مسلمانوں کے مابین فتنہ و اختلاف بپا ہو تو لکڑی کی تلوار بنا لینا۔ پس میری تو یہی تلوار ہے، اگر آپ چاہیں تو میں یہ لے کر آپ کے ساتھ نکلتا ہوں، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں تمہارے اور تمہاری تلوار کی کوئی ضرورت نہیں، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کمرے کے دروازے سے باہر چلے گئے اور واپس نہ آئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12335]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20946»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20946
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12336
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَقَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكِ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”سَتَكُونُ فِتَنٌ وَفُرْقَةٌ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَاكْسِرْ سَيْفَكَ وَاتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ“ فَقَدْ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ وَالْفُرْقَةُ وَكَسَرْتُ سَيْفِي وَاتَّخَذْتُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ حِينَ ثَقُلَ أَنْ يُكَفِّنُوهُ وَلَا يُلْبِسُوهُ قَمِيصًا قَالَ فَأَلْبَسْنَاهُ قَمِيصًا فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِيصُ عَلَى الْمِشْجَبِ
۔ (تیسری سند) سیدنا اہبان رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: عنقریب فتنے اور اختلافات رونما ہوں گے، جب ایسے حالات پیدا ہوجائیں تو اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی تلوار بنا لینا۔ اور جب میرے والد زیاد ہ بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا کہ جب وہ ان کو کفن دیں تو قمیص نہ پہنائیں، لیکن ہم نے انہیں قمیص پہنا دی، جب صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ وہ قمیص کھونٹی پر لٹکی ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12336]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول و الثاني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20947»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول و الثاني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20947
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي قُدُومٍ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْبَصْرَةِ واسْتَنْفَارِ أَهْلِهَا لِمَوْقِعَةِ الْجَمَل
فصل دوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12337
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ إِنَّ عَلِيًّا بَعَثَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَجِيءَ بِهِ فَقَالَ مَا خَلَّفَكَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ دَفَعَ إِلَيَّ ابْنُ عَمِّكَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيْفًا فَقَالَ ”قَاتِلْ بِهِ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ فَإِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ يَقْتُلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَاعْمَدْ بِهِ إِلَى صَخْرَةٍ فَاضْرِبْهُ بِهَا ثُمَّ الْزَمْ بَيْتَكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ أَوْ يَدٌ خَاطِئَةٌ“ قَالَ خَلُّوا عَنْهُ
حسن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ کو بلوایا، جب ان کو لایا گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تم اس لڑائی سے پیچھے کیوں ہو؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کے چچا زاد یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک تلوار عنایت کی تھی اور فرمایا تھا: جب تک دشمنان اسلام کے ساتھ قتال ہوتا رہے تو تم اس تلوار کے ذریعے قتال کرتے رہنا اور جب تم دیکھو کہ لوگ یعنی مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کی خون ریزی کر رہے ہیں تو تم اسے پتھر پر مار کر توڑ ڈالنا اور پھر اپنے گھر کے اند رہی رہنا تاآنکہ تمہیں موت آجائے یا کوئی ظالم ہاتھ تمہارے اوپر آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12337]
تخریج الحدیث: «حسن بمجموع طرقه، اخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 523، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18142»

الحكم على الحديث:
حسن بمجموع طرقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں