الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. الْفَضْلُ الأول في شُجَاعَةِ عَمَّارٍ وَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
حدیث نمبر: 12348
عَنْ أَبِي غَادِيَةَ قَالَ قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ قَاتِلَهُ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ“ فَقِيلَ لِعَمْرٍو فَإِنَّكَ هُوَ ذَا تُقَاتِلُهُ قَالَ إِنَّمَا قَالَ ”قَاتِلَهُ وَسَالِبَهُ“
ابو غادیہ کہتے ہیں: جب سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور لوگوں نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع دی تو انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو قتل کرنے والا اور ان کے قتل کے بعد ان کے سامان کو قبضہ میں لینے والا جہنم میں جائے گا۔ کسی نے سیدنا عمر و رضی اللہ عنہ سے کہا: تم خود بھی تو ان ہی سے لڑ رہے ہو؟ انہوں نے جواباً کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے قاتل اور ان کا مال قبضہ میں کر لینے والے کے حق میں یہ فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12348]
تخریج الحدیث: «اسناده قويّ، اخرجه الحاكم: 3/ 378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17929»
الحكم على الحديث:
اسناده قويّ
حدیث نمبر: 12349
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ إِنِّي لَأَسِيرُ مَعَ مُعَاوِيَةَ فِي مُنْصَرَفِهِ مِنْ صِفِّينَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَا أَبَتِ مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَمَّارٍ ”وَيْحَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“ قَالَ فَقَالَ عَمْرٌو لِمُعَاوِيَةَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ هَذَا فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَا تَزَالُ تَأْتِينَا بِهَنَةٍ أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ إِنَّمَا قَتَلَهُ الَّذِينَ جَاءُوا بِهِ
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں: جنگ صفین سے واپسی پر میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے درمیان چلا آرہا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: ابا جان! کیا آپ نے سنا نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اے ابن سمیہ! افسوس ایک باغی گروہ تجھے قتل کرے گا۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ سن رہے ہیں کہ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ہمیشہ باعث ِ تکلیف بات ہی کرتے ہیں؟ کیا ہم نے اس کو قتل کیا ہے؟ اسے تو ان لوگوں نے قتل کیاہے، جو اسے میدان کارزار میں لے کر آئے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12349]
تخریج الحدیث: «اسناده صحييح، اخرجه النسائي في خصائص علي: 168، والطبراني في الكبير:19/ 759، والبزار: 3281، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6499»
وضاحت: ہے کہ سلف صالحین نے عقائد کے موضوع پر لکھی گئی کتب میں بھی اس حقیقت کو واضح کیا ہے، گویا کہ صحابہ کرام کی عدالت و صداقت کو تسلیم کرنا ہمارے عقیدے کا مسئلہ ہے۔ اس مقام پر بطور مثال صرف عقائد کی دو کتب کا حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔
قال ابن الصلاح والنووی: الصحابۃ کلھم عدول وکان للنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مائۃ الف و اربعۃ عشر الف صحابی عند موتہ والقرآن والاخبار مصرحان بعدالتھم وجلالتھم ولما جری بینھم محامل لا یحتمل ذکرھا ھذا الکتاب۔ (الصوائق المحرقۃ، ابن الحجر الھیثمی: ۲/ ۶۴۰)
یعنی: حافظ ابن صلاح اور امام نووی نے کہا: تمام کے تمام صحابہ عادل ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ موجود تھے، قرآن اور روایات ان کی عدالت اور جلالت کی وضاحت کر رہے ہیں اور جو کچھ ان میں واقع ہوا، اس کے کئی احتمالات ہیں، اس کتاب میں ان کو ذکر نہیں کیا جا سکتا۔
قال ابن حجر: اتفق اھل السنۃ علی ان جمیع الصحابۃ عدول ولم یخالف فی ذالک الا شذوذ من المبتدعۃ۔ (رؤیۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لربہ، محمد بن خلیفۃ التمیمی: ۱/ ۳۵۶)
حافظ ابن حجر نے کہا: اہل سنت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں اور اس میں چند بدعتیوں کے علاوہ کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ یہ حقیقت بھی قابل قبول ہے کہ معصومیت صرف انبیاء و رسل کی صفت ہے، لیکن اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ عام امت کی بہ نسبت صحابہ کرام کی نیکی کا معیار اور خطا پر گرفت کا انداز کچھ اور ہے، ہم صرف دو مثالیں دینے پر اکتفا کریں گے۔
عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ: بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَیْرِ عَنْ عَرِیْفِ الْأَنْصَارِ شَیْئٌ، فَھَمَّ بِہٖ فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، فَقَالَ لَہٗ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((اِسْتَوْصُوْا بِالْأَنْصَارِ خَیْرًا۔ أَوْ قَالَ: مَعْرُوْفًا۔ اِقْبَلُوْا مِنْ مُّحْسِنِھِمْ وَتَجَاوَزُوْا عَنْ مُسِیْئِھِمْ۔)) فَأَلْقٰی مُصْعَبٌ نَفْسَہٗ عَنْ سَرِیْرِہٖ، وَأَلْزَقَ خَدَّہٗ بِالْبِسَاطِ، وَقَالَ: أَمْرُ رَسُوْل ِاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَلَی الرَّأْسِ وَالْعَیْنِ، فَتَرَکَہٗ۔ (مسند أحمد: ۳/۲۴۱)
علی بن زید کہتے ہیں کہ انصار کے سردار کی طرف سے مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کوئی (قابل اعتراض) بات پہنچی‘ انھوں نے اسے برا بھلا کہنے کا ارادہ کیا‘ اتنے میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ آگئے اور اسے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ: انصار صحابہ کے ساتھ خیرو بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو‘ ان میں سے نیکی کرنے والے سے حسنِ سلوک کرو اور غلطی کرنے والے سے درگزر کرو۔
(یہ سن کر) سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنے رخسار کو زمین پر رکھ دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد سر آنکھوں پر۔ پھر انصاری کو چھوڑ دیا۔
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے بارے میں بالعموم اور انصار کے بارے میں بالخصوص ایک قاعدہ کلیہ پیش کر دیا کہ ان کے نیکوکار افراد سے حسنِ سلوک اور احترام و اکرام والا معاملہ کیا جائے اور اگر کسی میں بتقاضۂ بشریت کوئی عیب نظر آئے تو اس کو موضوعِ بحث ہی نہ بنایا جائے اور اس کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر کے خاموشی اختیار کی جائے‘ ظن غالب یہ ہے کہ ان کی حسنات و خیرات کے سمندر ان کی بشری لغزشوں کے قطروں پر غالب آ جائیں گے۔
سیدنا مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کی احادیث کے سامنے عاجزی و انکساری کا انداز دیکھیں‘ ممکن ہے کہ انہی جذبات کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے دین کو سہارا دینے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دست و بازو بننے کے لئے ان نفوسِ قدسیہ کا انتخاب کیا اور ان کی عیب جوئی کرنے سے منع کر دیا۔
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((لَا تَسُبُّوْا اَحَدًا مِنْ اَصْحَابِیْ، فَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَوْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحَدٍ ذَھَبًا، مَا اَدْرَکَ مُدَّ اَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہُ۔)) (صحیح بخاری: ۳۶۷۳، صحیح مسلم: ۲۵۴۰)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ میں سے کسی کو برا بھلا مت کہو، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ اُن کے خرچ کیے ہوئے ایک مد یا نصف مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔
ایک مُدّ کا وزن 525گرام ہوتا ہے، نصف مد کا وزن 262گرام ہوا۔ یہ صحابہ کرام کی نیکیوں کا معیار ہے کہ احد پہاڑ کے برابر کا سونا ان کی صدقہ کی ہوئی گندم، کھجور اور جو کی اس معمولی مقدار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: کَانَ بَیْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ وَبَیْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ کَلَامٌ، قَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ: تَسْتَطِیْلُوْنَ عَلَیْنَا بِاَیَّامٍ سَبَقْتُمُوْنَا بِھَا؟ فَبَلَغَنَاأَنَّ ذٰلِکَ ذُکِرَ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فَقَالَ: ((دَعُوْا لِيْ أَصْحَابِيْ، فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ اُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَھَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۳/ ۲۶۶)
سیدناانس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ بحث تھی، خالد نے عبد الرحمن سے کہا: اگر تم ہم سے پہلے ایمان لے آئے ہو تو اس کی وجہ سے تم ہم پر زبان درازی کیوں کرتے ہو؟ جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری خاطر میرے صحابہ کو چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد پہاڑ یا پہاڑوں کے بقدر سونا بھی (فی سبیل اللہ) خرچ کر دو تو پھر بھی ان کے اعمال (کے مرتبے) تک رسائی حاصل نہیں کر سکو گے۔
سابقین اولین صحابہ کرام نے جس ابتلا و آزمائش کے دور میں اسلام کو سہارا دیا‘ وہ کسی سے مخفی نہیں ہے‘ اس وقت سرے سے اسلام قبول کرنا دل گردے کا کام تھا اور ظالم انسانوں کی دشمنی مول لینے کے مترادف تھا‘ مشکل ساعتوں میں ان ہستیوں نے اسلام کی خدمت کی اور اسے اگلی نسلوں تک پہنچانے کے لئے عظیم کارنامے سرانجام دیئے۔ بعد والوںکی قربانیوں کا ان کے کردار کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
اگر ان تین احادیث کو مد نظر رکھا جائے تو درج ذیل امور ہمارے سامنے آتے ہیں:
۱۔ صحابہ کرام سے خطا ہونا ممکن ہے۔
۲۔ اُن کی خطاؤں پر بحث نہیں کی جا سکتی، بلکہ سرے سے ایسے پہلو کو ہی نظر انداز کر دیا جائے۔
۳۔ بعد والے لوگوں کی بہ نسبت ان کو ان کی نیکیوںکا اجر و ثواب زیادہ ملے گا۔
اب ہم اپنے اصل موضوع کا آغاز کرتے ہیں۔
یہ بات تو درست ہے کہ مؤرخین تاریخی واقعات کی چھان بین کے لیے کوئی قواعد و ضوابط وضع نہ کر سکے، جیسا کہ محدثین نے احادیث کی تحقیق کے لیے قوانین مرتب کیے ہیں، اکثر مؤرخین حاطبین لیل نظر آتے ہیں، لیکن ہمارے پاس ان تاریخی معلومات تک تفصیل کے ساتھ رسائی حاصل کرنے کے لیے کوئی اور ذریعہ نہیں ہے، کتب ِ احادیث سے اس قسم کی بعض معلومات انتہائی اختصار کے ساتھ ملتی ہیں۔
ہم نے تمہیدی طور پر آئندہ سطور میں درج ذیل تاریخی کتب کی روشنی میں مشاجرات صحابہ کا خلاصہ بیان کیا ہے، تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ ہم کون سے مشاجرات کے بارے میں سلف کا مؤقف بیان کرنا چاہتے ہیں:
وقعۃ صفین، نصر بن مزاحم المنقری (م: ۲۱۲ھـ)، طبع: المؤسسۃ الحدیثۃ للطبع والنشر والتوزیع، س: ۱۳۸۲ھـ
تاریخ بغداد، الخطیب البغدادی، ابو بکر احمد بن علی، طبع: دار الکتب العلمیۃ بیروت
البدایۃ والنھایۃ، ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر (م: ۷۷۴ ھـ) طبع: ھجر للطباعۃ والنشر والتوزیع والاعلان
تاریخ اسلام، شاہ معین الدین، طبع: اسلامی اکادمی لاہور، س: ۱۹۹۶ء
اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں:
جمعہ مبارک کے دن ۱۸ ذوالحجہ ۳۵ ھـ کو خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، تین دن تک مسند ِ خلافت خالی رہی، اکابر صحابہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت ہی متفق علیہ نظر آ رہی تھی، چنانچہ ایسے ہی ہوا اور سیدنا طلحہ اور سیدنازبیر رضی اللہ عنہما سمیت مہاجرین و انصار سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور یہ درخواست کی کہ خلیفہ کا انتخاب ضروری ہے، ان لوگوں کے اصرار پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ منصب قبول کیا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے سب سے اہم مرحلہ قاتلین عثمان سے قصاص لینا تھا، لیکن کچھ اسباب کی بنا پر وہ ایسا نہیں کر پا رہے تھے، بہرحال عوام الناس سمیت اکابر صحابہ تک اس قدر قصاص چاہتے تھے کہ ان کی نظر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مجبوریوں پر نہیں پڑتی تھی، اس کے ساتھ ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ عہد عثمانی کے اکثر عمال خصوصا والیٔ شام سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مخالف تھے، اس لیے انھوں نے مسند ِ خلافت پر قدم رکھتے ہی ان سب کو معزول کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن سیاست و تدبر کے مالک سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سمیت آپ کے عاقبت اندیش خیر خواہوں نے اس چیز کی مخالفت کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کسی کا مشورہ قبول نہ کیا اور ۳۶ ھـ میں عثمانی عمال کو معزول کر کے ان کی جگہ نئے عمال کا تعین کر دیا، اس سلسلے میں سیدنا سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو والیٔ شام مقرر کیا گیا، چنانچہ وہ شام روانہ ہو گئے۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مدبر حکمران تھے اور بیس بائیس سال سے بڑے اثرو رسوخ کے ساتھ شام کی ولایت پر فائز تھے، یقینا ان کو معزول کرنا آسان نہ تھا۔ یہی کچھ ہوا اور انھوں نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو شام کی حدود میں داخل ہی نہ ہونے دیا اور تبوک سے ہی واپس کر دیا۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے شہادت ِ عثمان کو موضوع بنا کر اور مختلف اسباب کے ذریعے شام کے مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے میں کامیاب ہو گئے، نتیجتاً ساٹھ ہزار لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص لینے کا عہد کر لیا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سارے حقائق کا علم ہوا اور انھوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کرنے کے لیے تیاریاں شروع کر دیں، یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کی تلواریں آپس میں بے نیام ہونے لگی تھیں،یہی وجہ تھی کہ کئی صحابہ شرکت کے بارے میں متردد تھے، بہتوں نے مخالفت کی اور غیر جانبدار رہے۔
مصالحت کی خواہشات کے ساتھ ساتھ صلح صفائی کے لیے عملی کوشش بھی کی گئی، تردّد اور تذبذب کی کیفیات بھی موجود تھیں، بیچ میں سبائیوں کی فتنہ انگیزیاں بھی کار فرما تھیں، نتیجتاً امت ِ مسلمہ کو جنگ جمل اور جنگ صفین کی صورت میں ایسی زبردست آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، کہ آج تک ان کا اثر جاری ہے، (العیاذ باللہ)۔ اس کے بعد بھی سیدنا علی اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی ایک دوسرے کے علاقے پر قبصہ کرنے کی کشمکش جاری رہی، بالآخر فریقین میں صلح بھی ہو گئی تھی، بہرحال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا پورا زمانہ خانہ جنگیوں میں گزر گیا، اندرونی جھگڑوں سے فرصت نہ ملنے کی وجہ سے بیرونی فتوحات کی طرف توجہ کرنے کا موقع ہی نہ ملا، تاہم سیستان اور کابل میں بعض فتوحات حاصل ہوئیں اور ۳۸ ھـ میں بحری راستہ سے کوہ کن پر حملہ ہوا، بالآخر سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ زخمی ہونے کے تیسرے دن ۲۰ رمضان ۴۰ ھـ کو دار فانی سے روانہ ہو گئے۔
ان کے بعد اسی مہینے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی، جو بڑے نرم خو، متحمل مزاج، صلح جو اور امن پسند تھے اور جنگ و جدل سے طبعی طور پر نفرت رکھتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدناامیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو عالم اسلام پر حکومت کرنے کی دیرینہ تمنا پوری کرنے کے موقع ملا، چنانچہ انھوں نے عراق پر فوج کشی کر دی، جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو شامی فوج کی پیش قدمی کی خبر ملی تو آپ نے قیس بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کو بارہ ہزار فوج کے ساتھ مقابلہ کے لیے آگے بھیج دیا اور خود ان کے عقب میں روانہ ہو گئے، اگرچہ عراقی فوج کی غداری کی مثالیں بھی موجود ہیں، لیکن جان نثاروں کی تعداد بھی معقول تھی، اصل بات یہ تھی کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے خون کی قیمت پر خلافت نہیں خریدنا چاہتے تھے، اس لیے انھوں نے چند شرائط پر ربیع الاول ۴۱ ھـ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دست برداری کا اعلان کر دیا، اس طرح آپ رضی اللہ عنہ کی مدت ِ خلافت چھ ماہ بنتی ہے۔
اس دست برداری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درج ذیل پیشین گوئی پوری ہوئی:
حسن بصری کہتے ہیں: لما سار الحسن بن علی رضی اللہ عنہما الی معاویۃ بالکتائب، قال عمرو بن العاص لمعاویۃ: اری کتیبۃ لا تُوَلِّی حتی تُدْبَر اخراھا۔ قال معاویۃ: من لذراری المسلمین؟ فقال: انا، فقال عبد اللہ بن عامر وعبد الرحمن بن سمرۃ: نلقاہ فنقول لہ: الصلح، قال الحسن: ولقد سمعت ابا بکرۃ قال: بینا النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یخطب جاء الحسن، فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِبْنِیْ ھٰذَا سَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰہُ اَنْ یُّصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (صحیح بخاری: ۷۱۰۹)
قال ابن الصلاح والنووی: الصحابۃ کلھم عدول وکان للنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مائۃ الف و اربعۃ عشر الف صحابی عند موتہ والقرآن والاخبار مصرحان بعدالتھم وجلالتھم ولما جری بینھم محامل لا یحتمل ذکرھا ھذا الکتاب۔ (الصوائق المحرقۃ، ابن الحجر الھیثمی: ۲/ ۶۴۰)
یعنی: حافظ ابن صلاح اور امام نووی نے کہا: تمام کے تمام صحابہ عادل ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ موجود تھے، قرآن اور روایات ان کی عدالت اور جلالت کی وضاحت کر رہے ہیں اور جو کچھ ان میں واقع ہوا، اس کے کئی احتمالات ہیں، اس کتاب میں ان کو ذکر نہیں کیا جا سکتا۔
قال ابن حجر: اتفق اھل السنۃ علی ان جمیع الصحابۃ عدول ولم یخالف فی ذالک الا شذوذ من المبتدعۃ۔ (رؤیۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لربہ، محمد بن خلیفۃ التمیمی: ۱/ ۳۵۶)
حافظ ابن حجر نے کہا: اہل سنت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں اور اس میں چند بدعتیوں کے علاوہ کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ یہ حقیقت بھی قابل قبول ہے کہ معصومیت صرف انبیاء و رسل کی صفت ہے، لیکن اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ عام امت کی بہ نسبت صحابہ کرام کی نیکی کا معیار اور خطا پر گرفت کا انداز کچھ اور ہے، ہم صرف دو مثالیں دینے پر اکتفا کریں گے۔
عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ: بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَیْرِ عَنْ عَرِیْفِ الْأَنْصَارِ شَیْئٌ، فَھَمَّ بِہٖ فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، فَقَالَ لَہٗ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((اِسْتَوْصُوْا بِالْأَنْصَارِ خَیْرًا۔ أَوْ قَالَ: مَعْرُوْفًا۔ اِقْبَلُوْا مِنْ مُّحْسِنِھِمْ وَتَجَاوَزُوْا عَنْ مُسِیْئِھِمْ۔)) فَأَلْقٰی مُصْعَبٌ نَفْسَہٗ عَنْ سَرِیْرِہٖ، وَأَلْزَقَ خَدَّہٗ بِالْبِسَاطِ، وَقَالَ: أَمْرُ رَسُوْل ِاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَلَی الرَّأْسِ وَالْعَیْنِ، فَتَرَکَہٗ۔ (مسند أحمد: ۳/۲۴۱)
علی بن زید کہتے ہیں کہ انصار کے سردار کی طرف سے مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کوئی (قابل اعتراض) بات پہنچی‘ انھوں نے اسے برا بھلا کہنے کا ارادہ کیا‘ اتنے میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ آگئے اور اسے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ: انصار صحابہ کے ساتھ خیرو بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو‘ ان میں سے نیکی کرنے والے سے حسنِ سلوک کرو اور غلطی کرنے والے سے درگزر کرو۔
(یہ سن کر) سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنے رخسار کو زمین پر رکھ دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد سر آنکھوں پر۔ پھر انصاری کو چھوڑ دیا۔
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے بارے میں بالعموم اور انصار کے بارے میں بالخصوص ایک قاعدہ کلیہ پیش کر دیا کہ ان کے نیکوکار افراد سے حسنِ سلوک اور احترام و اکرام والا معاملہ کیا جائے اور اگر کسی میں بتقاضۂ بشریت کوئی عیب نظر آئے تو اس کو موضوعِ بحث ہی نہ بنایا جائے اور اس کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر کے خاموشی اختیار کی جائے‘ ظن غالب یہ ہے کہ ان کی حسنات و خیرات کے سمندر ان کی بشری لغزشوں کے قطروں پر غالب آ جائیں گے۔
سیدنا مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کی احادیث کے سامنے عاجزی و انکساری کا انداز دیکھیں‘ ممکن ہے کہ انہی جذبات کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے دین کو سہارا دینے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دست و بازو بننے کے لئے ان نفوسِ قدسیہ کا انتخاب کیا اور ان کی عیب جوئی کرنے سے منع کر دیا۔
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((لَا تَسُبُّوْا اَحَدًا مِنْ اَصْحَابِیْ، فَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَوْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحَدٍ ذَھَبًا، مَا اَدْرَکَ مُدَّ اَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہُ۔)) (صحیح بخاری: ۳۶۷۳، صحیح مسلم: ۲۵۴۰)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ میں سے کسی کو برا بھلا مت کہو، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ اُن کے خرچ کیے ہوئے ایک مد یا نصف مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔
ایک مُدّ کا وزن 525گرام ہوتا ہے، نصف مد کا وزن 262گرام ہوا۔ یہ صحابہ کرام کی نیکیوں کا معیار ہے کہ احد پہاڑ کے برابر کا سونا ان کی صدقہ کی ہوئی گندم، کھجور اور جو کی اس معمولی مقدار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: کَانَ بَیْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ وَبَیْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ کَلَامٌ، قَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ: تَسْتَطِیْلُوْنَ عَلَیْنَا بِاَیَّامٍ سَبَقْتُمُوْنَا بِھَا؟ فَبَلَغَنَاأَنَّ ذٰلِکَ ذُکِرَ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فَقَالَ: ((دَعُوْا لِيْ أَصْحَابِيْ، فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ اُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَھَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۳/ ۲۶۶)
سیدناانس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ بحث تھی، خالد نے عبد الرحمن سے کہا: اگر تم ہم سے پہلے ایمان لے آئے ہو تو اس کی وجہ سے تم ہم پر زبان درازی کیوں کرتے ہو؟ جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری خاطر میرے صحابہ کو چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد پہاڑ یا پہاڑوں کے بقدر سونا بھی (فی سبیل اللہ) خرچ کر دو تو پھر بھی ان کے اعمال (کے مرتبے) تک رسائی حاصل نہیں کر سکو گے۔
سابقین اولین صحابہ کرام نے جس ابتلا و آزمائش کے دور میں اسلام کو سہارا دیا‘ وہ کسی سے مخفی نہیں ہے‘ اس وقت سرے سے اسلام قبول کرنا دل گردے کا کام تھا اور ظالم انسانوں کی دشمنی مول لینے کے مترادف تھا‘ مشکل ساعتوں میں ان ہستیوں نے اسلام کی خدمت کی اور اسے اگلی نسلوں تک پہنچانے کے لئے عظیم کارنامے سرانجام دیئے۔ بعد والوںکی قربانیوں کا ان کے کردار کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
اگر ان تین احادیث کو مد نظر رکھا جائے تو درج ذیل امور ہمارے سامنے آتے ہیں:
۱۔ صحابہ کرام سے خطا ہونا ممکن ہے۔
۲۔ اُن کی خطاؤں پر بحث نہیں کی جا سکتی، بلکہ سرے سے ایسے پہلو کو ہی نظر انداز کر دیا جائے۔
۳۔ بعد والے لوگوں کی بہ نسبت ان کو ان کی نیکیوںکا اجر و ثواب زیادہ ملے گا۔
اب ہم اپنے اصل موضوع کا آغاز کرتے ہیں۔
یہ بات تو درست ہے کہ مؤرخین تاریخی واقعات کی چھان بین کے لیے کوئی قواعد و ضوابط وضع نہ کر سکے، جیسا کہ محدثین نے احادیث کی تحقیق کے لیے قوانین مرتب کیے ہیں، اکثر مؤرخین حاطبین لیل نظر آتے ہیں، لیکن ہمارے پاس ان تاریخی معلومات تک تفصیل کے ساتھ رسائی حاصل کرنے کے لیے کوئی اور ذریعہ نہیں ہے، کتب ِ احادیث سے اس قسم کی بعض معلومات انتہائی اختصار کے ساتھ ملتی ہیں۔
ہم نے تمہیدی طور پر آئندہ سطور میں درج ذیل تاریخی کتب کی روشنی میں مشاجرات صحابہ کا خلاصہ بیان کیا ہے، تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ ہم کون سے مشاجرات کے بارے میں سلف کا مؤقف بیان کرنا چاہتے ہیں:
وقعۃ صفین، نصر بن مزاحم المنقری (م: ۲۱۲ھـ)، طبع: المؤسسۃ الحدیثۃ للطبع والنشر والتوزیع، س: ۱۳۸۲ھـ
تاریخ بغداد، الخطیب البغدادی، ابو بکر احمد بن علی، طبع: دار الکتب العلمیۃ بیروت
البدایۃ والنھایۃ، ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر (م: ۷۷۴ ھـ) طبع: ھجر للطباعۃ والنشر والتوزیع والاعلان
تاریخ اسلام، شاہ معین الدین، طبع: اسلامی اکادمی لاہور، س: ۱۹۹۶ء
اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں:
جمعہ مبارک کے دن ۱۸ ذوالحجہ ۳۵ ھـ کو خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، تین دن تک مسند ِ خلافت خالی رہی، اکابر صحابہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت ہی متفق علیہ نظر آ رہی تھی، چنانچہ ایسے ہی ہوا اور سیدنا طلحہ اور سیدنازبیر رضی اللہ عنہما سمیت مہاجرین و انصار سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور یہ درخواست کی کہ خلیفہ کا انتخاب ضروری ہے، ان لوگوں کے اصرار پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ منصب قبول کیا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے سب سے اہم مرحلہ قاتلین عثمان سے قصاص لینا تھا، لیکن کچھ اسباب کی بنا پر وہ ایسا نہیں کر پا رہے تھے، بہرحال عوام الناس سمیت اکابر صحابہ تک اس قدر قصاص چاہتے تھے کہ ان کی نظر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مجبوریوں پر نہیں پڑتی تھی، اس کے ساتھ ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ عہد عثمانی کے اکثر عمال خصوصا والیٔ شام سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مخالف تھے، اس لیے انھوں نے مسند ِ خلافت پر قدم رکھتے ہی ان سب کو معزول کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن سیاست و تدبر کے مالک سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سمیت آپ کے عاقبت اندیش خیر خواہوں نے اس چیز کی مخالفت کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کسی کا مشورہ قبول نہ کیا اور ۳۶ ھـ میں عثمانی عمال کو معزول کر کے ان کی جگہ نئے عمال کا تعین کر دیا، اس سلسلے میں سیدنا سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو والیٔ شام مقرر کیا گیا، چنانچہ وہ شام روانہ ہو گئے۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مدبر حکمران تھے اور بیس بائیس سال سے بڑے اثرو رسوخ کے ساتھ شام کی ولایت پر فائز تھے، یقینا ان کو معزول کرنا آسان نہ تھا۔ یہی کچھ ہوا اور انھوں نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو شام کی حدود میں داخل ہی نہ ہونے دیا اور تبوک سے ہی واپس کر دیا۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے شہادت ِ عثمان کو موضوع بنا کر اور مختلف اسباب کے ذریعے شام کے مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے میں کامیاب ہو گئے، نتیجتاً ساٹھ ہزار لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص لینے کا عہد کر لیا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سارے حقائق کا علم ہوا اور انھوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کرنے کے لیے تیاریاں شروع کر دیں، یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کی تلواریں آپس میں بے نیام ہونے لگی تھیں،یہی وجہ تھی کہ کئی صحابہ شرکت کے بارے میں متردد تھے، بہتوں نے مخالفت کی اور غیر جانبدار رہے۔
مصالحت کی خواہشات کے ساتھ ساتھ صلح صفائی کے لیے عملی کوشش بھی کی گئی، تردّد اور تذبذب کی کیفیات بھی موجود تھیں، بیچ میں سبائیوں کی فتنہ انگیزیاں بھی کار فرما تھیں، نتیجتاً امت ِ مسلمہ کو جنگ جمل اور جنگ صفین کی صورت میں ایسی زبردست آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، کہ آج تک ان کا اثر جاری ہے، (العیاذ باللہ)۔ اس کے بعد بھی سیدنا علی اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی ایک دوسرے کے علاقے پر قبصہ کرنے کی کشمکش جاری رہی، بالآخر فریقین میں صلح بھی ہو گئی تھی، بہرحال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا پورا زمانہ خانہ جنگیوں میں گزر گیا، اندرونی جھگڑوں سے فرصت نہ ملنے کی وجہ سے بیرونی فتوحات کی طرف توجہ کرنے کا موقع ہی نہ ملا، تاہم سیستان اور کابل میں بعض فتوحات حاصل ہوئیں اور ۳۸ ھـ میں بحری راستہ سے کوہ کن پر حملہ ہوا، بالآخر سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ زخمی ہونے کے تیسرے دن ۲۰ رمضان ۴۰ ھـ کو دار فانی سے روانہ ہو گئے۔
ان کے بعد اسی مہینے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی، جو بڑے نرم خو، متحمل مزاج، صلح جو اور امن پسند تھے اور جنگ و جدل سے طبعی طور پر نفرت رکھتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدناامیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو عالم اسلام پر حکومت کرنے کی دیرینہ تمنا پوری کرنے کے موقع ملا، چنانچہ انھوں نے عراق پر فوج کشی کر دی، جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو شامی فوج کی پیش قدمی کی خبر ملی تو آپ نے قیس بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کو بارہ ہزار فوج کے ساتھ مقابلہ کے لیے آگے بھیج دیا اور خود ان کے عقب میں روانہ ہو گئے، اگرچہ عراقی فوج کی غداری کی مثالیں بھی موجود ہیں، لیکن جان نثاروں کی تعداد بھی معقول تھی، اصل بات یہ تھی کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے خون کی قیمت پر خلافت نہیں خریدنا چاہتے تھے، اس لیے انھوں نے چند شرائط پر ربیع الاول ۴۱ ھـ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دست برداری کا اعلان کر دیا، اس طرح آپ رضی اللہ عنہ کی مدت ِ خلافت چھ ماہ بنتی ہے۔
اس دست برداری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درج ذیل پیشین گوئی پوری ہوئی:
حسن بصری کہتے ہیں: لما سار الحسن بن علی رضی اللہ عنہما الی معاویۃ بالکتائب، قال عمرو بن العاص لمعاویۃ: اری کتیبۃ لا تُوَلِّی حتی تُدْبَر اخراھا۔ قال معاویۃ: من لذراری المسلمین؟ فقال: انا، فقال عبد اللہ بن عامر وعبد الرحمن بن سمرۃ: نلقاہ فنقول لہ: الصلح، قال الحسن: ولقد سمعت ابا بکرۃ قال: بینا النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یخطب جاء الحسن، فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِبْنِیْ ھٰذَا سَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰہُ اَنْ یُّصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (صحیح بخاری: ۷۱۰۹)
الحكم على الحديث:
اسناده صحييح
76. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي اخْتِصَامِ رَجُلَيْنِ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ في قتل عَمَّارٍ يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ
فصل دوم: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے
حدیث نمبر: 12350
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْبَرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“ قَالَ مُعَاوِيَةُ فَمَا بَالُكَ مَعَنَا قَالَ إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ“ فَأَنَا مَعَكُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ
حنظلہ بن خویلد عنبری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ان کے ہاں دو آدمی آئے، وہ دونوں عمار رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، ان میں سے ہر ایک کہتا تھاکہ اس نے قتل کیا ہے، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: بہتر ہے کہ تم میں سے ایک یہ بات اپنے ساتھی کے بارے میں بخوشی تسلیم کر لے، (یہ کوئی باعث ِ ناز بات تو نہیں ہے)، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ایک باغی گروہ عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کر ے گا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا:اگر یہ بات ہے تو تم ہمارے ساتھ کیوں ملے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا: میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاکر میری شکایت کر دی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیاتھا کہ تمہارا والد جب تک زندہ ہے، ان کی بات ماننا اور ان کی نافرمانی نہ کرنا۔ اس لیے میں تمہارے ساتھ تو ہوں مگر لڑائی میں شامل نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12350]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه النسائي في خصائص علي: 164، وابن ابي شيبة: 15/ 291، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6538»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 12351
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ كُنَّا بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو الْغَادِيَةِ اسْتَسْقَى مَاءً فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مُفَضَّضٍ فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ”لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا أَوْ ضُلَّالًا شَكَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ“ فَإِذَا رَجُلٌ يَسُبُّ فُلَانًا فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْكَ فِي كَتِيبَةٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ إِذَا أَنَا بِهِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ قَالَ فَفَطِنْتُ إِلَى الْفُرْجَةِ فِي جُرُبَّانِ الدِّرْعِ فَطَعَنْتُهُ فَقَتَلْتُهُ فَإِذَا هُوَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ قَالَ قُلْتُ وَأَيَّ يَدٍ كَفَتَاهُ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ فِي إِنَاءٍ مُفَضَّضٍ وَقَدْ قَتَلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ
کلثوم بن جبر کہتے ہیں:کہ ہم واسط القصب نامی مقام میں عبد الا علی بن عبداللہ بن عامر کے ہاں موجود تھے، وہاں محفل میں ابو الغادیہ نامی ایک آدمی تھا، اس نے پینے کے لیے پانی طلب کیا، ایک ایسے برتن میں اسے پانی دیا گیاجس کا کنارا ٹوٹا ہوا تھا، اس نے اس برتن میں پانی پینے سے انکار کر دیا اور دوران گفتگو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا بھی ذکر ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے بعد کا فریا گمراہ نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ وہی آدمی دوران گفتگو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے لگا، میں نے کہا: اللہ کی قسم اگر کسی لشکر میں اللہ نے مجھے تجھ پر موقع دیا تو دیکھی جائے گی، جنگ صفین کے دن وہ زرہ پہنے ہوئے تھا، زرہ کے حلقوں میں خالی جگہ کو تاک کرمیں نے اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا، وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تھے، کلثوم کہتے ہیں: اس نوجوان کی طرح کا کون سا ہاتھ ہے ایک دن حدیث نبوی کے پیش نظر کنارا ٹوٹے ہوئے برتن میں پانی پینے سے انکار کر دیا اور ایک موقع یہ بھی تھا کہ اس نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12351]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه مطولا ومختصرا البخاري في التاريخ الاوسط: 1/ 237، والطبراني في الكبير: 22/ 912، 913، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16698 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16818»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
77. الفَضْلُ الثَّالِثُ فِي سَبَبِ انْحَلالِ جَيْشِ الْإِمَام عَلى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي صِفِّينَ بَعْدَ انْتِصَارِهِ وَانْشِقَاقِ الْخَوَارِجِ عَلَيْهِ وَقَتْلِهِ إِيَّاهُمْ
فصل سوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ان کو قتل کرنا
حدیث نمبر: 12352
عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا وَائِلٍ فِي مَسْجِدِ أَهْلِهِ أَسْأَلُهُ عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ بِالنَّهْرَوَانِ فِيمَا اسْتَجَابُوا لَهُ وَفِيمَا فَارَقُوهُ وَفِيمَا اسْتَحَلَّ قِتَالَهُمْ قَالَ كُنَّا بِصِفِّينَ فَلَمَّا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ بِأَهْلِ الشَّامِ اعْتَصَمُوا بِتَلٍّ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ أَرْسِلْ إِلَى عَلِيٍّ بِمُصْحَفٍ وَادْعُهُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَنْ يَأْبَى عَلَيْكَ فَجَاءَ بِهِ رَجُلٌ فَقَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ} [آل عمران: 23] فَقَالَ عَلِيٌّ نَعَمْ أَنَا أَوْلَى بِذَلِكَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَتْهُ الْخَوَارِجُ وَنَحْنُ نَدْعُوهُمْ يَوْمَئِذٍ الْقُرَّاءَ وَسُيُوفُهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ فَقَالُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا نَنْتَظِرُ بِهَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ عَلَى التَّلِّ أَلَا نَمْشِي إِلَيْهِمْ بِسُيُوفِنَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَتَكَلَّمَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ يَعْنِي الصُّلْحَ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ ”بَلَى“ قَالَ فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ ”يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي أَبَدًا“ قَالَ فَرَجَعَ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ فَلَمْ يَصْبِرْ حَتَّى أَتَى أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَى قَالَ فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا قَالَ فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ قَالَ فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ فَأَقْرَأَهَا إِيَّاهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفَتْحٌ هُوَ قَالَ ”نَعَمْ“
حبیب بن ابی ثابت سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو وائل کے ہاں ان کی مسجد میں حاضر ہوا، میں ان سے ان لوگوں کی بابت دریافت کرنا چاہتا تھا جن کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نہروان کے مقام پر قتل کیا تھا، کہ لوگوں نے کیونکر ان کی بات مانی اور نہ ماننے والوں نے کیونکر ان کی بات نہ مانی اور سیدنا علی نے رضی اللہ عنہ کیونکر ان کوقتل کرنا حلال سمجھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ صفین کے مقام پر موجود تھے، جب اہل شام کے ساتھ گھمسان کی لڑائی ہونے لگی، تو انہوں نے ٹیلے کی طرف پناہ لی، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ علی رضی اللہ عنہ کی طرف مصحف بھیجیں اور انہیں کتاب اللہ کے فیصلہ پر آنے کی دعوت دیں، وہ اس بات کو قبول کرنے سے انکار نہیں کریں گے، تو ایک آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں قرآن لے کر آیا اور اس نے کہاہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کافی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ وَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ} … ٍٍِْْ بھلا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو اللہ کی کتاب میں سے حصہ دیا گیا اور انہیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ کتاب ان لوگوں کے مابین ہونے والے تنازعات کا فیصلہ کردے تو ان میں سے ایک فریق کج ادائی کے ساتھ منہ موڑ جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:ٹھیک ہے، میں اس بات کا زیادہ مستحق ہوں، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب حاکم ہے، خارجی لوگ جنہیں ہم ان دنوں قراء کہا کرتے تھے، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ اپنی تلواریں اپنے کندھوں پر لٹکائے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: امیر المومنین! یہ لوگ جو ٹیلے کی طرف پناہ لیے ہوئے ہیں، ہم ان کی انتظارکیوں کر رہے ہیں؟ ہم کیوں نہ تلواریں تان کر ان کی طرف لڑنے کو نکلیں تاآنکہ اللہ ہمارے اور انکے درمیان فیصلہ کردے، یہ سن کر سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بولے، انہوں نے کہا: لوگو! اپنی رائے یا بات پر نظر ثانی کرو، میں نے دیکھا کہ صلح حدیبیہ کے دن جو صلح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مشرکین کے مابین ہوئی، اس روز اگر ہم لڑنا چاہتے تو لڑ سکتے تھے، صلح کی بات ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں؟ اور کیا ہمارے مقتول جنتی اور ان کے مقتول جہنمی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم اپنے دین کے بارے میں کمزوری کیوں دکھائیں؟ اورہم یوں واپس کیوں لوٹ جائیں، جب کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے مابین فیصلہ نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصہ کے عالم میں واپس لوٹ آئے، ان سے صبر نہ ہو وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور کہا: اے ابو بکر! کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور کیا وہ لوگ کفر پر نہیں ہیں؟ اور کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنمی نہیں؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی بالکل، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر ہم اپنے دین کے بارے میں اتنی کمزوری کیوں دکھائیں؟اور ہم یوں ہی واپس کیوں چلے جائیں؟ جب کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے مابین فیصلہ نہیں کیا؟ تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن خطاب! وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد سورۂ فتح نازل ہوئی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ جا کر انہیں سنا آؤ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس صلح کا انجام فتح ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12352]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3182،4844، ومسلم: 1785، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16071»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۲۲) اور اس کے بعد والی احادیث اور ابواب۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3182
78. الفضلُ الْأَوَّلُ فِي أَصْلِ الْخَوَارِج
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
حدیث نمبر: 12353
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةٍ بَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ وَالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ أَوْ عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ شَكَّ عُمَارَةُ فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَالْأَنْصَارُ وَغَيْرُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا تَأْتَمِنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ يَأْتِينِي خَبَرٌ مِنَ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً“ ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ فَقَالَ ”وَيْحَكَ أَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ أَنَا“ ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ خَالِدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَلَعَلَّهُ يَكُونُ يُصَلِّي“ فَقَالَ إِنَّهُ رُبَّ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أُنَقِّبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ“ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُقَفٍّ فَقَالَ ”هَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ“ زَادَ فِي رِوَايَةٍ ”يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے رنگے ہوئے چمڑے میں بند سونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجاہے، جسے ابھی مٹی سے صاف نہیں کیا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سونا زید خیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل یہ شک اس حدیث کے ایک راوی عمارہ کو ہے (صحیح علقمہ بن علاثہ ہے کیونکہ عامر کئی سال پہلے کا فوت ہو چکا ہے)، میں تقسیم فرمایا: تو بعض صحابہ اور انصار وغیرہ کو یہ کافی محسوس ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ مجھے امین،دیانت دار نہیں سمجھتے؟ حالانکہ میں اللہ کا امین ہوں اور میرے پاس صبح شام آسمان سے خبریں آتی ہیں۔ دوسری روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس تقسیم پر قریش اور انصار کے کچھ لوگ غضناک ہوئے، انہوں نے کہا:آپ اہل نجد کے بڑے بڑے لوگوں کو عطیات دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان کی دل جوئی کرتا ہوں، اس کے بعدایک آدمی آپ کے پاس آیا، اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی، رخسار ابھرے ہوئے اور پیشانی اونچی،داڑھی گھنی،چادر خوب اونچی اور سرمنڈا ہواتھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ڈریں، دوسری روایت میں ہے، اس نے کہا: اے محمد! اللہ سے ڈریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اس کی طرف اٹھایا اور فرمایا: تم پر افسوس ہے کہ تمام روئے زمین والوں میں سے میں سب سے زیاد ہ اس بات کا حقدار نہیں کہ اللہ سے ڈروں؟ اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا، یہ سارا ماجرا دیکھ کر خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اس کی گردن نہ اڑادوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں!شاید یہ نماز پڑھتا ہو۔ تو خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: بعض نماز ی اپنی زبان سے ایسی باتیں کہتے ہیں: جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بات کا مکلف نہیں ٹھہرایاگیا کہ میں لوگوں کے دلوں اور ان کے پیٹوں کو چیر چیر کر دیکھوں۔ وہی آدمی پیٹھ موڑ کر جا رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا: اس کی نسل میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے مگر وہ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے شکار میں سے تیر تیزی سے نکل جاتا ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو کچھ نہیں کہیں گے، اگر میں نے ان کو پایا تو ان کو یوں قتل کر وں گا جس طرح قوم عاد کو قتل کیا گیا تھا کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12353]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3344، 4667، ومسلم: 1064، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11671»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3344
حدیث نمبر: 12354
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ سَاجِدٍ وَهُوَ يَنْطَلِقُ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَضَى الصَّلَاةَ وَرَجَعَ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”مَنْ يَقْتُلُ هَذَا“ فَقَامَ رَجُلٌ فَحَسَرَ عَنْ يَدَيْهِ فَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ ”مَنْ يَقْتُلُ هَذَا“ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا فَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ حَتَّى أُرْعِدَتْ يَدُهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَتَلْتُمُوهُ لَكَانَ أَوَّلَ فِتْنَةٍ وَآخِرَهَا“
مسلم بن ابی بکرہ اپنے سے والد بیان کرتے ہیں: کہ ایک آدمی سجدہ کی حالت میں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پا س سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس وقت نماز کے لیے تشریف لے جارہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا کرنے کے بعد واپس ہوئے تووہ ابھی تک سجدہ ہی میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے کون قتل کرے گا،؟ تو ایک آدمی نے اٹھ کر اپنے بازوں سے آستین اوپر کو چڑھائی اور تلوار نکال کر اسے لہرایا، پھر کہا: اللہ کے نبی میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہوں، میں کیونکر ایسے آدمی کو قتل کروں جو سجدہ میں ہے اور اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اللہ کے بندے اور رسول ہونے کی شہادت دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اسے کون قتل کرے گا؟ تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: میں، پھر اس نے اپنے آستین چڑھا لیے اور تلوار نکال کر اس قدر لہرایا کہ اس کا ہاتھ کانپنے لگا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں کیونکر ایسے آدمی کو قتل کروں جو سجدہ کی حالت میں ہے اور وہ اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12354]
تخریج الحدیث: «رجاله رجال الصححيح، لكن في متنه نكارة، وقد تفرد به مسلم بن ابي بكرة عن ابيه، وعثمان الشحام عن مسلم بن ابي بكرة، وعثمان وثقه غير واحد، لكن قال فيه يحيي القطان: تعرف وتنكر، ولم يكن عندي بذاك، وقال النسائي: ليس بالقوي، وقال في موضع آخر: ليس به بأس، اخرجه ابن ابي عاصم في السنة: 938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20431 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20703»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۱۲/ ۲۹۹) میں اس حدیث کے شواہد ذکر کیے اور یہ استدلال کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، یہ ذوا لخویصرہ یا ابن ذو الخویصرۃ تھا، یہ وہی آدمی تھا، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا،
الحكم على الحديث:
رجاله رجال الصححيح
حدیث نمبر: 12355
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِوَادِي كَذَا وَكَذَا فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ يُصَلِّي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اذْهَبْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ“ قَالَ فَذَهَبَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا رَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ كَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ ”اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ“ فَذَهَبَ عُمَرُ فَرَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ الَّتِي رَآهُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ فَكَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ قَالَ فَرَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُتَخَشِّعًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ ”يَا عَلِيُّ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ“ قَالَ فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَرَهُ فَرَجَعَ عَلِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمْ يُرَهْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ فِي فُوقِهِ فَاقْتُلُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ“
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تشریف لائے اور کہا: اللہ کے رسول! میرا فلاں وادی میں گزر ہوا تو وہاں ایک حسین وجمیل آدمی انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کررہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جا کر اسے قتل کردو۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ اس کی طرف واپس گئے تو اسے اسی حالت میں پایا، آپ نے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا،آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آگئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم جا کر اسے قتل کرآؤ۔ عمر رضی اللہ عنہ وہا ں گئے، تو اسے اسی حالت میں پایا جس حالت میں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تھا، انہوں نے بھی اسے قتل کر ناٹھیک نہ سمجھا، انہوں نے واپس آکر کہا: اللہ کے رسول! میں نے اسے انتہائی خشوع کے ساتھ نماز ادا کرتے دیکھا اس لیے اس کو قتل کرنا ٹھیک نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی! تم جاؤ اور اسے قتل کردو۔ علی رضی اللہ عنہ گئے تو آپ نے اسے وہاں نہ دیکھا، علی رضی اللہ عنہ نے واپس آکر کہا: اللہ کے رسول! وہ مجھے تو نظر نہیں آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اور اس کے ساتھی قرآن کی تلاوت خوب کریں گے، مگر وہ ان کے سینے سے نیچے نہ اترے گا اور یہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے کمان میں سے تیر نکل جاتا ہے، یہ دین میں واپس نہیں آئیں گے حتی کہ تیر اپنی کمان میں واپس آجائے، تم انہیں قتل کر دینا، یہ تمام لوگوں میں سے بد ترین لوگ ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12355]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو رؤبة شداد بن عمران القيسي مجھول الحال، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11135»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 12356
عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ خَرَجْتُ أَنَا وَتَلِيدُ بْنُ كِلَابٍ اللَّيْثِيُّ حَتَّى أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ مُعَلِّقًا نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ فَقُلْنَا لَهُ هَلْ حَضَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُكَلِّمُهُ التَّمِيمِيُّ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ نَعَمْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ يُقَالُ لَهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ فَوَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعْطِي النَّاسَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قَدْ رَأَيْتُ مَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْيَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَجَلْ فَكَيْفَ رَأَيْتَ“ قَالَ لَمْ أَرَكَ عَدَلْتَ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ”وَيْحَكَ إِنْ لَمْ يَكُنِ الْعَدْلُ عِنْدِي فَعِنْدَ مَنْ يَكُونُ“ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَقْتُلُهُ قَالَ ”لَا دَعُوهُ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهُ شِيعَةٌ يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهُ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ ثُمَّ فِي الْقِدْحِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ ثُمَّ فِي الْفُوقِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ“ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدَةَ هَذَا اسْمُهُ مُحَمَّدٌ ثِقَةٌ وَأَخُوهُ سَلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَلَا نَعْلَمُ خَبَرَهُ وَمِقْسَمٌ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى وَطُرُقٌ أُخَرُ فِي هَذَا الْمَعْنَى صِحَاحٌ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ
مقسم ابو القاسم مولی عبداللہ بن حارث بن نوفل سے مروی ہے کہ میں اور تلید بن کلاب لیثی روانہ ہوئے اور ہم عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، وہ اپنے جوتے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، میں نے ا ن سے کہا: کہ کیا آ پ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حنین کے دن اس وقت موجود تھے، جب ایک تمیمی آپ سے محو کلام تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، بنوتمیم کاایک آدمی آیا تھا، جسے ذوالخویصر، کہا جاتا ہے: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر کھڑا ہوگیا، آپ اس وقت لوگوں میں عطیات تقسیم فرمارہے تھے، اس نے کہا: اے محمد آپ آج جو کام کر رہے ہیں، میں نے دیکھ لیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں تم نے کیا دیکھا ہے؟ اس نے کہا:میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا، اس کی اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضبناک ہوگئے اور فرمایا: تجھ پر افسوس ہے، اگر میرے پاس عدل نہیں تو اور کس کے پاس ہوگا؟ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے گزارش کی: اللہ کے رسول! کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں اسے چھوڑ دو، کچھ لوگ اس کے معاون ہوں گے اور وہ دین میں اس حد تک گہرائی میں جائیں گے کہ دین میں سے یوں نکل جائیں گے جیسے شکار میں سے تیر نکل جاتا ہے، تیرکو اچھی طرح دیکھیں تو اس کے کسی بھی حصہ پر خون کا نشان تک نہیں ہوتا، وہ خون اور گو بر کے درمیان سے تیزی سے نکل جاتا ہے۔ ابوعبدالرحمن نے کہا ہے: اس حدیث کے راوی ابو عبیدہ کا نام محمد ہے اور وہ ثقہ راوی ہے اس کے بھائی سلمہ بن محمد بن عمار سے صرف علی بن زید نے روایت حدیث کی ہے ہم اس کے حالات سے واقف نہیں، مقسم بھی مقبول راوی ہے۔ اس حدیث کے بہت سے طرق صحیح ہیں۔واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12356]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7038 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7038»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 12357
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ ”سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ“ مِنْهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ فِي إِحْدَى يَدَيْهِ أَوْ قَالَ إِحْدَى ثَدْيَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ النَّاسِ فَنَزَلَتْ فِيهِمْ {وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ} [التوبة: 58] الْآيَةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا حِينَ قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ جِيءَ بِالرَّجُلِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ان لوگوں میں ایک آدمی سیاہ فام ہوگا جس کا ایک بازو عورت کے پستان کی مانند ہوگا، یا یوں فرمایا کہ اس کا ایک باز و گوشت کے لوتھڑے کی مانند ہوگا اور حرکت کرتا ہوگا، یہ لوگ ایک زمانے میں نکلیں گے، انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئی: {وَمِنْہُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ} … اور ان میں کچھ لوگ صدقات کی تقسم میں آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتل کیا تو میں اس وقت ان کے ساتھ تھا اور وہ آدمی ویسا ہی تھاجیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12357]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3610، ومسلم: 1064، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11558»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3610