🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. الْفَضْلُ الْخَامِسُ فِي اخْتِيَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا لَا خُذِ الراية يَوْمَ خَيْبََر وَفِيهِ مَنقَبَةٌ لِعَلِى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمُعْجِرَةٌ لِلنَّبِيٌ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت او رنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12318
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا ثُمَّ قَالَ ”مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا“ فَجَاءَ فُلَانٌ فَقَالَ أَنَا قَالَ ”أَمِطْ“ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ ”أَمِطْ“ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ هَاكَ يَا عَلِيُّ“ فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَفَدَكَ وَجَاءَ بِعَجْوَتِهِمَا وَقَدِيدِهِمَا قَالَ مُصْعَبٌ بِعَجْوَتِهَا وَقَدِيدِهَا
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھنڈا پکڑ کر لہرایا اور فرمایا: کون ہے جو اس جھنڈے کو لے کر اس کا حق ادا کرے گا؟ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: جی میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہٹ جاؤ۔ پھر ایک اور آدمی آیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی ہٹ جاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو عزت سے نوازا ہے، میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا، جو میدان جنگ سے فرار نہیں ہوگا، اے علی! یہ لو جھنڈا۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جھنڈا تھامے روانہ ہو گئے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر اور فدک فتح کرا دیا اور وہ وہاں کی عجوہ نامی کھجور اور دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت لے کر واپس لوٹے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12318]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف علي نكارة في متنه، عبد الله بن عصمة العجلي تفرد بھذا الحديث، وھو ممن لا يحتمل تفرده، اخرجه ابويعلي: 1346، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11139»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف علي نكارة في متنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12319
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ أَبِي يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ فَكَانَ عَلِيٌّ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ فَقِيلَ لَهُ لَوْ سَأَلْتَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَمِدٌ فَتَفَلَ فِي عَيْنَيَّ وَقَالَ ”اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ“ فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا بَعْدُ قَالَ وَقَالَ ”لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَيْسَ بِفَرَّارٍ“ قَالَ فَتَشَرَّفَ لَهَا النَّاسُ قَالَ فَبَعَثَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے والد، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رات کو بیٹھے باتیں کیا کرتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سردیوں میں گرمی والے اور گرمیوں میں سردی والے کپڑے پہنا کرتے تھے، کسی نے میرے والد سے کہا کہ آپ ان سے اس کی وجہ تو دریافت کریں، چنانچہ انہوں نے ان سے اس بارے میں کہا تو انہوں نے کہا: خیبر کے روز میری آنکھیں دکھتی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوایا اور میری آنکھوں میں اپنا لعاب مبارک لگایا اور مجھے دعادیتے ہوئے فرمایا: یا اللہ! اس سے گرمی سردی کا احساس دور کر دے۔ چنانچہ اس دن سے مجھے نہ گرمی محسوس ہوتی ہے اور نہ سردی، نیز اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: میں یہ جھنڈا یسے آدمی کو عطا کر وں گا، جسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت رکھتے ہیں اور وہ میدان جنگ سے شکست کھا کر فرار ہونے والا نہیں۔ چنانچہ جھنڈا دئیے جانے کے وقت اس کو حاصل کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت سے اصحاب نے گردنیں اوپر کو اٹھائیں اور اس وقت آپ نے وہ جھنڈا مجھے عطا فرما دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12319]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن ابي ليلي سييء الحفظ، ويشھد لقوله لأعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله الحديث الآتي، اخرجه ابن ماجه: 117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 778»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12320
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ ”لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ“ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ ”ادْعُوا لِي عَلِيًّا“ فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} [آل عمران: 61] دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا، جسے اللہ اور اسکے رسول سے محبت اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ ہم سب نے جھنڈا حاصل کرنے کی خواہش میں گردنیں اٹھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کو بلاؤ۔ پس انہیں لایا گیا، لیکن ان کی آنکھیں دکھتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کر دیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائی اور جب یہ آیت {نَدْعُ أَبْنَائَنَا وَأَبْنَائَکُمْ}نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو بلایا اور فرمایا: یااللہ! یہ لوگ میرے اہل ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12320]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1608»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2404
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12321
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ ”لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ“ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَمَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ فَتَطَاوَلْتُ لَهَا وَاسْتَشْرَفْتُ رَجَاءَ أَنْ يَدْفَعَهَا إِلَيَّ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَعَا عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَامُ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ فَقَالَ ”قَاتِلْ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يُفْتَحَ عَلَيْكَ“ فَسَارَ قَرِيبًا ثُمَّ نَادَى يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ أُقَاتِلُ قَالَ ”حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا: اب میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا، جسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے، اس لیے کہ اس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح نصیب فرمائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نے اس واقعہ سے پہلے کبھی امارت کی خواہش نہیں کی تھی، اس روز جھنڈا حاصل کرنے کی خواہش میں میں نے بھی گردن اوپر کو اٹھائی اور اونچا ہو ہو کر دیکھنے لگا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ جھنڈا مجھے عطا فرما دیں، لیکن جب دوسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلوا کر جھنڈا انہیں تھمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان سے قتال کرتے رہنا، یہاں تک کہ آپ فتح یاب ہو جائیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تھوڑ ا سا چلنے کے بعد کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا میں ان سے کس بات پر قتال کروں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات پر قتال کرو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیں، وہ لوگ جب یہ کام کر لیں تو وہ اپنے خون اور اموال کو مجھ سے بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12321]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8978»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ خیبر کی تفصیلات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس خصوصیت کا ذکر ہو چکا ہے، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑی شہادتیں ہیں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2405
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. الْفَضْلُ السَّادِسُ فِي اخْتِيَارِهِ قَاضِيَا لِلْيَمَنِ وَإِنَّهُ أكْثَرُ الأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ عِلْمًا وَأَعْظَمُهُمْ حِلْمًا وَأَقْدَمُهُمْ سَلَمًا
فصل ششم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12322
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ قَالَ قُلْتُ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ أَحْدَاثٌ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي لِسَانَكَ وَيُثَبِّتُ قَلْبَكَ“ قَالَ فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ بَعْدُ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ابھی تک نو عمر ہی تھاکہ رسول اللہ نے مجھے یمن کی طرف بھیج دیا، میں نے کہا: آپ مجھے ایسے لوگوں کی طرف روانہ کر رہے ہیں، جن کے مابین جھگڑے ہوں گے اور میں تو فیصلے کرنے کا علم نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو درست اور دل کو مضبوط رکھے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی تردد نہیں ہوا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12322]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح اخرجه ابن ماجه: 2310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 636»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح اخرجه ابن ماجه: 2310
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12323
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا بَعَثْتَنِي أَكُونُ كَالسِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ أَمِ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ قَالَ ”الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ“
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!جب آپ مجھے بھیج ہی رہے ہیں تو اب میں (آپ کے حکم پر عمل کرنے کے لیے) گرم سکّہ کی طرح بن جاؤں یا ایسا حاضر جو کہ وہ کچھ دیکھ رہا ہے جسے غائب نہیں دیکھ سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا حاضر جو کہ وہ کچھ دیکھ رہا ہے جسے غائب نہیں دیکھ سکتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12323]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 628»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک فرد کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا، آپ یہ پوچھنا چاہتے تھے کہ وہ بِن دیکھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی فوراً تعمیل کریں یا حالات و واقعات اور قرائن و شواہد کو دیکھ کر فیصلہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً دوسری چیز کو مناسب قرار دیا۔
جو اہل علم اس حدیث کی شرح پڑھنا چاہتے ہیں وہ سلسلہ صحیحہ: ۴/ ۵۲۷ حدیث نمبر ۱۹۰۴ میں مذکورہ طرق اور ان سے شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کے کیے ہوئے استنباط کا مطالعہ کریں۔

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 628
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12324
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ ”هَلْ لَكَ فِي فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَعُودُهَا“ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَيَّ فَقَالَ ”أَمَا إِنَّهُ سَيَحْمِلُ ثِقَلَهَا غَيْرُكَ وَيَكُونُ أَجْرُهَا لَكَ“ قَالَ فَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيَّ شَيْءٌ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ فَقَالَ لَهَا كَيْفَ تَجِدِينَكِ قَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ اشْتَدَّ حُزْنِي وَاشْتَدَّتْ فَاقَتِي وَطَالَ سَقَمِي قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ”أَوَمَا تَرْضَيْنَ أَنِّي زَوَّجْتُكِ أَقْدَمَ أُمَّتِي سِلْمًا وَأَكْثَرَهُمْ عِلْمًا وَأَعْظَمَهُمْ حِلْمًا“
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم فاطمہ کے ہاں جا کر ان کی عیادت کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا سہارا لے کر اٹھے اور فرمایا: اس کے بوجھ کو تیرے سوا کوئی دوسرا اٹھالے گا اور تجھے اس کا اجر ملے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد سننے کے بعد گویا اب مجھ پر کوئی بوجھ نہ رہا، یہاں تک کہ ہم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنے آپ کو کیسی پاتی ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میر ا غم زیادہ ہو چکا ہے اور شدید فاقوں سے دوچار ہوں اور میری بیماری بھی طویل ہو چکی ہے۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھوں سے اس حدیث میں یہ بھی لکھاپایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح ایسے آدمی سے کردوں، جو میرے امت میں سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والا اور سب سے زیادہ صاحب علم اور حوصلہ مند ہے؟ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12324]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، خالد بن طھمان ضعّفه ابن معين، وقال: خلط قبل موته بعشر سنين، وكان قبل ذلك ثقة، اخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 538، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20573»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. الْفَضْلُ السَّابِعُ فِي مَحَبَّةِ الشَّيْعَةِ لَهُ وَبُغْضِ الْخَوَارِجِ إِيَّاهُ
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12325
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّ فِيكَ مِنْ عِيسَى مَثَلًا أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي لَيْسَ بِهِ أَلَا وَإِنَّهُ يَهْلِكُ فِيَّ اثْنَانِ مُحِبٌّ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي أَلَا إِنِّي لَسْتُ بِنَبِيٍّ وَلَا يُوحَى إِلَيَّ وَلَكِنِّي أَعْمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَطَعْتُ فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ فَحَقٌّ عَلَيْكُمْ طَاعَتِي فِيمَا أَحْبَبْتُمْ وَكَرِهْتُمْ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: تم عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہہ ہو، یہود کو ان سے اس قدر بغض تھاکہ انہوں نے ان کی والدہ پر بہتان لگادیا اور نصاریٰ نے ان سے اس قدر محبت کی کہ انہیں وہ درجہ دے دیا، جس پر وہ فائز نہیں تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: خبردار! دو قسم کے لوگ میری وجہ سے ہلاکت سے دوچار ہوں گے، ایک تو مجھ سے محبت کرنے والے، وہ فرط محبت میں میرے متعلق ایسی ایسی باتیں کریں گے، جو درحقیقت مجھ میں نہیں ہیں اور دوسرے مجھ سے بغض رکھنے والے، وہ میری مخالفت میں آکر مجھ پر الزامات لگانے سے بھی نہیں چوکیں گے، خبردار! میں نہ نبی ہوں اور نہ میری طرف وحی آتی ہے، البتہ میں اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کے مطابق عمل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتا ہوں، پس میں جب تک تمہیں اللہ کی اطاعت کا حکم دوں تو تمہیں اچھا لگے یا نہ لگے اس بارے میں میرے حکم کی تعمیل تم پر لازم ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12325]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك القرشي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1377»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك القرشي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12326
عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ إِنَّ الشِّيعَةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْجِعُ قَالَ كَذَبَ أُولَئِكَ الْكَذَّابُونَ لَوْ عَلِمْنَا ذَاكَ مَا تَزَوَّجَ نِسَاؤُهُ وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: شیعہ لوگوں کا خیال ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دوبارہ واپس تشریف لائیں گے، انہوں نے کہا: یہ لوگ جھوٹے ہیں،جھوٹی باتیں کرتے ہیں، اگر یہ بات ہمارے علم میں ہوتی تو سیدنا علی کی ازواج شادی نہ کرتیں اور نہ ہم ان کی میراث کو تقسیم کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12326]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير: 2560، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1266»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی روایات تو ضعیف ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کئی شیعہ نے ان سے محبت کا اظہار کرنے میں غلوّ سے کام لیا اور وہ شرعی حد سے تجاوز کر گئے اور اپنی کئی خود ساختہ بدعات کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی آل کو آڑ بنا لیا۔
اور خوارج اس قدر مخالف ہو گئے کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور خوارج کی آپس میں جنگیںہونے لگ گئیں، دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۲۲) اور اس کے بعد والی احادیث اور ابواب۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. الْبَابُ الثَّالِثُ ذِكْرُ شَيْءٍ مِنْ خُطْبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
باب سوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض خطبات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12327
عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ صَحِيفَةٌ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبْلِ وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ فَقَدْ كَذَبَ قَالَ وَفِيهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ“
ابراہیم تیمی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: جو شخص یہ سمجھے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس صحیفہ کے علاوہ بھی دین کی کوئی بات ہے تو وہ جھوٹ کہتا ہے، اس صحیفہ میں زکوٰۃ کے اونٹوں کی عمروں اور کچھ قصاص کے مسائل کا تذکرہ ہے اور اس صحیفہ میں یہ بھی درج ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ مدینہ منورہ عیرسے ثور تک حرم ہے، جو آدمی اس میں کوئی بدعت نافذ کرے گا یا بدعتی کو پناہ دے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اللہ قیامت کے دن اس کی فرض اور نفل عبادت قبول نہیں کرے گا اور جو آدمی اپنے حقیقی باپ یا مالکوں کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کرے گا، اس پر بھی اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی فرض اورنفل عبادت قبول نہیں کرے گا، تمام مسلمانوں کی پناہ ایک ہی ہے، جس کے متعلق ادنیٰ مسلمان بھی کوشش کرسکتا (یعنی کسی کو پناہ دے سکتا) ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12327]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3172، 6755، ومسلم: 1370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 615»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3172
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں