🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. البابُ النَّاسِعُ فِي فَضْلِ الْبَقِيعِ وَأَحُدٍ وَالْحِجَازِ
باب نہم: بقیع، احد اور حجاز کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12707
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ ”يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ فَانْطَلِقْ مَعِي“ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ قَالَ ”السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ لِيَهْنِ لَكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ مِمَّا أَصْبَحَ فِيهِ النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا نَجَّاكُمُ اللَّهُ مِنْهُ أَقْبَلَتِ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يَتْبَعُ أَوَّلُهَا آخِرَهَا الْآخِرَةُ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى“ قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ ”يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةَ وَخُيِّرْتُ بَيْنَ ذَلِكَ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّةِ“ قَالَ قُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي فَخُذْ مَفَاتِيحَ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةَ قَالَ ”لَا وَاللَّهِ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ لَقَدِ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّةَ“ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَبُدِئَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ حِينَ أَصْبَحَ
مولائے رسول سیدنا ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدھی رات کو مجھے بیدا رکیا اور فرمایا: ابو مویہبہ!مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں بقیع قبرستان والوں کے لیے مغفرت کی دعا کروں، تم بھی میرے ساتھ چلو۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ چل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں جا کر جب ان کے درمیان کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے قبر والو! تم پر سلامتی ہو، تم جس حال میں ہو، وہ تمہیں مبارک ہو، ان حالات سے کہ جن میں اب لوگ ہیں، کاش کہ تم جان لو کہ اللہ نے تمہیں کس چیز سے بچا لیا ہے، فتنے اندھیری رات کے حصوں کی مانند ایک دوسرے کے پیچھے لگا تار آرہے ہیں، بعدمیں آنے والا فتنہ پہلے سے بدتر ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ابو مویہبہ! مجھے دنیا اور اس میں ہمیشگی کے خزانے دئیے گئے ہیں اور اس کے بعد جنت دی گئی ہے اور مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں دنیا یا اپنے رب کی ملاقات اور جنت میں سے جس چیز کا انتخاب کرنا چاہوں، کر لوں۔ ابو مو یہبہ کہتے ہیں: میں نے کہا:! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا کے خزانوں اور اس میں ہمیشگی اور اس کے بعد جنت کا انتخاب فرما لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابومویہبہ! اللہ کی قسم! ایسا نہیں میں نے اپنے رب کی ملاقات اور جنت کا انتخاب کر لیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بقیع کے حق میں مغفرت کی دعائیں کیں اور واپس چل دئیے، دوسرے دن صبح کو ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ بیماری شروع ہوگئی جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا سے اٹھالیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12707]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح في استغفاره لأھل البقيع واختياره لقاء ربه، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عبد الله بن عمر العبلي، اخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 871، والحاكم: 3/55، والدارمي: 1/ 36، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16093»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح في استغفاره لأھل البقيع واختياره لقاء ربه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12708
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ قَالَ ”يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ أَسْرِجْ لِي دَابَّتِي“ قَالَ فَرَكِبَ فَمَشَيْتُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَأَمْسَكْتُ الدَّابَّةَ وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ أَوْ قَالَ قَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ ”لِيَهْنِكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِمَّا فِيهِ النَّاسُ أَتَتِ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا الْآخِرَةُ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى فَلِيَهْنِكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ (دوسری سند)سیدنا ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بقیع قبرستان والوں کے حق میں دعا کرنے کا حکم دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات میں تین مرتبہ ان کے حق میں دعائیں کیں، جب دوسری رات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو مویہبہ! میری سواری تیار کرو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوئے اور میں پیدل چلا، تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بقیع کے پاس جا پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری سے نیچے اترے اور میں نے سواری کو پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اہل بقیع! تم جس حال میں ہو، تمہیں مبارک ہو، اِدھر تو رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چڑھے آ رہے ہیں، ہر بعد والا فتنہ پہلے والے سے سخت ہے، لہذا تم جس حالت میں ہو، تمہیں یہ مبارک ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12708]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16092»
وضاحت: فوائد: … بقیع قبرستان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بقیع کے لیے بخشش طلب کرنے کے لیے اس قبرستان کی طرف تشریف لے جاتے تھے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16092
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12709
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَفَلْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَلَمَّا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُ أَكْبَرُ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ“
سیدنا سوید انصاری رضی اللہ عنہ، جو کہ اصحاب ِ رسول میں سے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں غزوہ ٔ خیبر سے واپس آ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احد پہاڑ دکھائی دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر، احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12709]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 6467، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15744»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12710
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ أُحُدًا هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12710]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9025 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9013»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12711
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمُ الْجَبَلُ فَقَالَ ”اسْكُنْ عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبل احد پر تشریف لے گئے، سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے آ گئے، ان کی آمد پر پہاڑہلنے لگا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: رک جا، تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12711]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3675، 3699، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12130»
وضاحت: فوائد: … حجاز کی فضیلت اگلے باب میںبیان ہو گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3675
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. الْبَابُ الأَوَّلُ وَمَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالْحِجَازِ
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12712
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لَا أَدَعَ إِلَّا مُسْلِمًا“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہود و نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے اس حد تک نکال دوں گا اور یہاں صر ف مسلمانوں کو باقی چھوڑوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12712]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1767، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 201»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1767
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12713]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12714
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا عَلِيُّ إِنْ أَنْتَ وُلِّيتَ الْأَمْرَ بَعْدُ فَأَخْرِجْ أَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! میرے بعد اگر تمہیں سر براہی ملے تو اہل نجران کو جزیرۂ عرب سے نکال باہر کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12714]
تخریج الحدیث: «تخريج اسناده ضعيف جدا، قيس بن الربيع الاسدي تغير باخرة واشعث بن سوار ضعيف، اخرجه عبدالررزاق: 9994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 661»

الحكم على الحديث:
تخريج اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12715
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَخْرِجُوا يَهُودَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ“
سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری گفتگو یہ تھی کہ تم حجاز اہل نجران کے یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا اور یاد رکھو کہ سب سے برے لوگ وہ ہیں،جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12715]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الدارمي: 2498، والبزار: 439، والحميدي: 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1691»
وضاحت: فوائد: … جزیرۃ العرب: بحرہند، بحر شام، پھر دجلہ فرات نے جتنے علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کرآبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ جزیرۃ العرب کہلاتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَخْرِجُوا الْمُشْرِکِیْنَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ۔)) (بخاری، مسلم) … مشرکوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کی تعمیل کی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجاز کی سرزمین سے یہودو نصاری کو جلا وطن کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب خیبر فتح کر لیا تو یہودیوں کو وہاں سے نکال دینے کا ارادہ کیا۔ اس وقت خیبر کی زمین تو اللہ تعالی، رسول اللہ اور مسلمانوں کی ہو چکی تھی۔ یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کو خیبر میں رہنے دیا جائے، وہ کام کریں گے اور نصف پیداوار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا مطالبہ تسلیم کر لیا اور فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے تم لوگوں کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت دیں گے۔ سو وہ وہیں رہے، حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تیما او ر اریحا کے مقام کی طرف جلا وطن کر دیا۔ (بخاری: ۲۳۳۸)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12716
عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”الْإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ فِي أَهْلِ الْمَشْرِقِ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اصل ایمان تو اہل حجاز میں ہے اور دلوں کی سختی اور شدت اہل مشرق کے اونٹوں کے مالکوں میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12716]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 53، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14612»
وضاحت: فوائد: … حجاز، عرب کا وہ حصہ ہے، جو مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور طائف پر مشتمل ہے، ایمان و ایقان میں نام پیدا کرنے والی، بلکہ خونِ جگر سے شجرِ اسلام کی آبیاری کرنے والی شخصیات کی اکثریت کا تعلق حجاز سے تھا۔
مشرق سے مراد عراق کی سر زمین تھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 53
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں