🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. الْبَابُ الثَّانِي مِقْدَارُ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ فِي الْأُمَمِ الْأُخْرَى وَأَنَّهَا ثُلُنَا أَهْلِ الْجَنَّةِ
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12487
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوٌ مِنْ أَرْبَعِينَ فَقَالَ ”أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ ”أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِي الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَحْمَرَ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم تقریباً چالیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک قبہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ اس بات پر راضی ہو کہ اہل جنت کا چوتھا حصہ تم لوگ ہو گے۔ ہم نے عرض کی: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہاری تعداد اہل جنت کا تیسراحصہ ہو؟ ہم نے کہا:جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھی تعداد تمہاری ہوگی، اس لیے کہ جنت میں وہی لوگ جائیں گے جو مسلمان ہوں گے اور اہل شرک کے بالمقابل تمہاری تعداد یوں ہے، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر سفید بال ہو یا سرخ بیل کی جلد پر سیاہ بال ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12487]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6642ومسلم: 376، 378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3661»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی دو امتیازی خصوصیات بھی ہیں کہ اس کی عمر بھی زیادہ ہے اور ایک وقت میں اس کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوتی ہے،اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی پندرہویں صدی جاری ہے اور تعداد کم و بیش سوا ارب سے زیادہ ہے۔ ان خصوصیات کا یہ نتیجہ تو واضح ہے کہ جنت میں بھی اس کی تعداد زیادہ ہو گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12488
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَيْفَ أَنْتُمْ وَرُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَكُمْ رُبُعُهَا وَلِسَائِرِ النَّاسِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِهَا“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَثُلُثَهَا“ قَالُوا فَذَاكَ أَكْثَرُ قَالَ ”فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَالشَّطْرَ“ قَالُوا فَذَلِكَ أَكْثَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَهْلُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ أَنْتُمْ مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت کیا عالم ہوگا، جب جنت میں ایک چوتھائی تم لوگ ہو گے، پوری جنت کا چوتھا حصہ صرف تمہارے لیے اور تین چوتھائی باقی ساری امتوں کے لیے۔ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا، جب جنت میں ایک تہائی تعداد تمہاری ہوگی؟ صحابہ نے کہا: تب تو پہلے سے بھی زیادہ ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں تمہاری ہوں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12488]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3534، وابويعلي: 5358، والطبراني في الكبير: 10350، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4328»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12489
وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ مِنْهُمْ ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ“ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً ”أَنْتُمْ مِنْهُمْ ثَمَانُونَ صَفًّا“
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں اس میری امت کے لوگوں کی ہوں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12489]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2546، وابن ماجه: 4289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23328»
وضاحت: فوائد: … جنت کی ایک صف میں کتنے افراد ہوں گے، کوئی بھی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتا، ما سوائے اللہ تعالیٰ کے

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: ]

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12491
عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ قَالَ فَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ ”أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ النَّاسِ“ قَالَ فَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ ”أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: مجھے امید ہے کہ میری امت میں سے میری اتباع کرنے والے قیامت کے دن کل اہل جنت کا چوتھا حصہ ہوں گے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:یہ سن کر ہم نے خوشی سے اللہ اکبر کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے پیروکار اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوں گے۔ یہ سن کر ہم نے خوشی سے پھر اللہ اکبر کہا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے متبعین ا ہل جنت کی کل تعداد کا نصف ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12491]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الطبراني في الاوسط: 9078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14781»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12492
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِآدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قُمْ فَجَهِّزْ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدًا إِلَى الْجَنَّةِ“ فَبَكَى أَصْحَابُهُ وَبَكَوْا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ“ فَخَفَّفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: تم اٹھو اور اپنی اولاد کے ہر ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے آدمی جہنم کے لیے اور ایک جنت کے لیے الگ کردو۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین رونے لگ گئے، اس کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے سر اوپر اٹھاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میر ی جان ہے! دوسری امتوں کے مقابلے میں میری امت کی مثال ایسے ہے، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال ہو۔ یہ سن کر صحابہ کا غم کچھ ہلکا ہوا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12492]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27489 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28037»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12493
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ آدَمُ فَيُقَالُ هَذَا أَبُوكُمْ آدَمُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ فَيَقُولُ لَهُ رَبُّنَا أَخْرِجْ نَصِيبَ جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَكَمْ فَيَقُولُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ“ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا قَالَ ”إِنَّ أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو لا کر کہا جائے گا: یہ تمہارا باپ آدم علیہ السلام ہے، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب! میں حاضر ہوں، پھر ہمارا رب ان سے فرمائے گا: تم اپنی اولاد میں سے جہنم کا حصہ الگ کر دو، وہ کہیں گے:اے میرے رب! کتنا حصہ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر سو میں سے ننانوے۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہر سو میں ننانوے نکل گئے تو جنت میں جانے کے لیے ہم میں سے کتنے باقی بچیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: باقی امتوں کے بالمقابل میری امت یوں ہوگی، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12493]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8913 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8900»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ ایک حدیث درج ذیل ہے:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَقُولُ اللّٰہُ تَعَالٰی یَا آدَمُ فَیَقُولُ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ فِی یَدَیْکَ فَیَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِینَ فَعِنْدَہُ یَشِیبُ الصَّغِیرُ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارٰی وَمَا ہُمْ بِسُکَارٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیدٌ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَیُّنَا ذٰلِکَ الْوَاحِدُ قَالَ: ((أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْکُمْ رَجُلًا وَمِنْ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنِّی أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَکَبَّرْنَا فَقَالَ: ((أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَکَبَّرْنَا فَقَالَ: ((أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا نِصْفَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَکَبَّرْنَا فَقَالَ: ((مَا أَنْتُمْ فِی النَّاسِ إِلَّا کَالشَّعَرَۃِ السَّوْدَائِ فِی جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْیَضَ أَوْ کَشَعَرَۃٍ بَیْضَائَ فِی جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ۔)) … اللہ تعالیٰ (قیامت کے روز) فرمائے گا: اے آدم! وہ عرض کریں گے: جی میں حاضر ہوں اور شرف یاب ہوں اور ہر طرح کی بھلائی سب تیرے ہاتھ میں ہے، اللہ فرمائے گا: دوزخ میں جانے والا لشکر نکالو، وہ عرض کریں گے: دوزخ کا کتنا لشکر ہے؟ اللہ فرمائے گا: ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں جائے گا، پس وہ ایسا وقت ہوگا کہ (خوف کے مارے) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور تو لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہونگے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ (جنت میں فی ہزار ایک جانے والا) ہم میں سے کون ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، کیونکہ تم میں سے ایک آدمی ہوگا اور یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو گے۔ ہم لوگوں نے اللہ اکبر کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو گے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ ہو گے (یعنی نصف تم اور نصف دوسرے لوگ)۔ ہم نے پھر تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو اور لوگوں کے مقابلہ میں ایسے ہو جیسے سیاہ بال سفید بیل کے جسم پر یا سفید بال سیاہ بیل کے جسم پر۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. الْبَابُ الثَّالِثُ فِي بَقَاءِ طَائِفَةٍ مِنَ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ ثابِتَةِ عَلَى الْحَقِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12494
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لِعَدُوِّهِمْ قَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ إِلَّا مَا أَصَابَهُمْ مِنْ لَأْوَاءَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيْنَ هُمْ قَالَ ”بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَكْنَافِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ“
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ قیامت تک دین پر ثابت قدم اور دشمن پر غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، سوائے اس کے کہ انہیں کچھ معاشی تنگدستی کا سامنا کرنا پڑے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا اوروہ اسی حالت پر ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح میں ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12494]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره دون قوله: قالوا: يا رسول الله، واين ھم وھذا اسناد ضعيف لجھالة عمرو بن عبد الله السيباني الحضرمي، اخرجه الطبراني في الكبير: 7643، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22676»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12495
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَلَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطافرما دیتا ہے،مسلمانوں میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک اپنے مخالفین پر غالب رہیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12495]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16974»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12496
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ذَكَرَ حَدِيثًا رَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا غَيْرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَلَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل شام میں بگاڑ آگیا تومسلمانوں میں کوئی خیر نہیں رہے گی میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ رہے گا، جنہیں اللہ کی نصرت حاصل رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والے ان کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہوجائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12496]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 71، 3116، ومسلم: 1037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16974»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں