الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. البابُ الثَّالِثُ فِي فَضْلِ الْقُرُونِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي وَالثَّالِثِ
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 12527
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ ”الْقُرُونُ الَّذِي أَنَا فِيهِ ثُمَّ الثَّانِي ثُمَّ الثَّالِثُ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: لوگوں کے لیے کونسا زمانہ سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں میں ہوں پھر اس کے بعد والا دوسرا زمانہ اور پھر اس کے بعد والا تیسرا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12527]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2536، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:25233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25747»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12528
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيَقُولُونَ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ جنگ میں شامل ہوں گے، اسی دوران پوچھا جائے گا کیا تمہارے اندر کوئی صحابی ہے؟ جواباً کہا جائے گا جی ہاں! سو وہ فتح یاب ہو جائیں گے، اس کے بعد پھر جنگ ہو گی، اسی دوران پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے اندر کوئی تابعی ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! چنانچہ وہ بھی فتح یاب ہو جائیں گے، اس کے بعد پھر لوگوں میں جنگ ہو گی، اسی دوران پوچھا جائے گا: کیا تمہارے اندر کوئی تبع تابعی ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! تو وہ بھی فتح یاب ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12528]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2897، 3594، ومسلم: 2532، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11041 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11056»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ اس امت کے پہلے ادوار کی شخصیات میں صلاحیت، فضیلت، برکت اور تائید ونصرت زیادہ تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
10. الْبَابُ الرابِعُ فِي فَضْلِ الْقُرُونِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي وَالثَّالِثِ وَالرَّابِعِ وَفِي رِوَايَةِ وَالْخَامِسِ
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
حدیث نمبر: 12529
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ“ قَالَ حَسَنٌ ثُمَّ يَنْشَأُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ وَشَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت کا بہترین زمانہ اور بہترین لوگ وہ ہیں، جن کے اندر مجھے مبعوث کیا گیا، ان کے بعد وہ لوگ جو اِس زمانے کے بعد آئیں گے، ان کے بعد وہ لوگ جو اِن کے بعد آئیں گے، اِن کے بعد وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر ایسے لوگ آئیں گے، جن کی قسمیں ان کی گواہی پر اوران کی گواہی ان کی قسموں سے سبقت لے جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12529]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18539»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12530
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْلَةَ قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ أَنَا فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ“ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً ”الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ“
عبداللہ بن مولہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اس امت کا بہترین دور وہ ہے، جس کے اندر مجھے مبعوث کیا گیا ہے، اس کے بعد صحابہ کا، اس کے بعد تابعین اور اسکے بعد تبع تابعین کادور ہے، ان کے بعد ایسے لوگ آجائیں گے کہ جن کی گواہی ان کی قسموں پر اور ان کی قسمیں ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ عفان نے ایک مرتبہ روایت کو یوں بیان کیا: سب سے بہتر زمانہ وہ ہے، جس میں مجھے مبعوث کیا گیا، اس کے بعد صحابہ کا، اس کے بعد تابعین کا اس کے بعد تبع تابعین کا اور اس کے بعد بعدوالوں کا زمانہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12530]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 177، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 4/ 152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23412»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12531
وَعَنْ زَهْدَمٍ قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ“ قَالَ عِمْرَانُ فَلَا أَدْرِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قَرْنِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَنْذُرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، اس کے بعد ان لوگوں کا زمانہ جو اس کے بعد آئیں گے، پھر ان کے بعد والے لوگوں کا اور پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ بہتر ہو گا، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جن سے گواہی طلب نہ کی جائے گی، مگر وہ پھر بھی گواہی دیں گے، وہ خیانتیں کریں گے، امانتوں کا پاس نہیں کریں گے، وہ نذر مانیں گے، مگر پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا عام ہوگا۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12531]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6695ومسلم: 2535، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20148»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12532
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا هُوَ شَرٌّ مِنَ الزَّمَانِ الَّذِي قَبْلَهُ سَمِعْنَا ذَلِكَ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: تم پر جو بھی زمانہ آئے گا، وہ گزرے ہوئے زمانہ سے بدتر ہوگا، ہم نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دومرتبہ سنی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12532]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12186»
الحكم على الحديث: صحیح
11. بَابُ فِيمَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْعَرْبِ مُطْلَقًا
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 12533
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ قَالَ ”أَتْقَاهُمْ“ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ ”فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ“ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ ”فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونَنِي خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیاگیاـ: لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔ صحابہ نے کہا: ہم نے اس کے بارے میں تو سوال نہیں کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والے اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام ہیں، جن کے باپ بھی نبی ہیں، دادا بھی نبی ہیں اور پڑدادا خلیل اللہ ہیں۔ صحابہ نے کہا: ہمارا سوال اس کے متعلق بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم عرب کی کانوں (یعنی مختلف لوگوں) کے متعلق سوال کررہے ہو؟ لوگ تو کانیں ہیں، ان میں سے زمانہ ٔ جاہلیت کے بہتر لوگ، اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ انھیں دین کی سمجھ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12533]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3353، 3490، ومسلم: 2378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9564»
وضاحت: فوائد: … جس طرح کانیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، کوئی عمدہ اشیاء پر مشتمل ہوتی ہے تو کوئی ردّی چیزوں پر، اسی طرح لوگ بھی اخلاق و اعمال کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں، یعنی کوئی اچھا ہوتا ہے تو کوئی برا۔ علاوہ ازیں شرف و فضل اور اخلاق و کردار کے اعتبار سے جو لوگ زمانہ ٔ جاہلیت میں ممتاز ہوں، اگر وہ دین میں فہم و فراست حاصل کر لیں تو مسلم معاشرے میں بھی ان کا سابقہ مقام ومرتبہ بحال رہے گا۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا آدمی وہ ہے جو خشیت ِ الہی اور اللہ کے خوف سے معمور ہو۔اس کے علاوہ یوسف علیہ السلام کی افضلیت کا پتہ چلتا ہے جن کے باپ یعقوب علیہ السلام، دادا اسحاق علیہ السلام اور پڑدادا ابراہیم علیہ السلام سب اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے۔
شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک کامیابی و کامرانی کا معیار اور انحصار تقوی اور عمل صالح پر ہے، قومیت پر نہیں، بہرحال عرب لوگوں اپنی بعض صفات میں دنیا میں ممتاز سمجھے جاتے ہیں، مثال کے طور پر: جرأت و شجاعت، جود و سخا، فصاحت و بلاغت، میزبانی، عہد و پیمان کی پختگی اور جفاکشی۔
شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک کامیابی و کامرانی کا معیار اور انحصار تقوی اور عمل صالح پر ہے، قومیت پر نہیں، بہرحال عرب لوگوں اپنی بعض صفات میں دنیا میں ممتاز سمجھے جاتے ہیں، مثال کے طور پر: جرأت و شجاعت، جود و سخا، فصاحت و بلاغت، میزبانی، عہد و پیمان کی پختگی اور جفاکشی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12534
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي“
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عربوں سے دھوکہ کیا، وہ نہ میری شفاعت میں داخل ہو سکے گا اور نہ اسے میری محبت حاصل ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12534]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، حصين بن عمر الاحمسي ضعّفه احمد، وقال: انه كان يكذب، وقال البخاري: منكر الحديث، اخرجه الترمذي: 3928، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 519»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12535
عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا سَلْمَانُ لَا تُبْغِضْنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ قَالَ ”تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي“
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے سلمان! تم مجھ سے بغض نہ رکھنا، یہ بغض تمہیں دین سے دور کر دے گا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے ذریعہ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیسے بغض رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عربوں سے بغض رکھو توگویا یہ میرے ساتھ بغض رکھنا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12535]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف قابوس بن ابي ظبيان، ولانقطاعه بين ابي ظبيان وبين سلمان الفارسي، اخرجه الترمذي: 3927، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24132»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12536
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يُبْغِضُ الْعَرَبَ إِلَّا مُنَافِقٌ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی منافق ہی عربوں سے بغض رکھے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12536]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اسماعيل بن عياش ضعيف في روايته عن غير الشاميين، وزيد بن جبيرة المدني ضعيف جدا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 614»
الحكم على الحديث: ضعیف