🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. الْبَابُ الرَّابِعُ فِي دُخُولِ سَبْعِ مِائَةِ أَلْفِ مِنَ الْأُمَّةِ المُحَمَّدِيَّةِ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ وَأَكْثَرَ مِنْ ذلِكَ
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12507
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَكْثَرْنَا الْحَدِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ ”عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأُمَمِهَا فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفَرُ وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى مَعَهُ كَبْكَبَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَعْجَبُونِي فَقُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ فَقِيلَ لِي هَذَا أَخُوكَ مُوسَى مَعَهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ أُمَّتِي فَقِيلَ لِي انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا الظِّرَابُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ فَقِيلَ لِي أَرَضِيتَ فَقُلْتُ رَضِيتُ يَا رَبِّ رَضِيتُ يَا رَبِّ قَالَ فَقِيلَ لِي إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِدًا لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ الْأَلْفِ فَافْعَلُوا فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ثَمَّ نَاسًا يَتَهَاوَشُونَ“ فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنَ السَّبْعِينَ فَدَعَا لَهُ فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ ”قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ“ قَالَ ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا مَنْ تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعُونَ الْأَلْفَ قَوْمٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا حَتَّى مَاتُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک رات ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کا فی دیر تک باتیں کیں، پھر جب صبح کو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات تمام انبیاء اور ان کی امتیں میرے سامنے پیش کیے گئے، کسی نبی کے ساتھ تین آدمی تھے، کسی کے ساتھ چھوٹی سی جماعت، کسی کے ساتھ چھوٹا سا گروہ تھا اور کچھ نبی ایسے بھی تھے کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا، یہاں تک کہ میرے سامنے سے موسیٰ علیہ السلام گزرے اور ان کے ساتھ بنو اسرائیل کی ایک بڑی جماعت تھی، وہ لوگ مجھے بڑے اچھے لگے،میں نے پوچھا:یہ کون لوگ ہیں؟ مجھے بتلایا گیا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی قوم بنو اسرائیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے پوچھا کہ میری امت کہاں ہے؟ مجھ سے کہا گیا کہ آپ اپنی دائیں جانب دیکھیں، میں نے دیکھاتو وہاں ایک بہت بڑا ہجوم ساتھا، جو لوگوں کے چہروں سے بھر ا ہوا تھا، پھر مجھے کہا گیا: اپنی بائیں جانب دیکھیں، میں نے دیکھا تو اس طرف والا افق لوگوں سے بھرا ہوا تھا، پھر مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اب راضی ہیں؟ میں نے کہا: جی میں راضی ہوں، اے میرے رب! میں راضی ہوں، اے میرے ربّ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان امتیوں کے ساتھ ستر ہزار لوگ ایسے ہیں، جو حساب کے بغیر جنت میں جائیں گے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ماں باپ تم لوگوں پر فدا ہوں، اگر ہوسکے تو تم ان ستر ہزار میں سے بننے کی کوشش کرو اور اگر اس قدرمحنت نہ ہو سکے تو کم از کم اس ہجوم والوں میں سے ہی بننے کی کوشش کرو اور اگر اتنا بھی نہ ہوسکے تو افق والوں میں سے بننے کی کوشش کرو، میں نے وہاں کچھ لوگوں کو دھکم پیل کرتے بھی دیکھا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان ستر ہزار والوں میں سے مجھے بھی بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی، اتنے میں ان کے بعد ایک اور آدمی کھڑ اہوا اور اس نے بھی یہی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ رضی اللہ عنہ تم سے سبقت لے گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر ہم باتوں میں مصروف ہوگئے اور ہم نے کہا کہ اس بارے میں کیا خیال ہے کہ یہ ستر ہزار آدمی کون ہوسکتے ہیں، کیا یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے اور پھر مرتے دم تک شرک کے قریب نہیں گئے؟ جب یہ باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جو نہ زخموں کو داغتے ہیں،نہ دم جھاڑ کرتے ہیں اور نہ بد فالی یا بد شگونی لیتے ہیں، بلکہ اپنے رب پر مکمل توکل کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12507]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابويعلي: 5339، وعبد الرزاق: 19519، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3806»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. الْبَابُ الْخَامِسُ فِي تَمْيِيزِ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ مِنْ سَائِرِ الْأُمَمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالتَّحْجِيلِ
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12508
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”مَا مِنْ أُمَّتِي مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ قَالُوا وَكَيْفَ تَعْرِفُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَثْرَةِ الْخَلَائِقِ قَالَ ”أَرَأَيْتَ لَوْ دَخَلْتَ صَبْرَةً فِيهَا خَيْلٌ دُهْمٌ بُهْمٌ وَفِيهَا فَرَسٌ أَغَرُّ مُحَجَّلٌ أَمَا كُنْتَ تَعْرِفُهُ مِنْهَا“ قَالَ بَلَى قَالَ ”فَإِنَّ أُمَّتِي يَوْمَئِذٍ غُرٌّ مِنَ السُّجُودِ مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوءِ“
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز میں اپنی امت کے ہر فرد کو پہچان لوں گا۔ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس قدر لوگوں میں سے آپ اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچان لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا خیال ہے، اگر تم کسی اصطبل میں جاؤ، وہاں خالص سیاہ فام گھوڑے ہوں اور ان میں ایک ایسا گھوڑا ہو، جس کی پیشانی اور چاروں پاؤں سفید ہوں، تو کیا تم اسے جلدی سے پہچان نہ لوگے؟ صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میری امت کے افراد کی پیشانی سجدہ کی وجہ سے اور ہاتھ پاؤں وضو کی وجہ سے چمکتے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12508]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه مختصرا الترمذي: 607، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:17693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17845»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12509
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا مِنْ أُمَّتِي أَحَدٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ رَأَيْتَ وَمَنْ لَمْ تَرَ قَالَ ”مَنْ رَأَيْتُ وَمَنْ لَمْ أَرَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الطَّهُورِ“
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اپنی امت کے ہر فرد کو پہچان لوں گا۔ صحابہ کرام نے کہاـ: اے اللہ کے رسول! خواہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کودیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو، ہر ایک کو پہچان لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے کسی کو دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو، وضو کی وجہ سے ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12509]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير: 7509، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:22258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22612»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کا بہت بڑا اعزاز ہے کہ وضو کی وجہ سے قیامت کے روز چہرہ، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں چمکتے ہوں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12510
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَأَنْظُرَ إِلَى بَيْنِ يَدَيَّ فَأَعْرِفَ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَمِينِي مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ شِمَالِي مِثْلُ ذَلِكَ“ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ قَالَ ”هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ لَيْسَ أَحَدٌ كَذَلِكَ غَيْرُهُمْ وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ وَأَعْرِفُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ذُرِّيَّتُهُمْ“
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور مجھے ہی سب سے پہلے سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی، میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو ساری امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لوں گا، میرے پیچھے میری دائیں اور میری بائیں جانب، ہرطرف لوگ ہی لوگ ہوں گے۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ نوح علیہ السلام سے اپنی امت تک کی امتوں کے افراد میں سے اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضو کی برکت سے ان کے وضو کے اعضا ء روشن ہوں گے، اس امت کے علاوہ کسی دوسری کا کوئی آدمی اس علامت کا حامل نہ ہوگا اور میری امت کے لوگوں کو ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور میں انہیں اس طرح بھی پہچان لوں گا کہ ان کی اولاد ان کے سامنے دوڑ رہی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12510]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، دون قوله: واعرفھم انھم يؤتون كتبھم۔، اخرجه الحاكم: 2/ 478، والبزار: 3457، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22080»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12511
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنِّي لَأَعْرِفُ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ قَالَ ”أَعْرِفُهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ وَأَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ وَأَعْرِفُهُمْ بِنُورِهِمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ“
سیدنا ابو ذر اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں ساری امتوں میں سے اپنی امت کے لوگوں کو پہچان لوں گا۔ صحابہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں انہیں پہچان لوں گا، انہیں ان کے نامہ اعمال داہنے ہاتھوں میں ملیں گے اور سجدوں کی وجہ سے ان کے چہروں پر علامت ہو گی، میں اس علامت کی وجہ سے بھی انہیں پہچان لوں گا اور ان کے آگے آگے روشنی دوڑ رہی ہوگی،اس سے بھی میں انہیں پہچان لوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12511]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21740 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22083»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. الْبَابُ السَّادِسُ فِي دَعْوَاتِ النَّبِيِّ ﷺ الأُمَّتِهِ
باب ششم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12512
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَرَرْنَا عَلَى مَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَنَاجَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ طَوِيلًا قَالَ ”سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس ہوئے، ہمارا مسجد بنی معاویہ کے پاس سے گزر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے اندر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کافی دیر تک اللہ سے مناجات کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں، میں نے ایک دعا یہ کی کہ اللہ میری امت کو غرق کے ذریعے ہلاک نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ وہ میری امت کو قحط کے ذریعے ہلاک نہ کرے،اللہ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی، میں نے تیسری دعا یہ کی کہ ان کا آپس میں اختلاف نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12512]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2890، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1516»
وضاحت: فوائد: … کسی ایک خطے میں سخت قحط پڑ سکتا ہے اور کسی خطے میں لوگ پانی میں غرق بھی ہو سکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا سے مراد یہ ہے کہ ان آزمائشوں کی وجہ سے پوری امت ہلاک نہیں ہو گی، جیسا کہ پہلے والی امتیں مبتلا ہو جاتی تھیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12513
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ”إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ وَلَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سفر میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی، نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج میں نے انتہائی رغبت اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نما ز پڑھی ہے، میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں،اس نے میری دو دعاؤں کو قبول اورایک کو قبول نہیں کیا، میں نے دعا کی کہ وہ میری امت کو قحط میں مبتلا نہ کرے،اس نے اسے قبول کر لیا، پھر میں نے دعا کی کہ ان کا دشمن ان پر غالب نہ آئے، اس نے یہ دعا بھی قبول کر لی اور میں نے دعا کی کہ ان کے آپس میں اختلافات نہ ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12513]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابن خزيمة: 1228، والحاكم: 1/ 314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12617»
وضاحت: فوائد: … کسی ایک ملک یا خطے کے لوگوں پر دشمنوں کا غلبہ ہو سکتا ہے، پوری امت کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12514
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِيهِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ رَاقَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا حَتَّى كَانَ مَعَ الْفَجْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ جَاءَهُ خَبَّابٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَقَدْ صَلَّيْتَ اللَّيْلَةَ صَلَاةً مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ نَحْوَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ سَأَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ لَا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا غَيْرَنَا فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ لَا يَلْبِسَنَا شِيَعًا فَمَنَعَنِيهَا“
سیدنا خباب بن ارت سے روایت ہے، یہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں نے ساری رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نگاہ رکھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری رات نماز پڑھنے میں گزاردی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کے وقت سلام پھیرا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آج رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی نماز پڑھی ہے کہ میں نے قبل ازیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ انتہائی رغبت اور اللہ سے ڈروالی نماز تھی،میں نے اپنے رب تعالیٰ سے تین دعائیں کیں تو اس نے دو کو قبول اور ایک کو رد کردیا، میں نے اپنے رب تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ہمیں ان عذابوں کے ساتھ ہلاک نہ کرے جن کے ساتھ اس نے گزشتہ قوموں کو ہلاک کیا تھا، تو اس نے یہ دعا قبول کرلی اور میں نے اپنے رب عزوجل سے دعا کی کہ وہ ہمارے دشمنوں کو ہم پر غالب نہ کرے، اس نے میری یہ دعا بھی قبول کرلی اور میں نے اپنے رب عزوجل سے دعاکی کہ وہ ہمارے درمیان آپس میں اختلافات نہ ڈالے، تو اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12514]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2175، والنسائي: 3/ 216، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21367»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12515
عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَرْبَعًا فَأَعْطَانِي ثَلَاثًا وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَجْمَعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ كَمَا أَهْلَكَ الْأُمَمَ قَبْلَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا“
صحابی ٔ رسول سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے چار دعائیں کی ہیں، اس نے تین کو قبول کر لیا اور ایک کو قبول نہ کیا، میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ میری امت کو گمراہی پراکٹھا نہ کرے، اس نے میری یہ دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ اس نے جس طرح گزشتہ اقوام کو قحط کے ذریعے ہلاک کیا تھا، میری امت کو اس طرح ہلاک نہ کرے، اس نے اسے بھی قبول کر لیا اور میں نے یہ دعا بھی کی کہ وہ میری امت کو آپس کے اختلافات میں نہ ڈالے، لیکن اس نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12515]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير: 2171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27766»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12516
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ مَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي فَارْفُقْ بِهِ، وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ فَشُقَّ عَلَيْهِ.“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جو آدمی میری امت سے نرمی کا برتاؤ کرے تو بھی اس پرنرمی فرما اور جو آدمی ان سے سختی کرے اس پر تو بھی سختی فرما۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12516]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24841»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث حکمرانوں اور با اختیار لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں