🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. الْبَابُ السَّادِسُ فِي دَعْوَاتِ النَّبِيِّ ﷺ الأُمَّتِهِ
باب ششم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12517
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ قَيْسٍ أَخِي أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ فَنَاءَ أُمَّتِي فِي سَبِيلِكَ بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ.“
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا ابوبردہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو میری امت کی موت اس طرح بنا دے کہ وہ تیرے راستے میں نیزے کے ذریعے موت پائیں یا طاعون کے ذریعے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12517]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 792، والحاكم: 2/ 93، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15693»
وضاحت: فوائد: … نیز کے ذریعہ موت حقیقی شہادت ہے، مراد جہاد فی سبیل اللہ میں آنے والی موت ہے اور طاعون کی بیماری میں فوت ہونے والوں کا حکم شہادت کا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرنا چاہیے، لیکن اگر کوئی کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو وہ صبر کرے اور اللہ تعالیٰ کا شکوہ نہ کرے۔

الحكم على الحديث: اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12518
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنٌ لِكِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَاهُ الْعَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ لِأُمَّتِهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ فَأَكْثَرَ الدُّعَاءَ، فَأَجَابَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْ قَدْ فَعَلْتُ وَغَفَرْتُ لِأُمَّتِكَ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَقَالَ: يَا رَبِّ! إِنَّكَ قَادِرٌ أَنْ تَغْفِرَ لِلظَّالِمِ، وَتُثِيبَ الْمَظْلُومَ خَيْرًا مِنْ مَظْلَمَتِهِ، فَلَمْ يَكُنْ فِي تِلْكَ الْعَشِيَّةِ إِلَّا ذَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَعَا غَدَاةَ الْمُزْدَلِفَةِ فَعَادَ يَدْعُو لِأُمَّتِهِ، فَلَمْ يَلْبَثِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَبَسَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، ضَحِكْتَ فِي سَاعَةٍ لَمْ تَكُنْ تَضْحَكُ فِيهَا، فَمَا أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟ قَالَ: ”تَبَسَّمْتُ مِنْ عَدُوِّ اللَّهِ إِبْلِيسَ حِينَ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ اسْتَجَابَ لِي فِي أُمَّتِي وَغَفَرَ لِلظَّالِمِ، أَهْوَى يَدْعُو بِالثُّبُورِ وَالْوَيْلِ، وَيَحْثُو التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ، فَتَبَسَّمْتُ مِمَّا يَصْنَعُ جَزَعُهُ.“
سیدنا عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کے حق میں مغفرت و رحمت کی بہت سی دعائیں کیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے آپ کی یہ دعائیں قبول کر لیں ہیں اور میں نے آپ کی امت کی مغفرت کر دی ہے، البتہ لوگوں میں سے کوئی کسی پر ظلم کرے تو یہ جرم معاف نہ ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے رب! تو اس بات پر قادر ہے کہ ظالم کو معاف کر دے اور مظلوم کو اس کے ظلم کے بقدر بدلہ اپنی طرف سے عطا فرما دے۔ اس رات صرف اتنی با ت ہوئی،دوسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ کو صبح کی دوبارہ امت کے حق میں دعائیں کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچانک مسکرانے لگ گئے، کسی صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے ایک ایسے وقت میں تبسم فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تبسم نہیں فرمایا کرتے تھے، اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسکراتا رکھے، اس مسکراہٹ کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کے دشمن ابلیس کی حالت دیکھ کر مسکرایا ہوں، جب اسے پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نے امت کے حق میں میری دعا قبول کر لی ہے اور ظالم کو بھی بخشنے کا وعدہ کیا ہے تو وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اپنی ہلاکت و تباہی کی باتیں کرنے لگا اور اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا، تو میں اس کی پریشانی اور گھبراہٹ دیکھ کر مسکرا دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12518]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن كنانة بن العباس، وھو عبد الله، لم نقع له علي ترجمة، قال ابن حجر: مجھول، اخرجه ابوداود: 5234، وابن ماجه: 3013، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16308»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. الْبَابُ الأَوَّلُ فِي فَضْلِ الْقَرْنِ الْأَوَّلِ الَّذِي بُعِثَ فيه النبي ﷺ
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12519
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتَّى بُعِثْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں زمانہ بہ زمانہ بنی آدم کے بہترین زمانہ میں مبعوث ہوا ہوں، تاآنکہ میں اس دور میں آیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12519]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3557، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9381»
وضاحت: فوائد: … تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ خیر و بھلائی والا زمانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دور تھا۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3557
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12520
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ، قَالَ: فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: ”مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا.“ قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ!، قُلْنَا: نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ، قَالَ: ”أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ.“ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ: وَكَانَ كَثِيرًا مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: ”النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَتْ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ.“
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ادا کی، اس کے بعد ہم نے سوچا کہ ہم انتظار کر لیں اور عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ادا کر لیں، سو ہم نے انتظار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کے وقت تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مغرب سے اب تک یہیں ٹھہرے ہوئے ہو؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! جی ہاں، ہم نے سوچا تھا کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ادا کرلیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر و بیشتر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تار ے آسمان کے محافظ ہیں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو اللہ نے آسمان کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے، وہ پورا ہوگا اور میں اپنے صحابہ کا محافظ ہوں، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ حالات پیش آ جائیں گے، جن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ میری امت کے محافظ ہیں،جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ شدید حالات درپیش ہوں گے، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12520]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19795»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ صحابۂ کرام کے دور کے اواخر میں فتنہ و فساد اور بد امنی کی بعض صورتیں موجود تھیں، لیکن بعد والے ادوار کودیکھا جائے تو وہ بڑی خیر والا زمانہ تھا۔
قارئین کرام! اس اور اگلے باب کی احادیث کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی شریعت کی روشنی میں خیر و شرّ کے امور کی شناخت رکھتے ہوں، وگرنہ تو آج ہر ایک کا دعوی ہے کہ ہم چوں دیگرے نیست اور اسی لوگ بڑی سے آں۔ امت ِ مسلمہ شرّ اور بدی والے جس زمانے سے اب گزر رہی ہے،ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، لیکن مصیبت یہ ہے کہ شرّ کو شرّ قرار دینے کے لیے تیار کوئی نہیں ہے، ایک مثال یہ ہے کہ شریعت میں بے پردہ عورت کو دیکھنا منع ہے، لیکن اب سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، بازاروں، سیرگاہوں، شادی بیاہ کے موقعوں، لطف اندوزی کی صورتوں، اشتہاروں اور تعلیمی اداروں میں عورت کو دلہن شکل دے کر بلکہ نیم برہنہ کر کے اتنا عام کر دیا گیا کہ نسل نو تو کجا، بزرگ خواتین و حضرات کو یہ سمجھانا مشکل ہو گیا ہے کہ عورت کو دیکھنا گناہ ہے اور یہ سب گناہ کی صورتیں ہیں۔ اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہِ (اللہ کی پناہ)۔

الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 2531
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. الْبَابُ الثَّانِي فِي فَضْلِ الْقَرْنِ الأَوَّلِ وَالثَّانِي
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12521
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: ”أَنَا وَمَنْ مَعِي.“ قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ!، قَالَ: ”الَّذِي عَلَى الْأَثَرِ.“ قِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ!، قَالَ: فَرَفَضَهُمْ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے افضل کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اور میرے ساتھ والے۔ پھر پوچھا گیا کہ ان کے بعد کون لوگ افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سے بعد والے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ان کے بعد کون ہیں؟ تو آپ نے انس کو چھوڑ دیا (یعنی خاموش رہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12521]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7944»

الحكم على الحديث: اسناده جيّد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12522
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”خَيْرُكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.“ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَا أَدْرِي ذَكَرَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ”ثُمَّ خَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ، يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، پھراس کے بعد والا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو بار اس چیز کا ذکر کیا یا تین بار، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور بغیر گواہی طلب کیے وہ گواہیاں دیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12522]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10211 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10214»
وضاحت: فوائد: … موٹاپے کو پسند کرنے سے مراد یہ ہے کہ لوگ ماکولات و مشروبات پر بہت توجہ دیں گے، جس موٹاپے کا سبب بنتے ہیں، اور بعض لوگ تو واقعی مناسب حد تک موٹاپے کو پسند کرتے ہیں، سنگل باڈی اور سکڑو سے افراد کو پسند نہیں کیا جاتا۔

الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 2534
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12523
(وَعَنْهَا أَيْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.“ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَقَالَ الثَّالِثَةَ أَمْ لَا، ”ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا سب سے بہترین زمانہ وہ ہے، جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے،پھر اس کے بعدوالا زمانہ افضل ہو گا، پھر اس کے بعد والا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد تیسرے زمانے کا ذکر کیا یا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد ایسے لوگ آجائیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی دیں گے، جب کہ ان سے گواہی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12523]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7123 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7123»

الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 2534
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12524
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْلَى قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ بِالْأَهْوَازِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَغْلٍ أَوْ بَغْلَةٍ، فَإِذَا هُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ ذَهَبَ قَرْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَأَلْحِقْنِي بِهِمْ، فَقُلْتُ: وَأَنَا فَأَدْخِلْ فِي دَعْوَتِكَ، قَالَ: وَصَاحِبِي هَذَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي مِنْهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.“ قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، ”ثُمَّ تَخْلُفُ أَقْوَامٌ يَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ، يُهْرِيقُونَ الشَّهَادَةَ وَلَا يَسْأَلُونَهَا.“ قَالَ: وَإِذَا هُوَ بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ.
عبد اللہ بن مولہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اہوا ز میں چلا جارہا تھااور میرے آگے آگے ایک آدمی خچر پر سوار یوں کہتا جارہا تھا: یا اللہ اس امت میں میرا زمانہ پورا ہوگیا ہے، اب تو مجھے میرے ساتھیوں کے ساتھ ملا دے، میں نے ان کی بات سن کر کہا: اور میں بھی، مجھے بھی اپنی دعامیں شامل کرو، اس نے کہا: اے اللہ! میرا یہ ساتھی بھی میرے ساتھ ہو،اگر یہ بھی اس بات کا متمنی ہے تو، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: میری امت میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والوں کا۔ اب میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسرے زمانے کا ذکر کیا تھا یا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعدایسے لوگ آجائیں گے، جن میں موٹاپا عام ہوگا، ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی، مگر وہ گواہی دیں گے۔ یہ آدمی سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12524]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي في مسنده: 7420، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23348»
وضاحت: فوائد: … اس اور اگلے ابواب کا مفہوم بھی یہی ہے کہ بعد والے زمانوں کی بہ نسبت پہلے والے ادوار خیر و بھلائی پر مشتمل تھے، اُن ادوار میں بڑی بڑی نیکوکار ہستیاں موجود تھیں۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. البابُ الثَّالِثُ فِي فَضْلِ الْقُرُونِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي وَالثَّالِثِ
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12525
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْ.“
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، پھر اس کے بعد والا زمانہ، پھر اس کے بعد والا زمانہ اور پھر اس کے بعد والا زمانہ، بعد ازاں ایسے لوگ آجائیں گے، جن کی گواہیاں ان کی قسموں پر اور ان کی قسمیں ان کی گواہیوں پر سبقت لے جائیں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12525]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 6429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3594 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3594»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 6429
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12526
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يَتَسَمَّنُونَ يُحِبُّونَ السِّمَنَ يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا“
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے لیے سب سے افضل میرا زمانہ ہے، اس کے بعد اس کے بعد والا زمانہ اور پھر اس کے بعد والا دور، ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹے ہوں گے اور موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی طلب کیے جانے سے پہلے از خود گوائیاں دیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12526]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6428، ومسلم: 2535، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20058»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6428
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں