🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. الْبَابُ الثَّالِثُ فِي بَقَاءِ طَائِفَةٍ مِنَ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ ثابِتَةِ عَلَى الْحَقِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12497
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ أَوْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ“ فَقَامَ مَالِكُ بْنُ يَخَامِرٍ السَّكْسَكِيُّ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَقُولُ وَهُمْ أَهْلُ الشَّامِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَرَفَعَ صَوْتَهُ هَذَا مَالِكٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذًا يَقُولُ وَهُمْ أَهْلُ الشَّامِ
عمیر بن ہانی سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا وہ اس منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک اللہ کے حکم سے موجود رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے،بلکہ وہ لوگوں پر غالب رہیں گے۔ مالک بن یخامر سکسکی نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ اس حدیث کا مصداق اہل شام ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے کہا: یہ مالک کہہ رہا ہے کہ اس نے سیدنا معا ذ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ اس گروہ سے مراد اہل شام ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12497]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17056»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12498
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَزَالُ الْأُمَّةُ عَلَى الشَّرِيعَةِ مَا لَمْ يَظْهَرْ فِيهَا ثَلَاثٌ مَا لَمْ يُقْبَضِ الْعِلْمُ مِنْهُمْ وَيَكْثُرْ فِيهِمْ وَلَدُ الْحِنْثِ وَيَظْهَرْ فِيهِمُ الصَّقَّارُونَ“ قَالَ وَمَا الصَّقَّارُونَ أَوْ الصَّقْلَاوُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَشَرٌ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ تَحِيَّتُهُمْ بَيْنَهُمُ التَّلَاعُنُ“
سیدنا معاذ بن انس جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت شریعت پر ثابت قدم رہے گی، جب تک ان میں یہ تین باتیں ظاہر نہ ہو جائیں گی: (۱) علم کا اٹھ جانا، (۲) زنا کی یعنی حرامی اولاد کی کثرت ہو جانا اور صَقَّارُون کا ظاہر ہونا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! صقارون سے کون لوگ مرادہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخر زمانہ میں ایسے لوگ آئیں گے، جو ملاقات کے وقت سلام کی بجائے ایک دوسرے کو گالیاں دیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12498]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، اخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 439، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15713»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12499
وَعَنْ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَغْرِسُ فِي هَذَا الدِّينِ بِغَرْسٍ يَسْتَعْمِلُهُمْ فِي طَاعَتِهِ“
سیدنا ابو عتبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس دین میں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا، جن کو وہ اپنی اطاعت کے لیے استعمال کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12499]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابن ماجه: 8، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:17787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17940»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12500
عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ قَالَ ”فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ بِنَا فَيَقُولُ لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أَمِيرٌ لِيُكْرِمَ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک دوسروں پر غالب رہیں گے، یہاں تک کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا، تو اس گروہ کا امیر ان سے کہے گا: تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں، لیکن وہ جواباً کہیں گے:تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو (لہٰذا تم خود نماز پڑھاؤ)، یہ دراصل اللہ تعالیٰ اس امت کو عزت دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12500]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابويعلي: 2078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:14720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14777»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12501
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”لَنْ يَزَالَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہو جائے گی اور وہ اسی طرز عمل پر ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12501]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه ابن ماجه: 7، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:8484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8465»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12502
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَيَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ اپنے مخالفین پر ہمیشہ غالب رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12502]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابوداود: 2484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20091»
وضاحت: فوائد: … امام بخاری نے کہا: اس جماعت سے مراد اہل علم ہیں۔
امام احمد نے کہا: اِنْ لَّمْ یَکُوْنُوْا اَھْلَ الْحَدِیْثِ فَلَا اَدْرِیْ مَنْ ھُمْ۔ یعنی: اگر اس جماعت سے مراد اہل الحدیث (یعنی محدثین) نہیں ہیں، تو میں نہیں جانتا کہ کون مراد ہیں۔
قاضی عیاض نے کہا: اِنَّمَا اَرَادَ اَحْمَدُ اَہْلَ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ وَمَنْ یَعْتَقِدُ مَذَہْبَ اَہْلِ الْحَدِیْثِ۔ یعنی: امام احمد کی مراد اہل السنہ والجماعہ ہیں اور وہ لوگ ہیں جو اہل الحدیث کے منہج کے پیروکار ہوں۔
امام نووی نے کہا: ممکن ہے کہ یہ طائفہ مومنوں کی متعدد جماعتوں پر مشتمل ہو، مثلا: بہادری والے، بصیرت والے، فقیہ، محدث، مفسر، آمر بالمعروف، ناہی عن المنکر، زاہد اور عابد۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ ایک علاقے میں جمع ہوں۔ (دیکھئے: فتح الباری: ۱۳/ ۳۶۳، ۳۶۵، عون المعبود: حدیث: ۲۴۸۴)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو لوگ علم و عمل کی صورت میں قرآن و حدیث کی خدمت اور ان کا تحفظ کرتے رہے، وہ اس خوشخبری کے مستحق ہیں۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: عجیب حسنِ اتفاق ہے کہ اس حدیث ِ مبارکہ کا محل متعین کرتے ہوئے ہر دور اور زمانہ کے نیز ہر طبقہ کے محدثین کرام متفق نظر آتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل، امام بخاری، امام علی بن مدینی، یزید بن ہارون اور متأخرین میں سے خطیب بغدادی وغیرہ، کوئی بھی اختلاف کرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ الفاظ اگرچہ مختلف ہیں، مگر مسمّی ایک ہی ہے۔ ایسا زبردست اتفاق شاید ہی کسی حدیث کی توضیح و تعبیر میں دیکھنے میں آیا ہو۔ بعض لوگ اس اختصاص پر چیں بجبیں ہوتے ہیں اور اہل حدیث کے تذکرہ سے سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں، مگر انہیں دو باتیں ذہن نشین کر لینی چاہئیں۔ ایک یہ کہ حدیث و سنت کے ساتھ والہانہ شغف، حدیث و سنت کے جملہ علوم کے ساتھ حد درجہ اعتنا و توجہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و اخلاق اور غزوات و سرایا نیز حدیث پڑھنے پڑھانے میں یہ محدثین سب لوگوں سے فائق ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ صدر اول کے بعد امت مرحومہ کئی فرقوں میں بٹ گئی، ہر مذہب والوں نے اپنے اصول و فروع مقرر کر لئے اور مسلک کی رو رعایت کرتے ہوئے مخصوص احادیث سے استدلال کرنے لگے اور دوسری طرف نگاہ اٹھانا ہی گوارہ نہ کیا۔ مگر قربان جائیے اہل حدیث پر، ان کے ماتھے کا جھومر اور مانگ کا سیندور ہمیشہ فرمودۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہا ہے۔ انہوں نے فرمانِ رسول کو ہمیشہ سینے سے لگایا ہے، خواہ روایت کرنے والا شیعہ ہو یا قدریہ یا خارجی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا ہے، حنفی اور مالکی وغیرہ ہونا تو دوسری بات ہے، بشرطیکہ وہ عادل مسلم اور ثقہ ہو۔ اہل حدیث کسی دھڑے بندی اور گروہی تعصب کا شکار نہیں ہوئے۔ حدیث ِ رسول ہی ان کا مطمح نظر رہا۔ فللہ درھم۔
ہم اپنی گفتگو کو حنفی سرخیل عالم مولانا محمد عبد الحئی لکھنوی کی بات پر ختم کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص بنظرِ انصاف دیکھے، فقہ و اصول کے سمندر میں تنگ نظری کے بغیر غوطہ خوری کرے تو اسے یقین کامل ہو جائے گا کہ اختلافی مسائل، خواہ ان کا تعلق اصول سے ہو یا فروع سے، ان میںمحدثین کرام کا مؤقف محفوظ، قوی اور بادلائل ہے۔ میں نے جب اختلافی مسائل میں تحقیق و تدقیق سے کام لیا تو محدثین کی بات کو قرین انصاف پایا ہے۔
بھلا ایسا کیوں نہ ہو، وہ وارثانِ علوم نبوت اور نائبینِ شرعیت ِ محمدی ہیں۔ مولائے کریم ہمیں ان کی رفاقت کے شرفِ عظیم سے بہرہ ور فرمائیں اور ان کی محبت و کردار کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ (ملخص از صحیحہ: ۲۷۰)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. الْبَابُ الرَّابِعُ فِي دُخُولِ سَبْعِ مِائَةِ أَلْفِ مِنَ الْأُمَّةِ المُحَمَّدِيَّةِ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ وَأَكْثَرَ مِنْ ذلِكَ
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12503
عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ قَالَ شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ وَعَلَيْهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ فَلَمْ يَعُدْهُ فَدَخَلَ عَلَى ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِنَ الْكَلَاعِيِّينَ عَائِدًا فَقَالَ لَهُ ثَوْبَانُ أَتَكْتُبُ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ اكْتُبْ فَكَتَبَ لِلْأَمِينِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ لِمُوسَى وَعِيسَى مَوْلًى بِحَضْرَتِكَ لَعُدْتَهُ ثُمَّ طَوَى الْكِتَابَ وَقَالَ لَهُ أَتُبَلِّغُهُ إِيَّاهُ فَقَالَ نَعَمْ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِكِتَابِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى ابْنِ قُرْطٍ فَلَمَّا قَرَأَهُ قَامَ فَزِعًا فَقَالَ النَّاسُ مَا شَأْنُهُ أَحَدَثَ أَمْرٌ فَأَتَى ثَوْبَانَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَعَادَهُ وَجَلَسَ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِهِ وَقَالَ اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ”لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا“
شریح بن عبید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حمص میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیمار پڑگئے، ان دنوں وہاں کا عامل عبداللہ بن قرط ازدی تھا، وہ ان کی عیادت کے لیے نہ آیا، جب بنو کلاع قبیلہ کا ایک آدمی سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آیا تو انھوں نے اس سے کہا: کیا تم لکھنا جانتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: لکھو، پھر انہوں نے یہ تحریر لکھوائی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم ثوبان رضی اللہ عنہ کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کے نام، امابعد! اگرتمہارے علاقہ میں موسی یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی خادم ہوتا تو تم ضرور اس کی بیمار پرسی کو جاتے۔ پھر انہوں نے خط لپیٹ کر کہا: کیا تم یہ خط عبداللہ تک پہنچادو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس جب اس آدمی نے جا کر وہ خط عبداللہ بن قرط کو دے دیا اور اس نے پڑھا تو وہ خوف زدہ سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا، لوگوں نے کہا: اسے کیا ہوا؟ کیا کوئی حادثہ پیش آگیا ہے؟ وہ ثوبان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا، ان کی عیادت کی اور کچھ دیر ان کی خدمت میں بیٹھا رہا، اس کے بعد اٹھ کر جانے لگا تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس کی چادر پکڑی اور کہا: بیٹھ جاؤ، میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے اور اس پر مستزاد یہ کہ ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ ستر آدمی ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12503]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير: 1413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22782»
وضاحت: فوائد: … ستر ہزار اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے یہ کل انچاس لاکھ اور ستر ہزار (۰۰۰،۷۰،۴۹) افراد بنتے ہیں، جو بغیر کسی حساب وکتاب اور باز پرس کے جنت کے وارث بن جائیں گے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے بہت سی امتیں دکھائی گئیں، میں نے دیکھا کہ کسی نبی کے ساتھ تو بہت بڑی جماعت ہے اور کسی نبی کے ساتھ صرف ایک یا دو آدمی ہیں اور ایسے نبی کو بھی دیکھا کہ جس کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا۔ اچانک میرے سامنے ایک انبوہِ کثیر آیا، میں نے خیال کیا کہ یہ میری امت ہو گی، لیکن مجھے کہا گیا کہ یہ موسی علیہ السلام اور ان کی قوم ہے۔
اس کے بعد میں نے ایک بہت بڑی تعداد کو دیکھا، مجھے بتلایا گیا: ھٰذِہٖ اُمَّتُکَ وَمَعَھُمْ سَبْعُوْنَ اَلْفًا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ۔ … یہ آپ کی امت ہے اور آپ کی امت میں ستر ہزار افراد وہ ہیں، جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔
یہ واقعہ سنا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے۔ پس صحابہ کرام آپس میں ان ستر ہزار کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے لگے۔ بعض کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔بعض صحابہ کرام نے کہاکہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا، علاوہ ازیں صحابہ نے اور توجیہات بھی بیان کیں۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو صحابہ کرام نے اپنی مختلف آراء کا اظہار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُم الَّذِیْنَ لَایَسْتَرِقُوْنَ وَلَا یَکْتَوُوْنَ وَلَا یَتَطَیَّرُوْنَ وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔)) … یہ وہ لوگ ہوں گے جو دم نہیں کرواتے، نہ اپنے جسموں کو داغتے ہیں، نہ وہ فال لیتے ہیں اور اپنے اللہ پر ہی توکل کرتے ہیں۔ (بخاری، مسلم)
اس حدیث ِ مبارکہ میں بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کی نمایاں صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ شرک کی کسی بھی قسم میں مبتلا نہ ہوئے اور اپنی معمولی سے معمولی ضرورت کو غیر اللہ کے سامنے نہ رکھا، حتی کہ دم کرانے اور داغ لگوانے سے بھی گریز کیا۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ ان کا اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ تھا، اپنی مشکلات صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے علاوہ کسی کی طرف بھی ان کی توجہ نہ تھی، وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے، اس کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے،ا ن کا عقیدہ تھا کہ جو مشکلات پیش آتی ہیں، وہ اللہ کی تقدیر اور اس کی مرضی کے مطابق آتی ہیں، لہٰذا وہ مصائب و مشکلات میں صرف اللہ تعالیٰ کو ہی پکارتے تھے، جیسا کہ یعقوب علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: {قَالَ اِنَّمَا اَشْکُوْ بَثِّیْ وَ حُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِ} (سورۂ یوسف: ۸۶) … انھوں نے کہا: میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں کرتا۔
بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أُعْطِیْتُ سَبْعِیْنَ أَلْفًا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ، وُجُوْھُھُمْ کَالْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ، وَقُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَاسْتَزَدْتُّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَزَادَنِیْ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِیْنَ أَلْفًا۔)) قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: فَرَأَیْتُ أَنَّ ذٰلِکَ آتٍ عَلٰی أَھْلِ الْقُرٰی، وَمُصِیْبٌ مِنْ حَافَّاتِ الْبَوَادِیْ۔ … میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، ان کے چہرے بدر والی رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے اور ان کے دل ایک انسان کے دل کی مانند ہوں گے۔ جب میں نے اپنے ربّ سے مزید مطالبہ کیا تو اس نے ہر ایک کے ساتھ مزید ستر ہزار افراد کا اضافہ کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ چیز بستیوں والوں پر آئے گی اور دیہاتوں کے کناروں تک پہنچے گی۔
(مسند احمد: ۱/ ۶، صحیحہ: ۱۴۸۴)
اس حدیث کے مطابق چار ارب، نوے کروڑ اور ستر ہزار (۰۰۰،۷۰،۰۰،۹۰،۴) افراد حساب وکتاب کے بغیر جنت میں جائیں گے۔ (سبحان اللہ) یا اللہ! ہمارا بھی خیال رکھنا، تیرا رحم و کرم ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہے۔
لیکن درج ذیل حدیث میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی زیادہ وسعت نظر آ رہی ہے:
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَعَدَنِی رَبِّی سُبْحَانَہُ أَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعِینَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَیَاتٍ مِنْ حَثَیَاتِ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ۔)) … میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں حساب اور عذاب کے بغیر ستر ہزار افراد کو جنت میں داخل کرے گا اور ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار بھی ہوں گے اور اس پر مستزاد یہ کہ میرے ربّ عزوجل کے تین چلو بھی ہوں گے۔ (ابن ماجہ: ۴۲۷۶) اللہ جانے کہ اس کے چلو میں کتنے محمدی سما جائیں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12504
وَعَنْ سَهْلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا أَوْ قَالَ سَبْعَمِائَةِ أَلْفٍ بِغَيْرِ حِسَابٍ“
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار یا فرمایا سات لاکھ آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12504]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3247، 6543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23227»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12505
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ يَقُولُ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ غَابَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيهَا فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ ”إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي مَاذَا أَفْعَلُ بِهِمْ فَقُلْتُ مَا شِئْتَ أَيْ رَبِّ هُمْ خَلْقُكَ وَعِبَادُكَ فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ فَقُلْتُ لَهُ كَذَلِكَ فَقَالَ لَا أُحْزِنُكَ فِي أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ وَبَشَّرَنِي أَنَّ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ ادْعُ تُجَبْ وَسَلْ تُعْطَ فَقُلْتُ لِرَسُولِهِ أَوَمُعْطِيَّ رَبِّي سُؤْلِي فَقَالَ مَا أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِلَّا لِيُعْطِيَكَ وَلَقَدْ أَعْطَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ وَغَفَرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَمَا تَأَخَّرَ وَأَنَا أَمْشِي حَيًّا صَحِيحًا وَأَعْطَانِي أَنْ لَا تَجُوعَ أُمَّتِي وَلَا تُغْلَبَ وَأَعْطَانِي الْكَوْثَرَ فَهُوَ نَهْرٌ مِنَ الْجَنَّةِ يَسِيلُ فِي حَوْضِي وَأَعْطَانِي الْعِزَّ وَالنَّصْرَ وَالرُّعْبَ يَسْعَى بَيْنَ يَدَيْ أُمَّتِي شَهْرًا وَأَعْطَانِي أَنِّي أَوَّلُ الْأَنْبِيَاءِ أَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَطَيَّبَ لِي وَلِأُمَّتِي الْغَنِيمَةَ وَأَحَلَّ لَنَا كَثِيرًا مِمَّا شَدَّدَ عَلَى مَنْ قَبْلَنَا وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے پورا دن غائب رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف نہ لائے، ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اب باہر بالکل نہیں آئیں گے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور آتے ہی اس قدر طویل سجدہ کیا کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض کر لی گئی ہے، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: میرے رب نے مجھ سے میری امت کے بارے میں مشورہ لیاہے کہ میں ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کروں؟ میں نے کہا: اے میرے رب! وہ تیری مخلوق اور بندے ہیں، تو ان کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے، کر سکتا ہے، اللہ نے دوبارہ مجھ سے مشورہ لیا، میں نے پھر اسی طرح کہا، پھر اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: اے محمد! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی امت کے بارے میں غمگین نہیں کروں گا اور اس نے مجھے بشارت دی کہ سب سے پہلے میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ان میں سے ہر ہزار افراد کے ساتھ ستر ہزار آدمی بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی کہ آپ کوئی دعا کریں، قبول ہوگی، کچھ مانگیں آپ کو دیا جائے گا، میں نے اللہ کے فرستادے یعنی فرشتے سے کہا: کیا میں جو سوال کروں گا، میرا رب مجھے ضرو ر دے گا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا اسی لیے ہے کہ آپ جو سوال بھی کریں گے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے دے گا۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، اس نے میرے اگلے پیچھے گناہ معاف کر دئیے ہیں اور میں تندرست صحیح چلتا ہوں اور اس نے مجھے یہ خصوصیت بھی دی ہے کہ میری امت قحط سے نہیں مرے گی اور نہ دشمن اس پر غالب آئے گا اور اللہ نے مجھے کو ثر سے نوازا ہے، یہ ایک نہر ہے، جو جنت سے بہہ کر میرے حوض میں گرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت اور نصرت عطا فرمائی ہے اور میری امت کا رعب اس سے ایک مہینہ کی مسافت کے برابر آگے آگے چلتا ہے اور اللہ نے مجھے یہ فضیلت بھی دی ہے کہ انبیائے کرام میں سے میں سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اور میری امت کے لیے غنیمت کو حلال ٹھہرا یا ہے اور ہم سے پہلے لوگوں پر جو سخت احکامات نازل ہوئے تھے ان میں سے بہت سے ہمارے لیے حلال کر دئیے اور ہم پر کوئی مشقت یا تنگی مقرر نہیں کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12505]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن لھيعة ضعيف، وسعيد الراوي عن حذيفة لم نتبينه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23725»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12506
عَنْ أَنَسٍ أَوْ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَ مِائَةِ أَلْفٍ“ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”وَهَكَذَا“ وَجَمَعَ كَفَّهُ قَالَ زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”وَهَكَذَا“ فَقَالَ عُمَرُ حَسْبُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ دَعْنِي يَا عُمَرُ مَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ كُلَّنَا فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَدْخَلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”صَدَقَ عُمَرُ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہاـ: اے اللہ کے رسول! اس تعداد میں ہمارے لیے اضافہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی کو جمع کر کے فرمایا: اور اس طرح۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس تعداد میں ہمارے لیے اضافہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اس طرح۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو بکر! تمہیں یہ کافی ہے، اب بس کرو، لیکن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر! تم مجھے چھوڑو، اور درخواست کر لینے دو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت میں داخل کرے تو آپ کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک ہی ہتھیلی سے اپنی ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12506]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه عبد الرزاق في المصنف: 20556، والطبراني في الاوسط: 3424، والبزار: 3547، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12725»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں