الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. ظُهُورُ الْمَهْدِى وَمُدَّۃُ مَكْثِهِ
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
حدیث نمبر: 12918
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلِيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي“ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا بِهِ فِي بَيْتِهِ فِي غُرْفَتِهِ أُرَاهُ سَأَلَهُ بَعْضُ وَلَدِ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى أَوْ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ يَحْيَى
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ میرے اہل بیت کا ایک آدمی حکمران نہیں بنے گا، وہ میرا ہم نام ہوگا۔ امام احمد نے کہا: سفیان بن عینیہ نے ہمیں یہ حدیث اپنے گھر کے ایک کمرے میں اس وقت بیان کی، جب جعفر بن یحییٰ یا یحییٰ بن خالد کے ایک بیٹے نے ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12918]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 8242، والترمذي: 2231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3571»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 12919
وَعَنْهُ أَيْ ابْنِ مَسْعُودٍ بِلَفْظٍ آخَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَنْقَضِي الْأَيَّامُ وَلَا يَذْهَبُ الدَّهْرُ حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي اسْمُهُ يُوَاطِئُ اسْمِي“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایام اور یہ زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا،جب تک میرے اہل بیت کا ایک ایسا آدمی عرب کی سرزمین کا حکمران نہیں بنے گا، جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12919]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3572»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3572
حدیث نمبر: 12920
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا مِنَّا يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگردنیا کا صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو توپھر بھی اللہ تعالیٰ ہم میں سے ایک آدمی کو بھیجے گا، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ وہ اس سے پہلے ظلم و عدوان سے بھری ہوئی ہوگی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12920]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 773»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 12921
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي أَجْلَى أَقْنَى يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ قَبْلَهُ ظُلْمًا يَكُونُ سَبْعَ سِنِينَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ میرے اہل بیت کا ایک آدمی برسرِاقتدار نہیں آجائے گا، وہ انتہائی خوبصورت اونچے ناک والا ہوگا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا، جیسے یہ اس سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی، وہ سات برس ٹھہرے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12921]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: يكون سبع سنين مطر بن طھمان الوراق، وان كان فيه ضعف من جھة حفظه، متابع، أخرجه ابويعلي: 1128، والحاكم: 4/ 557، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11147»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: يكون سبع سنين مطر بن طھمان الوراق
حدیث نمبر: 12922
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”يَخْرُجُ الْمَهْدِيُّ فِي أُمَّتِي خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا“ زَيْدٌ الشَّاكُّ أَحَدُ الرُّوَاةِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ شَيْءٍ قَالَ ”سِنِينَ“ ثُمَّ قَالَ ”تُرْسِلُ السَّمَاءُ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَلَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ مِنْ نَبَاتِهَا شَيْئًا وَيَكُونُ الْمَالُ كُدُوسًا“ قَالَ ”يَجِيءُ الرَّجُلُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي أَعْطِنِي قَالَ فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں اس بات کا اندیشہ ہوا کہ نبی کریم کے بعد دنیا میں مختلف حوادث رونما ہوں گے، اس لیے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایک شخص مہدی پانچ یا سات یا نو کے لیے نکلے گا۔ زید راوی کو شک ہوا، میں نے کہا: اس عدد سے کیا مراد ہے؟ انھوں کہا: سال، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آسمان لوگوں پر موسلا دھار بارشیں برسائے گا اور زمین اپنی کھیتیوں میں سے کچھ بھی اپنے اندر ذخیرہ نہیں رکھے گی اور مال و دولت کے ڈھیر لگے ہوں گے، ایک آدمی اس کے پاس آکر کہے گا کہ اے مہدی!مجھے دو، مجھے دو، تو جتنا کچھ اسے اٹھانے کی طاقت ہو گی، اتنا کچھ وہ اس کے کپڑے میں ڈال دے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12922]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زيد ابي الحواري، أخرجه الترمذي مختصرا: 2232، وأخرجه بنحوه ابن ماجه: 4083، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11163 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11180»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف زيد ابي الحواري
حدیث نمبر: 12923
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي عَلَى اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَزَلَازِلَ فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ يَقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحًا“ فَقَالَ رَجُلٌ مَا صِحَاحًا قَالَ ”بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ“ قَالَ ”وَيَمْلَأُ اللَّهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غِنًى وَيَسَعُهُمْ عَدْلُهُ حَتَّى يَأْمُرَ مُنَادِيًا فَيُنَادِي فَيَقُولُ مَنْ لَهُ فِي مَالٍ حَاجَةٌ فَمَا يَقُومُ مِنَ النَّاسِ إِلَّا رَجُلٌ فَيَقُولُ ائْتِ السَّدَّانَ يَعْنِي الْخَازِنَ فَقُلْ لَهُ إِنَّ الْمَهْدِيَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَالًا فَيَقُولُ لَهُ احْثِ حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ وَائْتَزَرَهُ نَدِمَ فَيَقُولُ كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْسًا أَوَ عَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ قَالَ فَيَرُدَّهُ فَلَا يَقْبَلُ مِنْهُ فَيُقَالُ لَهُ إِنَّا لَا نَأْخُذُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ فَيَكُونُ كَذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانَ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُ أَوْ قَالَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ بَعْدَهُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت کے لوگوں میں اختلاف زوروں پر ہوگا اور زلزلے آرہے ہوں گے، میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا، جیسے اس سے پہلے یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی، آسمان والے اور زمین والے سب ہی اس سے خوش ہوں گے، وہ لوگوں کے درمیان مساوات کے ساتھ مال و دولت تقسیم کرے گا اور اللہ تعالیٰ امت ِ محمد کے دلوں کو غنا سے بھر دے گا، اس کا عدل و انصاف ہر ایک کو پہنچے گا، وہ ایک منادی کرنے والے کو حکم دے گا، پھر وہ یہ اعلان کرے گا کہ کس کو مال کی ضرورت ہے۔ یہ اعلان سن کر صرف ایک آدمی اٹھے گا، مہدی اس سے کہے گا: جا اورخزانچی سے کہو کہ مہدی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم مجھے مال و دولت دو، وہ خزانچی اس سے کہے گا کہ تم جس قدر لینا چاہتے ہو اٹھالو، جب وہ اپنی جھولی میں بہت سا مال لے کر اسے باندھے گا تو خودہی نادم ہو کر کہے گا: امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں میں ہی زیادہ بے صبرا نکلا، جو چیز ان سب کو پہنچ گئی، کیا وہ مجھ سے ہی عاجز آ گئی ہے، سو وہ اس مال کو واپس کرے گا، لیکن مہدی اس سے قبول نہیں کرے گا اور اسے کہا جائے گا: ہم جو چیز دے دیں وہ واپس نہیں لیتے۔ سات یا آٹھ یا نو سال اسی طرح خوش حالی کا دور دورہ رہے گا، اس کے بعد زندہ رہنے میں کوئی خیر نہیں ہوگی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12923]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال العلاء بن بشر المزني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11326 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11346»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی نے درج ذیل روایت کو سلسلہ صحیحہ میں ذکر کیا ہے:
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَخْرُجُ فِي آخِرِ اُمَّتِي الْمَھْدِيُّ، یَسْقِیْہِ اللّٰہُ الْغَیْثَ، وَتُخْرِجُ الْاَرْضُ نَبَاتَھَا، وَیُعْطِي الْمَالَ صِحَاحاً،وَتَکْثُرُ الْمَاشِیَۃُ، وَتَعْظُمُ الْأُمَّۃُ، یَعِیْشُ سَبْعًا اَوْ ثَمَانِیًا۔)) یَعْنِي حَجَّۃً۔ … میری امت کے آخری زمانے میں مہدی نکلے گا، اللہ تعالیٰ بارش نازل کر ے گا، زمین کھیتیاں اگائے گی، وہ لوگوں کو بہترین مال عطا کریں گے، مویشی زیادہ ہو جائیں گے، امت کی تعداد بڑھ جائے گی اور وہ سات یا آٹھ سال تک زندہ رہے گا۔ (حاکم: ۴/۵۵۷۔ ۵۵۸، صحیحہ: ۷۱۱)
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَخْرُجُ فِي آخِرِ اُمَّتِي الْمَھْدِيُّ، یَسْقِیْہِ اللّٰہُ الْغَیْثَ، وَتُخْرِجُ الْاَرْضُ نَبَاتَھَا، وَیُعْطِي الْمَالَ صِحَاحاً،وَتَکْثُرُ الْمَاشِیَۃُ، وَتَعْظُمُ الْأُمَّۃُ، یَعِیْشُ سَبْعًا اَوْ ثَمَانِیًا۔)) یَعْنِي حَجَّۃً۔ … میری امت کے آخری زمانے میں مہدی نکلے گا، اللہ تعالیٰ بارش نازل کر ے گا، زمین کھیتیاں اگائے گی، وہ لوگوں کو بہترین مال عطا کریں گے، مویشی زیادہ ہو جائیں گے، امت کی تعداد بڑھ جائے گی اور وہ سات یا آٹھ سال تک زندہ رہے گا۔ (حاکم: ۴/۵۵۷۔ ۵۵۸، صحیحہ: ۷۱۱)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال العلاء بن بشر المزني
حدیث نمبر: 12924
وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ قَدْ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ خُرَاسَانَ فَأْتُوهَا فَإِنَّ فِيهَا خَلِيفَةَ اللَّهِ الْمَهْدِيَّ“
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے آتے دیکھو تو تم ان کی طرف جا کر ان میں شامل ہوجانا، ان میں اللہ کا خلیفہ مہدی ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12924]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ، وعلي بن زيد بن جدعان ضعيف، وابوقلابة الجرمي لم يسمع من ثوبان، بينھما ابو اسماء عمرو بن مرثد الرحبي، أخرجه ابن ماجه: 4084، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22746»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 12925
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، اللہ تعالیٰ ایک رات میں اس کی اصلاح فرمائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12925]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 4085، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 645»
وضاحت: فوائد: … اصلاح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رجوع کرے گا، اس کو توفیق دے گا اور اس کی رشد و ہدایت اس کو الہام کرے گا، پہلے اس میں ایسے اوصاف نہیں ہوں گے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: شیخ غزالی نے کہا: میں تو ایک طالب علم ہوں، بہرحال میرے علم کے مطابق تو کسی واضح حدیث میں امام مہدی کا ذکر نہیں آتا اور اگر کوئی صریح حدیث ہے تو وہ صحیح نہیں ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: جنابِ غزالی! کون سے مشائخ نے آپ جیسے طالب علم کو ایسی روایات کی نفی کرنے کی تلقین کی؟ کیا وہ علمائے کلام تو نہیں ہیں، جن بیچاروں کے پاس حدیث کا علم ہے نہ راویانِ حدیث کا؟
اس دعوے کی کیا اہمیت ہے، جبکہ دوسری طرف علمائے حدیث نے مختلف احادیث کی روشنی میں امام مہدی کی آمد کو ثابت کر رکھا ہے۔ امام غزالی کو چاہیے تھا کہ وہ تصحیح و تضعیف کے قانون کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن و حدیث اور ان سے صادر ہونے والے احکام و مسائل کا مراجعہ کرتے اور مسلانوں کو خواہ مخواہ شک میں نہ ڈالتے۔
میرے مسلمان بھائی! عصر حاضر میں اکثر مسلمان راہِ مستقیم سے منحرف ہو چکے ہیں، یہ ذاتی اختراعات اور خود ساختہ آراء کی روشنی میں شریعت کی مختلف نصوص کی وضاحت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اب امام مہدی کے خروج کے بعد ہی اسلام کو غلبہ وا قتدار نصیب ہو گا، (ان سے پہلے غلبۂ اسلام کی کوئی صورت نہیں)۔
یہ بے سر و پا دعوی اور ضلالت و گمراہی ہے، جو شیطان نے اکثر لوگوں اور بالخصوص صوفیوں کے دلوں میں القاء کر دی ہے۔ حالانکہ امام مہدی کی آمد میں جتنی احادیث ِ نبویہ مروی ہیں، کسی ایک سے بھی یہ دعوی ثابت نہیں ہوتا۔ اتنا ضرور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ایسے شخص کے ظہور کی خوشخبری سنائی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہو گا اور وہ اسلام کے احکام کی روشنی میں فیصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کو عام کر دے گا، حقیقت میں وہ ان مجدِّدین میں سے ہو گا، جن کو اللہ تعالیٰ ہر صدی کے بعد بھیجتا ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ ہم دین کی تجدید کی خاطر علم و عمل کے لیے جد و جہد ترک کر دیں۔
اسی طرح امام مہدی کی آمد کا یہ معنی بھی نہیں کہ ہم زمین میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کے نفاذ کے لیے کوئی کوشش نہ کریں اور ان کی آس میں بیٹھ جائیں۔
ہم نے عوام الناس کی جو بے سر و پا باتیں بیان کی ہیں، بعض صوفیوں سمیت کچھ لوگوں کو ان کا علم تو ہے، لیکن جب ان میں یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ امام مہدی کے خروج کا عقیدہ رکھنے سے یہ امور لازم تو آئیں گے، تو وہ فوراً انکار کرنے لگتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہی ہے، جیسے کسی نے کہا: اس نے میرا علاج اس چیز کے ساتھ کیا، جس میں بیماری تھی۔ ایسے لوگ معتزلیوں سے مختلف نہیں ہیں کہ جنھوں نے اس بنا پر تقدیر کا انکار کر دیا کہ کچھ لوگ اس سے جبر کا استدلال کر رہے ہیں۔ یہ بیچارے ایک طرف تو جبر کا جواب نہ دے سکے اور دوسری طرف جس چیز کا عقیدہ رکھنا فرض تھا، اس کا انکار کر دیا۔
ایک فریق کا خیال ہے کہ تاریخ اسلامی شاہد ہے کہ بعض خود غرضوں اور بیوقوفوں نے امام مہدی کے قصے سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں کو زبردست قتنوں میں مبتلا رکھا ہے، مثلاً جہیمان سعودی کا حرمِ مکی میں برپا کیا ہوا فتنہ۔ اس لیے ضروری ہے کہ سرے سے امام مہدی کی آمد کا ہی انکار کر دیا جائے، تاکہ فتنہ باز لوگوں کے فتنے دب جائیں، شیخ غزالی نے بھی اپنے کلام کے آخر میں اس چیز کی طرف اشارہ کیا تھا۔
اس فاسد خیال کے حق میں رائے دینے والے اُن باطل پرستوں کی طرح ہیں جنھوں نے آخری زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار اس بنا پر کیا ہے، کہ بعض کذاب اور دجّال لوگوں نے فتنہ برپا کرنے کے لیے اپنے آپ کو مسیح موعود ظاہر کیا ہے، مثال کے طور پر مرزا غلام احمد قادیانی۔ شیخ شلتوت جیسوں نے واضح طور پر عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار کر دیا اور بعض وضاحت تو نہیں کرتے، لیکن ان کی زبانیں اس قسم کے خیالات ِ فاسدہ اگلتی رہتی ہیں۔ ممکن ہے کہ میں حتمی طور پر یہ دعوی کر دوں کہ جن لوگوں نے امام مہدی کی آمد کا انکار کیا، انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا بھی انکار کر دیا۔
میرے ہاں ان مُنکِرین کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جو اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا انکار اس چیز کو بنیاد بنا کر دے کہ بعض فرعونوں نے بھی الوہیت کا دعوی کیا ہے، اس لیے سرے سے اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا ہی انکار کر دیا جائے، تاکہ فراعنہ باز آ جائیں۔ {فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ} (سورۂ قمر: ۱۵) … کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟
(صحیحہ: ۱۵۲۹)
ان بیچاروں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ریت کی تپش سے بچنے کے لیے آگ میں گھس گیا، حق یہ ہے کہ شرعی علم و عمل کی روشنی میں فتنوں کا ردّ کیا جائے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: شیخ غزالی نے کہا: میں تو ایک طالب علم ہوں، بہرحال میرے علم کے مطابق تو کسی واضح حدیث میں امام مہدی کا ذکر نہیں آتا اور اگر کوئی صریح حدیث ہے تو وہ صحیح نہیں ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: جنابِ غزالی! کون سے مشائخ نے آپ جیسے طالب علم کو ایسی روایات کی نفی کرنے کی تلقین کی؟ کیا وہ علمائے کلام تو نہیں ہیں، جن بیچاروں کے پاس حدیث کا علم ہے نہ راویانِ حدیث کا؟
اس دعوے کی کیا اہمیت ہے، جبکہ دوسری طرف علمائے حدیث نے مختلف احادیث کی روشنی میں امام مہدی کی آمد کو ثابت کر رکھا ہے۔ امام غزالی کو چاہیے تھا کہ وہ تصحیح و تضعیف کے قانون کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن و حدیث اور ان سے صادر ہونے والے احکام و مسائل کا مراجعہ کرتے اور مسلانوں کو خواہ مخواہ شک میں نہ ڈالتے۔
میرے مسلمان بھائی! عصر حاضر میں اکثر مسلمان راہِ مستقیم سے منحرف ہو چکے ہیں، یہ ذاتی اختراعات اور خود ساختہ آراء کی روشنی میں شریعت کی مختلف نصوص کی وضاحت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اب امام مہدی کے خروج کے بعد ہی اسلام کو غلبہ وا قتدار نصیب ہو گا، (ان سے پہلے غلبۂ اسلام کی کوئی صورت نہیں)۔
یہ بے سر و پا دعوی اور ضلالت و گمراہی ہے، جو شیطان نے اکثر لوگوں اور بالخصوص صوفیوں کے دلوں میں القاء کر دی ہے۔ حالانکہ امام مہدی کی آمد میں جتنی احادیث ِ نبویہ مروی ہیں، کسی ایک سے بھی یہ دعوی ثابت نہیں ہوتا۔ اتنا ضرور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ایسے شخص کے ظہور کی خوشخبری سنائی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہو گا اور وہ اسلام کے احکام کی روشنی میں فیصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کو عام کر دے گا، حقیقت میں وہ ان مجدِّدین میں سے ہو گا، جن کو اللہ تعالیٰ ہر صدی کے بعد بھیجتا ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ ہم دین کی تجدید کی خاطر علم و عمل کے لیے جد و جہد ترک کر دیں۔
اسی طرح امام مہدی کی آمد کا یہ معنی بھی نہیں کہ ہم زمین میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کے نفاذ کے لیے کوئی کوشش نہ کریں اور ان کی آس میں بیٹھ جائیں۔
ہم نے عوام الناس کی جو بے سر و پا باتیں بیان کی ہیں، بعض صوفیوں سمیت کچھ لوگوں کو ان کا علم تو ہے، لیکن جب ان میں یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ امام مہدی کے خروج کا عقیدہ رکھنے سے یہ امور لازم تو آئیں گے، تو وہ فوراً انکار کرنے لگتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہی ہے، جیسے کسی نے کہا: اس نے میرا علاج اس چیز کے ساتھ کیا، جس میں بیماری تھی۔ ایسے لوگ معتزلیوں سے مختلف نہیں ہیں کہ جنھوں نے اس بنا پر تقدیر کا انکار کر دیا کہ کچھ لوگ اس سے جبر کا استدلال کر رہے ہیں۔ یہ بیچارے ایک طرف تو جبر کا جواب نہ دے سکے اور دوسری طرف جس چیز کا عقیدہ رکھنا فرض تھا، اس کا انکار کر دیا۔
ایک فریق کا خیال ہے کہ تاریخ اسلامی شاہد ہے کہ بعض خود غرضوں اور بیوقوفوں نے امام مہدی کے قصے سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں کو زبردست قتنوں میں مبتلا رکھا ہے، مثلاً جہیمان سعودی کا حرمِ مکی میں برپا کیا ہوا فتنہ۔ اس لیے ضروری ہے کہ سرے سے امام مہدی کی آمد کا ہی انکار کر دیا جائے، تاکہ فتنہ باز لوگوں کے فتنے دب جائیں، شیخ غزالی نے بھی اپنے کلام کے آخر میں اس چیز کی طرف اشارہ کیا تھا۔
اس فاسد خیال کے حق میں رائے دینے والے اُن باطل پرستوں کی طرح ہیں جنھوں نے آخری زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار اس بنا پر کیا ہے، کہ بعض کذاب اور دجّال لوگوں نے فتنہ برپا کرنے کے لیے اپنے آپ کو مسیح موعود ظاہر کیا ہے، مثال کے طور پر مرزا غلام احمد قادیانی۔ شیخ شلتوت جیسوں نے واضح طور پر عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار کر دیا اور بعض وضاحت تو نہیں کرتے، لیکن ان کی زبانیں اس قسم کے خیالات ِ فاسدہ اگلتی رہتی ہیں۔ ممکن ہے کہ میں حتمی طور پر یہ دعوی کر دوں کہ جن لوگوں نے امام مہدی کی آمد کا انکار کیا، انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا بھی انکار کر دیا۔
میرے ہاں ان مُنکِرین کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جو اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا انکار اس چیز کو بنیاد بنا کر دے کہ بعض فرعونوں نے بھی الوہیت کا دعوی کیا ہے، اس لیے سرے سے اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا ہی انکار کر دیا جائے، تاکہ فراعنہ باز آ جائیں۔ {فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ} (سورۂ قمر: ۱۵) … کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟
(صحیحہ: ۱۵۲۹)
ان بیچاروں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ریت کی تپش سے بچنے کے لیے آگ میں گھس گیا، حق یہ ہے کہ شرعی علم و عمل کی روشنی میں فتنوں کا ردّ کیا جائے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
17. بيعةُ الْمَهْدِي وَالْخَسْفُ بِأَعْدَائِهِ
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
حدیث نمبر: 12926
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَتْهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَكِيُّ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ سُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيُلْقِي الْإِسْلَامَ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ يَمْكَثُ تِسْعَ سِنِينَ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”سَبْعَ“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک خلیفہ) کی وفات کے موقع پر لوگ اختلاف میں پڑ جائیں گے، اتنے میں ایک آدمی مدینہ منورہ سے فرار ہو کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آکر اسے باہر نکالیں گے اور حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، جبکہ وہ اس چیز کو ناپسند کر رہا ہو گا، ان کے مقابلہ کے لیے شام کی طرف سے ایک لشکر چلے گا، لیکن جب وہ بیداء مقام پر پہنچے گا تو اسے وہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، جب لوگ یہ صورت حال دیکھیں گے تو ملک شام کے صلحاء اور عراق کی فوجیں آکر اس کی بیعت کریں گے، پھر قریش میں سے ایک ایسا آدمی اٹھے گا، جس کے ماموں بنو کلب کے لوگ ہوں گے، مکہ مکرمہ والا آدمی اس کے مقابلے کے لیے ایک دستہ بھیجے گا اور یہ ان پر غالب آ جائیں گے، یہ بنو کلب کا لشکر ہوگا، ناکامی ہے ان لوگوں کے لیے، جو بنوکلب کی غنیمت میں حاضر نہیں ہوں گے، پھر وہ حاکم لوگوں میں مال تقسیم کرے گا اور لوگوں میں نبی کی سنت کے مطابق عمل رائج کرے گا اور دینِ اسلام کو زمین پر برپا اور مضبوط کرے گا، اور نویا سات برس تک ٹھہرے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12926]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف لابھام صاحب ابي خليل، ولاضطراب قتادة فيه، أخرجه ابوداود: 4288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27224»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے اور اگلی روایات میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ان کا مصداق امام مہدی ہوں گے۔
لیکن امام ابوداود نے اس قسم کی احادیث کا اپنی سنن میں کتاب المھدی میں ذکر کیا ہے، امام طیبی نے کہا: اس خلیفہ سے مراد امام مہدی ہیں، کیونکہ امام ابوداود نے ان احادیث کو کتاب المھدی میں ذکر کیا ہے۔
لیکن امام ابوداود نے اس قسم کی احادیث کا اپنی سنن میں کتاب المھدی میں ذکر کیا ہے، امام طیبی نے کہا: اس خلیفہ سے مراد امام مہدی ہیں، کیونکہ امام ابوداود نے ان احادیث کو کتاب المھدی میں ذکر کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف لابھام صاحب ابي خليل
حدیث نمبر: 12927
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ قَالَ دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَأَنَا مَعَهُمَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْحَجَرِ فَيَبْعَثُ اللَّهُ جَيْشًا فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ أُخْرِجَ كَارِهًا قَالَ ”يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ عَلَى نِيَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي جَعْفَرٍ فَقَالَ هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ
عبید بن قبطیہ کہتے ہیں: حارث بن ابی ربیعہ اور عبد اللہ بن صفوان، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا، انھوں نے سیدہ سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا،یہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کی بات تھی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ایک پناہ طلب کرنے والا حطیم میں پناہ لے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے کے لیے ایک لشکر بھیجے گا، لیکن جب وہ بیداء میں پہنچے گا تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بندے کا کیا بنے گا، جو مجبوراً ان کے ساتھ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے بھی انہی کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، البتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھا دیا جائے گا۔ جب میں نے یہ حدیث ابو جعفر سے ذکر کی تو انھوں نے کہا کہ اس سے مدینہ والا بیداء مراد ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12927]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2882، وابوداود!: 4289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27020»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2882