الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. مَارُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں¤اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12898
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَيُؤْمِنُ النَّاسُ أَجْمَعُونَ، فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا، لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ، فَيَفِرُّ الْيَهُودِيُّ وَرَاءَ الْحَجَرِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! يَا مُسْلِمُ! هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَاءِي، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعْرُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہو، اور اس علامت کو دیکھ کر سب لوگ ایمان لے آئیں گے، مگر جو لوگ اس سے پہلے ایمان نہیں لا چکے ہوں گے یا جنھوں نے اچھے عمل نہیں کیے ہوں گے، ان کو ان کا ایمان فائدہ نہیں دے گا اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہودیوں سے قتال نہیں کر لو گے، یہودی بچنے کے لیے دوڑ کر پتھر کے پیچھے پناہ لے گا، لیکن وہ پتھر یوں بولے گا: اے اللہ کے بندے! اے مسلم! یہ یہودی میرے پیچھے ہے، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہیں کر لو گے جن کے جوتے بال دار ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12898]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري ضمن حديث مطول: 6506، 7121، و أخرج الفقرة الاولي منه مسلم: 157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9161»
وضاحت: فوائد: … یہودیوں کے ساتھ یہ معاملہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں پیش آ ئے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري ضمن حديث مطول: 6506
حدیث نمبر: 12899
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تیس کے قریب جھوٹے دجال پیدا نہیں ہوں گے، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12899]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري ضمن حديث طويل برقم: 7121، وأخرجه مسلم: ص 2239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10877»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۳۲)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري ضمن حديث طويل برقم: 7121
13. مَارُوى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12900
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک لوگ مساجد کے سلسلے میں ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہیں کرنے لگیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12900]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 449، والنسائي: 2/ 32، وابن ماجه: 739، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12406»
وضاحت: فوائد: … فخر کرنے کی دو صورتیں ہیں: (۱) زبان سے اظہار کرنا، جیسا کہ آج کل لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان کی مسجد بہت خوبصورت اور وسیع ہے، اس میں لگا ہوا پتھر بڑا قیمتی ہے، اس کے مینار اتنے بلند ہیں، اس میں بچھا ہوا قالین اس قسم کا ہے، اس میں لکڑی کا کام بڑے ہنر کے ساتھ کیا گیا ہے، جبکہ سننے والے منتظم حضرات کو اس سے خوشی ہوتی ہو۔ (۲) فعل سے اظہار کرنا، مثلا مسجد کی تزیین و آرائش میں مبالغے سے کام لینا اور دل ہی دل میں یہ سمجھنا کہ ہماری مسجد باقی سب مسجدوں سے ممتاز ہے، بلکہ بعض دفعہ زبان سے اس کا اظہار بھی کر دینا۔
کوئی مانے یا نہ مانے، کسی نہ کسی صورت میں اکثر و بیشتر لوگوں میں یہ فخر اپنی دونوں قسموں کے ساتھ پایا جا رہا ہے، الا ما شاء اللہ۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر(۱۳۶۵)
کوئی مانے یا نہ مانے، کسی نہ کسی صورت میں اکثر و بیشتر لوگوں میں یہ فخر اپنی دونوں قسموں کے ساتھ پایا جا رہا ہے، الا ما شاء اللہ۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر(۱۳۶۵)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 12901
وَعَنْهُ أَيْضًا يَرْفَعُ الْحَدِيثَ قَالَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ قَيِّمَ خَمْسِينَ امْرَأَةً رَجُلٌ وَاحِدٌ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ علم اٹھ جائے گا،جہالت عام ہوجائے گی، مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہوجائے گی کہ پچاس پچاس عورتوں پر ایک ایک مرد نگران ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12901]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 81، ومسلم: 2671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11966»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۸۸)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 81
حدیث نمبر: 12902
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا عَامًّا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ لوگوں پر بھرپور اور عام بارش نہیں برسے گی، لیکن زمین کوئی چیز نہیں اگائے گی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12902]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 3418، و ابو يعلي: 3527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14093»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 12903
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ، اللہ کہنا ختم نہ ہو جائے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12903]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 2207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13113»
وضاحت: فوائد: … امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ قیامت بدترین مخلوق پر قائم ہو گئی۔ امام طیبی نے کہا: اس کا معنی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جائے گا اور اس کی عبادت نہیںکی جائے گی، (اس وقت قیامت برپا ہو جائے گی)۔
مراد یہ ہے کہ توحید اور توحید کا اقرار کرنے والے ختم ہو جائیں گے اور روئے زمین پر صرف شرک اور شرّ ہو گا۔
مراد یہ ہے کہ توحید اور توحید کا اقرار کرنے والے ختم ہو جائیں گے اور روئے زمین پر صرف شرک اور شرّ ہو گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
14. مَارُوِيَ عَنْ غَيْرِهِمَا فِي ذَلِكَ
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12904
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُلْتَمَسَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِي كَمَا تُلْتَمَسَ الضَّالَّةُ فَلَا يُوجَدُ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ میرے صحابہ میں سے ایک آدمی کو اس طرح تلاش کیا جائے گا، جیسے گم شدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے، لیکن وہ آدمی ملے گا نہیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12904]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف الحارث الاعور، أخرجه البزار: 849، وعبد بن حميد: 69، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 720»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ایک صدی کے اندر اندر صحابۂ کرام کا زمانہ ختم ہو گیا تھا، آخری صحابی سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ ۱۱۰ہجری میں فوت ہوئے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف الحارث الاعور
حدیث نمبر: 12905
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَأْخُذَ اللَّهُ شَرِيطَتَهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَيَبْقَى فِيهَا عُجَاجَةٌ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ اللہ تعالیٰ اہل زمین میں اپنی شرط پوری نہیں کر لے گا،پھر صرف ایسے ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے،جن کو نہ نیکی کی معرفت ہو گی اور نہ وہ برائی کو برا سمجھیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12905]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين الا ان فيه عنعنة الحسن البصري وقد رُوي مرفوعا وموقوفا، والاشبه وقفه، أخرجه الحاكم: 4/ 435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6964»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کامفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خیر والے اور دین دار لوگوں کو وفات دے کر زمین سے اٹھا لے گا۔
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين الا ان فيه عنعنة الحسن البصري وقد رُوي مرفوعا وموقوفا
حدیث نمبر: 12906
وَعَنْ عَلْبَاءَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى حُثَالَةِ النَّاسِ“
سیدنا علباء سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت صرف انتہائی رذیل اور گھٹیا لوگوں پر قائم ہوگی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12906]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 18/ 158، والحاكم: 4/ 495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16168»
وضاحت: فوائد: … جن گھٹیا لوگوںمیں توحید اور اسلام کا نام و نشان تک نہیں ہو گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 12907
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتُلُوا إِمَامَكُمْ وَتَجْتَلِدُوا بِأَسْيَافِكُمْ، وَيَرِثُ دِيَارَكُمْ شِرَارُكُمْ“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک تم اپنے امام کو قتل نہیں کر وگے اور اپنی تلواریں نہیں نکال لو گے اور تم میں سے بد ترین لوگ تمہارے حکمران نہیں بن جائیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12907]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن عبد الرحمن الاشھلي تفرد بالرواية عنه عمرو بن ابي عمرو، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان،، وقال ابن معين: لا اعرفه، أخرجه الترمذي:2169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23691»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف