الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. غَزْوُ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَفَارِسَ وَالرُّوْمِ
جزیرۂ عرب، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
حدیث نمبر: 12938
عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ عَنِ الْمَسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: أَبْصِرْ مَا تَقُولُ، قَالَ: أَقُولُ لَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: إِنْ تَكُنْ قُلْتَ ذَاكَ، إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعًا، إِنَّهُمْ لَأَسْرَعُ النَّاسِ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ، وَإِنَّهُمْ لَخَيْرُ النَّاسِ لِمِسْكِينٍ وَفَقِيرٍ وَضَعِيفٍ، وَإِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ، وَالرَّابِعَةُ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ، وَإِنَّهُمْ لَأَمْنَعُ النَّاسِ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ
سیدنا مستورد فہری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا:قیامت قائم ہوتے وقت رومیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ذرا غور کرو، کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: میں نے جوبات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، وہی تم سے کہہ رہا ہوں۔ یہ سن کر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم یہی بات کہتے ہو تو پھر اس کی وجہ یہ ہے کہ رومیوں میں یہ چار اوصاف ہیں: (۱) اگر وہ میدانِ جنگ سے فرار ہوجائیں، تو (انتقامی) حملہ کرنے کے لیے بہت جلد واپس آتے ہیں، (۲)وہ غریبوں، فقیروں اور ضعیفوں کے حق میں دوسرے لوگوں کی بہ نسبت بہت بہتر ہیں، (۳) وہ لڑائی کے وقت سب سے زیادہ حوصلہ مند ثابت ہوتے ہیں اور (۴) یہ لوگ بادشاہوں کے مظالم کو سب سے بڑھ کر روکنے والے ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12938]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18185»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2898
حدیث نمبر: 12939
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ الْمَسْتَوْرِدَ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”أَشَدُّ النَّاسِ عَلَيْكُمُ الرُّومُ، إِنَّمَا هَلَكَتُهُمْ مَعَ السَّاعَةِ“، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو: أَلَمْ أَزْجِرْكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا
سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سب سے بڑے مخالف رومی ہیں، ان کا خاتمہ قیامت کے ساتھ ہوگا۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا میں نے تجھے ایسی احادیث بیان کرنے سے منع نہیں کیا تھا؟ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12939]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18186»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 12940
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرٌ إِلَّا يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ! جَاءَتِ السَّاعَةُ، قَالَ: وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ، وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ، قَالَ: عَدُوًّا يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ، وَنَحَّى بِيَدِهِ نَحْوَ الشَّامِ، قُلْتُ: الرُّومَ تَعْنِي؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَيَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمُ الْقِتَالِ رِدَّةٌ شَدِيدَةٌ، قَالَ: فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شَرْطَةً لِلْمَوْتِ، لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُرَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشَّرْطَةُ، ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شَرْطَةً لِلْمَوْتِ، لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُرَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشَّرْطَةُ، ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شَرْطَةً لِلْمَوْتِ، لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشَّرْطَةُ، فَإِذَا كَانَ الْيَوْمُ الرَّابِعُ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الدَّبْرَةَ عَلَيْهِمْ، فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً، إِمَّا قَالَ: لَا يُرَى مِثْلُهَا، وَإِمَّا قَالَ: لَمْ نَرَ مِثْلَهَا، حَتَّى أَنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ، فَمَا يُخْلِفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيِّتًا، قَالَ: فَيَتَعَادُّ بَنُو الْأَبِ كَانُوا مِائَةً، وَلَا يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ، فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ، أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ، قَالَ: بَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذَا سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: جَاءَهُمُ الصَّرِيخُ: إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَ فِي ذَرَارِيِّهِمْ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيَقْبَلُونَ، فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنِّي لَأَعْلَمُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ، هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ“
اسیر بن جابر سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: کوفہ میں ایک دفعہ سرخ رنگ کی آندھی چلی، ایک عام آدمی، جس کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی، نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ قیامت آگئی ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، جو پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے، یہ سن کر بیٹھ گئے اور کہا: جب تک میراث تقسیم نہیں ہو جاتی اور غنیمت کی وجہ سے خوش نہیں ہوا جاتا، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی۔ دشمنان ِ اسلام، اہل ِ اسلام کے مقابلہ کے لیے اور اہل ِ اسلام ان کے مقابلہ کے لیے جمع ہوں گے، یہ بات کہتے ہوئے انہوں نے شام کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: کیا آپ کی مراد رومی لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس وقت شدید قسم کی لڑائی ہوگی،مسلمان بھی اس پر موت کی شرط لگا دیں گے کہ فاتح ہی لوٹنا ہے، پس وہ لڑیں گے، یہاں تک کہ ان کے اور دشمنوں کے درمیان رات حائل ہو جائے گی اور مسلمان اور رومی دونوں لوٹ آئیں گے اور ان میں سے کوئی بھی فاتح اور غالب نہیں ہوگا، اس طرح شرط بھی ختم ہو جائے گی، پھر مسلمان موت کی شرط لگا دیں گے کہ فاتح ہی لوٹنا ہے، پس وہ لڑیں گے، یہاں تک کہ ان کے اور دشمنوں کے درمیان رات حائل ہو جائے گی اوردونوں اس حال میں واپس ہوں گے کہ ان میں سے کوئی بھی فاتح نہیں ہوگا اور اس طرح یہ شرط بھی ختم ہو جائے گی، اس بار بھی مسلمان موت کی شرط لگا دیں گے کہ فتح کے ساتھ ہی واپس آنا ہے، پس وہ لڑیں گے، یہاں تک کہ شام ہو جائے گی اور دونوں کی واپسی غیر فاتحانہ ہو گی اور شرط ختم ہو جائے گی، جب چوتھا دن ہوگا تو باقی اہل اسلام بھی دشمن کے مقابلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان پر شکست کو مسلط کر دے گا، وہ ایسی لڑائی لڑیں گے کہ جس کی کوئی مثال نہیں ہو گی، (اس قدر لاشوں کے پشتے لگ جائیں گے کہ) ایک پرندہ ایک طرف سے اڑے گا اور ابھی تک وہ ختم نہیں ہونے پائیں گے کہ وہ اڑتے اڑتے مر جائے گا، صورتحال یہ ہوگی کہ ایک باپ کے سو بیٹوں کو جب شمار کیا جائے گا تو بچنے والا صرف ایک ہو گا، ان حالات میں کس غنیمت کی خوشی ہو گی اور کون سی میراث تقسیم ہوگی؟ لوگ اس قسم کے حالات میں ہوں گے کہ اس سے بڑی ایک خبرسنائی دے گی اور وہ یہ کہ ایک چلّانے والا یوں چلّا رہا ہو گا کہ پیچھے لوگوں کے بچوں میں دجال پہنچ چکا ہے، یہ سن کر وہ تمام چیزوں کو پھینک دیں گے اور اُدھر متوجہ ہو کر دس گھڑ سواروں کا ایک دستہ بھیجیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان گھڑ سواروں کے اور ان کے آباء واجداد کے ناموں اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں تک کو جانتا ہوں، وہ ان دنوں روئے زمین پر موجود تمام گھڑ سواروں سے افضل لوگ ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12940]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2899، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4146»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2899
19. قِتَالُ التَّرْكِ بِأَرْضِ الْبَصْرَةِ
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
حدیث نمبر: 12941
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنَا الْعَوَّامُ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ جَمْهَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ إِلَى جَنْبِهَا نَهْرٌ يُقَالُ لَهُ دَجْلَةُ، ذُو نَخْلٍ كَثِيرٍ وَيَنْزِلُ بِهِ بَنُو قَنْطُورَاءَ، فَيَتَفَرَّقُ النَّاسُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَصْلِهَا وَهَلَكُوا وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ عَلَى أَنْفُسِهَا وَكَفَرُوا وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ فَيُقَاتِلُونَ، قَتْلَاهُمْ شُهَدَاءُ، يَفْتَحُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْ بَقِيَّتِهِمْ، وَشَكَّ يَزِيدُ فِيهِ مَرَّةً فَقَالَ الْبُصَيْرَةُ أَوِ الْبَصْرَةُ
سیدنا ابو بکرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بصرہ کی سر زمین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس کی ایک جانب دجلہ نامی دریا ہے، وہاں بہت زیادہ کھجوریں ہیں۔ بنو قنطوراء (یعنی ترک لوگ) وہاں آکر ٹھہریں گے اور مسلمان تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے: ایک گروہ اپنے اصل کے ساتھ مل جائے گا، (یعنی اپنی کھیتوں اور مویشیوں میں مصروف ہوجائے گا)، یہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے دوسرا گروہ الگ تھلک رہے گا، یہ لوگ کافر ہوں گے اور ایک گروہ اپنے بیوی بچوں کو پیچھے چھوڑ آئیں گے اورلڑیں گے، ان کے مقتولین شہید ہوں گے، پھر باقیوں کو اللہ تعالیٰ فتح عطا کرے گا۔ یزید بن ہارون کو ایک دفعہ یہ حدیث بیان کرتے ہوئے یہ شک ہوا کہ بصیرہ ہے یا بصرہ۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12941]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20413 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20684»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 12942
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ جَمْهَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَتَنْزِلُنَّ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ أَوِ الْبُصَيْرَةُ عَلَى دَجْلَةِ نَهْرٍ“ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ الْعَوَّامُ: بَنُو قَنْطُورَاءَ، هُمُ التُّرْكُ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور دریائے دجلہ کے کنارے بصرہ یا بصیرہ کی سر زمین میں اترو گے، … پھر گزشتہ حدیث کی مانند ذکر کیا، عوام نے کہا: بنو قنطوراء سے مراد ترک ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12942]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20685»
وضاحت: فوائد: … خلافت ِ عباسیہ کے آخری خلیفہ معتصم باللہ (صفر ۶۵۶ہجری) کے دور میں یہ واقعات ظہور پذیر ہو چکے ہیں، حدیث میں وارد علامات بغداد پر منطبق ہوتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20685
حدیث نمبر: 12943
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ثَنَا الْحَشَرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ الْقَيْسِيُّ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جَمْهَانَ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ حَدَّثَنِي أَبِي فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَتَنْزِلَنَّ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ يَكْثُرُ بِهَا عَدَدُهُمْ وَيَكْثُرُ بِهَا نَخْلُهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ بَنُو قَنْطُورَاءَ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْعُيُونِ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى جَسْرٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ دَجْلَةُ فَيَتَفَرَّقُ الْمُسْلِمُونَ ثَلَاثَ فِرَقٍ فَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَأْخُذُونَ بِأَذْنَابِ الْإِبِلِ وَتَلْحَقُ بِالْبَادِيَةِ وَهَلَكَتْ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَتَأْخُذُ عَلَى أَنْفُسِهَا فَكَفَرَتْ فَهَذِهِ وَتِلْكَ سَوَاءٌ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَجْعَلُونَ عِيَالَهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ وَيُقَاتِلُونَ فَقَتْلَاهُمْ شُهَدَاءُ وَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى بَقِيَّتِهَا“
۔ (تیسری سند) عبداللہ بن ابو بکرہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے بصرہ کی اس مسجد میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ بصرہ نامی سرزمین میں ضرور اترے گا، یہاں ان کی بہت تعداد ہوگی اور یہاں کھجوریں بھی بکثرت ہوں گی،پھر بنو قنطوراء، جن کے چہرے چپٹے اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی، آکر دجلہ کے پل پر پڑاؤ ڈالیں گے، اُدھر مسلمان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے: ایک گروہ اونٹوں کی دموں کو پکڑ کر دیہاتوں کی طرف نکل جائے گا، یہ لوگ ہلاک ہوں گے، دوسرا گروہ اپنے حال میں مست رہے گا، یہ کافر ہوجائے گا، یہ دونوں گروہ انجام کے لحاظ سے برابر ہوں گے، تیسرا گروہ اپنے اہل و عیال کو پیچھے چھوڑ آئے گا اور کفار کے ساتھ جنگ کرے گا، ان کے مقتولین شہید ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ اس گروہ کے باقی لوگوں کو فتح سے ہمکنار کرے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12943]
تخریج الحدیث: «ضعيف، ومتنه منكر فيما قاله ابو حاتم، أخرجه الطيالسي: 870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20725»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 12944
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ أُمَّتِي يَسُوقُهَا قَوْمٌ عِرَاضُ الْأَوْجُهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْحَجَفُ ثَلَاثَ مِرَارٍ حَتَّى يَلْحَقُوهُمْ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، أَمَّا السَّابِقَةُ الْأُولَى فَيَنْجُو مَنْ هَرَبَ مِنْهُمْ وَأَمَّا الثَّانِيَةُ فَيَهْلِكُ بَعْضٌ وَيَنْجُو بَعْضٌ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَيَصْطَلِمُونَ كُلَّهُمْ مَنْ بَقِيَ مِنْهُمْ“ قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَنْ هُمْ؟ قَالَ: ”هُمُ التُّرْكُ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَرْبِطُنَّ خُيُولَهُمْ إِلَى سِوَارِي مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ“ قَالَ: وَكَانَ بُرَيْدَةُ لَا يُفَارِقُهُ بَعِيرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ وَمَتَاعُ السَّفَرِ وَالْأَسْقِيَّةُ يُعِدُّ ذَلِكَ لِلْهَرْبِ مِمَّا سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَلَاءِ مِنْ أُمَرَاءِ التُّرْكِ
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا: ایک قوم، جن کے چہرے چوڑے چوڑے اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی،گویا کہ ان کے چہرے ڈھال کی مانند چوڑے ہوں گے، (یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا)، یہ قوم میری امت کو جزیرۂ عرب کی طرف ہانک کر لے آئے گی، ان کے پہلے مقابلے میں بھاگ جانے والا نجات پا جائے گا، دوسرے مقابلے میں کچھ ہلاک ہو جائیں گے اور بعض نجات پائیں گے، تیسری دفعہ تو باقی بچ جانے والوں کا بھی صفایا کر دیں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: یہ ترک لوگ ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ لوگ اپنے گھوڑوں کو مسلمانوں کی مساجد کے ستونوں کے ساتھ باندھیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن بریدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث سننے کے بعد ترک حکمرانوں کی آزمائش سے بچ کر بھاگ جانے کے لیے دو تین اونٹ، سفر کا سامان اور مشکیزے ہر وقت تیار رکھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12944]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، تفرد به بشير بن المھاجر الغنوي، ولم يتابعه عليه احد، وھو ضعيف عند التفرد، أخرجه ابوداود: 4305، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22951 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23339»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
20. حَسْرُ الْفُرَاتِ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ وَقِتَالُ النَّاسِ عَلَيْهِ
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 12945
عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَحْسِرُ الْفُرَاتُ أَوْ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَيَقْتَتِلَ عَلَيْهِ النَّاسُ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، يَا بُنَيَّ! فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ فَلَا تَكُونَنَّ مِمَّنْ يُقَاتِلُ عَلَيْهِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کے اوپر سے ایک طرف سرک نہ جائے گا، پھر لوگ اس پر آپس میں اس قدر لڑیں گے کہ سو میں سے ننانوے آدمی اس لڑائی میں مارے جائیں گے۔ پیارے بیٹا! اگر تم ایسے حالات کو پالو تو ان لڑنے والوں میں سے نہ ہو جانا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12945]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2894، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8370»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2894
حدیث نمبر: 12946
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُوشِكُ أَنْ يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ عَلَيْهِ النَّاسُ حَتَّى يُقْتَلَ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ تِسْعَةٌ وَيَبْقَى وَاحِدٌ“
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ سے ایک طرف سرک جائے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے لوگ اس قدر لڑائی کریں گے کہ ہر دس میں سے نو آدمی قتل ہوجائیں گے اور ایک باقی بچے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12946]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه بنحوه البخاري: 7119، ومسلم: 2894، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8540»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ مزید ایک روایت درج ذیل ہے:
عبد اللہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: وَقَفْتُ اَنَاوَاُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ رضی اللہ عنہ، فِیْ ظِلِّ اُجُمِ حَسَّانَ فَقَالَ لِیْ اُبَیُّ: اَلَاتَرَی النَّاسَ مُخْتَلِفَۃً اَعْنَاقُھُمْ فِیْ طَلَبِ الدُّنْیَا؟ قَالَ: قُلُتُ: بَلٰی، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((یُوْشِکُ الْفُرَاتُ یَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَھَبٍ فَاِذَا سَمِعَ بِہٖ النَّاسُ سَارُوْا اِلَیْہِ فَیَقُوْلُ مَنْ عِنْدَہُ: وَاللّٰہِ لَئِنْ تَرَکْنَا النَّاسَ یَاْخُذُوْنَ مِنْہُ لَیَذْھَبَنَّ فَیَقْتَتِلُ النَّاسُ حَتّٰی یُقْتَلَ مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ۔)) وَھٰذَا لَفْظُ حَدِیْثِ اَبِیْ عَنْ عَفَّانَ۔ میں اور سیدنا ابی بن کعب، سیدناحسان رضی اللہ عنہما کے محل کے سائے میں کھڑے تھے، سیدنا ابی ّ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا تو لوگوں کو نہیں دیکھتا کہ طلب ِ دنیا کے لیے ان کی گردنیں مختلف ہوئی ہوئی ہیں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: قریب ہے کہ فرات سے سونے کا پہاڑ نکل آئے، جب لوگوں کا اس کا پتہ چلے گا تو وہ اس کی طرف جائیں گے، اس پہاڑ کے پاس موجودہ لوگ کہیں گے: اللہ کی قسم! اگر لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں تو یہ پہاڑ تو ختم ہو جائے گا، پس لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے اور ہر سو میں سے ننانوے افراد قتل ہو جائیں گے۔ (صحیحمسلم: ۲۸۹۵، واللفظ لاحمد)
فوائد: … یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔
اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
عبد اللہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: وَقَفْتُ اَنَاوَاُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ رضی اللہ عنہ، فِیْ ظِلِّ اُجُمِ حَسَّانَ فَقَالَ لِیْ اُبَیُّ: اَلَاتَرَی النَّاسَ مُخْتَلِفَۃً اَعْنَاقُھُمْ فِیْ طَلَبِ الدُّنْیَا؟ قَالَ: قُلُتُ: بَلٰی، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((یُوْشِکُ الْفُرَاتُ یَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَھَبٍ فَاِذَا سَمِعَ بِہٖ النَّاسُ سَارُوْا اِلَیْہِ فَیَقُوْلُ مَنْ عِنْدَہُ: وَاللّٰہِ لَئِنْ تَرَکْنَا النَّاسَ یَاْخُذُوْنَ مِنْہُ لَیَذْھَبَنَّ فَیَقْتَتِلُ النَّاسُ حَتّٰی یُقْتَلَ مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ۔)) وَھٰذَا لَفْظُ حَدِیْثِ اَبِیْ عَنْ عَفَّانَ۔ میں اور سیدنا ابی بن کعب، سیدناحسان رضی اللہ عنہما کے محل کے سائے میں کھڑے تھے، سیدنا ابی ّ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا تو لوگوں کو نہیں دیکھتا کہ طلب ِ دنیا کے لیے ان کی گردنیں مختلف ہوئی ہوئی ہیں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: قریب ہے کہ فرات سے سونے کا پہاڑ نکل آئے، جب لوگوں کا اس کا پتہ چلے گا تو وہ اس کی طرف جائیں گے، اس پہاڑ کے پاس موجودہ لوگ کہیں گے: اللہ کی قسم! اگر لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں تو یہ پہاڑ تو ختم ہو جائے گا، پس لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے اور ہر سو میں سے ننانوے افراد قتل ہو جائیں گے۔ (صحیحمسلم: ۲۸۹۵، واللفظ لاحمد)
فوائد: … یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔
اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
21. فَتْحُ مَدِينَةِ القُسطنطينية
قسطنطنیہ کی فتح کا بیان
حدیث نمبر: 12947
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ النَّخْعِيِّ عَنْ أَبِيهِ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَتُفْتَحَنَّ الْقُسْطُنْطِينِيَّةُ فَلَنِعْمَ الْأَمِيرُ أَمِيرُهَا وَلَنِعْمَ الْجَيْشُ ذَلِكَ الْجَيْشُ“ قَالَ: فَدَعَانِي مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ فَغَزَا الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ
سیدنا بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور بالضرور قسطنطنیہ فتح ہوگا، اس کو فتح کرنے والا امیر بہترین امیر ہو گا اور وہ لشکر بہترین لشکر ہوگا۔ عبداللہ کہتے ہیں: مسلمہ بن عبدالملک نے مجھے بلوا کر اس بارے میں پوچھا تو میں نے اس کو یہ حدیث سنائی، اس لیے اس نے قسطنطنیہ پر چڑھائی کی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12947]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن بشر الخثعمي، أخرجه الحاكم: 4/ 421، والطبراني في الكبير: 1216، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19165»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن بشر الخثعمي