الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بيعةُ الْمَهْدِي وَالْخَسْفُ بِأَعْدَائِهِ
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
حدیث نمبر: 12928
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَ حَسَنٌ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعٌ فِي بَيْتِي إِذِ احْتَفَزَ جَالِسًا وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْتَرْجِعُ قَالَ ”جَيْشٌ مِنْ أُمَّتِي يَجِيئُونَ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ لِرَجُلٍ يَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ خُسِفَ بِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى قَالَ ”إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ“ ثَلَاثًا
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، اچانک تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے لگ گئے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا بات ہوئی کہ آپ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میری امت کا ایک لشکر شام کی طرف سے آئے گا، وہ ایک ایسے آدمی کے مقابلہ کے لیے آئیں گے کہ جس کی حفاظت کرنے والا اللہ تعالیٰ ہو گا، جب یہ لشکر ذوالحلیفہ کے قریب بیداء مقام پر پہنچے گا تو اس میں شامل تمام افراد کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، البتہ ان کا زمین سے اٹھنا مختلف انداز میں ہوگا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوگا کہ سب افراد کو دھنسا تو دیا جائے گا، لیکن ان کا زمین سے اٹھنا ایک دوسرے سے مختلف ہو گا؟آپ نے فرمایا: ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوں گے، جنہیں مجبور کیا گیا ہوگا، ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوں گے جنہیں مجبور کیا گیا ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ تین بار ارشاد فرمایا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12928]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة لاضطراب حماد بن سلمة فيه، أخرجه ابو يعلي: 6937، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26757»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا صحیح سیاق درج ذیل ہے:
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، یَقُولُ: حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ، قَالَتْ: بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ، إِذْ ضَحِکَ فِی مَنَامِہِ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! مِمَّ ضَحِکْتَ؟ قَالَ: ((إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِی یَؤُمُّونَ ہٰذَا الْبَیْتَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ، قَدْ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْبَیْدَاء َ، خُسِفَ بِہِمْ، مَصَادِرُہُمْ شَتّٰی، یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ عَلٰی نِیَّاتِہِمْ۔)) قُلْتُ: وَکَیْفَ یَبْعَثُہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی نِیَّاتِہِمْ وَمَصَادِرُہُمْ شَتّٰی؟ قَالَ: ((جَمَعَہُمُ الطَّرِیقُ، مِنْہُمُ الْمُسْتَبْصِرُ، وَابْنُ السَّبِیلِ، وَالْمَجْبُورُ یَہْلِکُونَ مَہْلِکًا وَاحِدًا، وَیَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّی۔)) … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند کے اندر ہی مسکرا پڑے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے مسکرانے کی کیا وجہ تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ کا قصد کریں گے، ایک ایسے قریشی آدمی کی خاطر، جس نے حرم میں پناہ لی ہو گی، جب وہ بیداء مقام پر پہنچیں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا، لیکن ان کے نکلنے کے مقامات علیحدہ علیحدہ ہوں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔ میں نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے اور ان کے نکلنے کے مقامات الگ الگ ہوں (جبکہ ان کی ہلاکت گاہ ایک ہی ہو گی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دراصل وہ ایک راستے پر اکٹھے ہوں گے، جبکہ ان میں سے کسی کا معاملہ تو واضح ہو گا، کوئی مسافر ہو گا اور کوئی مجبور ہو گا، اس لیے وہ سارے ایک مقام پر ہلاک تو ہو جائیں گے، لیکن وہ الگ الگ مقامات سے نکلیں گے۔ (مسند احمد: ۲۴۷۳۸، وأخرجہ مسلم بنحوہ: ۲۸۸۴)
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، یَقُولُ: حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ، قَالَتْ: بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ، إِذْ ضَحِکَ فِی مَنَامِہِ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! مِمَّ ضَحِکْتَ؟ قَالَ: ((إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِی یَؤُمُّونَ ہٰذَا الْبَیْتَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ، قَدْ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْبَیْدَاء َ، خُسِفَ بِہِمْ، مَصَادِرُہُمْ شَتّٰی، یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ عَلٰی نِیَّاتِہِمْ۔)) قُلْتُ: وَکَیْفَ یَبْعَثُہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی نِیَّاتِہِمْ وَمَصَادِرُہُمْ شَتّٰی؟ قَالَ: ((جَمَعَہُمُ الطَّرِیقُ، مِنْہُمُ الْمُسْتَبْصِرُ، وَابْنُ السَّبِیلِ، وَالْمَجْبُورُ یَہْلِکُونَ مَہْلِکًا وَاحِدًا، وَیَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّی۔)) … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند کے اندر ہی مسکرا پڑے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے مسکرانے کی کیا وجہ تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ کا قصد کریں گے، ایک ایسے قریشی آدمی کی خاطر، جس نے حرم میں پناہ لی ہو گی، جب وہ بیداء مقام پر پہنچیں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا، لیکن ان کے نکلنے کے مقامات علیحدہ علیحدہ ہوں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔ میں نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے اور ان کے نکلنے کے مقامات الگ الگ ہوں (جبکہ ان کی ہلاکت گاہ ایک ہی ہو گی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دراصل وہ ایک راستے پر اکٹھے ہوں گے، جبکہ ان میں سے کسی کا معاملہ تو واضح ہو گا، کوئی مسافر ہو گا اور کوئی مجبور ہو گا، اس لیے وہ سارے ایک مقام پر ہلاک تو ہو جائیں گے، لیکن وہ الگ الگ مقامات سے نکلیں گے۔ (مسند احمد: ۲۴۷۳۸، وأخرجہ مسلم بنحوہ: ۲۸۸۴)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة لاضطراب حماد بن سلمة فيه
حدیث نمبر: 12929
وَعَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ جَدِّهِ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِأَوْسَطِهِمْ فَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ وَآخِرُهُمْ فَلَا يَنْجُو إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ“ فَقَالَ رَجُلٌ كَذَا وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَلَا كَذَبَتْ حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لشکر بیت اللہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کر کے اِدھر کو روانہ ہوگا، جب وہ بیداء کے مقام پر ہوں گے تو ان کے درمیان والوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، ان کے شروع والے اور آخر والے، سب ایک دوسرے کو پکارنے لگیں گے، لیکن کوئی بھی بچ نہیں سکے گا، ماسوائے اس آوارہ کے، جو دھنسنے والوں کے بارے میں دوسرے لوگوں بتلائے گا۔ ایک راوی نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا پر اور سیدہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ نہیں بولا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12929]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26976»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2883
حدیث نمبر: 12930
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَأْتِي جَيْشٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يُرِيدُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ فَرَجَعَ مَنْ كَانَ أَمَامَهُمْ لِيَنْظُرَ مَا فَعَلَ الْقَوْمُ فَيُصِيبُهُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُسْتَكْرَهًا قَالَ ”يُصِيبُهُمْ كُلُّهُمْ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ كُلَّ امْرِئٍ عَلَى نِيَّتِهِ“
سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی طرف سے ایک لشکر آئے گا، ان کا ارادہ مکہ کے ایک آدمی پر حملہ کرنے کا ہو گا، جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، آگے بڑھ جانے والے لوگ واپس پلٹ پڑیں گے تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ پچھلے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہے، اتنے میں وہ بھی اسی مصیبت میں پھنس جائیں گے، میں (حفصہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان میں جن لوگوں کو مجبوراً لایا گیا ہوگا، ان کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ سب دھنسا دئیے جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ہر فرد کو اس کی نیت کے مطابق اٹھائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12930]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف سلمة بن الفضل الابرش، ولعنعنة محمد بن اسحاق، ولجھالة عبد الرحمن بن موسي، أخرجه البخاري في التاريخ الاوسط: 1/143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26990»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف سلمة بن الفضل الابرش
حدیث نمبر: 12931
عَنْ صَفِيَّةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا يَنْتَهِي النَّاسُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يَغْزُوهُ جَيْشٌ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ“، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ الْمُكْرَهَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: ”يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمْ“
ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس بیت اللہ پر چڑھائی کرتے رہنے سے باز نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ اسی طرح کا ایک لشکر یہی ارادہ کر کے چلے گا، لیکن جب وہ بیداء کے مقام تک پہنچیں گے توان کے شروع والے، آخر والے سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو مجبوراً آئے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کو ان کے دلوں کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12931]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: لاينتھي الناس عن غزو ھذا البيت، وھذا اسناد ضعيف لجھالة ابن صفوان، واختلف عليه فيه، أخرجه ابويعلي: 7069، 7116، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26858 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27395»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: لاينتھي الناس عن غزو ھذا البيت
18. غَزْوُ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَفَارِسَ وَالرُّوْمِ
جزیرۂ عرب، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
حدیث نمبر: 12932
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَتَاهُ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ، فَوَافَقُوهُ عِنْدَ أَكَمَةٍ، وَهُمْ قِيَامٌ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَأَتَيْتُهُ فَقُمْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ فِي يَدَيَّ، قَالَ: ”تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ“، قَالَ نَافِعٌ: يَا جَابِرُ! أَلَا تَرَى أَنَّ الدَّجَّالَ لَا يَخْرُجُ حَتَّى تُفْتَحَ الرُّومُ
سیدنا نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا،مغرب کے علاقے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ لوگ آئے، انھوں نے اونی لباس کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، ایک ٹیلے کے پاس ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوئی، وہ کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور ان کے درمیان کھڑا ہوگیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار باتیں یاد کر لیں، اب میں ان کو اپنے ہاتھ پر شمار کر سکتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:: تم جزیرۂ عرب کے باسیوں سے لڑائی کرو گے‘ اللہ تعالیٰ فتح نصیب فرمائے گا‘ پھر فارس سے لڑائی ہو گی‘ وہ بھی فتح ہو جائے گا‘ پھر روم سے لڑائی ہو گی، اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور پھر تم دجال سے لڑائی کرو گے‘ اس پر بھی اللہ تعالیٰ تم کو فتح سے ہمکنار کرے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12932]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2900، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18973 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19182»
وضاحت: فوائد: … یہ احادیث، اعلامِ نبوت میں سے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بہت جلد یہ پیشین گوئیاں پوری ہو گئیں اور دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں مسلم مجاہدوں کے قدموں میں ڈھیر ہو گئیں، البتہ ابھی تک دجال سے لڑائی باقی ہے، ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ بیچارہ بھی مغلوب ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2900
حدیث نمبر: 12933
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَزِيدُ أَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ (دوسری سند) سیدنا نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے گزشتہ طریق والی حدیث کی طرح ہی مروی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12933]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19181»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19181
حدیث نمبر: 12934
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ ثَنَا زَائِدَةُ ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ قَالَ: فَقَالَ جَابِرٌ: لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى تُفْتَتِحَ الرُّومُ
۔ (تیسر ی سند) سیدنا نافع بن عتبہ بن ابی وقاص سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا:جب تک روم فتح نہیں ہوجائے گا، اس وقت تک دجال کا ظہور نہیں ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12934]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19181»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19181
حدیث نمبر: 12935
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ، ثُمَّ يَكُونُونَ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ، فَيَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ“
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں کو عجمیوں سے بھر دے گا، لیکن اس کے بعد پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ شیر بن جائیں گے، تمہارے جنگجوؤں کو قتل کریں گے اورتمہارے چھوڑے ہوئے مال کو کھائیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12935]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فان ھشيم بن بشير والحسن البصري مدلسان ولم يصرحا بالسماع، أخرجه البزار: 3366، والطبراني في الكبير: 6921، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20123 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20384»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 12936
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”سَيُصَالِحُكُمُ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُونَ وَهُمْ عَدُوًّا، فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنَ النَّصْرَانِيَّةِ صَلِيبًا فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَيَجْمَعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ“
ایک صحابی ٔ رسول سیدنا ذی مِخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ اہل روم تم سے امن والی صلح کر لیں گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے لڑائی کرو گے،تمہاری مدد کی جائے گی، پس تم سالم رہو گے اور مالِ غنیمت حاصل کرو گے، لیکن جب تم سرسبز وشاب ٹیلوں والے مقام میں قیام کرو گے تواس وقت ایک عیسائی آدمی صلیب کو بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آگئی ہے۔ یہ سن کر ایک مسلمان غیرت کرے گا اور اٹھ کر اس صلیب کو توڑ ڈالے گا، اس موقع پر رومی تمہارے ساتھ بدعہدی کریں گے اور وہ گھمسان کی جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12936]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2767، 4292، وابن ماجه: 4089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23157 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23544»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 12937
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”تُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا، وَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِهِمْ، فَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ“، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ: ”فَيَقُومُ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَقْتُلُهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ، وَتَكُونُ الْمَلَاحِمُ، فَيَجْتَمِعُونَ إِلَيْكُمْ، فَيَأْتُونَكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةً، مَعَ كُلِّ غَايَةٍ عَشْرَةُ آلَافٍ“
۔ (دوسری سند) سیدنا ذی مخمر رضی اللہ عنہ، یہ حبشی آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ رومیوں کے ساتھ واقعی امن والی صلح کرو گے، پھر تم ان کے ساتھ مل کر کسی اور دشمن سے لڑائی کرو گے اور تم سالم بھی رہو گے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کروگے۔ سابقہ حدیث کی طرح ہی ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: ایک مسلمان اٹھے گا اور اس کی طرف جا کر اسے قتل کر دے گا، اس موقع پر رومی بد عہدی کر جائیں گے اور پھر گھمسان کی جنگیں لڑی جائیں گی، وہ جمع ہو کر (۸۰) جھنڈوں پر مشتمل لشکر کی صورت میں تمہاری طرف آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے دس ہزار افراد ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12937]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16951»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۳۹، ۱۲۸۴۰)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16951