الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. مَارُوِيَ عَنْ غَيْرِهِمَا فِي ذَلِكَ
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12908
وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَيُكَلِّمُ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ، وَشِرَاكُ نَعْلِهِ وَيُخْبِرُهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ درندے انسانوں سے کلام کریں، انسان کی لاٹھی کا سرا اور جوتے کا تسمہ اس سے ہم کلام ہو اور انسان کی ران اسے وہ کچھ بتلائے جو اس کے بعد اس کے اہل خانہ نے کیا ہو۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12908]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح، أخرجه الترمذي: 2181 دون ذكر قصة الذئب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11814»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عَدَا الذِّئْبُ عَلَی شَاۃٍ فَأَخَذَھَا فَطَلَبَہُ الرَّاعِیْ فَانْتَزَعَھَا مِنْہُ فَأَقْعَی الذِّئْبُ عَلَی ذَنَبِہٖ قَالَ: أَلَا تَتْقِی اللّٰہَ! تَنْزِعُ عَنِّیْ رِزْقًا سَاقَہُ اللّٰہُ اِلَیَّ؟ فَقَالَ: یَا عَجَبِیْ! ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلَی ذَنَبِہٖ یُکَلِّمُنِیْ کَلَامَ الْإِنْسِ، فَقَالَ الذِّئْبُ: أَلَا أُخْبِرُکَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذٰلِکَ؟ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِیَثْرِبَ یُخْبِرُ النَّاسَ بِاَنْبَائِ مَا قَدْ سَبَقَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ الرَّاعِیْ یَسُوْقُ غَنَمَہُ حَتّٰی دَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ فَزَوَاھَا اِلٰی زَاوِیَۃٍ مِنْ زَوَایَاھَا، ثُمَّّ أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَخْبَرَہُ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَنُوْدِیَ اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، ثُمَّّ خَرَجَ فَقَالَ لِلرَّاعِیْ: ((أَخْبِرْھُمْ)) فَأَخْبَرَھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((صَدَقَ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُکَلِّمَ السِّبَاعُ الْاِنْسَ، وَیُکَلِّمَ الرَجُلَ عَذَبَۃُ سَوْطِہِ وَشِرَاکُ نَعْلِہِ وَیُخْبِرُُہُ فَخِذُہُ بِمَا أَحْدَثَ أَھْلُہُ بَعْدَہُ۔)) … ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ لیا، لیکن چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری چھین لی، وہ بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، تو مجھ سے وہ رزق چھینتا ہے، جو اللہ تعالیٰ مجھے عطا کیا ہے؟ اس نے کہا: بڑا تعجب ہے، اپنی دم پر بیٹھا ہوا یہ بھیڑیا انسان کی طرح مجھ سے کلام کرتا ہے، اتنے میں بھیڑیئے نے پھر کہا: کیا میں تجھے اس سے زیادہ تعجب والی بات بتاؤں؟ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یثرب میں ظاہر ہو چکے ہیں اور لوگوں کو ماضی کی خبریں بتلاتے ہیں، چرواہے نے اپنی بکریوں کو ہانکنا شروع کیا، یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوا اور مدینہ کے ایک کونے میں ان کو جمع کیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سارے ماجرے کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ کی آواز لگائی گئی، جب لوگ جمع ہو گئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور چرواہے سے فرمایا: اِن لوگوں کو وہ بات بتلاؤ۔ پس اس نے ان کو یہ بات بتلائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ درندے لوگوں سے باتیں کریں گے، آدمی کے کوڑے کا کنارہ اور جوتے کا تسمہ اس سے کلام کرے گا اور بندے کی ران اس کو وہ کچھ بتلائے گی، جو اس کے اہل نے اس کے بعد کیا ہو گا۔ (ترمذی: ۲۱۸۱، دیکھیں: حدیث نمبر ۱۰۴۸۴)
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الصحيح
حدیث نمبر: 12909
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرُ بِأَلْسِنَتِهَا“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک ایسے لوگ ظاہر نہیں ہوں گے۔ جو اپنی زبانوں سے اس طرح کھائیں گے، جیسے گائیں اپنی زبانوں سے کھاتی ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12909]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البغوي في شرح السنة: 3397، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1597»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث، حدیث نمبر (۵۷۲۳) کے ہم معنی ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے گائے چرتے وقت خشک اور تر اور میٹھے اور کڑوے چارے کے مابین فرق نہیں کرتی، بلکہ سب کو تلف کر دیتی ہے، ایسے ہی بعض لوگ حلال و حرام اور حق و باطل میں کوئی تمیز نہیں کرتے، آج کل اچھے بھلے سمجھدار لوگوں نے نہ صرف سودی معاملات کو جائز سمجھ لیا ہے، بلکہ وہ عملی طور پر اس میںملوث ہیں، جبکہ وہ منہج کے طور پر اپنے آپ کو برحق اور نمازی اور پرہیزگار بھی سمجھتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 12910
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت صرف بد ترین لوگوں پر قائم ہوگی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12910]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3735»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2949
حدیث نمبر: 12911
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ شِرَارَ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بد ترین لوگ وہ ہیں، جن کو قیامت زندہ پا لے گی، (یعنی جن پر قیامت قائم ہو گی) اور وہ جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12911]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 10413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4143»
وضاحت: فوائد: … چونکہ جن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی، وہ بدترین لوگ ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی معرفت اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے یکسر محروم ہوں گے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 12912
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعَ“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی،جب تک کہ کمینہ بن کمینہ کو لوگوں میں معزز ترین نہیں سمجھا جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12912]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 2209، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23303 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23692»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ِ مبارکہ سمجھنے سے پہلے یہ ادراک ہونا ضروری ہے کہ شریعت کے ہاں کون لوگ معزز ہیں اور کون بے وقعت ہیں۔ اب ہمارا معاشرہ اس حدیث کا مصداق بن چکا ہے،جہاں نیکی کو معیار نہیں سمجھا جاتا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 12913
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْعَمَلُ فِي الْهَرْجِ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”الْعِبَادَةُ فِي الْفِتْنَةِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ“
سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل و غارت گری کے دنوں میں عمل کرنا اور ایک روایت کے مطابق فتنوں کے دور میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کی مانند ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12913]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2948، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20564»
وضاحت: فوائد: … پر فتن دور میں شریعت کا پابندرہنا مشکل امر ہوتا ہے، اس لیے ایسے میں زیادہ اجر و ثواب ملتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2948
15. الْمَلَاحِمُ قَبْلَ قِيَامِ السَّاعَةِ
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
حدیث نمبر: 12914
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ أُرَاهُ قَالَ ”قَدْ يَذْهَبُ فِيهَا النَّاسُ أَسْرَعَ ذِهَابٍ“ قَالَ فَقِيلَ أَكُلُّهُمْ هَالِكٌ أَمْ بَعْضُهُمْ قَالَ ”حَسْبُهُمْ أَوْ بِحَسْبِهِمُ الْقَتْلُ“
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندھیری رات کے اندھیروں کی طرح کے فتنوں کا ذکر کیا، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: ان فتنوں میں لوگ بہت جلدی ختم ہو جائیں گے۔ کسی نے پوچھا: آیا وہ سب ہلاک ہونے والے ہوں گے یا ان میں سے بعض؟ آپ نے فرمایا: ان کو قتل ہی کافی ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12914]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1647»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 12915
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ وَأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ“ قَالَ قُلْنَا وَمَا الْهَرْجُ قَالَ ”الْقَتْلُ“
سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے قبل ایسا زمانہ ہو گا کہ اس میں جہالت عام ہو گی، علم اٹھ جائے گا اور ھَرْج عام ہوجائے گا۔ ہم نے پوچھا: ھرج سے کیا مراد ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12915]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7062، ومسلم: 2672، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3695»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7062
حدیث نمبر: 12916
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّاعَةِ فَقَالَ ”عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ وَلَكِنْ أُخْبِرُكُمْ بِمَشَارِيطِهَا وَمَا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْهَا إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا فِتْنَةً وَهَرْجًا“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْفِتْنَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا فَالْهَرْجُ مَا هُوَ قَالَ ”بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْقَتْلُ وَيُلْقَى بَيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ أَنْ يَعْرِفَ أَحَدًا“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کا علم تو میرے رب کے پاس ہے،وہ اس کو اس کا وقت ہونے پر ظاہر کرے گا، البتہ میں تمہیں اس کی کچھ علامتیں اور اس سے پہلے کیا ہو گا، وہ بیان کر دیتا ہوں، قیامت سے پہلے فتنے ظاہر ہوں گے اور ھرج ہوگا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! فتنوں کا مفہوم تو ہم سمجھتے ہیں، ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں اور (تیسری علامت یہ ہے کہ) لوگوں میں ایک دوسرے سے اس قدر بے اعتنائی اور لاپروائی آجائے گی کہ کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12916]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23695»
وضاحت: فوائد: … پہلے زمانے کی بہ نسبت واقعی اب لوگوں میں عجیب قسم کی لاپروائی اور بے مروّتی کا مزاج پایا جا رہا ہے، رشتے ناطے کا لحاظ کرنے والے لوگ بہت کم ہیں، بلکہ اب تو لوگ رشتوں ناطوں کو پہچاننے سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12917
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَزْرَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ أَلْقَى الشَّامُ بَوَانِيهِ بَثْنِيَةً وَعَسَلًا فَأَمَرَنِي أَنْ أَسِيرَ إِلَى الْهِنْدِ وَالْهِنْدُ فِي أَنْفُسِنَا يَوْمَئِذٍ الْبَصْرَةُ قَالَ وَأَنَا لِذَلِكَ كَارِهٌ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي يَا أَبَا سُلَيْمَانَ اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ الْفِتَنَ قَدْ ظَهَرَتْ قَالَ فَقَالَ وَابْنُ الْخَطَّابِ حَيٌّ إِنَّمَا تَكُونُ بَعْدَهُ وَالنَّاسُ بِذِي بِلِّيَانَ بِمَكَانٍ كَذَا وَكَذَا فَيَنْظُرُ الرَّجُلُ فَيَتَفَكَّرُ هَلْ يَجِدُ مَكَانًا لَمْ يَنْزِلْ بِهِ مِثْلُ مَا نَزَلَ بِمَكَانِهِ الَّذِي هُوَ فِيهِ مِنَ الْفِتْنَةِ وَالشَّرِّ فَلَا يَجِدُهُ قَالَ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ الَّتِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامَ الْهَرْجِ فَنَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكَنَا وَإِيَّاكُمْ تِلْكَ الْأَيَّامُ
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ارضِ شام نے گندم اور شہد سمیت اپنی برکتوں کو ہمارے سامنے پیش کیا تو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے ہند کی طرف روانگی کا حکم دیا، ان دنوں ہم ہند سے بصرہ مراد لیا کرتے تھے، میں اس چڑھائی کو ناپسند کر رہا تھا، اتنے میں ایک آدمی نے اٹھ کر مجھ سے کہا: ابو سلیمان! اللہ سے ڈرو، فتنوں کا ظہور ہوچکا ہے، اُدھر سے ایک آدمی نے کہا: ابھی فتنوں کا ظہور نہیں ہوا، کیونکہ ابن خطاب رضی اللہ عنہ زندہ ہیں، فتنے ان کے بعد ہوں گے، (اور فتنوں کے دور میں) جب لوگ (یمن سے پرے واقع) بلیان کے مقام پرہوں گے، پھر آدمی ارد گرد کے حالات کو دیکھ کر غور کر ے گاکہ آیا کوئی ایسی جگہ بھی ہے، جہاں اس جگہ جیسے فتنے نہ ہوں، تو اسے کوئی ایسی پر سکون جگہ نہ ملے گی، بس یہی وہ زمانہ ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت سے پہلے قتل ِ عام ہوگا، اور ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ایسا زمانہ ہمیں اور تمہیں پائے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12917]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عزرة بن قيس البجلي، أخرجه الطبراني في الكبير: 3841، وفي الاوسط: 8474، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16944»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عزرة بن قيس البجلي