الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. فِتَنْ عَامَّةٌ وَأُمُورٌ هَامَّةٌ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا بَعْدَ حُصُولِها
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
حدیث نمبر: 12868
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهَا سَتَأْتِي عَلَى النَّاسِ سِنُونَ خَدَّاعَةٌ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ يَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ“ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ ”السَّفِيهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسے زمانے آئیں گے کہ جن میں حالات اس طرح تبدیل ہو جائیں گے کہ ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا اور گھٹیا قسم کے لوگ (عوام الناس کے امور پر) بولیں گے۔ کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ بے وقوف ہیں جو عام لوگوں کے امور کے بارے میں باتیں کر کے فیصلے کریں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12868]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 4036، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7899»
وضاحت: فوائد: … کون سمجھے ان حقائق کو؟ آج کل فیصلہ کرنے والے لوگ کون ہیں؟ لوگوں کی قیادت کرنے والے افراد کیسے ہیں؟ خاندانوں کے سربراہوں کی مذہبی کیفیت کیسی ہے؟ سیاست میں گشت کرنے والوں کے حالات کیسے ہیں؟ صرف تعلیمی اداروں میں اسلامیات کے اعلی تعلیم یافتہ مدرسین کی یہ کیفیت ہے کہ وہ شرعی آداب اور حدود کے پابند نہیں ہوتے، بے پردہ عورتوں میں گھل مل کر رہتے ہیں، اپنے سہولت آمیز اور گندے مزاج کے مطابق اسلام کو لچک دار بناتے ہیں، بلکہ اسلامیات کے ایک پی ایچ ڈی پروفیسر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اب بے پردگی کی اور خواتین و حضرات کی آپس میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرنے کی گنجائش نکالنا پڑے گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12869
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِينَ خَدَّاعَةً“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ ”الْفُوَيْسِقُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا دجال سے پہلے بھی ایسے سال آئیں گے کہ جن میں حقائق کو تبدیل کردیا جائے گا۔ آگے اوپر والی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں ہے: کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فاسق اور گھٹیا شخص جو عام لوگوں کے امور پر بحث کرے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12869]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الاوسط: 3282، والبزار: 3373، وابويعلي: 3715، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13331»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12870
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ مِنَ الْمَالِ بِحَلَالٍ أَوْ بِحَرَامٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان مال کے بارے میں یہ پروا نہیں کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12870]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2059، 2083، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9837»
وضاحت: فوائد: … اب ایسے ہی ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12871
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي رِجَالٌ يَرْكَبُونَ عَلَى سُرُوجٍ كَأَشْبَاهِ الرِّحَالِ، يَنْزِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ، نِسَاؤُهُمْ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ، عَلَى رُؤُوسِهِنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْعِجَافِ، اِلْعَنُوهُنَّ فَإِنَّهُنَّ مَلْعُونَاتٌ، لَوْ كَانَتْ وَرَاءَكُمْ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَخَدَمَهُنَّ نِسَاؤُكُمْ، كَمَا خَدَمَكُمْ نِسَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ کجاووں کی طرح کی زینوں پر سوار ہوں گے‘ وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ ان کے سر کمزور بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ ایسی عورتیں ملعون ہیں‘ ان پر لعنت کرنا، اگر تمھارے بعد کوئی اور امت ہوتی تو تمھاری عورتیں اس کی خدمت کرتیں جیسا کہ تم سے پہلے والی امتوں کی عورتوں نے تمھاری خدمت کی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12871]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الطبراني في الصغير: 1125، والحاكم: 4/ 436،و ابن حبان: 5753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7083»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشین گوئی کر دی، ایسے ہی ہو رہا ہے۔
لباس کے باوجود عورت کا برہنہ یا نیم برہنہ ہونا، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس دور کا امتیازی وصف ہے۔ بازاروں، پارکوں، تعلیمی اداروں اور سیرگاہ بن جانے والی مسجدوں میں اور شادی بیاہ کے موقع پر یہ شرّاتنا عام ہو چکا ہے کہ بے غیرتی کی انتہا ہو گئی ہے۔ رہی سہی کمی میڈیا نے پوری کر دی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ خاندانوں کے سربراہ اس قدر بے حس ہو گئے ہے کہ وہ اس کو برائی تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔
رہا مسئلہ گاڑیوں پر سوار ہو کر مساجد کی طرف آنے کا، تو شرعی مسئلہ کی حد تک اس کی گنجائش ملتی ہے، لیکن اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود کیا ہے؟ شیخ البانی کے درج ذیل کلام میں جواب دیا جائے گا۔
شیخ البانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: (فوائد المخلص) میں الرحال کے الفاظ ہیں،جب کہ (مسند الامام احمد) اور (الموارد) میں الرجال کے۔ اسی روایت کی شرح کرتے ہوئے شیخ احمد عبد الرحمن بُنّا نے (الفتح الربانی: ۱۷/۳۰۱) میں کہا: (جو لوگ اپنی عورتوں کو بے پردہ چھوڑ دیتے ہیں) وہ انسانی وجود میں ڈھلے ہوئے انسان ضرور ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں مرد نہیں ہوتے، کیونکہ جو مرد حسّی اور معنوی طور پر کامل ہوتا ہے، وہ اپنی عورتوں کو ایسا لباس نہیں پہننے دیتا، جس سے ان کے جسم کا پردہ ہی نہ ہو۔
لیکن وہ اس اشکال پر مطلع نہ ہو سکے، جس کے بارے میں شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ تعالیٰ نے مسند احمد پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہا: (اگر الرجال کے الفاظ پر مشتمل روایت کو درست تسلیم کریں تو) اس حدیث مبارکہ کے الفاظ میری امت کے آخری زمانے میں لوگ، لوگوں کی طرح زینوں پر سوار ہوں …۔ میں اشکال پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ مردوں کو مردوں سے تشبیہ دینا بعید بات ہے اور اس کی تاویل میں تکلف پایا جا تا ہے، امام حاکم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ رِجَالٌ یَرْکَبُوْنَ عَلٰی الْمَیَاثِرِ حَتّٰی یَاْتُوْا اَبْوَابَ مَسَاجِدِھِمْ، نِسَاؤُھُمْ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ …۔)) یعنی: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ ریشم و دیباج سے آراستہ سواریوں پر سوار ہوں گے، وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ …۔ اور طبرانی کے حوالے سے (مجمع الزوائد) میں بیان کردہ الفاظ یہ ہیں: ((سیکون فی امتی رجال یرکبون نساؤھم علی سروج کأشباہ الرجال۔)) مجمع الزوائد کے طابع نے جرأت یا جہالت کی بنا پر اس روایت کے الفاظ یُرْکِبُون کو یرکب سے بدل دیا، میرے نزدیک تو یُرْکِبُونَ نِسَائَ ھُم کے الفاظ واضح اور ظاہر ہیں۔
بہرصورت حدیث ِ مبارکہ کا مرادی معنی واضح ہے اور عصرِ حاضر میں ثابت ہو چکا ہے، بلکہ اس دور سے پہلے بھی لعنت وصول کرنے والی برہنہ عورتوں کا وجود ملتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: اگر شیخ احمد شاکر کو الرحال والی روایت کا علم ہوتا تو ان کا اشکال دور ہو جاتا اور بغیر کسی تکلف و توجیہ کے معنی درست ہو جاتا، میرے نزدیک تو تین اسباب کی بنا پر اِنہی الفاظ والی روایت راجح ہے۔
یہ حدیث ِ مبارکہ اسے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، آج کل واقعی لوگ گاڑیوں پر سوار ہو کرمساجد کے دروازوں تک پہنچتے ہیں۔ جمعہ کے دن اتنی موٹر کاریں اور دوسری گاڑیاں جمع ہو جاتی ہیں کہ سڑک کھلی ہونے کے باوجود تنگ پڑ جاتی ہے۔ ان لوگوں کی کثیر تعداد یا تو سرے سے باقی پانچ نمازوں کا اہتمام نہیں کرتی یا پھر اپنے گھروں میں ادا کرنے پر اکتفا کرتی ہے۔ گویا کہ ان لوگوں نے نمازِ جمعہ کو ہی کافی سمجھ لیا ہے، اس لیے اس موقع پر ان کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے، گاڑیوں کے ذریعے مساجد تک پہنچنے کی وجہ سے یہ لوگ نماز کے مقصد اور ثمرہ سے محروم رہتے ہیں، اور ایسے لوگوں کی بیویوں اور بیٹیوں کا معاملہ بھی بڑا واضح ہے۔
اس سے بڑھ کر اس حدیث ِ مبارکہ کا ایک اور مصداق نمازِ جنازہ کے موقع پر دکھائی دیتا ہے۔ نازک مزاج، عیش پرست اور آسودگی کی وجہ سے مغرور اور فرضی نماز کو ترک کرنے والے لوگ اپنی گاڑیوں پر سوار ہو کر نمازِ جنازہ کے پیچھے چلتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب جنازہ کو گاڑی سے اتار کر مسجد میں یا جنازہ گاہ میں رکھا جاتا ہے تو یہ لوگ اپنی گاڑیوں میں بیٹھے رہتے ہیں، البتہ جب دفنانے کا وقت آتا ہے تو عبادت یا ذکرِ آخرت کی بنا پر نہیں، بلکہ نفاق، مداہنت اور چاپلوسی سے کام لیتے ہوئے جنازے کے ساتھ چل پڑتے ہیں ہیں۔ بس اللہ ہی ہے، جس سے مدد طلب کرنی چاہیے۔
میرے نزدیک تو تاویل کی یہی صورت بہتر ہے، اگر یہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی اور اگر یہ خطا پر مبنی ہے تو میری طرف سے ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے سوال ہے کہ وہ میرے تمام گناہ معاف کر دے، وہ دانستہ طور پر کیے ہوں یا نادانستہ طور پر۔ (صحیحہ: ۲۶۸۳)
لباس کے باوجود عورت کا برہنہ یا نیم برہنہ ہونا، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس دور کا امتیازی وصف ہے۔ بازاروں، پارکوں، تعلیمی اداروں اور سیرگاہ بن جانے والی مسجدوں میں اور شادی بیاہ کے موقع پر یہ شرّاتنا عام ہو چکا ہے کہ بے غیرتی کی انتہا ہو گئی ہے۔ رہی سہی کمی میڈیا نے پوری کر دی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ خاندانوں کے سربراہ اس قدر بے حس ہو گئے ہے کہ وہ اس کو برائی تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔
رہا مسئلہ گاڑیوں پر سوار ہو کر مساجد کی طرف آنے کا، تو شرعی مسئلہ کی حد تک اس کی گنجائش ملتی ہے، لیکن اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود کیا ہے؟ شیخ البانی کے درج ذیل کلام میں جواب دیا جائے گا۔
شیخ البانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: (فوائد المخلص) میں الرحال کے الفاظ ہیں،جب کہ (مسند الامام احمد) اور (الموارد) میں الرجال کے۔ اسی روایت کی شرح کرتے ہوئے شیخ احمد عبد الرحمن بُنّا نے (الفتح الربانی: ۱۷/۳۰۱) میں کہا: (جو لوگ اپنی عورتوں کو بے پردہ چھوڑ دیتے ہیں) وہ انسانی وجود میں ڈھلے ہوئے انسان ضرور ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں مرد نہیں ہوتے، کیونکہ جو مرد حسّی اور معنوی طور پر کامل ہوتا ہے، وہ اپنی عورتوں کو ایسا لباس نہیں پہننے دیتا، جس سے ان کے جسم کا پردہ ہی نہ ہو۔
لیکن وہ اس اشکال پر مطلع نہ ہو سکے، جس کے بارے میں شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ تعالیٰ نے مسند احمد پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہا: (اگر الرجال کے الفاظ پر مشتمل روایت کو درست تسلیم کریں تو) اس حدیث مبارکہ کے الفاظ میری امت کے آخری زمانے میں لوگ، لوگوں کی طرح زینوں پر سوار ہوں …۔ میں اشکال پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ مردوں کو مردوں سے تشبیہ دینا بعید بات ہے اور اس کی تاویل میں تکلف پایا جا تا ہے، امام حاکم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ رِجَالٌ یَرْکَبُوْنَ عَلٰی الْمَیَاثِرِ حَتّٰی یَاْتُوْا اَبْوَابَ مَسَاجِدِھِمْ، نِسَاؤُھُمْ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ …۔)) یعنی: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ ریشم و دیباج سے آراستہ سواریوں پر سوار ہوں گے، وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ …۔ اور طبرانی کے حوالے سے (مجمع الزوائد) میں بیان کردہ الفاظ یہ ہیں: ((سیکون فی امتی رجال یرکبون نساؤھم علی سروج کأشباہ الرجال۔)) مجمع الزوائد کے طابع نے جرأت یا جہالت کی بنا پر اس روایت کے الفاظ یُرْکِبُون کو یرکب سے بدل دیا، میرے نزدیک تو یُرْکِبُونَ نِسَائَ ھُم کے الفاظ واضح اور ظاہر ہیں۔
بہرصورت حدیث ِ مبارکہ کا مرادی معنی واضح ہے اور عصرِ حاضر میں ثابت ہو چکا ہے، بلکہ اس دور سے پہلے بھی لعنت وصول کرنے والی برہنہ عورتوں کا وجود ملتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: اگر شیخ احمد شاکر کو الرحال والی روایت کا علم ہوتا تو ان کا اشکال دور ہو جاتا اور بغیر کسی تکلف و توجیہ کے معنی درست ہو جاتا، میرے نزدیک تو تین اسباب کی بنا پر اِنہی الفاظ والی روایت راجح ہے۔
یہ حدیث ِ مبارکہ اسے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، آج کل واقعی لوگ گاڑیوں پر سوار ہو کرمساجد کے دروازوں تک پہنچتے ہیں۔ جمعہ کے دن اتنی موٹر کاریں اور دوسری گاڑیاں جمع ہو جاتی ہیں کہ سڑک کھلی ہونے کے باوجود تنگ پڑ جاتی ہے۔ ان لوگوں کی کثیر تعداد یا تو سرے سے باقی پانچ نمازوں کا اہتمام نہیں کرتی یا پھر اپنے گھروں میں ادا کرنے پر اکتفا کرتی ہے۔ گویا کہ ان لوگوں نے نمازِ جمعہ کو ہی کافی سمجھ لیا ہے، اس لیے اس موقع پر ان کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے، گاڑیوں کے ذریعے مساجد تک پہنچنے کی وجہ سے یہ لوگ نماز کے مقصد اور ثمرہ سے محروم رہتے ہیں، اور ایسے لوگوں کی بیویوں اور بیٹیوں کا معاملہ بھی بڑا واضح ہے۔
اس سے بڑھ کر اس حدیث ِ مبارکہ کا ایک اور مصداق نمازِ جنازہ کے موقع پر دکھائی دیتا ہے۔ نازک مزاج، عیش پرست اور آسودگی کی وجہ سے مغرور اور فرضی نماز کو ترک کرنے والے لوگ اپنی گاڑیوں پر سوار ہو کر نمازِ جنازہ کے پیچھے چلتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب جنازہ کو گاڑی سے اتار کر مسجد میں یا جنازہ گاہ میں رکھا جاتا ہے تو یہ لوگ اپنی گاڑیوں میں بیٹھے رہتے ہیں، البتہ جب دفنانے کا وقت آتا ہے تو عبادت یا ذکرِ آخرت کی بنا پر نہیں، بلکہ نفاق، مداہنت اور چاپلوسی سے کام لیتے ہوئے جنازے کے ساتھ چل پڑتے ہیں ہیں۔ بس اللہ ہی ہے، جس سے مدد طلب کرنی چاہیے۔
میرے نزدیک تو تاویل کی یہی صورت بہتر ہے، اگر یہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی اور اگر یہ خطا پر مبنی ہے تو میری طرف سے ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے سوال ہے کہ وہ میرے تمام گناہ معاف کر دے، وہ دانستہ طور پر کیے ہوں یا نادانستہ طور پر۔ (صحیحہ: ۲۶۸۳)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12872
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا بِهِ أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب آخری زمانہ میں میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمہیں ایسی ایسی احادیث سنائیں گے کہ جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس ایسے لوگوں سے بچ کر رہنا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12872]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مسلم في المقدمة: 6، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8250»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! ناخواندہ تو کجا، تعلیم یافتہ طبقہ بھی اس حدیث کا مصداق بننے سے نہ بچ سکا، صرف دو مثالوں پر غور کریں:
۱۔ أُطْلُبِ الْعِلْمَ مِنَ الْمَہْدِ إِلَی اللَّحْدِ … گود سے گور تک علم حاصل کر۔
۲۔ أُطْلُبِ الْعِلْمَ وَلَوْ فِیْ الصِّیْنِ … علم حاصل کر، اگرچہ تجھے چین جانا پڑے۔
یہ دونوں حدیثیں ہمارے تعلیمی اداروں میںبہت مشہور ہیں اور بڑی کثرت کے ساتھ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بیان کیا جاتا ہے، لیکن ان دونوں کی کوئی اصل نہیں ہے۔
۱۔ أُطْلُبِ الْعِلْمَ مِنَ الْمَہْدِ إِلَی اللَّحْدِ … گود سے گور تک علم حاصل کر۔
۲۔ أُطْلُبِ الْعِلْمَ وَلَوْ فِیْ الصِّیْنِ … علم حاصل کر، اگرچہ تجھے چین جانا پڑے۔
یہ دونوں حدیثیں ہمارے تعلیمی اداروں میںبہت مشہور ہیں اور بڑی کثرت کے ساتھ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بیان کیا جاتا ہے، لیکن ان دونوں کی کوئی اصل نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12873
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ“ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: ”ذَلِكَ بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ“
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایسے لوگ ہوں گے، جو بظاہر بھائی بھائی(اورخیر خواہ) دکھائی دیں گے، لیکن باطنی طور پر ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ کسی نے کہا:اے اللہ کے رسول! ایسے کیوں ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے بعض کی بعض کی طرف رغبت اور بعض کے بعض سے ڈرنے کی وجہ سے ایسا ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12873]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم، وحبيبُ بن عبيد الرحبي لم يدرك معاذا، أخرجه الطبراني في الاوسط: 437، والبزار: 2650، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22405»
الحكم على الحديث: ضعیف
10. مَنْعُ أَهْلِ الذَّمَّةِ أَدَاءَ الْجِزْيَةِ
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 12874
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ تَجْتَبُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا؟ فَقِيلَ لَهُ: وَهَلْ تَرَى ذَلِكَ كَائِنًا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ! عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَعَمَّ ذَلِكَ؟ قَالَ: تُنْتَهَكُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَيَشُدُّ اللَّهُ قُلُوبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَيَمْنَعُونَ مَا بِأَيْدِيهِمْ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ لَيَكُونَنَّ مَرَّتَيْنِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تمہیں (جزیہ کے) دینار و درہم وصول نہیں ہوں گے، کسی نے ان سے پوچھا:اے ابو ہریرہ! کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ ایسا ہوگا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے!یہ تو صادق و مصدوق ہستی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے۔ لوگوں نے کہا: ایسا کیوں ہوگا؟ انھوں نے کہا: جب اللہ اور اس کے رسول کے عہد کی پاسداری نہیں کی جائے گی، تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا اور اس طرح وہ اس چیز کو روک لیں گے، جو ان کے ہاتھ میں ہو گی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے! ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ انہوں نے یہ بات دو مرتبہ دہرائی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12874]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابويعلي: 6631، وعلقه البخاري: 3180، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8386 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8368»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وجہ سے مسلمانوں میں تو بے برکتی، نحوست، خباثت اور نجاست آتی ہے، لیکن اس معصیت کا بظاہر سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مسلمان مرعوب ہو جاتا ہے اور کافرغالب، اس وقت کوئی اسلامی مملکت اپنے امورِ سلطنت میں آزاد نہیں ہے، بلکہ کوئی سے دو اسلامی ملک اپنی مرضی سے آپس میں آزادانہ تجارت نہیں کر سکتے، ایک دوسرے کو اسلحہ منتقل نہیں کر سکتے، بلکہ اغیار کے اشاروں کے مطابق باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا کر لیتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے کہ ایک مسلمان حکمران مسلم مملکت پر حملہ کرنے کے لیے دنیائے کفر کو اپنے ملک کی سرزمین اور اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہوتا ہے۔ ذہن نشین کرلیں کہ یہ کافروں کا رعب نہیں ہے، یہ اپنوں کی بزدلی ہے، یہ عہدوں کی حرص ہے، یہ اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے، بقولِ علامہ اقبال:
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
غور کرو، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا غلبہ اور رعب کیوں تھا؟ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اسلام میں عزت و عظمت کو تلاش کیا اور ہم نے اسلام سے بیگانگی کو اپنے اقتدار کی مضبوطی کی علامت سمجھا۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
غور کرو، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا غلبہ اور رعب کیوں تھا؟ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اسلام میں عزت و عظمت کو تلاش کیا اور ہم نے اسلام سے بیگانگی کو اپنے اقتدار کی مضبوطی کی علامت سمجھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12875
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَنَعَتِ الْعِرَاقُ قَفِيزَهَا وَدِرْهَمَهَا، وَمَنَعَتِ الشَّامُ مُدَّهَا وَدِينَارَهَا، وَمُنِعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا، وَعُدْتُّمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُّمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ“ يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ایک وقت آئے گا) کہ اہل عراق اپنا قفیز اور درہم، شام اپنا مُدّ اور دینار اور مصر اپنا اِرْدَب اور دینار روک لے گا، اور تم وہاں لوٹ جاؤ گے، جہاں سے تم نے ابتدا کی تھی، اور تم وہیں لوٹ جاؤ گے، جہاں سے تمہاری ابتدا ہوئی تھی۔ ابوہریرہ کا گوشت اور خون اس حقیقت پر گواہ ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12875]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2896، وابوداود!: 3035، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7555»
وضاحت: فوائد: … قفیز، مد اور اردب بالترتیب عراق، شام اور مصر کے ماپ کے پیمانے ہیں۔
امام نووی نے کہا: منعت العراق کے معانی کے بارے میں دو اقوال زیادہ مشہور ہیں (ہم کل چار اقوال نقل کریں گے): ۱۔ اہلِ عراق اسلام قبول کریں گے، اس طرح ان سے جزیہ ساقط ہو جائے گا، گویا کہ وہ اپنے درہم و قفیز کو مسلمانوں کی طرف بھیجنے سے روک لیں گے اور ایسے ہو چکا ہے۔
۲۔ عجمی اور رومی آخر ِ زمانہ میں ان علاقوں پر غالب آ جائیں گے اور مسلمانوں کو ان چیزوں سے روک لیں گے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت (یوشک ان لایجبی الیھم قفیز …) سے معلوم ہوتا ہے۔ اور ایسے ہمارے زمانے میں ہوا ہے اور وہ اب بھی موجود ہے۔
۳۔ ایک قول یہ ہے کہ اہل عراق، اہل شام اور اہل مصر آخر ِ زمانہ میں مرتدّ ہو جائیں گے اور اس طرح زکوۃ وغیرہ روک لیں گے۔
۴۔ ایک قول یہ ہے کہ جو کفار جزیہ ادا کر رہے ہیں، آخر زمانہ میں ان کی حکومت مضبوط ہو جائے گی اور یہ جزیہ و خراج روک لیں گے۔
منعت کا یہی معنی متبادر الی الذہن ہے، پہلا معنی تو بالکل بعید ہے، لیکن جو شخص اسلام کی وجہ سے جزیہ سے مستثنی ہو جاتا ہے، اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ جو کچھ ادا کر رہا تھا، اس سے رک گیا۔
شیخ البانی کہتے ہیں: جب عراق نے کویت پر چڑھائی کی اور پھر جب عراق پر بری، بحری اور فضائی حملے ہونے لگے اور ان کے لیے دوسرے مسلم ممالک کی مدد بند کر دی گئی، تو کئی لوگوں نے اس مناسبت سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا کہ آیا اب عراق اس حدیث کا مصداق بن سکتا ہے؟ میں نے نفی میں جواب دیا اور امام نووی کی عبارتوں کی روشنی میں اس حدیث کا معنی واضح کیا۔ میں نے یکم صفر ۱۴۱۱ہجری کو اس رائے کا اظہار کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ظاہری اور باطنی فتنوں سے محفوظ رکھے۔ (صحیحہ: ۳۰۷۲)
پہلے ہلاکو خان اور اس کی نسل عرصۂ دراز تک عراق اور دوسرے علاقوں پر قابض رہی، پھر تقریبا ایک صدی تک عراق بطورِ مسلم مملکت آزاد رہا اور اب پھر امریکہ کا عراق پر تسلط قائم ہو چکا ہے اور وہ اس سرزمین کے سارے خزانے لوٹ کر لے جا رہا ہے۔
امام نووی نے کہا: منعت العراق کے معانی کے بارے میں دو اقوال زیادہ مشہور ہیں (ہم کل چار اقوال نقل کریں گے): ۱۔ اہلِ عراق اسلام قبول کریں گے، اس طرح ان سے جزیہ ساقط ہو جائے گا، گویا کہ وہ اپنے درہم و قفیز کو مسلمانوں کی طرف بھیجنے سے روک لیں گے اور ایسے ہو چکا ہے۔
۲۔ عجمی اور رومی آخر ِ زمانہ میں ان علاقوں پر غالب آ جائیں گے اور مسلمانوں کو ان چیزوں سے روک لیں گے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت (یوشک ان لایجبی الیھم قفیز …) سے معلوم ہوتا ہے۔ اور ایسے ہمارے زمانے میں ہوا ہے اور وہ اب بھی موجود ہے۔
۳۔ ایک قول یہ ہے کہ اہل عراق، اہل شام اور اہل مصر آخر ِ زمانہ میں مرتدّ ہو جائیں گے اور اس طرح زکوۃ وغیرہ روک لیں گے۔
۴۔ ایک قول یہ ہے کہ جو کفار جزیہ ادا کر رہے ہیں، آخر زمانہ میں ان کی حکومت مضبوط ہو جائے گی اور یہ جزیہ و خراج روک لیں گے۔
منعت کا یہی معنی متبادر الی الذہن ہے، پہلا معنی تو بالکل بعید ہے، لیکن جو شخص اسلام کی وجہ سے جزیہ سے مستثنی ہو جاتا ہے، اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ جو کچھ ادا کر رہا تھا، اس سے رک گیا۔
شیخ البانی کہتے ہیں: جب عراق نے کویت پر چڑھائی کی اور پھر جب عراق پر بری، بحری اور فضائی حملے ہونے لگے اور ان کے لیے دوسرے مسلم ممالک کی مدد بند کر دی گئی، تو کئی لوگوں نے اس مناسبت سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا کہ آیا اب عراق اس حدیث کا مصداق بن سکتا ہے؟ میں نے نفی میں جواب دیا اور امام نووی کی عبارتوں کی روشنی میں اس حدیث کا معنی واضح کیا۔ میں نے یکم صفر ۱۴۱۱ہجری کو اس رائے کا اظہار کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ظاہری اور باطنی فتنوں سے محفوظ رکھے۔ (صحیحہ: ۳۰۷۲)
پہلے ہلاکو خان اور اس کی نسل عرصۂ دراز تک عراق اور دوسرے علاقوں پر قابض رہی، پھر تقریبا ایک صدی تک عراق بطورِ مسلم مملکت آزاد رہا اور اب پھر امریکہ کا عراق پر تسلط قائم ہو چکا ہے اور وہ اس سرزمین کے سارے خزانے لوٹ کر لے جا رہا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12876
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَلَّا يُجْبَى إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلَا دِرْهَمٌ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ ذَاكَ قَالَ مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ يَمْنَعُونَ ذَاكَ ثُمَّ قَالَ يُوشِكُ أَهْلُ الشَّامِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلَا مُدٌّ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ ذَاكَ قَالَ مِنْ قِبَلِ الرُّومِ يَمْنَعُونَ ذَاكَ قَالَ ثُمَّ أَمْسَكَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثُو الْمَالَ حَثْوًا لَا يَعُدُّهُ عَدًّا“ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي نَضْرَةَ وَأَبِي الْعَلَاءِ أَتَرَيَانِ أَنَّهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَا لَا
ابونضرہ کہتے ہیں: ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے‘ انھوں نے کہا: قریب ہے کہ اہل عراق کی طرف قفیز اور درہم کی درآمد رک جائے۔ ہم نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ انھوں نے کہا: عجم کی طرف سے‘ (ایک وقت آئے گا کہ) وہ روک لیں گے۔ پھر انھوں نے کہا: قریب ہے کہ اہل شام کی طرف دینار اور مدّ کی درآمد رک جائے۔ ہم نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ انھوں نے کہا: روم سے (ایک وقت آئے گا کہ) وہ روک لیں گے۔ اس کے بعد وہ تھوڑی دیر کے لئے بات کرنے سے رک گئے اور پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے آخر میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا جو مال کے چلو بھر بھر کے (لوگوں کو) دے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا۔ میں نے ابونضرہ اور ابو علاء سے کہا: تمھارا کیا خیال ہے کہ وہ عمر بن عبدالعزیز ہو سکتا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12876]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2913، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14406 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14459»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے آخری حصے کے الفاظ یہ ہیں: میری امت کے آخری زمانے میں ایک ایسا خلیفہ پیدا ہو گا‘ جو شمار کئے بغیر مال کے چلو بھر بھر کے (لوگوں کو) دے گا۔
درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خلیفہ سے مراد امام مہدی ہو سکتے ہیں:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام مہدی کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((فَیَجِیْئُ اِلَیْہِ الرَّجُلُ، فَیَقُوْلُ لَہٗ: یَا مَھْدِیُّ! اَعْطِنِیْ اَعْطِنِیْ، فَیَحْثِیْ لَہٗ فِیْ ثَوْبِہٖ مَا اسْتَطَاعَ اَنْ یَّحْمِلَہٗ۔)) یعنی: ایک آدمی اس کے پاس آ کر کہے گا: مہدی! مجھے دو، مجھے دو۔ پس وہ چلو بھر بھر کر اس کے کپڑے میں اتنا کچھ ڈال دے گا، جو وہ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو گا۔ (ترمذی، وفیہ زید العمی وھو ضعیف، وتابعہ العلابن بشیر وھو مجھول عند احمد: ۳/ ۳۷ مع تقدیم و تاخیر)مستدرک حاکم کی روایت سے مزید تائید ہوتی ہے، جس میں ہے: وہ (مہدی) لوگوں کو بہترین مال عطا کرے گا۔
درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خلیفہ سے مراد امام مہدی ہو سکتے ہیں:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام مہدی کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((فَیَجِیْئُ اِلَیْہِ الرَّجُلُ، فَیَقُوْلُ لَہٗ: یَا مَھْدِیُّ! اَعْطِنِیْ اَعْطِنِیْ، فَیَحْثِیْ لَہٗ فِیْ ثَوْبِہٖ مَا اسْتَطَاعَ اَنْ یَّحْمِلَہٗ۔)) یعنی: ایک آدمی اس کے پاس آ کر کہے گا: مہدی! مجھے دو، مجھے دو۔ پس وہ چلو بھر بھر کر اس کے کپڑے میں اتنا کچھ ڈال دے گا، جو وہ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو گا۔ (ترمذی، وفیہ زید العمی وھو ضعیف، وتابعہ العلابن بشیر وھو مجھول عند احمد: ۳/ ۳۷ مع تقدیم و تاخیر)مستدرک حاکم کی روایت سے مزید تائید ہوتی ہے، جس میں ہے: وہ (مہدی) لوگوں کو بہترین مال عطا کرے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
11. مَارَوَاهُ حذيفة بن اليمان رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْفِتَنِ الا حَادِيثُ الْمُصَدَّرَهُ بِقَوْلِهِ ﷺ: «لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ۔۔۔»
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی روایات
حدیث نمبر: 12877
عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ وَمَا ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا أَسَرَّهُ إِلَيَّ لَمْ يَكُنْ حَدَّثَ بِهِ غَيْرِي وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ سُئِلَ عَنِ الْفِتَنِ وَهُوَ يَعُدُّ الْفِتَنَ ”فِيهِنَّ ثَلَاثٌ لَا يَذَرْنَ شَيْئًا مِنْهُنَّ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبَارٌ“ قَالَ حُذَيْفَةُ فَذَهَبَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آج سے قیامت تک جتنے فتنے رونما ہوں گے، میں ان کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسی رازدارانہ چیزیں بتلائی ہوں، جو دوسروں کو بیان نہ کی ہوں، بات یہ ہے کہ ایک محفل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتنوں کے بارے میں پوچھا گیا، میں بھی اس مجلس میں موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتنوں کو شمار کر کے ان کی وضاحت کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے تین فتنے ایسے ہوں گے، جو (اپنی سنگینی کی وجہ سے) کسی چیز کو بھی نہیں چھوڑیں گے، بعض فتنے موسم گرما کی آندھیوں کے سے ہوں گے اور بعض چھوٹے ہوں گے اور بعض بڑے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس محفل میں جتنے لوگ موجود تھے وہ سب وفات پا چکے ہیں، صرف میں زندہ ہوں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12877]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2891، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23680»
الحكم على الحديث: صحیح