🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. اخبارُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ وَالْمَكَانِ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ وَذِكْرُ أَوْصَافِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَفَتَنَتِهِ وَالتَّحْذِيرُ مِنْهُ وَغَيْرُ ذَلِكَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12981
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَيَنْزِلَنَّ الدَّجَّالُ خُوزَ وَكِرْمَانَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا، وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال ستر ہزار افراد کے ساتھ خوز اور کرمان کے علاقوں میں جاکر ٹھہرے گا، اس کا ساتھ دینے والوں کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12981]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل عنعنة محمد بن اسحاق، أخرجه البزار: 3390، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8434»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف من اجل عنعنة محمد بن اسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12982
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَنْزِلُ الدَّجَّالُ فِي هَذِهِ السَّبَخَةِ بِمَرِّ قَنَاةٍ، فَيَكُونُ أَكْثَرُ مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْجِعُ إِلَى حَمِيمِهِ وَإِلَى أُمِّهِ وَابْنَتِهِ وَأُخْتِهِ وَعَمَّتِهِ فَيُوثِقُهَا رِبَاطًا مَخَافَةَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ، ثُمَّ يُسَلِّطُ اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ عَلَيْهِ، فَيَقْتُلُونَهُ وَيَقْتُلُونَ شِيعَتَهُ، حَتَّى إِنَّ الْيَهُودِيَّ يَخْتَبِئُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَوِ الْحَجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرَةُ لِلْمُسْلِمِ: هَذَا يَهُودِيٌّ تَحْتِي فَاقْتُلْهُ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال مدینہ منورہ کے قریب وادیٔ قناۃ کے بہاؤ والی جگہ میں شور زدہ جگہ میں آکر ٹھہرے گا، اس کی طرف جانے والوں میں اتنی زیادہ تعداد عورتوں کی ہوگی کہ ایک آدمی اپنے رشتہ داروں، ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی وغیرہ کی طرف جا کر ان کو مضبوطی سے باندھ دے گا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ان میں سے کوئی دجال کی طرف چلی جائے، پھراللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس پر غلبہ عطا کرے گا اور وہ اس کو اور اس کی حمایت کرنے والوں کو قتل کریں گے، یہاں تک کہ جب کوئی یہودی کسی درخت یا پتھر کے پیچھے جا کر چھپے گا تو وہ پتھر یادرخت بول کر مسلمان سے کہے گا: یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، تم اسے قتل کردو۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12982]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه محمد بن اسحاق وھو مدلس وقد عنعن، ولبعض الحديث شواھد، أخرجه الطبراني في الكبير: 13197، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5353»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12983
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ، عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال اصبہان کی یہودیوں کی بستی سے ظاہر ہوگا، اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، انھوں نے سبز رنگ کی شالیں کندھوں پر ڈال رکھی ہوں گی۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12983]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابويعلي: 3639، والطبراني في الاوسط: 4927، وأخرجه مختصرا مسلم: 2944، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13377»
وضاحت: فوائد: … یہودیوں کا ماضی بھی حق کی مخالفت سے بھر پڑا ہے اور مستقبل کا یہ حال ہے۔

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12984
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنَأْ مِنْهُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَلَا يَزَالُ بِهِ لِمَا مَعَهُ مِنَ الشُّبُهَاتِ حَتَّى يَتَّبِعَهُ“
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی دجال کی آمد کے بارے میں سنے تو وہ اس سے دور دور رہے، کیونکہ اپنے آپ کو مومن سمجھنے والا جب اس کے پاس آئے گا تو اس کے شبہات کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگ جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12984]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20116»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12985
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَلَقٍ مِنْ أَفْلَاقِ الْحَرَّةِ وَنَحْنُ مَعَهُ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”نِعْمَتِ الْأَرْضُ الْمَدِينَةُ إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ، عَلَى كُلِّ نِقَبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ لَا يَدْخُلَهَا، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ رَجَفَتِ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، لَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ وَأَكْثَرُ يَعْنِي مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ وَذَلِكَ يَوْمُ التَّخْلِيصِ، وَذَلِكَ يَوْمٌ تَنْفِي الْمَدِينَةُ الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ، يَكُونُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَاجٌ وَسَيْفٌ مُحَلًّى فَتُضْرَبُ رَقَبَتُهُ بِهَذَا الضَّرْبِ الَّذِي عِنْدَ مُجْتَمَعِ السُّيُولِ“ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَلَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ، وَلَأُخْبِرَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مَا أَخْبَرَهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ قَبْلِي“ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ ثُمَّ قَالَ: ”أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرّہ کی ایک ہموار جگہ کی طرف جھانکا، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ کی سر زمین بہت اچھی ہے، جب دجال کا ظہور ہوگا تو اس کے ہر راستے پر ایک فرشتہ ہوگا، اس وجہ سے وہ اس میں داخل نہیں ہو سکے گا، جب وہ وقت آئے گا تو مدینہ منورہ اپنے اوپر موجودہ لوگوں کو تین مرتبہ جھٹکے دے گا، اس وجہ سے ہر منافق مرد او رعورت نکل کر دجال کی طرف چلا جائے گا، اس کی طرف جانے والوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی، وہ یَوْمُ التَّخْلِیْصِ ہوگا، اس دن مدینہ اپنے اندر موجود خبیث لوگوں کو اس طرح الگ کردے گا، جیسے آگ لوہے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے، دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، ہر ایک پر ایک مخصوص تاج اور ہر ایک کے پاس خوبصورت تلوار ہوگی، اس کو سیلابوں کے جمع ہونے والی وادی میں قتل کر دیا جائے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ آج تک ایسا فتنہ برپا ہوا اور نہ قیامت تک ہو گا، جو دجال کے فتنے سے سنگین ہو، ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو اس دجال سے ڈرایا ہے، لیکن میں تمہیں اس کی ایسی علامت بتلاتا ہوں کہ جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتلائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ آنکھ پر رکھ کر فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12985]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14158»

الحكم على الحديث: حديث صحيح بطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12986
وَعَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ ”يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ“ ثَلَاثًا فَقِيلَ لَهُ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ قَالَ ”يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَصْعَدُ أُحُدًا فَيَنْظُرُ الْمَدِينَةَ فَيَقُولُ لِأَصْحَابِهِ مَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ هَذَا مَسْجِدُ أَحْمَدَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكًا مُصَلِّتًا فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْجُرْفِ فَيَضْرِبُ رُوَاقَهُ ثُمَّ تَرْجُفَ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَلَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ وَلَا فَاسِقٌ وَلَا فَاسِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ فَذَلِكَ يَوْمُ الْخَلَاصِ“
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: خلاصی کا دن، بھلا وہ خلاصی کا دن کیا ہے؟ خلاصی کا دن، بھلا وہ خلاصی کا دن کون سا ہے؟ خلاصی کا دن، وہ خلاصی کا دن کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔ پھر کسی نے پوچھا: خلاصی کے دن سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال آ کر احد پر چڑھ جائے گا اور مدینہ منورہ کی طرف دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہے گا: تم اس سفید محل کو کیا سمجھتے ہو؟ یہ تو احمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجدہے، پھر وہ مدینہ کی طرف پیش قدمی کرے گا، لیکن وہ مدینہ کے ہر راستے پر تلوار سونتے ہوئے فرشتے کو دیکھ کر شور والی زمین کی طرف آ جائے گا اور اس کے سامنے والے حصے پر ضرب لگائے گا، پھر مدینہ منورہ (زلزلہ کی طرح) تین جھٹکے لے گا، اس طرح ہر منافق اور فاسق مردو زن، سب نکل کر اس کے پاس چلے جائیں گے، یہ خلاصی کا دن ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12986]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عبد الله بن شقيق لم يسمع محجن بن الادرع، بينھما رجاء بن أبي رجاء، وھو مجھول، أخرجه الحاكم: 4/ 543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19184»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12987
وَعَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ يُقِرُّ الْخَوَارِجُ بِالدَّجَّالِ فَقُلْتُ لَا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي خَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ وَأَكْثَرَ مَا بُعِثَ نَبِيٌّ يُتَّبَعُ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ وَإِنِّي قَدْ بُيِّنَ لِي مِنْ أَمْرِهِ مَا لَمْ يُبَيَّنْ لِأَحَدٍ وَإِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَعَيْنُهُ الْيُمْنَى عَوْرَاءُ جَاحِظَةٌ وَلَا تَخْفَى كَأَنَّهَا نُخَامَةٌ فِي حَائِطٍ مُجَصَّصٍ وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ مَعَهُ مِنْ كُلِّ لِسَانٍ وَمَعَهُ صُورَةُ الْجَنَّةِ خَضْرَاءُ يَجْرِي فِيهَا الْمَاءُ وَصُورَةُ النَّارِ سَوْدَاءُ تَدْخَنُ“
ابو و دک سے روایت ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا خوارج دجال کے ظہور کا اقرار کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ہزار بلکہ اس سے زائد نبیوں کے بعد آیا ہوں، ہر نبی، جس کی پیروی کی گئی، نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، لیکن مجھے اس کی ایسی ایسی علامتیں بیان کی گئی ہیں جو کسی دوسرے نبی کو نہیں بتلائیں گئی تھیں، (یاد رکھو کہ) دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے،دجال کی داہنی آنکھ بھینگی اور اس طرح نمایاں ہوگی جیسے کسی چونہ گچ دیوار پر بلغم یا کھنکار کا نشان ہو اور اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے تارے کی مانند ہوگی، ہر زبان بولنے والے اس کے ساتھ ہوں گے، اس کے پاس جنت کے مشابہ سرسبز باغ ہوگا، جس میں پانی بہہ رہا ہوگا اور جہنم کے مشابہ بھی ایک سیاہ چیز ہو گی، جو دھواں چھوڑ رہی ہو گی۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12987]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد وعبد المتعال بن عبد الوھاب، أخرجه الحاكم: 2/ 597، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11774»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد وعبد المتعال بن عبد الوھاب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12988
وَعَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ الدَّجَّالَ أُمَّتَهُ هُوَ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى بِعَيْنِهِ الْيُمْنَى ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَخْرُجُ مَعَهُ وَادِيَانِ أَحَدُهُمَا جَنَّةٌ وَالْآخَرُ نَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ مَعَهُ مَلَكَانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَشْبَهَانِ نَبِيَّيْنِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُهُمَا بِأَسْمَائِهِمَا وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمَا وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ أَلَسْتُ أُحْيِي وَأُمِيتُ فَيَقُولُ لَهُ أَحَدُ الْمَلَكَيْنِ كَذَبْتَ مَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا صَاحِبُهُ فَيَقُولُ لَهُ صَدَقْتَ فَيَسْمَعُهُ النَّاسُ فَيَظُنُّونَ إِنَّمَا يُصَدِّقُ الدَّجَّالَ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَلَا يُوذَنُ لَهُ فِيهَا فَيَقُولُ هَذَا قَرْيَةُ ذَلِكَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ عَقَبَةِ أَفِيقَ“
مولائے رسول سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: مجھ سے قبل جو نبی بھی آیا، اس نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، وہ بائیں کانی آنکھ والا ہوگا اور اس کی دائیں آنکھ پر موٹی سی جھلی ہو گی، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِر کا لفظ لکھا ہوگا، اس کے پاس دو وادیاں ہوں گی، ایک اس کی جنت اور دوسری اس کی جہنم ہوگی، مگر اس کی جہنم درحقیقت جنت اور اس کی جنت درحقیقت جہنم ہوگی، اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے، جو دو نبیوں کے ہم شکل ہوں گے، اگر میں چاہوں تو ان کے اور ان کے آباء کے نام بیان کرسکتا ہوں، ایک دائیں طرف ہوگا اور دوسرا بائیں طرف، یہ بھی ایک آزمائش ہوگی، دجال لوگوں سے کہے گا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ کیا میں زندہ کرنے اور مارنے پر قادر نہیں ہوں؟ ایک فرشتہ کہے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، اس بات کو صرف دوسرا فرشتہ ہی سن سکے گا، لوگوں میں سے کوئی نہیں سنے گا، اس کی بات سن کر دوسرا فرشتہ کہے گا: تو نے سچ کہا، اس بات کولوگ سنیں گے تو سہی، لیکن وہ سمجھیں گے کہ وہ فرشتہ دجال کی بات کی تصدیق کر رہا ہے، یہ بھی لوگوں کے لیے ایک آزمائش ہوگی، پھر دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا، لیکن اسے مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی، وہ کہے گا کہ یہ تو اس آدمی کا شہر ہے، پھر وہ وہاں سے چلے گا اور شام کی سرزمین میں پہنچ جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے وہاں اَفِیْق کی گھاٹی میں ہلاک کرے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12988]
تخریج الحدیث: «ضعيف بھذه السياقة، تفرد به حشرج بن نباتة عن سعيد بن جمھان، وقد اشار بعض اھل العلم الي انه يقع لھما في احاديثھما غرائب ومناكير، وقد وقع لھما شيء من ھذا في ھذا الحديث، أخرجه الطيالسي: 1106، وابن ابي شيبة: 15/ 137، والطبراني في الكبير: 6445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22275»

الحكم على الحديث: ضعيف بھذه السياقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12989
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْأَزْدِيِّ قَالَ ذَهَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الدَّجَّالِ وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِهِ وَإِنْ كَانَ مُصَدَّقًا قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَنْذَرْتُكُمُ الدَّجَّالَ ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيُّتُهَا الْأُمَّةُ وَإِنَّهُ جَعْدٌ آدَمُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ وَمَعَهُ جَبَلٌ مِنْ خُبْزٍ وَنَهْرٌ مِنْ مَاءٍ وَإِنَّهُ يُمْطِرُ الْمَطَرَ وَلَا يَنْبُتُ الشَّجَرُ وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا وَإِنَّهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا يَبْلُغُ فِيهَا كُلَّ مَنْهَلٍ وَلَا يَقْرُبُ أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَمَسْجِدَ الطُّورِ وَمَسْجِدَ الْأَقْصَى وَمَا يَشْبَهُ عَلَيْكُمْ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
جنادہ بن ابی امیہ ازدی کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری شخص، ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ہم نے ان سے کہا:آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے متعلق سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کریں، آپ نے کسی اور سے بیان نہیں کرنا، اگرچہ وہ تصدیق شدہ ہو، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: میں تمہیں دجال سے با خبر کر چکاہو، یہ جملہ تین دفعہ فرمایا، مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو اس سے ڈرایا اور خبردار کیا ہے، لیکن اے میری امت! وہ تم میں نکلے گا، اس کے بال گھنگریالے اور اس کا رنگ گندمی ہو گا اور اس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، اس کے پاس ایک جنت ہو گی اور ایک جہنم۔ لیکن حقیقت میں اس کی جہنم،جنت ہو گی اور اس کی جنت،جہنم ہوگی۔ اس کے پاس روٹیوں کا ایک پہاڑ ہوگا اور پانی کی ایک نہرہوگی، وہ بارش برسا کر دکھائے گا، لیکن اس سے درخت نہیں اگیں گے، اسے ایک آدمی کو قتل کرنے کی طاقت دی جائے گی، اس کے سوا اس کو اس قسم کی طاقت نہیں دی جائے گی، وہ زمین میں چالیس دن گزارے گا اور ہر ہر جگہ پہنچے گا، البتہ اِن چار مساجد کے قریب نہیں جا سکے گا: مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد طور اور مسجد اقصیٰ۔ وہ تمہیں جتنے شبہات میں بھی ڈال دے، تم یاد رکھنا کہ تمہارا ربّ کانا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12989]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24084»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12990
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ ”وَيُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ“
۔ (دوسری سند) اسی طرح حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ اس طرح ہیں: دجال کو ایک آدمی پر اس طرح مسلط کیا جائے گا کہ وہ اسے قتل کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکے گا، اس کے بعد اسے اس قسم کی طاقت نہیں دی جائے گی۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12990]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24083»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24083
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں