الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. اخبارُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ وَالْمَكَانِ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ وَذِكْرُ أَوْصَافِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَفَتَنَتِهِ وَالتَّحْذِيرُ مِنْهُ وَغَيْرُ ذَلِكَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 12991
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الشِّمَالِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ أَوْ قَالَ كُفْرٌ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا،اس کی اس آنکھ پر موٹی سی جھلی ہو گی اور اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ یا کُفْرٌ۔ لکھا ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12991]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابويعلي: 3768، والبغوي: 4257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12169»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 12992
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”الدَّجَّالُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کانا ہو گا اور تمہارا ربّ کانا نہیں ہے، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ لکھا ہوا ہوگا، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن پڑھ لے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12992]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13418»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے اپنی آنکھوں کے بارے میں فرمایا: {وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا۔} … اللہ کے حکم کے مطابق صبر کر، بلا شبہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ (سورۂ طور: ۴۸)
ہم اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عین (آنکھ) کو تسلیم کرتے ہیں، جیسے اس کی شان کے لائق ہے، جیسا کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا ایمان ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عین (آنکھ) کو تسلیم کرتے ہیں، جیسے اس کی شان کے لائق ہے، جیسا کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا ایمان ہے۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13418
حدیث نمبر: 12993
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَصَفَ الدَّجَّالَ لِأُمَّتِهِ وَلَأَصِفَنَّهُ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو متنبہ کرنے کے لیے دجال کی صفات بیان کیں، لیکن میں اس کی ایسی صفت بیان کروں گا، جو کسی نبی نے بیان کی اور وہ یہ ہے کہ وہ کانا ہو گا اور بیشک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12993]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابو يعلي: 725، والبزار: 1108، وابن ابي شيبة: 15/ 128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1578»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12994
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ تَمَامًا وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ ”لَيْسَ بِأَعْوَرَ عَيْنُهُ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ انھوں نے وہ کانا ہے کے الفاظ کے بعد یہ اضافی الفاظ بیان کیے ہیں: اس کی دائیں آنکھ یوں ہوگی، جیسے خوشۂ انگور میں ابھرا ہوا دانہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12994]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3439، 7407، ومسلم: ص 2248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4804»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3439
حدیث نمبر: 12995
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ ”إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَوْمَهُ وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑ ے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے شایان شان حمد و ثنا بیان کی اور پھرفرمایا: میں تمہیں اُس دجال سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے خبردار کیا، حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں تم سے اس کے متعلق ایسی بات بتلاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت سے نہیں کہی، تمہیں علم ہونا چاہیے کہ وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12995]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3057، ومسلم: 2931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6365»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3057
حدیث نمبر: 12996
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ وَإِنِّي أُنْذِرْكُمُوهُ“ قَالَ فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ”وَلَعَلَّهُ يُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ أَمِثْلُهَا الْيَوْمَ قَالَ ”أَوْ خَيْرٌ“
سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کے بعد آنے والے ہر نبی نے اپنی اپنی قوم کو دجال سے خبردا رکیا اور میں بھی تمہیں اس سے باخبر کرتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں ہمیں بتاتے ہوئے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ مجھے دیکھنے والا یا میری بات سننے والا کوئی آدمی بھی اسے پا لے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان دنوں ہمارے دلوں کی کیفیت کیا ہوگی؟ کیا ایسی جیسے آج کل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اس سے بہتر؟ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12996]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابوداود: 4756، والترمذي: 2234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1693»
وضاحت: فوائد: … جو آدمی جسمانی آزمائشوں کی پروا کیے بغیر اور دجال کے شعبدوں کو جھٹلاتے ہوئے فتنۂ دجال کا مقابلہ کر کے اپنے دین پر برقرار رہے گا، وہ راسخ الایمان ہو گا۔
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12997
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ ”أَعْوَرُ هِجَانٌ أَزْهَرُ كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَأَمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ فَإِنَّ رَبَّكُمْ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ“ قَالَ شُعْبَةُ فَحَدَّثْتُ بِهِ قَتَادَةَ فَحَدَّثَنِي بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا: وہ کانا ہو گا،اس کا رنگ چمکیلا سفید ہوگا، اس کا سر پھونک سے مار ڈالنے والے زہریلے سانپ کی طرح ہو گا، وہ لوگوں میں عبدالعزی بن قطن کے زیادہ مشابہ ہوگا،اگر (اس کے شبہات کی وجہ سے) ہلاک ہونے والے ہلاک ہونے لگیں تو یاد رکھنا کہ تمہارا ربّ کانا نہیں ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہی حدیث امام قتادہ کو بیان کی تو انہوں نے بھی مجھے ایسی ہی حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12997]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني: 11711، والطيالسي: 2678، وابن حبان: 6796، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2148»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12998
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ وَمَشَى فِي الْأَسْوَاقِ يَعْنِي الدَّجَّالَ“
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال (لوگوں کی طرح) کھانا کھائے گا اور) بازاروں میں چلے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12998]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن جدعان، والحسن البصري لم يسمع من عمران، أخرجه البزار: 3574، والطبراني في الكبير: 18/ 339، والطبراني في الاوسط: 8150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20235»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ابن جدعان
حدیث نمبر: 12999
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهَا رَجُلًا آدَمَ سَبْطَ الرَّأْسِ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ أَوِ الْمَسِيحُ بْنُ مَرْيَمَ وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى جَعْدَ الرَّأْسِ أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنَ قَطَنٍ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے کعبہ کے دروازے کے قریب ایک آدمی دیکھا، اس کی رنگت گندمی، سر کے بال قدرے خمدار، دو آدمیوں پر اپنا ہاتھ رکھے ہوا تھا، اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟فرشتوں نے کہا: یہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔ پھرمیں نے ان کے پیچھے ایک اور آدمی کو دیکھا، وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا اور اس کے سر کے بال گھنگریالے تھے، میں نے جو لوگ دیکھے ہیں ان میں ابن قطن اس سے مشابہ ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12999]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4977»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 169
حدیث نمبر: 13000
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالُوا إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر قَالَ مَا تَقُولُونَ قَالَ يَقُولُونَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَلِكَ وَلَكِنْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي“
مجاہد کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگوں نے دجال کا ذکر چھیڑ دیا اورکہا: اس کی آنکھوں کے درمیانی یعنی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم کہہ رہے ہیں کہ اس کی آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہیں سنا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ: اگر ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا چاہتے ہو تو مجھے دیکھ لو اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ اور گھنگریالے بالوں والے تھے، میں دیکھتا ہوں کہ کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی وہ مہار والے ایک سرخ اونٹ پر سوار تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13000]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1555، 5913، ومسلم: 166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2501»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1555