الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. اخبارُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ وَالْمَكَانِ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ وَذِكْرُ أَوْصَافِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَفَتَنَتِهِ وَالتَّحْذِيرُ مِنْهُ وَغَيْرُ ذَلِكَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 13001
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنِّي قَدْ حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لَا تَعْقِلُوا، إِنَّ مَسِيحَ الدَّجَّالِ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَفْحَجُ جَعْدٌ أَعْوَرُ مَطْمُوسُ الْعَيْنَيْنِ لَيْسَ بِنَاتِئَةٍ وَلَا حَجْزَاءَ فَإِنْ أُلْبِسَ عَلَيْكُمْ“ قَالَ يَزِيدُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) : ”رَبُّكُمْ، فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَرَوْا رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تَمُوتُوا“ قَالَ يَزِيدُ: ”تَرَوْا رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا“
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم لوگوں کو دجال کے متعلق بتا تو چکا ہوں، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اسے پہچان ہی نہ سکو۔ (یاد رکھنا کہ) مسیح دجال پست قامت ہوگا، اس کے پیروں کا اگلا حصہ قریب اور ایڑیاں دور ہوں گی،اس کے بال گھنگریالے ہوں گے، اس کی آنکھ اس طرح مٹی ہوئی ہوگی کہ وہ نہ تو ابھری ہوئی ہوگی اور نہ اندر کو دھنسی ہوئی، اگر پھر بھی معاملہ تم پر خلط ملط ہونے لگے تو جان لو کہ تمہارا ربّ کانا بھی نہیں ہے اور تم مرنے سے قبل اللہ تعالیٰ کو دیکھ بھی نہیں سکتے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13001]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بقية الوليد، أخرجه ابوداود: 4320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23144»
الحكم على الحديث: ضعیف
11. منْ يَعْصِمُهُمُ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
حدیث نمبر: 13002
وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِالْمَدِينَةِ وَقَدْ طَافَ النَّاسُ بِهِ وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: ”إِنَّ مَنْ بَعْدَكُمُ الْكَذَّابَ الْمُضِلَّ وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ بَعْدِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ حُبُكٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَإِنَّهُ سَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَمَنْ قَالَ: لَسْتَ رَبَّنَا، لَكِنْ رَبُّنَا اللَّهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ أَنَبْنَا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكَ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِ سُلْطَانٌ“
ابو قلابہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ ا س کے ارد گرد جمع تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہتے ہوئے احادیث بیان کر رہا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک صحابی تھا، پھر میں نے اسے یہ بیان کرتے ہوئے سنا: تمہارے بعد ایک گمراہ کرنے والا جھوٹا آدمی آئے گا، اس کے سر کے بال پیچھے سے گھونگریالے ہوں گے، گھونگریالے، گھونگریالے، اور وہ کہے گا کہ وہ تمہارا ربّ ہے، جس نے اس سے کہا: تو ہمارا رب نہیں ہے، ہمارا رب تو اللہ ہے، ہم نے اسی پر توکل کیا، اسی کی طرف رجوع کیا اور ہم تیرے شر سے اسی اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، تو کذاب کا اس پر کوئی بس نہیں چلے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13002]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23546»
وضاحت: فوائد: … جب مؤمن کا دجال سے سامنا ہو جائے تو وہ یہ دعا پڑھے: لَسْتَ رَبَّنَا، لٰکِنْ رَبُّنَا اللّّٰہُ عَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا وَاِلَیْہِ اَنَبْنَا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکَ۔
اس دعا کی برکت سے وہ دجال کے تسلط سے محفوظ ہو جائے گا۔
اس دعا کی برکت سے وہ دجال کے تسلط سے محفوظ ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13003
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ رَأْسَ الدَّجَّالِ مِنْ وَرَائِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ، فَمَنْ قَالَ: أَنْتَ رَبِّي، اُفْتُتِنَ وَمَنْ قَالَ: كَذَبْتَ، رَبِّيَ اللَّهُ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ فَلَا يَضُرُّهُ أَوْ قَالَ: فَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ“
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کے سر کے بال پیچھے سے گھونگریالے ہوں گے، جس آدمی نے اس سے کہا: تو میرا رب ہے، وہ فتنے میں مبتلا ہو جائے گا، لیکن جس نے اس سے کہا: تو جھوٹا ہے، میرا ربّ تو اللہ ہے اور میں اسی پر توکل کرتا ہوں تو دجال اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یا فرمایا: اس پر اس کا کوئی فتنہ نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13003]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو قلابة لم يسمع من هشام بن عامر، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 456، والحاكم: 4/ 508، وعبد الرزاق: 20828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16368»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 13004
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنَ الدَّجَّال، مَعَهُ نَهْرَانِ، يَجْرِيَانِ أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبْيَضُ وَالآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ فَإِنْ أَدْرَكَنَّ وَاحِدًا مِنْكُمْ فَلْيَأْتِ النَّهْرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا فَلْيُغْمِضْ، ثُمَّ لْيُطَاْطِئْ رَأْسَهُ فَلْيَشْرَبْ، فَإِنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ’’كَافِرٌ‘‘ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ دجال کے پاس کیا کچھ ہو گا،اس کے پاس دو بہتی ہوئی نہریں ہوں گی، ایک کا پانی بظاہر سفید ہوگا اور دوسری نہر بظاہر دہکتی ہوئی آگ ہوگی، اگر تم میں سے کسی کو ان حالات سے سابقہ پڑ جائے تو وہ اس نہر میں داخل ہوجائے،جسے وہ آگ دیکھ رہا ہو، وہ آنکھیں بند کر کے اور سر جھکا کر اس سے نوش کر لے، وہی ٹھنڈا پانی ہوگا، دجال کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہو گی، اس پر موٹی سی جھلی ہو گی اوراس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ لکھا ہوا ہو گا، ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن اس لفظ کو پڑھ لے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13004]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23668»
وضاحت: فوائد: … جو بظاہر آگ نظر آئے گی، وہی حقیقت میں باعث ِ تسکین مقام ہو گا، اس لیے مؤمن کو چاہیے ہو گا کہ وہ اپنی آنکھوں سے دھوکہ نہ کھائے، بلکہ ایمان اور شرعی تقاضوں کو سامنے رکھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13005
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى جُفَالُ الشَّعْرِ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ“
سیدنا حذیفہ بن یما ن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا، اس کے بال بہت زیادہ ہوں گے، ا سکے پاس ایک جنت اور ایک جہنم ہوگی، لیکن اس کی جہنم حقیقت میں جنت اور اس کی جنت حقیقت میں جہنم ہوگی۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13005]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23757»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13006
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي ”أَيْ بُنَيَّ وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعَمُونَ أَنَّ مَعَهُ جِبَالَ الْخُبْزِ وَأَنْهَارَ الْمَاءِ فَقَالَ ”هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَاكَ“
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے بارے میں جس قدر میں نے پوچھا، کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس سے متعلقہ اتنے سوالات نہیں کیے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: بیٹے! تم کیوں گھبراتے ہو، وہ تمہیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! لوگ کہتے ہیں کہ اس کے پاس روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں ہوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کم تر اور رذیل ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13006]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7122، ومسلم: 2152، 2939، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18350»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13007
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ”إِنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ وَهُوَ أَعْوَرُ عَيْنِ الشِّمَالِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ وَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَى وَيَقُولُ لِلنَّاسِ أَنَا رَبُّكُمْ فَمَنْ قَالَ أَنْتَ رَبِّي فَقَدْ فُتِنَ وَمَنْ قَالَ رَبِّيَ اللَّهُ حَتَّى يَمُوتَ فَقَدْ عُصِمَ مِنْ فِتْنَتِهِ وَلَا فِتْنَةَ بَعْدَهُ عَلَيْهِ وَلَا عَذَابَ فَيَلْبَثُ فِي الْأَرْضِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَجِيءُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ مُصَدِّقٌ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مِلَّتِهِ فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ ثُمَّ إِنَّمَا هُوَ قِيَامُ السَّاعَةِ“
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال نمودار ہونے والا ہے، وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا، اس پر موٹی سی جھلی ہو گی۔ وہ مادر زاد نا بیناؤں کو اور پھلبہری کے مریضوں کو شفا دے گا اور مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ لوگوں سے کہے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ جس نے اسے اپنا ربّ تسلیم کر لیا وہ فتنے میں پڑ جائے گا، لیکن جس نے اس سے کہا: میر اربّ تو اللہ تعالیٰ ہے اور مرنے تک اسی پر ثابت قدم رہا، تو وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہے گا اوراس کے بعد اس پر کوئی فتنہ اور عذاب نہیں ہو گا، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا، دجال زمین پر ٹھہرے گا، اس کے بعد مغرب کی جہت سے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کی تصدیق کرتے ہوئے اور ان کی ملت پر عمل پیرا ہو کر آئیں گے اور دجال کو قتل کر یں گے، اس کے بعد قیامت قائم ہو گی۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13007]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فان الحسن البصري لم يذكر سماعه من سمرة، أخرجه الطبراني في الكبير: 6919، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20413»
الحكم على الحديث: ضعیف
12. مُدَّةُ مَكْثِ الدَّجَّالِ بَعْدَ ظُهُورِهِ وَقَتْلُهُ الرَّجُلَ الْمُؤْمِنَ يُقَالُ إِنَّهُ الْخَضِرُ ثُمَّ اِحْيَاتُهُ وَعَدْمُ تَسَلُّطِهِ عَلَى غَيْرِهِ وَ هَلَاكُ الدَّجَّالِ
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 13008
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ فَقَالَ فِيمَا يُحَدِّثُنَا قَالَ ”تَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ رَجُلٌ يَوْمَئِذٍ وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خَيْرِهِمْ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ أَتَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ فَيَقُولُونَ لَا فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ حِينَ يَحْيَا وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً فِيكَ مِنِّي الْآنَ قَالَ فَيُرِيدُ قَتْلَهُ الثَّانِيَةَ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دجال کے بارے طویل حدیث بیان کی، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: جب دجال آئے گا تو مدینہ منورہ کے راستوں میں داخل ہونا اس پر حرام ہوگا، اس دور کا افضل ترین آدمی دجال کی طرف جا کر اس سے کہے گا: میں شہادت دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خبردار کر گئے ہیں، یہ سن کر دجال لوگوں سے کہے گا: کیا خیال ہے اگر میں اس شخص کو قتل کردوں اور پھر اسے زندہ کر دوں تو کیا تم میرے معاملے پھر بھی کوئی شک کرو گے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ چنانچہ دجال اس آدمی کو قتل کر کے زندہ کر دے گا، وہ آدمی زندہ ہونے کے بعد کہے گا: اللہ کی قسم! مجھے تیرے دجال ہونے کے متعلق جس قدر اب بصیرت ہے، اتنی تو پہلے بھی نہیں تھی، چنانچہ دجال اسے دوبارہ قتل کرنے کی کوشش کرے گا، لیکن وہ اسے قتل نہیں کر سکے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13008]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1882، 7132، ومسلم: 2938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11338»
وضاحت: فوائد: … قتل کرکے دوبارہ زندہ کرنے کے معاملے میں دجال کے اختیارات محدود ہوں گے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13009
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خَفْقَةٍ مِنَ الدِّينِ وَإِدْبَارٍ مِنَ الْعِلْمِ فَلَهُ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً يَسِيحُهَا فِي الْأَرْضِ الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالشَّهْرِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالْجُمُعَةِ ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال اس وقت نکلے گا، جب دین کمزور ہو جائے گا اور علم اٹھ جائے گا، اس وقت دجال کا ظہور ہوگا، وہ چالیس دنوں تک ٹھہرے گا، ان میں سے ایک دن ایک سال کے، ایک دن ایک مہینے کے اور ایک دن ایک ہفتے کے برابر ہوگا اور باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13009]
تخریج الحدیث: «اسناده علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 4/ 530، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15017»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13010
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَمْكُثُ الدَّجَّالُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً السَّنَةُ كَالشَّهْرِ وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ وَالْيَوْمُ كَاضْطِرَامِ السَّعْفَةِ فِي النَّارِ“
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال زمین میں چالیس سال قیام کرے گا، اس کا ایک سال ایک مہینے کی طرح، ایک مہینہ ایک ہفتے کی طرح، ایک ہفتہ ایک دن کی طرح اور ایک دن اس گھڑی کی طرح ہو گا، جس میں کا خشک پتہ آگ میں جل جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13010]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، أخرجه عبدالرزاق: 20822، والطبراني في الكبير: 24/ 430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28123»
الحكم على الحديث: ضعیف