الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. تعظيمُ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَآمَارَاتُ خُرُوجِهِ
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر: 12971
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ”لَأَنَا لَفِتْنَةُ بَعْضِكُمْ أَخْوَفُ عِنْدِي مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَلَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِمَّا قَبْلَهَا إِلَّا نَجَا مِنْهَا، وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَةٌ مُنْذُ كَانَتِ الدُّنْيَا صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا لِفِتْنَةِ الدَّجَّالِ“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں دجال کے فتنے کی بہ نسبت تمہارے آپس کے فتنوں یعنی لڑائی جھگڑوں کا زیادہ خطرہ محسوس کرتا ہوں، اور (سنو کہ) جب سے دنیا قائم ہے، اس وقت سے جتنے چھوٹے بڑے فتنے ظہور پذیر ہوئے، وہ سارے کے سارے فتنۂ دجال کی خاطر ہی تھے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12971]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار: 2807، 2808، وابن حبان: 6807، والطبراني في الكبير: 3018، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23693»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کو متاثر کرنے والے بعض فتنوں کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیا ہے، مثال کے طور پر: زبان کا فتنہ، منافقوں کا فتنہ، دنیوی مال و دولت کا فتنہ، ریاکاری کا فتنہ۔
درج ذیل حدیث پر غور کریں، جس میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے فتنے کو دجال سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے:
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمًا إِلَی مَنْزِلِہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَی أُمَّتِی مِنْ الدَّجَّالِ۔)) فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَدْخُلَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أَیُّ شَیْء ٍ أَخْوَفُ عَلٰی أُمَّتِکَ مِنْ الدَّجَّالِ؟ قَالَ: ((الْأَئِمَّۃَ الْمُضِلِّینَ۔)) … ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف تشریف لے جا رہے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں دجال کی بہ نسبت باقی فتنوں کا ڈر زیادہ ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے والے ہیں، تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو دجال کی بہ نسبت کس چیز کا اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ ڈر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمران۔ (مسند احمد: ۵/ ۱۴۵)
اصل بات یہ ہے کہ مسیح دجال کی آزمائش جسمانی ہو گی، ابدی اور سرمدی سعادت کے لیے صبر کے ذریعے اس کو برداشت کرنا ممکن ہو گا، لیکن شرکِ خفی، ریاکاری اور گمراہ حکمرانوں جیسی آزمائشوں کا نتیجہ دنیا میں بے چینی اور آخرت میں خسارہ ہو گا۔
درج ذیل حدیث پر غور کریں، جس میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے فتنے کو دجال سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے:
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمًا إِلَی مَنْزِلِہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَی أُمَّتِی مِنْ الدَّجَّالِ۔)) فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَدْخُلَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أَیُّ شَیْء ٍ أَخْوَفُ عَلٰی أُمَّتِکَ مِنْ الدَّجَّالِ؟ قَالَ: ((الْأَئِمَّۃَ الْمُضِلِّینَ۔)) … ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف تشریف لے جا رہے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں دجال کی بہ نسبت باقی فتنوں کا ڈر زیادہ ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے والے ہیں، تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو دجال کی بہ نسبت کس چیز کا اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ ڈر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمران۔ (مسند احمد: ۵/ ۱۴۵)
اصل بات یہ ہے کہ مسیح دجال کی آزمائش جسمانی ہو گی، ابدی اور سرمدی سعادت کے لیے صبر کے ذریعے اس کو برداشت کرنا ممکن ہو گا، لیکن شرکِ خفی، ریاکاری اور گمراہ حکمرانوں جیسی آزمائشوں کا نتیجہ دنیا میں بے چینی اور آخرت میں خسارہ ہو گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 12972
عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فِتْنَةٌ أَكْبَرُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ“
سیدنا ہشام بن عامرانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام کی تخلیق سے لے کر قیامت کے قائم ہونے تک کوئی ایسا فتنہ ظاہر نہیں ہوا، جو دجال کے فتنے سے زیادہ سنگین ہو۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12972]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2946، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16373»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2946
حدیث نمبر: 12973
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”وَاللَّهِ مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أَمْرٌ أَعْظَمُ مِنَ الدَّجَّالِ“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تخلیقِ آدم سے قیامت تک کوئی معاملہ دجال سے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12973]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16363»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16363
حدیث نمبر: 12974
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی ایسا فتنہ رونما ہوا اور نہ قیامت تک ہو گا، جو فتنۂ دجال سے زیادہ سنگین ہو۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12974]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14158»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده
حدیث نمبر: 12975
عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ اصْطَخْرُ نَادَى مُنَادٍ: أَلَا إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ، قَالَ: فَلَقِيَهُمُ الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: لَوْلَا مَا تَقُولُونَ لَأَخْبَرْتُكُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَذْهَلَ النَّاسُ عَنْ ذِكْرِهِ، وَحَتَّى تَتْرُكَ الْأَئِمَّةُ ذِكْرَهُ عَلَى الْمَنَابِرِ“
راشد بن سعد کہتے ہیں: جب اصطخر فتح ہوا، تو ایک مُنادِی نے یہ آواز دی: خبردار! دجال کا ظہور ہوچکا ہے، یہ سن کر سیدنا مصعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو جاکرملے اور کہا:جو کچھ تم کہہ رہے ہو، ایسا اگر نہ ہوتا تو میں تمہیں بتلاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ: اس وقت تک دجال کا ظہور نہیں ہوگا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ لوگ اس کے ذکر سے مکمل طور پر غافل ہوجائیں اور ائمہ یعنی خطباء حضرات منبروں پر اس کا ذکر کرنا چھوڑ دیں۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12975]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، راشد بن سعد المقرائي الحمصي لم يدرك الصعب بن جثامة، وبقية بن الوليد يدلس ويسوي، ومثله يحتاج الي التصريح في جميع طبقات الاسناد، ثم انه انفرد به، وھو ممن لا يحتمل تفرده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16667 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16788»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
9. مَكَانُ الدَّجَّالِ وَإِنَّهُ مَوْجُودٌ مِنْ عَهْدِ النَّبِي ﷺ
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12976
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: ثَنَا مُجَالِدٌ قَالَ: ثَنَا عَامِرٌ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ حَدِيثَهَا فِي النَّفَقَةِ وَالسُّكْنَى وَزَوَاجَهَا بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ (تَقَدَّمَ ذَلِكَ فِي بَابِ النَّفَقَةِ وَالسُّكْنَى لِلْمُعْتَدَّةِ الرَّجْعِيَّةِ وَالْبَتُّوتَةِ الْحَامِلِ) ، قَالَ: فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ، قَالَتْ: اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ، فَصَلَّى صَلَاةَ الْهَاجِرَةِ، ثُمَّ قَعَدَ، فَفَزِعَ النَّاسُ، فَقَالَ: ”اجْلِسُوا أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنِّي لَمْ أَقُمْ مَقَامِي هَذَا لِفَزَعٍ، وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَتَانِي، فَأَخْبَرَنِي خَبَرًا مَنَعَنِي الْقَيْلُولَةَ مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّةِ الْعَيْنِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَنْشُرَ عَلَيْكُمْ فَرَحَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَنِي أَنَّ رَهْطًا مِنْ بَنِي عَمِّهِ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَأَصَابَتْهُمْ رِيحٌ عَاصِفٌ، فَأَلْجَأَتْهُمُ الرِّيحُ إِلَى جَزِيرَةٍ لَا يَعْرِفُونَهَا، فَقَعَدُوا فِي قُوَيْرِبِ السَّفِينَةِ حَتَّى خَرَجُوا إِلَى الْجَزِيرَةِ، فَإِذَا هُمْ بِشَيْءٍ أَهْلَبَ كَثِيرِ الشَّعْرِ، لَا يَدْرُونَ أَرَجُلٌ هُوَ أَمْ امْرَأَةٌ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِمُ السَّلَامَ، قَالُوا: أَلَا تُخْبِرُنَا؟ قَالَ: مَا أَنَا بِمُخْبِرِكُمْ وَلَا بِمُسْتَخْبِرِكُمْ، وَلَكِنَّ هَذَا الدَّيْرَ قَدْ رَهِقْتُمُوهُ، فَفِيهِ مَنْ هُوَ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَيَسْتَخْبِرَكُمْ، قَالَ: قُلْنَا: فَمَا أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى أَتَوْا الدَّيْرَ، فَإِذَا هُمْ بِرَجُلٍ مُوَثَّقٍ شَدِيدِ الْوَثَاقِ، مُظْهِرِ الْحُزْنِ، كَثِيرِ التَّشَكِّي، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْعَرَبُ؟ أَخَرَجَ نَبِيُّهُمْ بَعْدُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا فَعَلُوا؟ قَالُوا: خَيْرًا، آمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ، قَالَ: ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ، وَكَانَ لَهُ عَدُوٌّ، فَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَالْعَرَبُ الْيَوْمَ آلِهُهُمْ وَاحِدٌ، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، وَكَلِمَتُهُمْ وَاحِدَةٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالُوا: صَالِحَةٌ، يَشْرَبُ مِنْهَا أَهْلُهَا لِشَفَتِهِمْ، وَيَسْقُونَ مِنْهَا زَرْعَهُمْ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَيْنَ عُمَّانَ وَبَيْسَانَ؟ قَالُوا: صَالِحٌ، يُطْعِمُ جَنَاهُ كُلَّ عَامٍ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قَالُوا: مَلْأَى، قَالَ: فَزَفَرَ ثُمَّ زَفَرَ ثُمَّ زَفَرَ، ثُمَّ حَلَفَ: لَوْ خَرَجْتُ مِنْ مَكَانِي هَذَا، مَا تَرَكْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ اللَّهِ إِلَّا وَطِئْتُهَا غَيْرَ طَيْبَةَ، لَيْسَ لِي عَلَيْهَا سُلْطَانٌ (وَفِي رِوَايَةٍ: غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ) “، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِلَى هَذَا انْتَهَى فَرَحِي ثَلَاثَ مِرَارٍ، إِنَّ طَيْبَةَ الْمَدِينَةُ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الدَّجَّالِ أَنْ يَدْخُلَهَا“، ثُمَّ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا لَهَا طَرِيقٌ ضَيِّقٌ وَلَا وَاسِعٌ فِي سَهْلٍ وَلَا فِي جَبَلٍ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ بِالسَّيْفِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، مَا يَسْتَطِيعُ الدَّجَّالُ أَنْ يَدْخُلَهَا عَلَى أَهْلِهَا“، قَالَ عَامِرٌ: فَلَقِيتُ الْمُحَرَّرَ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ حَدَّثَنِي كَمَا حَدَّثَتْكَ فَاطِمَةُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّهُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ“، قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْنِي كَمَا حَدَّثَتْكَ فَاطِمَةُ، غَيْرَ أَنَّهَا قَالَتْ: ”الْحَرَمَانِ عَلَيْهِ حَرَامٌ، مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ“
عامر شعبی کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں آیا اور سیدنافاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے مجھے بیان کیا عہد رسالت میں ان کے شوہرنے انکو طلاق دے دی تھی، پھر اس کے بعد نفقہ و رہائش اور سیدہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی شادی کا واقعہ بیان کیا، (بَابُ النَّفَقَۃِ وَالسُّکْنٰی لِلْمُعْتَدَّۃِ الرَّجْعِیَّۃِ وَالْبَتُوْتَۃِ الْحَامِلِ میں اس حدیث کا ذکر ہو چکا ہے۔) عامر کہتے ہیں: میں نے جب وہاں سے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہاـ: بیٹھ جاؤ، میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کرتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن مسجد میں تشریف لے گئے اور نمازِظہر پڑھا کر وہیں بیٹھ گئے اور لوگ آپ کی حالت و کیفیت دیکھ کر گھبرا گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: لوگو بیٹھ جاؤ،میں اس وقت کسی پریشا نی کی و جہ سے یہاں سے کھڑا نہیں ہوا، بات یہ ہے کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے آکر مجھے ایک بات بتائی ہے، مجھے اس کی وجہ سے اس قدر خوشی اور راحت ہوئی کہ میں قیلولہ بھی نہیں کر سکا، میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اپنے نبی کی خوشی والی بات سنو، اس نے مجھے بتلایا ہے کہ اس کے چچا کے بیٹوں کی ایک جماعت سمندری سفر کر رہی تھی، تیز ہوا چلنے لگی، وہ ہوا انہیں ایک جزیرے کی طرف لے گئی، ان کی اس جزیرہ سے کوئی واقفیت نہیں تھی، وہ لوگ طوفان کے دوران کسی ایک چھوٹی کشتی پر بیٹھ کر جزیرہ کی طرف جا پہنچے، وہاں انہیں ایک عجیب چیز نظر آئی، اس پر بال ہی بال تھے، وہ تو یہ بھی نہیں پہچان سکے کہ وہ مرد تھا یا عورت؟ انہوں نے اسے سلام کہا، اس نے سلام کا جواب دیا، ان لوگوں نے اس سے کہا: کیا تم ہمیں کچھ بتاؤ گی؟ وہ بولی: نہیں، میں نہ تمہیں کچھ بتاتی ہوں، اور نہ تم سے کچھ پوچھتی ہوں،یہ راہبوں کی خانقاہ ہے،اب تم اس کے قریب تو پہنچ چکے ہو اور اس میں ایک ایسا شخص ہے کہ وہ تمہاری باتیں سننے کا بہت زیادہ خواہش مند ہے، وہ تمہیں کچھ باتیں بتائے گا اور کچھ تم سے پوچھے گا، ہم نے اس سے پوچھا کہ تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جَسَّاسَہ ہوں، پھر وہ لوگ چلے گئے اور اس خانقاہ میں پہنچ گئے، وہاں ایک شخص بڑی مضبوط بندشوں میں جکڑا ہوا تھا، اس پر غم و حزن نمایاں تھا اور وہ تکلیف کی شکایت کا اظہار کرتا تھا، انہوں نے اسے سلام کہا، اس نے سلام کا جواب دیا، اس نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عرب ہیں، اس نے پوچھا: عرب کیا کرتے ہیں؟ کیا ان کا نبی ظاہر ہو چکا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: انھوں نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ انھوں نے کہا: اچھا رویہ ہے، وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کی۔ اس نے کہا: ان کے لیے یہی بات بہتر ہے، اس کا ایک دشمن تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس نبی کو اس پر غالب کر دیا۔ پھر اس نے پوچھا: کیا اب ان سب عربوں کا معبود ایک ہے، نیز کیا ان کا دین اور کلمہ بھی ایک ہی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: زغر والے چشمے کے بارے میں بتلاؤ، وہ کس حالت میں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ٹھیک ہے، لوگ اس سے پانی پیتے ہیں اور اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ اس نے پوچھا: عمان اور بیسان کے درمیان والی کھجوروں کی کیا حالت ہے؟انہوں نے کہا: وہ ٹھیک ہیں، ہر سال ان کے پھل کھائے جاتے ہیں۔ اس نے پوچھا:بحیرہ ٔ طبریہ کی صورتحال کیسی ہے؟ انہوں نے کہا: وہ بھی بھرا ہوا ہے۔ یہ باتیں سن کر وہ خوب اچھلا، پھر اس نے قسم اٹھا کر کہا: اگر میں اپنی اس جگہ سے نکل آؤں تو طیبہ(یعنی مدینہ منورہ) اور مکہ مکرمہ کے علاوہ ساری زمین پر چلوں گا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو میری خوشی کی انتہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تین دفعہ فرمایا، بے شک طیبہ سے مراد مدینہ منورہ ہے، اللہ تعالیٰ نے دجال پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ اس میں داخل ہو سکے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلف اٹھا کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! مدینہ منورہ کی طرف آنے والے میدانی اور پہاڑی کشادہ اور تنگ ہر راستے پر اللہ کا فرشتہ قیامت تک تلوار لیے کھڑا ہے، دجال کسی راستے سے مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ عامر شعبی کہتے ہیں: پھر میری ملاقات محرر بن ابو ہریرہ سے ہوئی، میں نے انہیں سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنی ہوئی یہ حدیث بیان کی، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد نے بھی یہ حدیث مجھے اسی طرح بیان کی تھی، جیسے آپ کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے، البتہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مشرق کی جہت میں ہے۔ عامر کہتے ہیں: پھر میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی،میں نے ان کو بھی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنی ہوئی یہ حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث اس طرح بیان کی تھی، جیسے آپ کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے، البتہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بیان کیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ یہ دونوں حرم، دجال پر حرام ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12976]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2942، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27892»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2942
حدیث نمبر: 12977
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: ثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ مُسْرِعًا، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ، فَقَالَ: ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَمْ أَدْعُكُمْ لِرَغْبَةٍ نَزَلَتْ وَلَا لِرَهْبَةٍ، وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَقَذَفَتْهُمُ الرِّيحُ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ أَشْعَرَ، مَا يُدْرَى أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ أُنْثَى لِكَثْرَةِ شَعْرِهِ، قَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، فَقَالُوا: فَأَخْبِرِينَا، فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ وَلَا مُسْتَخْبِرَتِكُمْ، وَلَكِنْ فِي هَذَا الدَّيْرِ رَجُلٌ فَقِيرٌ إِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَإِلَى أَنْ يَسْتَخْبِرَكُمْ، فَدَخَلُوا الدَّيْرَ، فَإِذَا رَجُلٌ أَعْوَرُ مُصَفَّدٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: نَحْنُ الْعَرَبُ، فَقَالَ: هَلْ بُعِثَ فِيكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلِ اتَّبَعَتْهُ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ فَارِسُ؟ هَلْ ظَهَرَ عَلَيْهَا؟ قَالُوا: لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا بَعْدُ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالُوا: هِيَ تَدْفُقُ مَلْأَى، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ هَلْ أَطْعَمَ؟ قَالُوا: قَدْ أَطْعَمَ أَوَائِلُهُ، قَالَ: فَوَثَبَ وَثْبَةً حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيَفْلِتُ، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ، أَمَا إِنِّي سَأَطَأُ الْأَرْضَ كُلَّهَا غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ“، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، هَذَا طَيْبَةُ لَا يَدْخُلُهَا“ يَعْنِي الدَّجَّالَ
۔ (دوسری سند) عامر شعبی کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے آکر منبر پر بیٹھ گئے اور لوگوں میں یہ اعلان کرا دیا گیا کہ اَلصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ، لوگ اکٹھے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میں نے تمہیں کوئی خوش کرنے والے یا ڈرانے دھمکانے والی خبر بتلانے کے لیے نہیں بلایا، جو آج نازل ہوئی ہو، بات یہ ہے کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک خبر دی ہے، میں وہ تمہیں بتلانا چاہتا ہوں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ فلسطین کے کچھ لوگ سمندری سفر پر روانہ ہوئے، وہ طوفان کی وجہ سے ایک سمندری جزیرے پر پہنچ گئے، وہاں انہوں نے ایک ایسا جانور دیکھا جس کے اوپر بال ہی بال تھے اور بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کی یہ شناخت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ مذکر ہے یا مونث؟ بہرحال انھوں نے اس سے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں جَسَّاسہ ہوں۔ انھوں نے کہا: ہمیں کچھ بتلاؤ، اس نے کہا: نہیں، میں نے تمہیں نہ کچھ بتلانا ہے اور نہ پوچھنا ہے، البتہ اس خانقاہ میں ایک آدمی ہے، وہ تمہیں بعض باتیں بتانے اور بعض پوچھنے کا شوقین ہے، یہ لوگ اس مقام میں چلے گئے، وہاں ایک کانا آدمی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انھوں نے کہا: ہم عرب ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا تمہارے اندر نبی مبعوث ہو چکا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: کیا عربوں نے اس کی اطاعت کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: یہی چیز ان کے لیے بہتر ہے۔ اس نے پوچھا: فارس کا کیا بنا؟ کیا یہ نبی ان پر غالب آچکا ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، ابھی تک وہ ان پر غالب نہیں آیا، اس نے کہا: لیکن عنقریب وہ اس پر غالب آجائے گا۔ پھر اس نے پوچھا: زغر کے چشمہ کی صورتحال کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ بھرا ہوا ہے اور چھلک رہا ہے۔ اس نے پوچھا: بیسان کے نخلستان کے بارے میں بتاؤ، کیا وہ پھل دیتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی اس کے درخت پھل دے رہے ہیں،یہ باتیں سن کر وہ خوب اچھلا، ہم نے سمجھا کہ شاید وہ اپنی قید سے نکل جائے گا۔ پھر ہم نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں اور خبردار ہو جاؤ، میں عنقریب ساری زمین کو روند دوں گا، ماسوائے مکہ اور طیبہ (یعنی مدینہ) کے۔ پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ،یہ طیبہ ہے، دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12977]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27643»
وضاحت: فوائد: … چونکہ یہ صحیح حدیث ہے، اس لیے اس میں بیان کیے گئے امور پر یقین رکھنا ہو گا۔ جَسَّاسَہ: یہ ایک حیوان ہے، جو ایک اِس سمندری جزیرے میں دیکھا گیا، اسے جَسَّاسہ اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ دجال کی خبریں پوچھتا ہے، عبد الرحمن بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ اس سے مراد دابّۃ الارض ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
دَابَّۃ (زمین کا چوپایہ) کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَا عَلَیْہِمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ} (سورۂ نمل: ۸۲) … جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے، جو ان سے باتیں کرتا ہو گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ سب سے پہلی نشانی جو ظاہر ہو گی، وہ ہے سورج کا مشرق کی بجائے، مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت جانور کا نکلنا۔ جانور نکلنے کی علت یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں یا آیتوں پر یقین نہیں رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس جانور کے ذریعے اپنی نشانی دکھائے گا۔
دَابَّۃ (زمین کا چوپایہ) کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَا عَلَیْہِمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ} (سورۂ نمل: ۸۲) … جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے، جو ان سے باتیں کرتا ہو گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ سب سے پہلی نشانی جو ظاہر ہو گی، وہ ہے سورج کا مشرق کی بجائے، مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت جانور کا نکلنا۔ جانور نکلنے کی علت یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں یا آیتوں پر یقین نہیں رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس جانور کے ذریعے اپنی نشانی دکھائے گا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27643
10. اخبارُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ وَالْمَكَانِ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ وَذِكْرُ أَوْصَافِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَفَتَنَتِهِ وَالتَّحْذِيرُ مِنْهُ وَغَيْرُ ذَلِكَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 12978
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَيَكُونَنَّ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ وَكَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت سے قبل مسیح دجال کا ظہور ہو گا اور اس کے علاوہ تیس یا اس سے زیادہ کذاب بھی آئیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12978]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه أبو يعلي: 5706، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5694»
وضاحت: فوائد: … دجال سے پہلے آنے والے جھوٹوں سے مراد جھوٹے مدعیانِ نبوت ہیں، ملاحظہ ہو حدیث نمبر(۱۲۸۳۲)
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12979
عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا خُرَاسَانُ، يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ“
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی جہت میں واقع خراسان نامی جگہ سے دجال نمودار ہوگا اور ایسے لوگ اس کی پیروی کریں گے جن کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12979]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2237، وابن ماجه: 4072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:12 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12»
وضاحت: فوائد: … امام عبدا لرحمن مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ماوراء النہر اور عراق کے علاقوں کے درمیان خراسان کے معروف علاقے ہیں۔ اب ہرات کو خراسان کہتے ہیں، جس کا بیشتر حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی میں مذکورہ خراسان کاہے، بالکل ایسے ہی سمجھیں جیسے دمشق کو شام کہتے ہیں۔ (حالانکہ احادیث میں مذکورہ شام جزیرہ نماعرب کا شمالی علاقہ ہے، جوموجودہ شام، انطاکیہ سمیت، اردن اور فلسطین سے عسقلان پر مشتمل ہے۔) رہا مسئلہ اس کی پیروی کرنے والے اس حدیث میںمذکورہ لوگوں کا، تو یہ پیدائشی اوصاف ترک اور ازبک لوگوںمیں پائے جاتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۳۴) جغرافیائی حدود میں تبدیلی کی وجہ سے علاقوں کے قدیم اور جدید ناموں میں اختلاف پایا جا تا رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 12980
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَأْتِي الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، وَهِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ، حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ، ثُمَّ تُصَرِّفُ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَاكَ يَهْلِكُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کا ہدف مدینہ منورہ ہوگا، لیکن جب وہ احد پہاڑ کے پیچھے پہنچے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی سر زمین کی طرف موڑ دیں گے اور وہ وہیں ہلاک ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12980]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1380، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9895 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9897»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1380