🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. اهْتِمَامُ النَّبيﷺ بِأَمْرِ ابْن صَيَّادٍ وَذَهَابُهُ إِلَيْهِ مُتَخَفْيًا وَمُحَاوَلَتْهُ سِمَاعَ شَيْءٍ مِنْهُ خِلْسَةٌ وَتَنْبِيَهُ أمه إيَّاهُ لِذلِك
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12961
وَعَنْ مَهْدِيِّ بْنِ عِمْرَانَ الْمَازِنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ وَسُئِلَ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قِيلَ فَهَلْ كَلَّمْتَهُ قَالَ لَا وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ انْطَلَقَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى أَتَى دَارًا قَوْرَاءَ فَقَالَ ”افْتَحُوا هَذَا الْبَابَ“ فَفُتِحَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ مَعَهُ فَإِذَا قَطِيفَةٌ فِي وَسْطِ الْبَيْتِ فَقَالَ ”ارْفَعُوا هَذَا الْقَطِيفَةَ“ فَرَفَعُوا الْقَطِيفَةَ فَإِذَا غُلَامٌ أَعْوَرُ تَحْتَ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ ”قُمْ يَا غُلَامُ“ فَقَامَ الْغُلَامُ فَقَالَ ”يَا غُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ قَالَ الْغُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ”أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ“ قَالَ الْغُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا“ مَرَّتَيْنِ
مہدی بن عمران مازنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ ان سے یہ سوال کیاگیا کہ آیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا:جی ہاں، پھر پوچھا گیا کہ آیا تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام بھی کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، میں نے تو یہ دیکھا کہ آپ فلاں جگہ تشریف لے گئے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سمیت دیگر کچھ صحابہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کشادہ گھر تک پہنچے تو فرمایا: یہ دروازہ کھولو۔ سو دروازہ کھولا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہوئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا گیا، کمرہ کے وسط میں ایک چادر پڑی تھی۔ آپ نے فرمایا: اس چادر کو اٹھاؤ۔ پس انھوں نے چادر اٹھائی، اس کے نیچے ایک کانا لڑکا تھا، آپ نے فرمایا: او لڑکے! اٹھ۔ سو وہ کھڑا ہوگیا، آپ نے فرمایا: لڑکے! کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ بولا:اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ـ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ پھر بولا: اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: تم اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12961]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مهدي بن عمران لايتابع علي حديثه، وقد جاء ت نحو ھذا الحديث في ابن صياد أحاديث أخري صحيحة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24206»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن صیاد کے متعلق خوف زدہ رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہی دجال ہو، آپ نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ اس کی بے خبری میں اس کی باتیں سن کر پتہ چل جائے کہ اس کی اصلیت کیا ہے؟

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. دَهَاءُ ابْنِ صَيَّادِ وَإِنْكَارُهُ أَنَّهُ الدَّجَّالُ
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12962
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْنَا فِي جَيْشٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ هَذَا الْمَشْرِقِ قَالَ فَكَانَ فِي الْجَيْشِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَيَّادٍ وَكَانَ لَا يُسَايِرُهُ أَحَدٌ وَلَا يُرَافِقُهُ وَلَا يُوَاكِلُهُ وَلَا يُشَارِبُهُ وَيُسَمُّونَهُ الدَّجَّالَ فَبَيْنَمَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ نَازِلٌ فِي مَنْزِلٍ لِي إِذْ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَيَّادٍ جَالِسًا فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيَّ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَصْنَعُ النَّاسُ لَا يُسَايِرُنِي أَحَدٌ وَلَا يُرَافِقُنِي أَحَدٌ وَلَا يُشَارِبُنِي أَحَدٌ وَلَا يُوَاكِلُنِي أَحَدٌ وَيَدَّعُونِي الدَّجَّالَ وَقَدْ عَلِمْتَ أَنْتَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ“ وَإِنِّي وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يُولَدُ لَهُ“ وَقَدْ وُلِدَ لِي فَوَاللَّهِ لَقَدْ هَمَمْتُ مِمَّا يَصْنَعُ بِي هَؤُلَاءِ النَّاسُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا فَأَخْلُوَ فَأَجْعَلَهُ فِي عُنُقِي فَأَخْتَنِقَ فَأَسْتَرِيحَ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّاسِ وَاللَّهِ مَا أَنَا بِالدَّجَّالِ وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ شِئْتَ لَأَخْبَرْتُكَ بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ وَاسْمِ أُمِّهِ وَاسْمِ الْقَرْيَةِ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْهَا
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم ایک لشکرمیں مشرق کی جانب واقع ایک شہر سے آئے، اس لشکر میں عبداللہ بن صیاد بھی تھا، کوئی آدمی نہ اس کے ساتھ چلتا تھا، نہ بیٹھتا تھا اور نہ اس کے ساتھ کھانا پینا پسند کرتا تھا اور لوگ اسے دجال کہتے تھے۔ میں ایک دن اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ عبداللہ بن صیاد نے مجھے دیکھ لیا اور میرے پاس آکر بیٹھ گیا اورکہنے لگا: ابو سعید! لوگ میرے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں، تم دیکھتے ہی ہو، کوئی میرے ساتھ چلنا، بیٹھنا اور کھانا پینا پسند نہیں کرتا اور کہتے بھی مجھے دجال ہیں، ابو سعید! آپ تو جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ جبکہ میری تو ولادت ہی مدینہ میں ہوئی اور آپ یہ بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکے ہیں کہ: دجال کی اولاد نہیں ہوگی۔ جبکہ میری تو اولاد بھی ہے، اللہ کی قسم! لوگوں کا یہ رویہ دیکھ کر میں نے ارادہ کیا ہے کہ کسی خلوت والی جگہ جا کر ایک رسی اپنے گلے میں ڈالوں اور اسے گھونٹ دوں اور لوگوں کی باتوں سے راحت پالوں۔ اللہ کی قسم! میں دجال نہیں ہوں۔ اللہ کی قسمْ اگر تم چاہتے ہو تومیں تم لوگوں کو اس کا، اس کے والد اور والدہ کے ناموں سے اور جس بستی سے اس کا ظہور ہوگا، اس بستی کے نام سے آپ کو آگاہ کر دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12962]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11771»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12963
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ حَجَجْنَا فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ وَجَاءَ ابْنُ صَائِدٍ فَنَزَلَ فِي نَاحِيَتِهَا فَقُلْتُ مَا صَبَّ اللَّهُ هَذَا عَلَيَّ قَالَ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَا أَلْقَى مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لِي إِنِّي الدَّجَّالُ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”الدَّجَّالُ لَا يُولَدُ لَهُ وَلَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ“ قَالَ قُلْتُ بَلَى وَقَالَ قَدْ وُلِدَ لِي وَقَدْ خَرَجْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَكَأَنِّي رَقَّقْتُ لَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِمَكَانِهِ لَأَنَا قَالَ قُلْتُ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم حج کے لیے گئے اورراستے میں ایک درخت کے نیچے ٹھہرے، ابن صائد بھی آکر اس درخت کے نیچے ایک طرف بیٹھ گیا، میں نے کہا: یہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کیا مصیبت ڈال دی ہے۔ اس نے کہا: ابو سعید! مجھے لوگوں کی طرف سے کس قدر تکلیف دہ باتیں سننا پڑتی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں دجال ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ: دجال کی اولاد نہیں ہوگی اور وہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں نہیں جا سکے گا۔ میں نے کہا: جی کیوں نہیں۔ پھر اس نے کہا: میری تو اولاد بھی ہے اور اب میں مدینہ سے نکلا اور مکہ مکرمہ کی طرف جا کر رہوں گا۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: پس اس کی باتین سن کر میرا دل اس کے لیے نرم ہوگیا۔ پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کی جائے ظہور کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ تو یہ سن کر میں نے کہا: سارا دن تیرے لیے بربادی ہو۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12963]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا مسلم: 2927، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11945»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. خَوَارِقُ الْعَادَاتِ لا بن صَيَّادِ
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12964
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”صَدَقَ“
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: وہ سفید رنگ کی ملائم مٹی اور خالص کستوری والی ہے۔ یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12964]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2928، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11389 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11409»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ ابن صیاد نے یہ جواب یہودیوں کے مذہبی ادب کی روشنی میں دیا ہویا کہانت کی مدد سے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12965
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ صَائِدٍ ”مَا تَرَى“ قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ الْحَيَّاتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صائد سے فرمایا: تجھے کیا چیز دکھائی دیتی ہے؟ اس نے کہا: میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں، جس کے ارد گرد سانپ ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12965]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه ابويعلي: 1220، وأخرجه بنحوه مطولا مسلم: 2925، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11652»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کے الفاظ درج ذیل ہیں:
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَقِیَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فِی بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ؟)) فَقَالَ ہُوَ: أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ، مَا تَرٰی؟)) قَالَ: أَرٰی عَرْشًا عَلَی الْمَائِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((تَرٰی عَرْشَ إِبْلِیسَ عَلَی الْبَحْرِ، وَمَا تَرٰی؟)) قَالَ: أَرٰی صَادِقَیْنِ وَکَاذِبًا أَوْ کَاذِبَیْنِ وَصَادِقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((لُبِسَ عَلَیْہِ دَعُوہُ۔)) … مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستہ میں ابن صیاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدناابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوگئی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایمان لایا اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر، اچھا یہ بتا کہ تو کیا کچھ دیکھتا ہے؟ اس نے کہا: میں نے پانی پر تخت دیکھتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھتا ہے، تو مزید کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا: میں دو سچوں اور ایک جھوٹے یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر اس کا معاملہ مشتبہ کر دیاگیا ہے، سو اس کو چھوڑ دو۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12966
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12966]
تخریج الحدیث: «اسناده علي شرط مسلم، وھو حديث طويل، أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 2942، وأخرجه باخصر مما ھنا مسلم: 2926، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15018»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12967
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذُكِرَ ابْنُ صَيَّادٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّهُ يَزْعَمُ أَنَّهُ لَا يَمُرُّ بِشَيْءٍ إِلَّا كَلَّمَهُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ابن صیاد کا ذکر کیاگیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جس چیز کے پاس سے گزرے، وہ اس سے کلام کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12967]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وعبد المتعال بن عبد الوھاب الانصاري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11775»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12968
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا يَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ“
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کے والدین کے ہاں تیس برس تک اولاد نہیں ہوگی، اس کے بعد ان کے ہاں ایک کانا بچہ پیدا ہوگا،وہ زیادہ نقصان والا اور کم نفع والابچہ ہوگا، جب وہ سوئے گا تو اس کی آنکھیں سوئیں گی اور دل جاگتا ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12968]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان ومؤمل بن اسماعيل، أخرجه الترمذي: 2248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20794»
وضاحت: فوائد: … علامہ ابن اثیر نے النہایہ میں کہا: ابن صیاد ایک یہودی تھا یا ان کے ساتھ ملا جلا رہتا تھا، اس کا نام صاف کہا گیا ہے، اس کے پاس کہانت اور جادو کا علم تھا اور یہ اپنے وقت میں اللہ کے ایمان دار بندوں کے لیے ایک امتحان تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے، دلیل کے ساتھ زندہ رہے، اکثر کہتے ہیں کہ یہ مدینے میںمرا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعہ حرہ کے موقع پر اسے گم پایا گیا اور پھر ملا نہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. مَا يُصِيبُ النَّاسَ مِنَ الشَّدَّةِ قَبْلَ ظُهُورِ الدَّجَّالِ بثلاث سِنِينَ وَمَا يَفْعَلُهُ مَعَهُمْ وَقَتَ ظُهُورِهِ
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12969
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا كَانَ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ بِثَلَاثِ سِنِينَ حَبَسَتِ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا وَحَبَسَتِ الْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا فَإِذَا كَانَتِ السَّنَةُ الثَّانِيَةُ حَبَسَتِ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا وَحَبَسَتِ الْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا وَإِذَا كَانَتِ السَّنَةُ الثَّالِثَةُ حَبَسَتِ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَحَبَسَتِ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ فَلَا يَبْقَى ذُو خُفٍّ وَلَا ظِلْفٍ إِلَّا هَلَكَ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ إِبِلَكَ ضِخَامًا ضُرُوعُهَا عِظَامًا أَسْنِمَتُهَا أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَتَمَثَّلَ لَهُ الشَّيَاطِينُ عَلَى صُورَةِ إِبِلِهِ فَيَتْبَعُهُ وَيَقُولُ لِلرَّجُلِ أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ أَبَاكَ وَابْنَكَ وَمَنْ تَعْرِفُ مِنْ أَهْلِكَ أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ عَلَى صُورَتِهِمْ فَيَتْبَعُهُ“ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَكَى أَهْلُ الْبَيْتِ ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْكِي فَقَالَ ”مَا يُبْكِيكُمْ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا ذَكَرْتَ مِنَ الدَّجَّالِ (وَفِي رِوَايَةٍ ”لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ“) فَوَاللَّهِ إِنَّ أَمَةَ أَهْلِي لَتَعْجِنُ عَجِينَهَا فَمَا تَبْلُغُ حَتَّى تَكَادُ تَفْنَى مِنَ الْجُوعِ (وَفِي رِوَايَةٍ ”إِنَّا لَنَعْجِنُ عَجِينَتَنَا فَمَا نَخْتَبِزُهَا حَتَّى نَجُوعَ“) فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَكْفِي الْمُؤْمِنِينَ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ يَوْمَئِذٍ التَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ“ ثُمَّ قَالَ ”لَا تَبْكُوا فَإِنْ يَخْرُجِ الدَّجَّالُ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ“
سیدہ اسماء بنت یزید سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں موجود تھے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ظہور دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی پانی اور زمین ایک تہائی فصل رو ک لے گی، جب دوسرا سال آئے گا تو آسمان دو تہائی پانی اور زمین دو تہائی فصلیں روک لے گی، پھر جب تیسرا سال شروع ہو گا تو آسمان مکمل طور پر اپنا پانی اور زمین مکمل طور پر اپنی فصلیں روک لے گی، ٹاپوں (والے اونٹ) اور کھروں (والے گائے، بیل، بھیڑ بکری اور گھوڑے گدھے) سب ہلاک ہو جائیں گے۔ اتنے میں اُدھر دجال پہنچ کر ایک دیہاتی آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہاری اونٹنیوں کو موٹی تازہ اور دودھ سے بھری تھنوں کی صورت میں پیدا کرکے دکھاؤں تو کیا تم مان جاؤ گے کہ میں تمہار اربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل۔ اس کے بعد شیطان اس آدمی کے اونٹوں کی شکل اختیار کریں گے تو وہ آدمی اس کے پیچھے لگ جائے گا۔ اسی طرح وہ دجال ایک اور آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہارے باپ، بیٹے اور اور تم اپنے خاندان کے جن لوگوں کو پہچانتے ہو، سب کو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں تمہارا ربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل، پھر وہ شیطانوں کو ان لوگوں کی شکل میں پیش کر دے گا تو وہ بھی اس کے پیچھے چلا جائے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر چلے گئے اور گھر میں موجود سارے لوگ رونے لگ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے تو ہم سب رو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟ میں (اسماء) نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے دجال کے متعلق جو کچھ بیان کیا، اس کی وجہ سے۔ ایک روایت میں ہے: آپ نے تو دجال کر ذکر کر کے ہمارے دلوں کو ہلا دیاہے، اللہ کی قسم! میرے اہل کی ایک لونڈی ہے، جب وہ آٹا گوندھتی ہے تو ابھی تک اپنا کام پورا نہیں کرتی کہ بھوک کی وجہ سے ٹوٹنے لگ جاتی ہے۔ ایک روایت میں ہے: جب ہم آٹا گوندھتی ہیں تو ابھی تک روٹی نہیں پکاتی کہ بھوک لگی ہوتی ہے، تو اُس وقت ہم کیا کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت اہل ایمان کو کھانے پینے کی بجائے تکبیر، تسبیح اور تحمید کفایت کریں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہ روؤو، کیونکہ اگر میری موجودگی میں دجال کا ظہور ہو گیا تو میں اس کا مقابلہ کر لوں گا اور اگر میرے بعد ہوا تو ہر مسلمان پر خلیفہ اللہ تعالیٰ خود ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12969]
تخریج الحدیث: «قوله ان يخرج الدجال وانا فيكم، فانا حجيجه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، أخرجه الطيالسي: 1633، والطبراني في الكبير: 24/ 407، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28120»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12970
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ جَهْدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ الدَّجَّالِ فَقَالُوا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ يَوْمَئِذٍ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ الْمَاءَ وَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَيْسَ“ قَالُوا فَمَا طَعَامُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ قَالَ ”التَّسْبِيحُ وَالتَّقْدِيسُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّهْلِيلُ“ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ ”الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کے ظہور سے قبل شدت کے دور کی بات کی،صحابہ کرام نے پوچھا: ان دنوں کو نسا مال بہتر ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طاقت ور غلام، جو اپنے مالکوں کو پانی پلا سکے گا، رہا مسئلہ کھانے کا، تو وہ تو سرے سے ہو گا ہی نہیں۔ صحابہ نے دریافت کیا: تو پھر ان دنوں مومنوں کا کھانا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تسبیح، تقدیس، تحمید اور تہلیل بیان کرنا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ان دنوں عرب کہاں ہوں گے؟ فرمایا: ان دنوں عرب تھوڑے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12970]
تخریج الحدیث: «اسناده فيه ضعف وانقطاع، علي بن زيد بن جدعان ضعيف، والحسن البصري لم يصح سماعه من عائشة رضي الله عنها، أخرجه ابويعلي: 4607، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24974»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں