سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ
باب: نماز استسقا میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1171
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَسْتَسْقِي هَكَذَا، يَعْنِي، وَمَدَّ يَدَيْهِ وَجَعَلَ بُطُونَهُمَا مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقا میں اس طرح دعا کرتے تھے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتے اور ان کی پشت اوپر رکھتے اور ہتھیلی زمین کی طرف یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1171]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے لیے اس طرح دعا کرتے تھے، اور انہوں نے ہاتھ لمبے کر کے دکھائے اور ہتھیلیوں کو زمین کی طرف کیا، (اور اتنے بلند کیے کہ) میں نے ان کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (896)، (تحفة الأشراف: 323)، وقد أخرجہ: (3/153، 241) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (896)
حدیث نمبر: 1172
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ بَاسِطًا كَفَّيْهِ".
محمد بن ابراہیم (تیمی) کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ احجار زیت کے پاس اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیلائے دعا فرما رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1172]
محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”مجھے ان صاحب نے خبر دی جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ”احجار زیت“ کے پاس اپنی ہتھیلیاں پھیلائے دعا کرتے دیکھا تھا۔“ (گزشتہ حدیث: 1168) [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1172]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10900) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وانظر الحديث السابق (1168)
وانظر الحديث السابق (1168)
حدیث نمبر: 1173
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُحُوطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَبَّرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ وَاسْتِئْخَارَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَدْعُوهُ وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: 0 الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0 لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ"، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ فِي الرَّفْعِ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبِطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ وَقَلَبَ، أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَةً فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكِنِّ ضَحِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، فَقَالَ:" أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ، أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَقْرَءُونَ 0 مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0 وَإِنَّ هَذَا الْحَدِيثَ حُجَّةٌ لَهُمْ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر (رکھنے) کا حکم دیا تو وہ آپ کے لیے عید گاہ میں لا کر رکھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ایک دن عید گاہ کی طرف نکلنے کا وعدہ لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حجرہ سے) اس وقت نکلے جب کہ آفتاب کا کنارہ ظاہر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تحمید کی پھر فرمایا: ”تم لوگوں نے بارش میں تاخیر کی وجہ سے اپنی آبادیوں میں قحط سالی کی شکایت کی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ (اگر تم اسے پکارو گے) تو وہ تمہاری دعا قبول کرے گا“، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: «الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين ، لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت الغني ونحن الفقراء أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت لنا قوة وبلاغا إلى حين» یعنی ”تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جو رحمن و رحیم ہے اور روز جزا کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی معبود حقیقی ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، تو ہم پر باران رحمت نازل فرما اور جو تو نازل فرما اسے ہمارے لیے قوت (رزق) بنا دے اور ایک مدت تک اس سے فائدہ پہنچا“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی، پھر حاضرین کی طرف پشت کر کے اپنی چادر کو پلٹا، آپ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اتر کر دو رکعت پڑھی، اسی وقت (اللہ کے حکم سے) آسمان سے بادل اٹھے، جن میں گرج اور چمک تھی، پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی تو ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد نہیں آ سکے تھے کہ بارش کی کثرت سے نالے بہنے لگے، جب آپ نے لوگوں کو سائبانوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند جید (عمدہ) ہے، اہل مدینہ «ملك يوم الدين» پڑھتے ہیں اور یہی حدیث ان کی دلیل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1173]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ بارش نہیں ہو رہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز گاہ میں منبر رکھنے کا حکم دیا اور لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا کہ وہ اس میں باہر آئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس روز (نماز استسقاء کے لیے) اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور اللہ عزوجل کی تکبیر و تحمید کی، پھر فرمایا: ”تم نے شکایت کی ہے کہ تمہارے علاقے خشک ہو رہے ہیں اور بارش میں اپنی آمد کے وقت سے تاخیر ہو رہی ہے، تو اللہ عزوجل نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اسے پکارو، اور تم سے اس کا وعدہ ہے کہ وہ قبول کرے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ﴿٣﴾ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 2-4] کی تلاوت کی جس کا ترجمہ ہے: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، بے انتہا رحم کرنے والا اور مہربان ہے، روزِ جزا کا بادشاہ ہے۔“ پھر فرمایا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» ”اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں، تو غنی اور بے پروا ہے اور ہم فقیر و محتاج ہیں، ہم پر بارش نازل فرما اور جو تو نازل فرمائے اسے ہمارے لیے قوت اور ایک وقت تک کے لیے گزران بنا دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور اٹھاتے گئے، حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف پیٹھ کر لی (یعنی قبلہ رخ ہو گئے) اور اپنی چادر پلٹائی جب کہ آپ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، بعد ازاں لوگوں کی طرف منہ کیا اور منبر سے اتر آئے اور دو رکعتیں پڑھائیں۔ تب اللہ نے ایک بدلی پیدا فرمائی، وہ کڑکی اور چمکی اور اللہ کے حکم سے برسنے لگی، آپ اپنی مسجد تک نہ پہنچے تھے کہ نالے بہنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سایوں اور چھپروں کی طرف جلدی جلدی بھاگ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے، حتیٰ کہ آپ کی ڈاڑھیں نظر آنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ امام ابوداؤد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے (یعنی اس کے رواۃ میں تفرد ہے) اور سند کے اعتبار سے جید (عمدہ) ہے (یعنی اس میں کوئی علت قادحہ نہیں) اور یہ حدیث اہل مدینہ کی دلیل ہے کہ وہ لوگ «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17340) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1508)
قال ابو داود: ’’ھذا حديث غريب إسناده جيد‘‘
مشكوة المصابيح (1508)
قال ابو داود: ’’ھذا حديث غريب إسناده جيد‘‘
حدیث نمبر: 1174
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:أَصَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ قَحْطٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُنَا يَوْمَ جُمُعَةٍ إِذْ قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْكُرَاعُ، هَلَكَ الشَّاءُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا" فَمَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا". قَالَ أَنَسٌ: وَإِنَّ السَّمَاءَ لَمِثْلُ الزُّجَاجَةِ فَهَاجَتْ رِيحٌ، ثُمَّ أَنْشَأَتْ سَحَابَةً، ثُمَّ اجْتَمَعَتْ، ثُمَّ أَرْسَلَتِ السَّمَاءُ عَزَالِيَهَا فَخَرَجْنَا نَخُوضُ الْمَاءَ حَتَّى أَتَيْنَا مَنَازِلَنَا فَلَمْ يَزَلِ الْمَطَرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَامَ إِلَيْهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا" فَنَظَرْتُ إِلَى السَّحَابِ يَتَصَدَّعُ حَوْلَ الْمَدِينَةِ كَأَنَّهُ إِكْلِيلٌ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل مدینہ قحط میں مبتلا ہوئے، اسی دوران کہ آپ جمعہ کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہو اور عرض کیا کہ اللہ کے رسول! گھوڑے مر گئے، بکریاں ہلاک ہو گئیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں سیراب کرے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلایا اور دعا کی۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس وقت آسمان آئینہ کی طرح صاف تھا، اتنے میں ہوا چلنے لگی پھر بدلی اٹھی اور گھنی ہو گئی پھر آسمان نے اپنا دہانہ کھول دیا، پھر جب ہم (نماز پڑھ کر) واپس ہونے لگے تو پانی میں ہو کر اپنے گھروں کو گئے اور آنے والے دوسرے جمعہ تک برابر بارش کا سلسلہ جاری رہا، پھر وہی شخص یا دوسرا کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر گر گئے، اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ بارش بند کر دے، (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر فرمایا: ”اے اللہ! تو ہمارے اردگرد بارش نازل فرما اور ہم پر نہ نازل فرما“۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے بادل کو دیکھا وہ مدینہ کے اردگرد سے چھٹ رہا تھا گویا وہ تاج ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1174]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل مدینہ کو قحط پیش آیا۔ جمعے کا روز تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! گھوڑے مر گئے، بکریاں ہلاک ہو گئیں، اللہ سے دعا فرمائیں کہ ہمیں بارش عنایت فرمائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پھیلائے اور دعا کی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آسمان شیشے کی مانند صاف تھا، سو ہوا چلنے لگی اور بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور پھیلتا چلا گیا، پھر آسمان نے اپنا دہانہ کھول دیا۔ ہم جو (نماز پڑھ کر) نکلے تو پانی میں سے گزرتے ہوئے اپنے گھروں کو پہنچے۔ پھر بارش ہوتی رہی اور اگلے جمعے تک ہوتی رہی۔ تب وہی آدمی یا کوئی دوسرا کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! گھر گرنے لگے ہیں، اللہ سے دعا فرمائیں کہ اس بارش کو روک دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”(اے اللہ! یہ بارش) ہمارے اردگرد ہو، ہمارے اوپر نہ ہو۔“ (انس رضی اللہ عنہ نے کہا) میں نے بادل کو دیکھا کہ وہ مدینے کے اردگرد پھٹنے لگا گویا کہ وہ (مدینہ) ایسے ہو گیا جیسے تاج۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 34 (932)، الاستسقاء 6 (1013)، 7 (1014)، 8 (1015)، 9 (1016)، 10 (1017)، 11 (1018)، 12 (1019)، 14 (1021)، 21 (1029)، 24 (1033)، المناقب 25 (3582)، (تحفة الأشراف: 493)، وقد أخرجہ: الاستسقاء 1 (897)، 2 (897)، سنن النسائی/الاستسقاء 1 (1503) 10، مسند احمد (3/104، 182، 194، 245، 261، 271) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (932)
حدیث نمبر: 1175
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ بِحِذَاءِ وَجْهِهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اسْقِنَا" وَسَاقَ نَحْوَهُ.
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، پھر راوی نے عبدالعزیز کی روایت کی طرح ذکر کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ کے بالمقابل اٹھایا اور یہ دعا کی «اللهم اسقنا» ”اے اللہ! ہمیں سیراب فرما“ اور آگے انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1175]
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا اور حدیثِ عبدالعزیز (یعنی سابقہ حدیث) کی مانند ذکر کیا اور (اس میں اضافہ بیان کرتے ہوئے) کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے کے برابر اٹھائے اور دعا فرمانے لگے «اللَّهُمَّ اسْقِنَا» ”اے اللہ! ہمیں سیراب کر“ اور اسی کے مثل حدیث بیان کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاستسقاء 6 (1013)، 7 (1014)، 9 (1016)، 10 (1017)، صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (897)، سنن النسائی/الاستسقاء 1 (1505)، (تحفة الأشراف: 906) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1013) صحيح مسلم (897)
حدیث نمبر: 1176
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ. ح حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَسْقَى، قَالَ:" اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهَائِمَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مَالِكٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کے لیے دعا مانگتے تو فرماتے: «اللهم اسق عبادك وبهائمك، وانشر رحمتك، وأحي بلدك الميت» ”اے اللہ! تو اپنے بندوں اور چوپایوں کو سیراب کر، اور اپنی رحمت عام کر دے، اور اپنے مردہ شہر کو زندگی عطا فرما“ (یہ مالک کی روایت کے الفاظ ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1176]
عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کے لیے دعا فرماتے تو یوں کہتے تھے: «اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهَائِمَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ» ”اے اللہ! اپنے بندوں اور اپنے جانوروں کو پانی پلا۔ اپنی رحمت عام کر دے اور اپنی خشک زمین کو تروتازہ کر دے۔“ یہ مالک رحمہ اللہ کی حدیث کے لفظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1176]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8816)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستسقاء عن عمرو بن شعیب مرسلاً 2 (3) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان الثوري مدلس و عنعن وتابعه حفص بن غياث وھو مدلس(طبقات المدلسين: 1/9 وھو من المرتبة الثالثة في القول الراجح،وانظر طبقات ابن سعد : 390/6 لتدليسه) وعنعن وله متابعة أخري مردودة عندالبيهقي (356/3) وطريق مالك منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51
إسناده ضعيف
سفيان الثوري مدلس و عنعن وتابعه حفص بن غياث وھو مدلس(طبقات المدلسين: 1/9 وھو من المرتبة الثالثة في القول الراجح،وانظر طبقات ابن سعد : 390/6 لتدليسه) وعنعن وله متابعة أخري مردودة عندالبيهقي (356/3) وطريق مالك منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51
4. باب صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: نماز کسوف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1177
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَخْبَرَنِي مَنْ أُصَدِّقُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيَامًا شَدِيدًا يَقُومُ بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْكَعُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلَاثُ رَكَعَاتٍ يَرْكَعُ الثَّالِثَةَ، ثُمَّ يَسْجُدُ حَتَّى إِنَّ رِجَالًا يَوْمَئِذٍ لَيُغْشَى عَلَيْهِمْ مِمَّا قَامَ بِهِمْ حَتَّى إِنَّ سِجَالَ الْمَاءِ لَتُصَبُّ عَلَيْهِمْ، يَقُولُ إِذَا رَكَعَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَفَعَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، حَتَّى تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ، فَإِذَا كُسِفَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ".
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس کو میں سچا جانتا ہوں (عطا کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس سے ان کی مراد عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام کیا، آپ لوگوں کے ساتھ قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے، پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ہر رکعت میں آپ نے تین تین رکوع کیا ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسرا رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے یہاں تک کہ آپ کے لمبے قیام کے باعث اس دن کچھ لوگوں کو (کھڑے کھڑے) غشی طاری ہو گئی اور ان پر پانی کے ڈول ڈالے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو «الله أكبر» کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده» کہتے یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے سورج یا چاند میں گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں، ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے لہٰذا جب ان دونوں میں گرہن لگے تو تم نماز کی طرف دوڑو“۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1177]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب قیام کیا۔ آپ لوگوں کے ساتھ قیام فرماتے، پھر رکوع کرتے، پھر کھڑے ہوتے، پھر رکوع کرتے، پھر کھڑے ہوتے، پھر رکوع کرتے، چنانچہ آپ نے دو رکعتیں پڑھائیں، ہر رکعت میں تین رکوع کیے، تیسرا رکوع فرماتے، پھر سجدہ کرتے، حتیٰ کہ کچھ لوگوں کو اس دن طولِ قیام کی وجہ سے غشی ہونے لگی یہاں تک کہ پانی کے ڈول ان پر ڈالے گئے۔ آپ جب رکوع کو جاتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہتے اور جب سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے، حتیٰ کہ سورج صاف ہو گیا۔ پھر آپ نے فرمایا: ”سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، سو جب یہ بےنور ہو جائیں تو نماز کی طرف جلدی کیا کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، سنن النسائی/الکسوف 10 (1471)، (تحفة الأشراف: 16323)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/76) (صحیح)» (لیکن «تین رکوع» والی بات صحیح نہیں ہے، صحیح دو رکوع ہے، جیسا کہ حدیث نمبر: (1180) میں آ رہا ہے)
وضاحت: ۱؎: تین رکوع والی روایت شاذ ہے، صحیح روایت ”دو، دو رکوع“ کی ہے جیسا کہ حدیث نمبر (۱۱۸۰) میں آرہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م لكن قوله ثلاث ركعات شاذ والمحفوظ ركوعان كما في الصحيحين
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (901)
5. باب مَنْ قَالَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ
باب: نماز کسوف میں چار رکوع کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1178
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا كُسِفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، كَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الثَّالِثَةَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَانْحَدَرَ لِلسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوٌ مِنْ قِيَامِهِ، قَالَ: ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَامَ فِي مَقَامِهِ وَتَقَدَّمَتِ الصُّفُوفُ فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ". وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا، یہ اسی دن کا واقعہ ہے جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی، لوگ کہنے لگے کہ آپ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن لگا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز (کسوف) پڑھائی، چار سجدوں میں چھ رکوع کیا ۱؎، اللہ اکبر کہا، پھر قرآت کی اور دیر تک قرآت کرتے رہے، پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور پہلی قرآت کی بہ نسبت مختصر قرآت کی پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا پھر تیسری قرآت کی جو دوسری قرآت کے بہ نسبت مختصر تھی اور اتنی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، اس کے بعد سجدے کے لیے جھکے اور دو سجدے کئے، پھر کھڑے ہوئے اور سجدے سے پہلے تین رکوع کیے، ہر رکوع اپنے بعد والے سے زیادہ لمبا ہوتا تھا، البتہ رکوع قیام کے برابر ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہٹیں، پھر آپ آگے بڑھے اور اپنی جگہ چلے گئے تو صفیں بھی آگے بڑھ گئیں پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج (صاف ہو کر) نکل چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، کسی انسان کے مرنے کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا، لہٰذا جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو نماز میں مشغول ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ صاف ہو کر روشن ہو جائے“، اور راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1178]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا اور یہ وہی دن تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جناب ابراہیم فوت ہوئے تھے، تو لوگوں نے کہا: ”یہ ابراہیم کی وفات پر گرہنایا ہے۔“ سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا اور لوگوں کو چار سجدوں میں چھ رکوع کرائے۔ (یعنی ہر رکعت میں تین تین رکوع کیے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر لمبی قراءت کی، پھر رکوع کیا۔ اس قدر جتنا کہ قیام کیا تھا۔ پھر سر اٹھایا اور قراءت کی جو کہ پہلی قراءت سے کم تھی۔ پھر رکوع کیا جتنا کہ قیام کیا تھا۔ پھر سر اٹھایا اور تیسری بار قراءت کی جو کہ دوسری بار کی قراءت سے کم تھی۔ پھر رکوع کیا جس قدر کہ قیام کیا تھا۔ پھر سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے اور دو سجدے کیے۔ پھر کھڑے ہوئے اور تین رکوع کیے، سجدے سے پہلے۔ ہر پہلا رکوع دوسرے سے زیادہ لمبا ہوتا تھا، البتہ ہر رکوع قیام کے برابر لمبا ہوتا تھا۔ (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے) بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اثنائے نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہو گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے تو صفیں بھی آگے بڑھ گئیں، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی یہاں تک کہ سورج صاف نکل آیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! سورج اور چاند اللہ عزوجل کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ کسی بشر کی موت کے باعث بے نور نہیں ہوتے۔ جب تم ان میں سے کچھ دیکھو تو نماز پڑھا کرو حتیٰ کہ صاف ہو جائیں۔“ اور بقیہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1178]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الکسوف 3 (904)، سنن النسائی/الکسوف 12 (1477)، (تحفة الأشراف: 2438)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/274، 382) (صحیح)» (چھ رکوع والی بات شاذ ہے، صحیح ’’چار رکوع‘‘ ہے)
وضاحت: ۱؎: یہ روایت بھی شاذ ہے، صحیح روایت دو رکوع کی ہے، جیسا کہ خود جابر رضی اللہ عنہ کی اگلی روایت میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح وساق بقية الحديث
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (904)
حدیث نمبر: 1179
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ فَكَانَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعُ سَجَدَاتٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سخت گرمی کے دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز کسوف پڑھائی، (اس میں) آپ نے لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا (رکوع) کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا (قیام) کیا، پھر دو سجدے کئے پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے تو ویسے ہی کیا، اس طرح (دو رکعت میں) چار رکوع اور چار سجدے ہوئے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1179]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن میں سورج گہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی اور لمبا قیام کیا حتیٰ کہ لوگ گرنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور لمبی دیر تک کھڑے رہے۔ پھر (دوسرا) رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا پھر سر اٹھایا اور لمبی دیر کھڑے رہے پھر سجدہ کیا اور دو سجدے کیے پھر قیام کیا جیسے کہ پہلے کیا تھا۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدے کیے“ اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1179]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الکسوف 3 (904)، سنن النسائی/الکسوف 12 (1479)، (تحفة الأشراف: 2976)، وقد أخرجہ: (3/374، 382، 335، 349) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں ان لوگوں کے لئے دلیل ہے جو ہر رکعت میں دو رکوع کے قائل ہیں، اور یہ دوسری روایت ہی باب سے مطابقت رکھتی ہے لیکن چونکہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے دونوں شاگرد عطاء اور ابوالزبیر نے اختلاف کیا ہے، عطا نے جابر رضی اللہ عنہ سے چھ رکوع کی روایت کی ہے اور ابوالزبیر نے ان سے چار رکوع کی روایت کی ہے، اسی لئے مصنف نے صرف دوسری روایت کے ذکر پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے عطا کی روایت بھی ذکر کر دی اگرچہ وہ باب سے مطابقت نہیں رکھتی۔ امام بخاری اور دوسرے ائمہ نے کہا ہے کہ کسوف (سورج گرہن) کی ان احادیث کو بیان جواز پر محمول کرنا درست نہیں جب تک کہ نماز استسقا میں تعدد واقعہ نہ ہو اور اس میں تعدد واقعہ نہیں پایا جاتا ہے، کیونکہ ان تمام روایات کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سورج گرہن کی اس نماز سے ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادہ ابراہیم کی وفات کے دن پڑھی تھی، ایسی صورت میں دو رکوع والی روایتوں کی ترجیح واجب ہے کیونکہ وہ زیادہ صحیح اور مشہور ہیں، اس کے برخلاف ائمہ فقہ و حدیث کی ایک جماعت نے تعدد واقعہ قرار دے کر ان روایتوں کو بیان جواز پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسوف کی مدت لمبی ہو جائے تو رکوع کی تعداد تین سے لے کر پانچ تک بڑھا دینا جائز ہے، امام نووی نے صحیح مسلم کی شرح میں اسے قوی کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (904)
حدیث نمبر: 1180
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ /a>، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خُسِفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ، فَكَبَّرَ، وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ مسجد کی طرف نکلے اور (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف لگائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرات کی پھر «الله أكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر کھڑے رہے اور لمبی قرآت کی، اور یہ پہلی قرآت سے کچھ مختصر تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کچھ مختصر تھا، (پھر رکوع سے سر اٹھایا) اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اس طرح (دو رکعت میں) آپ نے پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے سورج روشن ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1180]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت شروع کی اور لمبی قراءت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور رکوع کیا، لمبا رکوع، پھر اپنا سر اٹھایا اور کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ اور کھڑے رہے اور قراءت کی، لمبی قراءت، جو کہ پہلی قراءت سے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور رکوع کیا، لمبا رکوع، مگر پہلے رکوع سے کم۔ پھر کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فارغ ہونے سے پہلے سورج صاف ہو گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الکسوف 4 (1046)، 5 (1047)، 13 (1058)، والعمل في الصلاة 11 (1212)، وبدء الخلق 4 (3199)، صحیح مسلم/ الکسوف 1 (901)، سنن النسائی/ الکسوف 11 (1476)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 152 (1263)، (تحفة الأشراف: 16692)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الصلاة 279 (الجمعة 44) (561)، موطا امام مالک/صلاة الکسوف 1 (1)، مسند احمد (6/76، 78، 164، 168)، سنن الدارمی/ الصلاة 187 (1568) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1046) صحيح مسلم (901)