🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب الصَّدَقَةِ فِيهَا
باب: سورج یا چاند گرہن لگنے پر صدقہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1191
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند میں گرہن کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں لگتا ہے، جب تم اسے دیکھو تو اللہ عزوجل سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور صدقہ و خیرات کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1191]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند کسی کی موت یا ولادت کی وجہ سے نہیں گہناتے۔ جب تم یہ (کیفیت) دیکھو تو اللہ عزوجل سے دعا کیا کرو، اس کی تکبیر بیان کرو اور صدقہ دیا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17148، 17173) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1044) صحيح مسلم (901)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب الْعِتْقِ فِيهِ
باب: گرہن لگنے پر غلام آزاد کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1192
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ".
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1192]
سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ کسوف کے موقع پر غلام آزاد کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الکسوف 11 (1054)، والعتق 3 (2519)، (تحفة الأشراف: 15751)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/345)، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1539) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2519)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب مَنْ قَالَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ
باب: نماز کسوف کی ہر رکعت میں ایک ایک رکوع ہے اس کے قائلین کی دلیل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا حَتَّى انْجَلَتْ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ دو دو رکعتیں پڑھتے جاتے اور سورج کے متعلق پوچھتے جاتے یہاں تک کہ وہ صاف ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1193]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعتیں پڑھنے لگے اور سورج کے متعلق بھی دریافت فرماتے جاتے تھے حتیٰ کہ وہ صاف ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الکسوف 16 (1486)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 152 (1262)، (تحفة الأشراف: 11631)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/267، 269، 271، 277) (منکر)» ‏‏‏‏ (دیکھئے حدیث نمبر: 1185)
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
نسائي (1486) ابن ماجه (1262)
قال البيهقي : ’’ ھذا مرسل،أبو قلابة لم يسمع من النعمان بن بشير،إنما رواه عن رجل عن النعمان‘‘ (3/ 333)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 52

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1194
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْكَعُ، ثُمَّ رَكَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ، وَفَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ نَفَخَ فِي آخِرِ سُجُودِهِ، فَقَالَ: أُفْ أُفْ، ثُمَّ قَالَ: رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ"، فَفَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ أَمْحَصَتِ الشَّمْسُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا، تو آپ نماز کسوف کے لیے کھڑے ہوئے تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع ہی نہیں کریں گے، پھر رکوع کیا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے، پھر سجدے سے سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے سر اٹھایا، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا، پھر اخیر سجدے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھونک ماری اور اف اف کہا: پھر فرمایا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان میں رہوں گا؟ کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے؟، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور حال یہ تھا کہ سورج بالکل صاف ہو گیا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1194]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا، (اتنا لمبا قیام کیا کہ) لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع نہیں کریں گے۔ پھر رکوع کیا، (اتنا لمبا رکوع کیا کہ) لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر نہیں اٹھائیں گے، پھر سر اٹھایا، (اتنا لمبا قیام کیا کہ) لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا، (اتنا لمبا سجدہ کیا کہ) لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے، پھر سر اٹھایا اور (اتنی دیر بیٹھے رہے کہ) لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا (اتنا لمبا سجدہ کیا کہ) لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر نہیں اٹھائیں گے، پھر سر اٹھایا اور دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا۔ اور آخری سجدے میں زور زور سے سانس لینے لگے اور «أُفٍّ أُفٍّ» اف، اف کی آواز نکالی اور کہا: «رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ؟ رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ؟» اے میرے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا ہے کہ جب تک میں ان میں موجود ہوں ان کو عذاب نہیں دے گا ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ﴾ [سورة الأنفال: 33] ، کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا ہے کہ جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے تو ان کو عذاب نہ دے گا ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [سورة الأنفال: 33] ۔ الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا، اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الکسوف 14 (1483)، 20 (1497)، سنن الترمذی/الشمائل 44 (307)، (تحفة الأشراف: 8639)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکسوف 3 (1045)، 8 (1058)، صحیح مسلم/الکسوف 5 (910)، مسند احمد (2/175) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ہر رکعت میں دو رکوع کے ذکر کے ساتھ یہ روایت صحیح ہے، جیسا کہ صحیحین میں مروی ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن بذكر الركوع مرتين كما في الصحيحين
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1195
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى بِأَسْهُمٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ، وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ مَا أَحْدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفُ الشَّمْسِ الْيَوْمَ؟ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُو رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ وَيُحَمِّدُ وَيُهَلِّلُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ".
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ اسی دوران سورج گرہن لگا تو میں نے انہیں پھینک دیا اور کہا کہ میں ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ سورج گرہن آج کیا نیا واقعہ رونما کرے گا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح، تحمید اور تہلیل اور دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج سے گرہن چھٹ گیا، اس وقت آپ نے (نماز کسوف کی دونوں رکعتوں) میں دو سورتیں پڑھیں اور دو رکوع کئے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1195]
سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دورِ رسالت کی بات ہے، میں تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ سورج گرہن لگ گیا تو میں نے تیر پھینک دیے اور کہا: میں بالضرور دیکھوں گا کہ آج سورج گرہن والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نیا کام کرتے ہیں، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اٹھائے تسبیح، تحمید اور تہلیل میں مشغول دعا کر رہے تھے حتیٰ کہ سورج صاف ہو گیا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں میں دو سورتیں پڑھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الکسوف 5 (913)، سنن النسائی/ السکوف 2 (1461)، (تحفة الأشراف: 9696)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/ 61، 62) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (913)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب الصَّلاَةِ عِنْدَ الظُّلْمَةِ وَنَحْوِهَا
باب: تاریکی اور اس جیسی حالت کے وقت نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1196
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: كَانَتْ ظُلْمَةٌ عَلَى عَهْدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُ أَنَسًا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَلْ كَانَ يُصِيبُكُمْ مِثْلُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ، إِنْ كَانَتِ الرِّيحُ لَتَشْتَدُّ فَنُبَادِرُ الْمَسْجِدَ مَخَافَةَ الْقِيَامَةِ.
نضر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تاریکی چھا گئی، تو میں آپ کے پاس آیا اور کہا: ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی آپ لوگوں پر اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، اگر ہوا ذرا زور سے چلنے لگتی تو ہم قیامت کے خوف سے بھاگ کر مسجد آ جاتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1196]
جناب عبیداللہ بن نضر سے روایت ہے کہ ان کے والد کا بیان ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ایک روز (آندھی یا بادل کی وجہ سے) اندھیرا چھا گیا تو میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی آپ لوگوں کو ایسی کیفیت سے دو چار ہونا پڑتا تھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ! اگر ہوا بھی تند ہو جاتی تو ہم جلدی جلدی مسجد کا رخ کرتے تھے کہ کہیں قیامت نہ آ جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1625) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی نضر بن عبداللہ قیسی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب السُّجُودِ عِنْدَ الآيَاتِ
باب: نشانیوں اور حادثات کے ظہور کے وقت سجدہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1197
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَاتَتْ فُلَانَةُ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ سَاجِدًا، فَقِيلَ لَهُ: أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا"، وَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی کا انتقال ہو گیا ہے، تو وہ یہ سن کر سجدے میں گر پڑے، ان سے کہا گیا: کیا اس وقت آپ سجدہ کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم کوئی نشانی (یعنی بڑا حادثہ) دیکھو تو سجدہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی موت سے بڑھ کر کون سی نشانی ہو سکتی ہے؟۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1197]
جناب عکرمہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو خبر دی گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے فلاں فوت ہو گئی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ سجدے میں گر گئے۔ ان سے کہا گیا کہ کیا آپ اس موقع پر سجدہ کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب کوئی بڑا واقعہ یا حادثہ دیکھو تو سجدہ کیا کرو۔ اور بھلا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے بڑھ کر بھی کوئی حادثہ ہو گا؟ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/ المنا قب 64 (3891)، (تحفة الأشراف: 6037) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1491)
أخرجه الترمذي (3891 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں