یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب من قال يركع ركعتين
باب: نماز کسوف کی ہر رکعت میں ایک ایک رکوع ہے اس کے قائلین کی دلیل۔
حدیث نمبر: 1193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا حَتَّى انْجَلَتْ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ دو دو رکعتیں پڑھتے جاتے اور سورج کے متعلق پوچھتے جاتے یہاں تک کہ وہ صاف ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1193]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعتیں پڑھنے لگے اور سورج کے متعلق بھی دریافت فرماتے جاتے تھے حتیٰ کہ وہ صاف ہو گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الکسوف 16 (1486)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 152 (1262)، (تحفة الأشراف: 11631)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/267، 269، 271، 277) (منکر)» (دیکھئے حدیث نمبر: 1185)
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
نسائي (1486) ابن ماجه (1262)
قال البيهقي : ’’ ھذا مرسل،أبو قلابة لم يسمع من النعمان بن بشير،إنما رواه عن رجل عن النعمان‘‘ (3/ 333)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 52
ضعيف
نسائي (1486) ابن ماجه (1262)
قال البيهقي : ’’ ھذا مرسل،أبو قلابة لم يسمع من النعمان بن بشير،إنما رواه عن رجل عن النعمان‘‘ (3/ 333)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 52
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1193
| يصلي ركعتين ركعتين ويسأل عنها حتى انجلت |
سنن النسائى الصغرى |
1489
| إذا خسفت الشمس والقمر فصلوا كأحدث صلاة صليتموها |
سنن النسائى الصغرى |
1490
| صلى حين انكسفت الشمس مثل صلاتنا يركع ويسجد |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1193 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1193
1193. اردو حاشیہ:
صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ اس نماز میں رکعتیں تو دو ہی ہیں لیکن ہر رکعت میں کم از کم دو رکوع اور خوب لمبی قراءت ہونی چاہیے، دیکھیے: گزشتہ احادیث کسوف۔
صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ اس نماز میں رکعتیں تو دو ہی ہیں لیکن ہر رکعت میں کم از کم دو رکوع اور خوب لمبی قراءت ہونی چاہیے، دیکھیے: گزشتہ احادیث کسوف۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1193]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1490
سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت سورج گرہن لگا ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی آپ رکوع کر رہے تھے اور سجدہ کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1490]
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت سورج گرہن لگا ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی آپ رکوع کر رہے تھے اور سجدہ کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1490]
1490۔ اردو حاشیہ: ہماری عام نماز کی طرح اس میں بھی رکوع سجدے تھے۔ وہ صرف قیام ہی پر مشتمل نہ تھی، یا جس طرح ہم نمازکسوف پڑھتے ہیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی۔ اس روایت میں رکوع کی تعداد کی بحث نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1490]
Sunan Abi Dawud Hadith 1193 in Urdu
عبد الله بن زيد الجرمي ← النعمان بن بشير الأنصاري