🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. نَعِيمُ الْجَنَّةِ وَقَوْلُهُ ﷺ «فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ» ‏‏‏‏اِلَخْ
جنت کی نعمتوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13265
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ أَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ أَنَّ أَبَا حَازِمٍ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: شَهِدْتُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا وَصَفَ فِيهِ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى ثُمَّ قَالَ آخِرَ حَدِيثِهِ فِيهَا ”مَا لَعَيْنٍ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ“ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [السجدة: 16،17]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک محفل میں حاضر تھا، آپ نے جنت کا تذکرہ کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی گفتگو کے آخر میں فرمایا: جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ جن کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا،کسی کان نے ان کے متعلق نہیں سنا اور نہ کسی بشر کے دل پر ان کا تصور گزرا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن۔} (ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں اور وہ اپنے ربّ کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے، اس میں سے وہ (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، ان کے آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی راحت کے لیے ان کے کیے ہوئے اعمال کی جزاء کے طور پر جو نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں، ان کو فی الحال کوئی بھی نہیں جانتا۔) [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13265]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2825، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23214»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13266
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَبْأَسُ وَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ فِي الْجَنَّةِ مَا لَعَيْنٍ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی جنت میں داخل ہوجائے گا، وہ خوشحال رہے گا، بدحال نہیں ہو گا، اس کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوں گے، اس کی جوانی زائل نہیں ہوگی، جنت میں وہ کچھ ہے کہ آج تک نہ کسی آنکھ نے وہ چیزیں دیکھیں ہیں، نہ کسی کان نے ان کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی شخص کے دل پر ان کا تصور گزرا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13266]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2836، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8813»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13267
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَعْدَدْتُّ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَعَيْنٍ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ فَاقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: 17]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے ایسی ایسی نعمتیں تیار کی ہیں کہ آج تک کسی آنکھ نے ان جیسی نعمتوں کو نہیں دیکھا، کسی کان نے ان کے متعلق نہیں سنا اور کسی انسان کے دل پر ان کا خیال تک نہیں گزرا، اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھ لو: {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ} (ان کی راحت کے لیے جو نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں، انہیں(فی الحال) کوئی نہیں جانتا۔ (سورۂ سجدہ: ۱۷) [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13267]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3244، 4779، ومسلم: 2824، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9647»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13268
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ مَوْلَى لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”قِيدُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا وَلَنَصِيفُ امْرَأَةِ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا“ قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا النَّصِيفُ؟ قَالَ: الْخِمَارُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں تمہاری ایک لاٹھی کے برابر جگہ دوگنا دنیا سے بہتر ہے، جنت میں تمہاری کمان کے برابر جگہ دو گنا دنیا سے بہتر ہے اور جنت کی ایک خاتون کا دوپٹہ دو گنا دنیا سے زیادہ بہتر ہے۔ ابو ایوب کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوہریرہ! النَّصِیْف کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: دو پٹہ۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13268]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10275»
وضاحت: فوائد: … دنیا اور جنت کی نعمتوں میں صرف نام کی مماثلت ہے، مثال کے طور پر دنیا میں پائے جانے والے سیب کو بھی سیب کہتے ہیں اور جنت میں بھی پائے جانے والے سیب کو بھی سیب کہیں گے، لیکن اُس سیب کی حقیقت کا ادراک جنت میں پہنچنے سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. صِفَةً بِنَائِهَا وَتُرْبَتِهَا وَغُرَفِهَا وَخِيَامِهَا
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13269
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّةِ مَا بِنَاؤُهَا قَالَ: ”لَبِنَةُ ذَهَبٍ وَلَبِنَةُ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ وَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں جنت کے بارے میں بتلائیں کہ اس کی عمارت کیسی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہو گی، اس کا گارا انتہائی تیز مہکنے والی کستور ی کا اور اس کے کنکر لولو اور یاقوت کے موتی ہوں گے اور اس کی مٹی زعفران ہوگی، جوآدمی جنت میں داخل ہوجائے گا، وہ خوشحال ہو گا، کبھی بدحال نہیں ہو گا، وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا، اسے موت نہیں آئے گی، اس کا لباس بوسیدہ نہیں ہو گا اور اس کا شباب زائل نہیں ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13269]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواهده، أخرجه الترمذي: 2526، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8030»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13270
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ: دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”صَدَقَ“
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: وہ سفید رنگ کی ملائم مٹی اور خالص کستوری والی ہے۔ یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13270]
تخریج الحدیث: «أخرجه 2928مسلم:، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11015»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13271
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْيَهُودِ: ”إِنِّي سَائِلُهُمْ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ وَهِيَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ“ فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا: هِيَ خُبْزَةٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”الْخُبْزَةُ مِنَ الدَّرْمَكِ“
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودکے بارے میں فرمایا: میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں دریافت کرتا ہوں جو کہ سفید رنگ کی ملائم مٹی ہے۔ پھر ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا: اے ابو القاسم! وہ روٹی کی طرح ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روٹی بھی سفید آٹے کی ہی ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13271]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 3327، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14944»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13272
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ الْغُرْفَةَ فِي الْجَنَّةِ كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ فِي السَّمَاءِ“ قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي الْأُفُقِ الشَّرَقِيِّ أَوِ الْغَرْبِيِّ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت والے ہر جگہ سے اپنے کمروں کو یوں دیکھیں گے، جیسے تم آسمان پر ستاروں کو دیکھتے ہو۔ ابو حازم نے کہا: میں نے حدیث نعمان بن ابی عیاش کو بیان کی، انھوں نے کہا کہ اس نے بھی سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے یوں سنا ہے: جس طرح تم مشرقی یا مغربی افق پر دمکتے ہوئے تارے کو دیکھتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13272]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3256، ومسلم: 2830، 2831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23264»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13273
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرَى بُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا وَظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا“ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنْ هِيَ؟ قَالَ: ”لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ باہر سے ان کے اندر کاماحول اور اندر سے ان کے باہر کا ماحول دیکھا جاسکے گا۔ ایک بدّو نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ بالاخانے کن لوگوں کے لیے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اچھی بات کرے، دوسروں کو کھانا کھلائے اور جب رات کو عام لوگ سوئے ہوئے ہوں تو وہ اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے لیے نماز ادا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13273]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1984، 2527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1338 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1338»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13274
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ مُجَوَّفَةٌ طُولُهَا فِي السَّمَاءِ سِتُّونَ مِيلًا فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا لِلْمُؤْمِنِ أَهْلٌ لَا يَرَاهُمُ الْآخَرُونَ“ وَرُبَمَا قَالَ عَفَّانُ: لِكُلِّ زَاوِيَةٍ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کا ایک خیمہ بہت بڑا موتی ہوگا، وہ اندر سے خالی ہوگا، اس کی بلندی ساٹھ میل ہوگی، اس کے ہر کونے میں مومن کا اہل خانہ ہو گا، لیکن (وہ دوری کی وجہ سے) ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13274]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3243، ومسلم: 2838، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19805»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں