🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. كُل مَوْلُودِ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَمَا جَاءَ فِي نَخْسِ الشَّيْطَانَ لِكُلِّ مَوْلُودٍ
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13255
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى ثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ سَرِيعٍ وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَعْدٍ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ غَزَوَاتٍ قَالَ فَتَنَاوَلَ قَوْمٌ الذُّرِّيَّةَ بَعْدَ مَا قَتَلُوا الْمُقَاتِلَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَلَا مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَتَلُوا الْمُقَاتِلَةَ حَتَّى تَنَاوَلُوا الذُّرِّيَّةَ“ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَ أَبْنَاءَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ إِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ تُولَدُ إِلَّا وُلِدَتْ عَلَى الْفِطْرَةِ فَمَا تَزَالُ عَلَيْهَا حَتَّى يُبَيِّنَ عَنْهَا لِسَانُهَا فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا أَوْ يُنَصِّرَانِهَا“ قَالَ وَأَخْفَاهَا الْحَسَنُ
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ، یہ قبیلہ بنو سعد کے فرد تھے اور انہوں نے سب سے پہلے مسجد جامع وعظ شروع کیا تھا، ان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چار غزووں میں شرکت کی، ایک دفعہ مسلمانوں نے لڑنے والے مخالفین کو قتل کرنے کے بعد ان کے چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر دیا، لیکن جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا کہ انہوں نے پہلے لڑنے والوں کو قتل کیا ہے اور پھر ان کے بچوں کو بھی قتل کر دیا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ بھی ان مشرکوں کی ہی اولاد نہیں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ مشرکوں کے ہی بیٹے ہیں، بات یہ ہے کہ ہر روح جب پیدا ہوتی ہے تو وہ دین ِ فطرت پر ہی پیدا ہوتی ہے اور وہ اسی پر برقرار رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کرنا شروع کر دے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔ حسن نے آخری الفاظ کی ادائیگی پست آواز سے کی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13255]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري رغم تصريحه بالسماع ھنا من الاسواد بن سريع، الا ان الصحيح انه لم يسمع منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16303 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16412»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ دین فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، جب وہ بولنا شروع کر دیتا ہے تو اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یامجوسی بنا دیتے ہیں، مشرکوں کا نابالغ بچہ بھی ان احادیث کا مصداق بن رہا ہے، لیکن اس میں تفصیل ہے، سابقہ باب کے فوائد ملاحظہ ہوں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. أولاد المُسْلِمِينَ
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13256
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”ذِرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل ِ اسلام کی اولاد جنت میں ہے، ابراہیم علیہ السلام ان کی کفالت کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13256]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 7446، والحاكم: 2/ 370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8307»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۱۳۲۵۰)کے فوائد میں یہ حدیث تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13257
وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دُعِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنَازَةِ غُلَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يُدْرِكِ الشَّرَّ وَلَمْ يَعْمَلْهُ قَالَ ”أَوَغَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ“
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کابیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک انصاری بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے تو خوشخبری ہے،یہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے نہ گناہ کو پایا اور نہ اس پر عمل کیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کوئی اور بات بھی ہے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو جنت کے لیے اور جنت کو لوگوں کے لیے اس وقت پیدا کیا، جب کہ یہ لوگ ابھی تک اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے، اور اس نے لوگوں کو جہنم کے لیے اور جہنم کو لوگوں کے لیے اس وقت پیدا کیا جبکہ یہ لوگ ابھی تک اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13257]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2662، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26261»
وضاحت: فوائد: … یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں داخل ہوں گے، لیکن تعیین کے ساتھ کسی بچے کو جنتی نہیں قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ پہلے یہ بات ثابت کرنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے والدین کا اسلام کیسا ہے، وہ قبول بھی ہے یا نہیں، یا ان کا انجام کیا ہو گا؟ اور اس چیز کا علم آخرت میں ہو گا۔
یہ الگ بات ہے کہ مسلمان کے بارے میں حسن ظن تو یہی ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی حالت میں فوت ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی قدر ہو گی، لیکن شرعی قوانین کی بات اور ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13258
وَعَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ شُفْعَةَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يُقَالُ لِلْوِلْدَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ حَتَّى يَدْخُلَ آبَاؤُنَا وَأُمَّهَاتُنَا قَالَ فَيَأْتُونَ قَالَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالِي أَرَاهُمْ مُحْبَنْطِئِينَ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ قَالَ فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ آبَاؤُنَا وَأُمَّهَاتُنَا قَالَ فَيَقُولُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ“
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن چھوٹے بچوں سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں چلے جاؤ، لیکن وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جب تک ہمارے باپ اور مائیں جنت میں داخل نہیں ہو جاتے، اس وقت تک ہم نہیں جائیں گے، پھر وہ آگے چلیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: کیا وجہ ہے کہ تم غصے میں اور آہستہ آہستہ چلے رہے ہو؟ چلو جنت میں داخل ہو جاؤ، لیکن وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے باپ اور ہماری مائیں۔ بالآخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اچھا تم بھی جنت میں داخل ہو جاؤ اور اور تمہارے ماں باپ بھی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13258]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17096»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. أهْلُ الْفَتْرَةِ وَالْأَحْمَقُ وَالْاصَمُ وَالْهَرِمُ
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13259
وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أَرْبَعَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَصَمُّ لَا يَسْمَعُ شَيْئًا وَرَجُلٌ أَحْمَقُ وَرَجُلٌ هَرِمٌ وَرَجُلٌ مَاتَ فِي فَتْرَةٍ فَأَمَّا الْأَصَمُّ فَيَقُولُ رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَسْمَعُ شَيْئًا وَأَمَّا الْأَحْمَقُ فَيَقُولُ رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَالصِّبْيَانُ يَخْذِفُونَنِي بِالْبَعْرِ وَأَمَّا الْهَرِمُ فَيَقُولُ رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَعْقِلُ شَيْئًا وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ فَيَقُولُ رَبِّ مَا أَتَانِي لَكَ رَسُولٌ فَيَأْخُذُ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعَنَّهُ فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ أَنِ ادْخُلُوا النَّارَ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ دَخَلُوهَا لَكَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا“
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن چار قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے، ایک بہرہ ہو گا، جو بالکل نہیں سنتا تھا، دوسرا احمق یعنی بے شعور ہو گا، تیسرا انتہائی بوڑھا اور چوتھا فترہ میں مر جانے والا۔ بہرہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! میرے پاس دین اسلام اس وقت آیا تھا، جب میں کچھ بھی نہیں سنتا تھا،احمق کہے گا: اے میرے رب! اسلام تو آیا تھا، لیکن میں اس قدر بے شعور تھا کہ بچے مجھے مینگنیاں مارا کرتے تھے، بوڑھا کہے گا: اے میرے ربّ! جب اسلام آیا تھا تو میری حالت یہ تھی کہ مجھے کوئی چیز سمجھ نہیں آتی تھی اور فترہ میں مرنے والا کہے گا: اے میرے رب! میرے پاس تو تیرا کوئی رسول ہی نہیں آیا تھا۔ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان سے پختہ عہد لے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ضرور بالضرور اطاعت کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف پیغام بھیجے گا کہ تم اس آگ میں داخل ہوجاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر وہ اس آگ میں داخل ہو جائیں گے تو وہ ان کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13259]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه البزار: 2174، والبيھقي في الاعتقاد: ص 111، واسحاق بن راهويه في مسنده: 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16410»
وضاحت: فوائد: … دو نبیوں کے درمیان کے وقفہ کو فترہ کہتے ہیں، اس حدیث میں اہلِ فترہ سے مراد وہ لوگ ہیں، جو عیسی علیہ السلام کے بعد آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے فوت ہو گئے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13260
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلُ هَذَا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ ”فَمَنْ دَخَلَهَا كَانَتْ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْهَا يُسْحَبُ إِلَيْهَا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی گزشتہ حدیث کی مانند ایک حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: جو شخص اس آگ میں داخل ہو جائے گا، وہ اس کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو گی اور جو اس میں داخل نہیں ہو گا، اسے گھسیٹ کر اس کی طرف لے جایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13260]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه بنحوه البزار: 2175، والبيھقي في الاعتقاد: ص 111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16411»
وضاحت: فوائد: … اس فصل سے معلوم ہوا کہ بہرا، بے شعور، بے عقل، انتہائی بوڑھا اور قبل از اسلام دور جاہلیت میں فوت ہونے والا، جب یہ چار قسم کے لوگ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا عذر پیش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کا دوبارہ امتحان لے گا، اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل روایت زیادہ واضح ہے:
سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا اسود بن سریع اور سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((یُؤْتٰی بِاَرْبَعَۃٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: بِالْمَوْلُوْدِ، وَبِالْمَعْتُوْہِ، وَبِمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَۃِ، وَالشَّیْخِ الْفَانِيْ،کُلُّھُمْ یَتَکَلَّمُ بِحُجَّتِہِ، فَیَقُوْلُ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لِعُنُقٍ مِنَ النَّارِ: اَبْرِزْ، فَیَقُوْلُ لَھُمْ:
اِنِّيْ کُنْتُ اَبْعَثُ اِلٰی عِبَادِيْ رُسُلاً مِنْ اَنْفُسِھِمْ، وَاِنِّي رَسُوْلُ نَفْسِيْ اِلَیْکُمْ، اُدْخُلُوْا ھٰذِہٖ فَیَقُوْلُ مَنْ کُتِبَ عَلَیْہِِ الشَّقَائُ: یَارَبِّ! اَیْنَ نَدْخُلُھَا وَمِنْھَا کُنَّا نَفِرُّ؟ قَالَ: وَمَنْ کُتِبَ عَلَیْہِ السَّعَادَۃُ یَمْضِيْ فَیَقْتَحِمُ فِیْھَا مُسْرِعًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: اَنْتُمْ لِرُسُلِيْ اَشَدُّ تَکْذِیْبًا وَمَعْصِیَۃً، فَیَدْخُلُ ھٰؤُلَائِ الْجَنَّۃَ، وَھٰؤُلَائِ النَّارَ۔)) … روزِ قیامت اِن چار افراد کو لایا جائے گا: بچہ، مجنون، دو رسولوں کے درمیانی وقفے میںمرنے والا اور بہت بوڑھا۔ ان میں سے ہر کوئی اپنی اپنی دلیلیں پیش کرے گا، اللہ تعالیٰ آگ کی گردن سے فرمائے گا: نمایاں ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اپنے بندوں کی طرف ان میں سے رسول بھیجتا رہا اور اب میں تم لوگوں کے لیے اپنا قاصد خود ہوں اور کہتا ہوں کہ (سب کے سب) اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ بدبخت لوگ کہیں گے:اے ہمارے ربّ! ہم اس میں کیسے داخل ہوں، ہم تو اس سے دور بھاگتے تھے؟ سعادت مند لوگ (اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے) چل پڑیں گے اور اس میں جلدی جلدی اور زبردستی گھسیں گے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم (آگ میں داخل نہ ہونے والے بدبخت) لوگ میرے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کی نافرمانی کرنے میں بڑے دلیر ہوتے۔ اب یہ جنت میں داخل ہوں گے اور یہ آگ میں۔ (مسند ابی یعلی: ۳/ ۱۰۴۴، مسند البزار: صـ ۲۳۲، المعجم الاوسط، المعجم الکبیر، الصحیحۃ: ۲۴۶۸)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث میںمذکورہ بچے سے مراد وہ ہے، جس کے والدین کافر ہوں۔ (صحیحہ: ۵/ ۶۰۵) کیونکہ بالاتفاق مسلمانوں کی بچے جنت میں داخل ہوںگے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. ابوا النَّبِيِّ ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13261
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ: ”فِي النَّارِ“ قَالَ: فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِهِ قَالَ: ”إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میرا والد کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے تو فرمایا: میرا باپ اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13261]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12216»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13262
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ لَقِيطِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أُمِّي؟ قَالَ: ”أُمُّكَ فِي النَّارِ“ قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ مَنْ مَضَى مِنْ أَهْلِي؟ قَالَ: ”أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ مَعَ أُمِّي“
سیدنا لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:اے اللہ کے رسول! میری والدہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں۔ میں نے کہا: تو پھر آپ کے جو رشتہ دار قبل از اسلام فوت ہوچکے ہیں، وہ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی ہو جائے گا کہ تیری ماں میری ماں کے ساتھ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13262]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وكيع بن عُدُس مجھول الحال، أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 471، والطيالسي: 1090، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16290»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13263
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزَا غَزْوَةَ الْفَتْحِ فَخَرَجَ يَمْشِي إِلَى الْقُبُورِ حَتَّى إِذَا أَتَى إِلَى أَدْنَاهَا جَلَسَ إِلَيْهِ كَأَنَّهُ يُكَلِّمُ إِنْسَانًا جَالِسًا يَبْكِي قَالَ: فَاسْتَقْبَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ؟ قَالَ: ”سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ فَأَذِنَ لِي فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَأْذَنَ لِي فَأَسْتَغْفِرَ لَهَا فَأَبَى إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي أَنْ تَمَسَّكُوا بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَكُلُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَزُرْ فَقَدْ أَذِنَ لِي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ وَعَنِ الظُّرُوفِ تَشْرَبُونَ فِيهَا الدُّبَّاءَ وَالْحَنْتَمَ وَالْمُزَفَّتَ وَأَمَرْتُكُمْ بِظُرُوفٍ وَإِنَّ الْوِعَاءَ لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهُ فَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ“
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ سے فارغ ہو کر قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کی قریب والی طرف میں جا کر بیٹھ گئے، یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آپ کسی انسان کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں، جبکہ آپ رو بھی رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: میں نے اپنے ربّ سے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کی تو اجازت دے دی، لیکن جب میں نے اس سے والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کی اجازت طلب کی، تو اس نے اس کی اجازت نہیں دی، میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا، ایک یہ کہ تم تین دنوں کے بعد قربانیوں کے گوشت نہیں کھا سکتے، اب تمہیں اجازت ہے جب تک چاہو کھا سکتے ہو، دوسرا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب جو آدمی قبرستان جانا چاہے، جا سکتا ہے، مجھے بھی اپنی والدہ کی قبر پر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے،ہاں جو آدمی قبرستان نہ جانا چاہتا ہو، وہ بے شک نہ جائے، اور تیسرا کہ میں نے تمہیں کدو، سبز مٹکے اور تارکول لگے برتن کو استعمال کرنے سے منع کیا تھا اور باقی برتنوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، اب یہ حکم ہے کہ برتن تو کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا، لہذا تم سارے برتن استعمال کر سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13263]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23038 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23426»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13264
وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَهُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَفَدَاهُ بِالْأَبِ وَالْأُمِّ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ؟ قَالَ: ”إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الِاسْتِغْفَارِ لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ فَدَمَعَتْ عَيْنَايَ رَحْمَةً لَهَا مِنَ النَّارِ وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ“ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
۔ (دوسری سند) سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، دوران سفر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مقام پر ٹھہرے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم ایک ہزار کے قریب سوار تھے، آپ نے دو رکعت نماز ادا کی۔، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رخ ہماری طرف پھیرا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ کی طرف گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول!میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ کے رونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ سے اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کرنے کی اجازت طلب کی، لیکن اس نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اس لیے ان کے جہنم میں جانے پر مجھے ان پر ترس آیا اور میں رونے لگ گیا۔ میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا، ایک قبروں کی زیارت سے، …۔ اس سے آگے گزشتہ حدیث کی مانند ہی ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13264]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23391»
وضاحت: فوائد: … ہر مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہے، اس محبت کے شرعی تقاضے بھی ہیں اور طبعی تقاضے بھی، ایک طبعی تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین کا مقام و مرتبہ بلند ہو، لیکن شرعی تقاضوں کو طبعی تقاضوں پر غالب کرنا پڑتا ہے، بہرحال آپ درج بالا احادیث اور درج مثالوں پر غور کریں۔
نوح علیہ السلام کا بیٹا اور بیوی کافر تھے، لوط علیہ السلام کی بیوی کافر تھی، ابراہیم علیہ السلام کا والد کافر تھا، فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ عظیم مسلم خاتون تھی۔
دراصل نبوت و رسالت کی یہ خصوصیت نہیں کہ نبی کے متعلقہ لوگ بھی صاحب ِ ایمان ہوں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں